میرٹھ پولیس نے تباہ کر دیے ہاشم پورہ قتل عام کے ثبوت

دھرمیندر کمار سنگھ 
p-3ملک میں عام آدمی کے انصاف پانے کی ساری امیدیں اس وقت ختم ہوجاتی ہیں، جب سارا سسٹم کسی معاملے کی لیپا پوتی میں جٹ جاتا ہے۔ ایسا ہی میرٹھ کے ہاشم پورہ محلہ میں پرووینشیل آرمس کانسٹبلری (پی اے سی) کی بربریت کا شکار ہوئے لوگوں کے ساتھ ہواہے۔ 22 مئی 1987 کے میرٹھ کے فساد زدہ ہاشم پورہ محلہ کے 42 مسلمانوں کو پی اے سی جوان ٹرک میں بھرکرلے گئے اور انھیں مراد نگر کے قریب گنگ نہر کے کنارے لائن میں کھڑا کرکے گولی مار دی۔ا ن میں سے زیادہ تر لوگوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی اور کچھ لوگ بچ گئے ، جنھوں نے بعد میں پی اے سی کی بربریت کو لوگوں کے سامنے رکھا۔ اس وقت بھی اس معاملے کودبانے کی پُرزور کوشش ہوئی تھی، کوئی بھی اخبار اس واقعہ کی خبر کو چھاپنے کے لیے تیار نہیں تھا،لیکن اس وقت ’چوتھی دنیا‘ نے سب سے پہلے اس واقعہ کوملک کے لوگوں کے سامنے رکھا تھا۔ لیکن آج اس واقعہ کے رونماہونے کے 28 سال بعد بھی متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں دہلی کے تیس ہزاری کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ثبوتوں کے فقدان میں پی اے سی کے 16 جوانوں کو بری کردیا تھا۔ اس کے بعد ہاشم پورہ کے لوگوں نے ہائی کورٹ کا رخ کیاتھا، لیکن حال ہی میں خبرآئی کہ اترپردیش پولیس نے اس معاملے سے جڑی ان دستاویزات کوختم کردیا ہے۔ انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں چھپی خبر کے مطابق اترپردیش کی میرٹھ پولیس نے ہاشم پورہ معاملے سے متعلق ان سبھی دستاویزوں کو تباہ کردیا ہے،جن سے پی اے سی کے جوانوں کے ذریعہ ہاشم پورہ کے لوگوں کے قتل عام کی بات ثابت ہوسکتی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں ہاشم پورہ سانحہ کی17 فروری کو ہونے والی سماعت کو دیکھتے ہوئے اترپردیش سرکار کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظفر یاب جیلانی اورسی بی سی آئی ڈی نے میرٹھ کے ایس ایس پی سے 1987 کے ہاشم پورہ سانحہ کے دور میں تعینات پولیس افسروں،ملازمین کے ساتھ ہی اس معاملے کے دوسرے ثبوت مہیا کرانے کو کہاتھا،لیکن میرٹھ کے ایس ایس پی نے جو جواب انھیں بھیجا ہے، وہ بے حد حیران کرنے والا ہے۔ایس ایس پی میرٹھ کے ذریعہ30 جنوری 2016 کو اترپردیش سی بی سی آئی ڈی کو لکھے خط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے سے جڑی دستاویزات کو غیر ضروری مان کر 1 اپریل 2006 کو ہی چھٹنی کرکے تباہ کیا جاچکا ہے۔ایس ایس پی میرٹھ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ پی اے سی کے جوانوں کی فساد کے دن ہاشم پورہ میں تعیناتی سے متعلق دستاویزات کو پیش کرناناممکن ہے،سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان دستاویزات کو اس وقت غیر ضروری مان کر چھٹنی کی گئی،جب دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں معاملے کی سنوائی چل رہی تھی ۔ اس خط میںیہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ کن وجوہات سے ان دستاویزات کی چھٹنی کی گئی۔
اس معاملہ کو لے کر متاثرہ خاندانوں کی نگاہیں اب دہلی ہائی کورٹ پر ٹک گئی ہیں۔ ہاشم پورہ سانحہ کے ثبوت ختم کیے جانے پر متاثرہ خاندان سیدھے طور پر ریاستی سرکار کو ذمہ دار بتارہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تیس سال 1987 کو ہوئے قتل عا م میں جب بھی انصاف کی امید کی جاتی ہے، تبھی اس معاملے میں جھوٹ بول کر کسی نہ کسی طرح اڑچن پیدا کی جاتی ہے۔ ثبوت ختم کیے جانے کی جانکاری ملنے کے بعدمتاثرہ خاندانوں نے ہاشم پورہ میں میٹنگ کی ہے۔ اس سانحہ کے اہم چشم دیدگواہ ذوالفقارناصر کا کہنا ہے کہ ثبوت ختم ہوجانے کے معاملے میں صاف طور پر جھوٹ بول کر قاتلوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب اس معاملے کی دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں سنوائی ہورہی تھی ، اس وقت بھی کچھ ثبوت ختم کیے جانے کی بات کہی گئی تھی، لیکن عدالت کی پھٹکار کے بعد وہ ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے۔ ہمیں امید ہے کہ اس بار بھی عدالت سرکار اور سرکاری محکمے سے جواب طلب کرے گی۔ہم اپنے وکیلوں سے مل کر اس بارے میںآگے قدم اٹھائیں گے۔
اتناکچھ ہونے کے باوجود ہاشم پورہ کے لوگوں نے ابھی بھی ہار نہیں مانی ہے۔ ابھی بھی انھیں اس بات کا یقین ہے کہ انھیں انصاف ملے گا اور جب تک انصاف نہیں ملے گا ، تب تک وہ لڑتے رہیں گے، بھلے ہی اس کے لیے انھیں سپریم کورٹ تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ ہاشم پورہ متاثرین کی وکیل ریبیکا جون کا کہناہے کہ جس ایجنسی پر متاثرین بھروسہ کررہے تھے، اسی نے ساری دستاویزات کو تباہ کردیا۔ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے ، یہ ایک بڑا قتل عام ہے، اس لیے اس سے متعلق دستاویزات کو ختم کیے جانے کے لیے کسی کی ذمہ داری تو طے کرنی پڑے گی، کیونکہ اس فعل سے متاثرین کو انصاف ملنے کی امید تاریک ہوگئی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *