وزیر خزانہ صاحب، کچھ تو گڑ بڑ ہے

p-1کچھ ہی دنوں میں عام بجٹ پیش ہونے والا ہے۔وزیر خزانہ کے لئے یہ ایک مشکل وقت بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔وزیر خزانہ اب تک دو بجٹ پیش کر چکے ہیں، جن کو لے کر بازار نے مثبت رائے نہیں دی ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ موجودہ سرکار ،یو پی اے 3 سرکار ہے۔ دراصل ارون شوری نے اسے یو پی اے 3 پلس کاؤ( گائے) کہا ہے۔ان کا یہ کہنا سچائی سے بہت الگ بھی نہیں ہے،کیونکہ موجودہ سرکار نے نہ تو کانگریس کی پالیسیوں کو پوری طرح بدلا ہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نئی پالیسی پیش کی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک این ڈی اے سرکار صرف حالات کا جائزہ لے رہی تھی اور بغیر کسی مطالعہ کے سیاست سے متاثرہو کر بیان دے رہی تھی۔بیان دینے سے پہلے کوئی بھی لیڈر کچھ سوچ نہیں رہا تھا۔ بس بولے جا رہا تھا اور اب سرکار کو ان میں سے زیادہ تر بیانوں سے پیچھے ہٹنا پڑ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کافی وقت گزر چکا ہے اور اب سرکار اپنے ویژن کو، مستقبل کے اپنے ایجنڈے کو، اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کر سکتی ہے ۔ سب سے پہلا یہ کہ گزستہ دس سال کی یو پی اے سرکار میں اور دو سال کی این ڈی اے کے دور اقتدار میں سرکار کا سارا دھیان کارپوریٹ سیکٹر کے اوپر رہا ہے، اسے بدلنا چاہئے۔ اب سرکار کا دھیان زراعت کی طرف جانا چاہئے۔کارپوریٹ کے بجائے اب زرعی شعبے پر زور دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم زرعی شعبے میں مناسب سرمایہ کاری نہیں کریں گے تو اب سے دس سال بعد ہم بحران کی حالت میں پہنچ جائیں گے۔ آبادی ایک مقررہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اناج کی پیداوار کم سے کم اس مقررہ رفتار سے زیادہ ہونی چاہئے تاکہ فوڈ ایکسپورٹ کیا جاسکے ، عالمی منڈی سے مقابلہ کیا جاسکے اور قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے۔ فی الحال ہم بڑی مشکل سے آبادی اور زرعی پیداوار میں توازن بنا پا رہے ہیں۔ہر مہینے ہر سال ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے کہ اناج کی پیداوار میں اتنااضافہ ہوگیا ،لیکن اس میں یہ نہیں بتایا جا تا کہ زرعی پیداوار میں فی کس اضافہ کتنا ہورہا ہے۔یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا زراعت پر وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو فوری طور دھیان دینا چاہئے۔زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے وہ کیا کرسکتے ہیں،اس کے لئے کام کیا جانا چاہئے۔ اس میدان میں سرمایا کاری کے وسیع امکانات ہیں۔
زرعی شعبے کے لئے سرکار کی طرف سے جو واحد قدم اٹھایا گیا ہے اور جس کی تشہیر کی جارہی ہے ، وہ ہے زرعی فصل بیمہ۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ این ڈی تیواری نے 30-35 سال پہلے ہی فصل بیمہ لاگو کر دیا تھا۔بیشک وقت کے ساتھ اس میں سدھار ہونا چاہئے۔ پریمیم کی رقم کم ہونی چاہئے۔ اس کی پہنچ وسیع ہونی چاہئے اور دعوے کا نمٹارہ تیزی سے ہونا چاہئے،لیکن یہ صرف ایک پہلو ہے۔ جو عام کسان ہے اور جس کے پاس کم زمین ہے ،وہ پریشان ہے ،کیونکہ اس کی کھیتی اب فائدہ مند نہیں رہی ہے۔ اس وجہ سے اس پر دباؤ ہے کہ وہ کھیتی چھوڑ کر شہری علاقوں میں روزگار کی تلاش کے لئے جائے۔بیشک ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی کانگریس سرکار کا منصوبہ تھا کہ اگلے 10-15 سالوں میں شہروں کی آبادی اگر گاؤں سے زیادہ نہیں ہوتی ہے تو کم سے کم اس کے برابر ہو جائے۔یہ مغربی ملکوں کے ماڈل کی نقل ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہندوستان میں اس ماڈل کو اپنانا ممکن ہے یا اس کی ضرورت بھی ہے۔ ان سرکاروں کی جڑیں، مرچنٹ کلاس سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کارپوریٹ سیکٹر نہیں ہونا چاہئے،’میک ان انڈیا‘ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ساری چیزیں بہت اچھی ہیں۔ دراصل ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک صنعتی روزگارکے مواقع پیدا نہیں ہوں گے۔
اگر معیشت کی وسیع تر تصویر دیکھی جائے تو 1991 میں جب منموہن سنگھ نے ایکونومک لبرلائزیشن کی شروعات کی تب سے لے کر آج تک 25سال گزر چکے ہیں۔ ان 25سالوں میں اگرآرگنائزڈ سیکٹرمیں روزگار کے مواقع کو دیکھا جائے تو 25لاکھ نئے روزگار پیدا نہیں ہوئے۔ یہ اعدادو شمار سرکار کے ذریعہ فراہم کرائے گئے ہیں نہ کہ ہمارے جیسے کالمنسٹ یا کسی اور کے ذریعہ توڑ مروڑ کرکے پیش کئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے سرکار کی یہ پالیسی فیل ہو گئی۔ 1991 کے بعد کیا ہوا؟سب سے پہلے تو روپے کو تقریباً آزاد کردیا گیا ۔ڈالر جو اس وقت 18روپے کے اوپر تھا،اچانک سے 32روپے کے برابر ہو گیا ۔ فی الحال یہ 67 روپے کے قریب ہے۔ کارپوریٹ کے لئے زندگی آسان ہو گئی کیونکہ انہیں اب لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں بار بار دلی نہیں جانا پڑتا۔لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا۔ جس طرح سے امریکہ کے نیو یارک میں ایس ای سی (سیکورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن ) ہے، اسی طرح سے ہندوستان میں سیبی ہے۔ صنعتی گھرانے سیبی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ ان سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے ہیں جنہیں پبلک لسٹیڈ کمپنی کو دینا ہوتی ہے۔ اس لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہمیں بدلاؤ لانے کے لئے اس بات کی تیاری کرنی ہوگی کہ سوچ میں کیسے بدلاؤ لایا جائے۔ یہ بدلاؤ نہیں ہو رہا ہے۔
یہ سچ ہے کہ ہندوستانی معیشت فی الحال اچھی پوزیشن میں نہیں ہے۔ لیکن آپ اسے اچھی حالت میں کیسے لائیں گے؟آپ نے دس سے پندرہ صنعتی گھرانوں کو بڑی مقدار میں لون دے دیئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے سبھی لون بیڈ لون ( جو واپس نہ مل سکے ) کے زمرے میں آتے ہوں، لیکن پریشانی یہ ہے کہ بینک لون دیتے وقت سبھی پہلوؤں کا باریکی سے مطالعہ نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی دباؤ کی وجہ سے یہ لون دیئے جارہے ہیں جو آخر کار ایک نان پارفارمنگ اسیٹ ( جو لون ڈوب جائے، واپس نہ مل سکے) میں بدل جائیں گے۔ ریزرو بینک کے گورنررگھورام راجن صحیح کہہ رہے ہیں کہ ایک صحیح پالیسی بنانی پڑے گی۔ رگھو رام راجن نے کہیں کہا ہے،لیکن مجھے لگتا ہے کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے دوبارہ نہیں کہیں گے کہ قرض کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات یہ ہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے،لیکن یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ بڑے قرض کو اگر یونہی معاف کر دیا جاتاہے تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔ کچھ قدم ابھی اٹھائے گئے ہیں۔اپنے لون کو ایکٹیو ( شیئر ) میں بدل کر بینکنگ سیکٹر کچھ کمپنیوں کے زیادہ تر شیئر لے رہے ہیں۔ اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کمپنیوں کو مینیج کون کرے گا۔ کیا اب تک جو ان کمپنیوں کو چلا رہے تھے، ان کے ہاتھ سے انتظام لے کر کس کے ہاتھ میں دیا جائے گا؟کیا بینک اس کا انتظام کرے گا یا پھر سرکار ان کمپنیوں کا مینجمنٹ دیکھے گی؟سرکار کے پاس مضبوط انتظامی سسٹم نہیں ہے جو ان کمپنیوں کا انتظام سنبھال سکے۔ آج سے 30-40 سال پہلے کچھ کپڑا ملیں بیمار ہو گئی تھیں۔سرکار نے ان کا مینجمنٹ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا،لیکن سرکار ملوں کو چلا پانے میں ناکام رہی۔ ابھی ایک جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
رگھو رام راجن نے ایک اور بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ سمجھداری نہیں ہے کہ اونچے مالی نقصانات کی قیمت پر سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے۔ یہ بالکل صحیح ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر آپ مالی نقصان پر بہت زیادہ پابندی لگا کر رکھیں گے تو سرمایہ کاری کے لئے پیسہ ہی نہیں ہوگا۔بیشک کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آرہی ہے، جو سرکار کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ہر سال کچھ لاکھ کروڑ روپے کی بچت اس کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس پیسے کی سرمایہ کاری صحیح طریقے سے ہونی چاہئے ۔ بد قسمتی سے مطلوبہ آمدنی نہیں آرہی ہے ( جس میں ڈس انوسٹمنٹ بھی شامل ہے)۔ اس لئے تیل سے جو پیسہ بچت کے طور پر آ رہا ہے ، انہی سب میں کھپ جارہا ہے۔ نتیجتاً وزیر خزانہ کے ہاتھ میں اضافی فنڈنہیں بچ رہا ہے،جس کی سرمایہ کاری ہوسکے۔مجھے لگتا ہے کہ وزیر خزانہ کو بجٹ سے پہلے آر بی آئی گورنر کے ساتھ بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنا چاہئے تاکہ سرمایہ کاری کے لئے پیسے مل سکیں،سرمایہ کاری کے لئے صحیح ماحول بن سکے، زرعی شعبے، جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا ہے ، کو ایسی سرمایہ کاری کے بڑے حصے کی ضرورت ہے۔
اندرا گاندھی یا نرسمہا راؤ کے دور کار میں پالیسی واضح تھی۔ اندرا گاندھی نے بینک کو نیشنلائز کیا، کوئلہ شعبے کو نیشنلائز کیا۔ایک خاص سمت میں وہ آگے بڑھی۔ نرسمہا راؤ نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ بد قسمتی سے شروعاتی کامیابیوں کے بعد راستہ بھٹک گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جو کہہ رہے ہیں کہ ہم کارپوریٹ سیکٹر کو ہی صرف پیسہ نہیں دے سکتے، ہمیں پورے ملک کو ساتھ میں لے کر چلنا ہے،یہ بات مجھے اچھی لگی۔ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا تب انہوں نے ایک سیاسی بیان دیا تھا کہ وہ منریگا کو ختم نہیں کریں گے تاکہ یہ کانگریس کی بڑی ناکامی کو زندہ رکھے۔اس وقت انہوں نے بھلے ہی سیاست کو دھیان میں رکھتے ہوئے بات کی ہو، لیکن اب سرکار کو یہ احساس ہو رہاہے کہ منریگا نے حقیقت میں دیہی علاقوں میں رہنے والے غریبوں کی مدد کی ہے۔ اب اہم بات یہ ہے کہ اگر منریگا کو بنائے رکھنا ہے تو سرکار کو ایک مناسب پالیسی بنانی پڑے گی۔ اس کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنانی چاہئے جس میں اپوزیشن کے لوگ بھی شامل ہوں۔ ایک ٹھوس پالیسی کے تحت کام ہونا چاہئے تاکہ ضرورت مندوں تک اس کا فائدہ پہنچ سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منریگا میں بد عنوانی ہے ۔ آگے ایسا نہیں ہوگا یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پنچایت کی سطح پر شکایتیں آتی ہیں کہ اس اسکیم کے تحت کام دکھا دیا جاتا ہے اور پیسہ سرپنچ آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ اتنے بڑے ملک میں ان سب چیزوں کو روک پانا مشکل کام ہے۔لیکن پالیسی ڈھانچہ واضح ہونی چاہئے۔ آپ کو یہ یقینی کرنا ہوگا کہ کسانوں کے ساتھ بہتر سلوک ہو۔ کیونکہ ان پر چوطرفہ مار پڑتی ہے ۔ اگر پیداوار زیادہ ہو جاتی ہے تو قیمت کم ملتی ہے اور اگر سوکھا پڑ گیا تو پھر کیا کہنا ہے۔ بچولیوں کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔چونکہ ان کے پاس پیسہ ہوتا ہے،یہ کسانوں کو پیشگی رقم دے کر فصل بک کرا لیتے ہیں۔ اگر فصل برباد ہو گئی تو برباد ہو گئی، لیکن اگر پیداوار زیادہ ہو گئی تو بچولئے اسے اونے پونے قیمتوں پر خرید لیتے ہیں۔ایک مضبوط سسٹم کی تلاش کرنی چاہئے جس میں کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت مل سکے۔ کسان چاند و سورج نہیں مانگتا ۔وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی آسان ہو۔ زراعت اب بھی بارش پر منحصر ہے۔ نہر ،سینچائی اور زراعت کی باتیں اکثر سننے کو ملتی ہیں لیکن کسانوں کے لیے ٹھوس اسکیموں کا اعلان ابھی بھی نہیں ہورہا ہے۔رادھا موہن سنگھ وزیر زراعت ہیں۔ وہ ٹی وی پر آتے ہیں۔میں ان کا پروگرام ’کرشی درشن‘ دیکھتا ہوں ۔لیکن ان کی باتوں میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔کوئی نئی سوچ نہیں ہوتی جو زراعت کو ایک صحیح سمت دکھا سکے۔ کسان آپ سے کچھ الگ سننا چاہتے ہیں۔ کانگریس سرکار کی تنقید کرنے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم اس سے کافی آگے نکل چکے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ آگے کے تین سال میں آپ کیا کریں گے؟کسان آپ سے یہ توقع نہیں کرتا کہ آپ اس کا کام کریں،لیکن وہ سرکار سے ایک بہتر ڈیل کی امید کرتا ہے۔
اسی طرح سے کارپوریٹ سیکٹر ہے۔ سرکار کو اس بات میں فرق کرنا ہوگا کہ کون پیسہ لوٹا رہا ہے اور کون نہیں لوٹا رہا ہے ۔یہاں ہم نے پورے سسٹم کو کمپیوٹرائز کر دیا ہے جس کی وجہ سے کمپیوٹر ہی قرض دے رہاہے اور کمپیوٹر ہی قرض لے رہا ہے۔ اس پورے عمل میں انسان نہیں بلکہ مشین لگی ہوئی ہے۔ بینکوں کے ذریعہ دیئے گئے قرض کے اعداد وشمار میں بڑی آسانی سے ہیرا پھیری کی جاسکتی ہے، اسے بدلنا ہوگا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح سے کام نہیں ہوتا۔بینک اپنے قرضے پر بہت باریکی سے دھیان رکھتے ہیں، لیکن یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر بینک پبلک سیکٹر کے ماتحت آتے ہیں ۔ اس لئے وہ سرکار یا وزارت کے دباؤ میں قرض دے دیتے ہیں۔ موجودہ سرکار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی طرف سے کوئی بھی شخص بینک کے چیئر مین کو فون نہیں کرتا۔ اس لئے وہ کسی بھی دباؤ سے آزاد ہے۔ لیکن کیا یہ بات اتنی آسان ہے؟دوسری بات یہ کہ بھلے ہی آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں ہندوستان میں سیاسی فنڈنگ شفاف نہیں ہے۔ بزنس گھرانے بر سر اقتدار سیاسی پارٹی کو چندہ دیتے ہیں اور ان سے کچھ رعایتوں کی امید رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔یہ کہنا کہ’ کوئی فون نہیں کرتا‘کا کیا مطلب ہے؟ وزیر اعظم ، وزیر خزانہ ، پی ایم او کال کر سکتے ہیں۔ آپ اس چیز کو جھٹلا نہیں سکتے۔ اس کا حل یہ ہے کہ بینکوں کو پرائیویٹائز کر دیا جائے جو ایک اچھا قدم ہو بھی سکتا ہے یا نہیں بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بجٹ میں وزیر خزانہ ایک ٹھوس قدم یہ اٹھا سکتے ہیں کہ بینکوں کو ری کیپیٹلائز(فنانسنگ) کیا جائے۔ جیسا کہ ریزرو بینک نے درخواست کی ہے کہ بینکوں کو 50-60 ہزار کروڑ روپے کے بجائے 3لاکھ کروڑ روپے مہیا کرا کر ان سے کہا جائے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ بک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے درست کریں اور اس کے بعد میرٹ کی بنیاد پر کسی کو لون دیں۔ وزیر اعظم کم سے کم بینکوں کو صحیح طریقے سے کام کرنے کے لئے حوصلہ افزائی توکرسکتے ہیں۔
ریکارڈ بتاتے ہیں کہ زرعی شعبے کا لون کارپوریٹ سیکٹر کے بیڈ لون کے مقابلے کچھ بھی نہیں ہے۔زرعی لون سے متعلق اکاؤنٹ بک بڑی ہو سکتی ہے،کیونکہ اس میں قرض لینے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہ رقم بہت چھوٹی ہے۔ہندوستان میں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ غریب آدمی اپنے قرضوں کو ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا ادا کر دیتا ہے۔ عام آدمی قرض چکانے کی نیت رکھتا ہے،کیونکہ وہاں قرض نہیں چکانا سماجی طور پر ایک خراب بات مانی جاتی ہے۔لیکن شہری علاقے کے کارپوریٹ سیکٹر کا رویہ اس کے ٹھیک الٹ ہے۔ یہاں آپ جتنا بڑا قرض لیں گے اتنے ہی بڑے صنعت کار کہلائیں گے۔آپ سے کوئی سوال نہیں کرے گا کہ آپ اس قرض کو کیسے چکائیں گے؟اس طرح کی ذہنیت کو بدلنا نا ممکن ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ پالیسی ڈھانچہ ہی ایک واحد حل ہے۔ وزیر خزانہ کو زرعی شعبے کے جانکاروں کے ساتھ بیٹھنا چاہئے،جن میں سوامی ناتھن جیسے لوگ شامل ہو ں اور اس شعبے کے مسائل کے حل نکالنے چاہئیں۔ سرکار ایک ایسا سسٹم بنائے جو کسانوں کے مسئلے کا حل دے سکے، تاکہ کسان تناؤ سے نجات پاسکے۔ظاہر ہے کہ زرعی شعبے پر باریکی سے کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ اسٹیٹ کا موضوع ہے۔ہر اسٹیٹ میں الگ الگ فصلیں ہوتی ہیں۔ الگ صورت حال ہوتی ہے،الگ مسائل ہوتے ہیں،لیکن اس کا حل نکالنا ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہے۔ آخر کار سبز انقلاب ( گرین ریو لیشن) کس کی وجہ سے آیا تھا۔ دنیا کے کسی ملک نے ہماری مدد نہیں کی۔ہم یہ انقلاب اپنے بل بوتے پر لائے تھے۔ سرکار کے پاس تین سال اور بچے ہیں۔ یہ سرکار اور اس کی پارٹی کے حق میں ہے کہ وہ آر بی آئی گورنر کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالے اور بجٹ میں کسانوں کے لئے کچھ ٹھوس حل دے۔یہ سب ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے۔مالی نقصان سرکار کا مسئلہ ہے، آر بی آئی کا نہیں۔ پہلے سارا زور انٹریسٹ ریٹ کو کم کرنے پر تھا ،لیکن ادھر میں یہ خبر نہیں سن رہاہوں ۔حالانکہ انٹریسٹ ریٹ کم نہیں ہوا ہے ،پھر بھی میرے حساب سے یہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے۔ بڑی تصویر کو صاف کرنے کی ضرورت ہے اور بڑی تصویر یہ ہے کہ ارون جیٹلی بجٹ میں یہ اعلان کریں کہ زراعت اور کارپوریٹ دونوں سیکٹر وں کے احساسات میں بدلاؤ ہوگا ۔دیکھتے ہیں،کیا ہوتا ہے؟

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *