ماں باپ فون کرتے رہے،پولیس سوتی رہی لکھیم پور کھیری میں تین سگی بہنوں کا اغوا

ہری شنکر ورما؍ اجے گپتا 
p-7لکھیم پور کھیری میں تین سگی بہنوں کو ایک ساتھ اغوا کئے جانے کے سنسی خیز واقعہ سے اتر پردیش کے لاء اینڈ آرڈر اور مجرموں پر پولیس کے خوف کا پول کھل گیا۔ پولیس کے ناکارہ پن کا حال یہ ہے کہ اغوا کے واقعہ کے بارے میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے جانکاری دی، تب جاکر پولیس حرکت میں آئی۔ لیکن اس حرکت کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پھیروتی کی رقم ادا کرنے کے بعد ہی تینوں لڑکیوں کو چھڑایا جاسکا، پولیس منہ دیکھتی رہ گئی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو لاء اینڈ آرڈر پختہ کرنے کی چاہے جتنی باتیں کریں اور سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو وزیر اعلیٰ اکھلیش کی سرکار کے کام کاج سے عدم اطمینان ظاہر کرتے رہیں، صوبہ کی حکومت اور انتظامیہ ان سب سے بے فکر ہے۔ اتر پردیش کی پولیس ،وزیر کی گمشدہ بھینسیں تلاش کرتی ہے اور مجرم لڑکیوں کو سر عام اغوا کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت جرائم پیشہ لوگوں کے نشانے پر لکھیم پور کھیری ہے۔ڈیڑھ دہائی پہلے للت موہن ورما عرف مونڈے نے جرائم کا جو بیج بویا تھا، اسے قدآور بنانے کا کام جیل سے فرار بگّا جیسا مجرم انجام دے رہا ہے۔اس کا ساتھی ڈالو پولیس مڈبھیڑ میں مارا جاچکا ، لیکن بگا کی مجرمانہ سرگرمیاں بے خوف جاری ہیں۔
لکھیم کھیری کی تین سگی بہنوں کے اغوا کے واقعہ نے پورے صوبہ اور ملک بھر کا دھیان ک اپنی طرف کھینچا ہے ۔اغوا شدہ بہنوں کے خاندان نے مقامی پولیس سے لے کر پولیس کنترول روم اور ضلع ہیڈ کوارٹر تک دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کی، لیکن کسی بھی پولیس آفیسر نے اس رات فون نہیں اٹھایا۔وزیر اعلیٰ کا ڈائل 100 کا بندوبست ، محض ایک سیاسی نعرہ ثابت ہوا۔ بے بس خاندان کو سیدھے وزیر اعلیٰ سے ہی مدد کی اپیل کرنی پڑی۔ لکھیم پور کھیری کا زیادہ تر حصہ جنگلاتی علاقوں سے ملا ہوا ہے۔یہاں دودھوا نیشنل پارک ہے۔ یہ ضلع نیپال کی سرحد سے لگا ہوا ہے۔یہ علاقہ مجرموں کی پناہ گاہ بنتا جارہا ہے۔ جرائم پیشہ خوفناک جرائم انجام دے کر آسانی سے گھنے جنگلوں میں چھپ جاتے ہیں یا سرحد پار کرکے نیپال چلے جاتے ہیں۔ اسی علاقے میں کھیری گڑھ کی گڑ کاروباری رام بلی گپتا کی تین بیٹیوں کا اغوا کرلیا گیا تھا۔ رام بلی گپتا کی بڑی بیٹی اپما کرناٹک سے بی اے ایم ایس کی پڑھائی کررہی ہے۔دوسری بیٹی روہنی بی اے کی طالبہ ہے اور تیسری بیٹی سنتوشی ضلع کے ایک کالج میں انٹر کی طالبہ ہے۔ایک رات درجن سے زیادہ جرائم پیشہ افراد نے گڑ کاروباری کے گھر پر حملہ بول کر صحن میں آگ تاپ رہی تینوں بیٹیوں، کاروباری کی بیوی منی دیوی اور نوکرانی تارا کا اغوا کر لیا۔ ہتھیار کے گھیرے میں لے کر انہیں جنگل میں لے آیا گیا۔ وہاں مجرموں نے منی دیوی اور نوکرانی تارا کو 50لاکھ روپے پھیروتی کا انتظام رکھنے کی تاکید کرکے چھوڑ دیا اور تینوں بہتوں کو موٹر سائیکل پر بیٹھا کر لے گئے۔ فورا ہی پولیس کو حادثے کی جانکاری دینے کی کوشش کی گئی،لیکن سنگاہی تھانہ کے انچارج جے پی یادو، سی او محمد ابراہیم اور کنٹرول روم (ڈائل 100) میں سے کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا ۔لگاتار کوششوں کے باوجود جب فون نہیں اٹھا تب متاثرہ خاندان کے لوگوں نے سیدھے وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے نمبر پر فون کیا اور واقعہ کے بارے میں جانکاری دی۔ اس کے بعد ہی کمبھ کرن نیند میں سوئی ضلع پولیس جاگی اور حرکت میں آئی۔ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی سمیت کئی تھانوں کی پولیس جائے واردات کی طرف بھاگ پڑی لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔ بدمعاش کاروباری کی بیٹیوں کو لے کر گھنے جنگلوں میں اوجھل ہو چکے تھے۔ پولیس کی لاپرواہی سے ناراض خاندان اور مقامی لوگوں نے احتجاج کئے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پولیس کو کوئی سراغ نہیں ملا، جبکہ بدمعاشوں نے اغوا شدہ بیٹیوں میں سے کسی ایک کے فون سے کاروباری رام بلی گپتا کو فون کر کے 50 لاکھ روپے کی پھیروتی مانگی ۔ وزیر اعلیٰ تک اطلاع ہو جانے سے بوکھلائی پولیس اور انتظامیہ کے افسر اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ افسروں کی بے چینی اتنی بڑھ گئی کہ ضلع کلکٹر کنجل سنگھ کو متاثرہ خاندان کے گھر پہنچ کر رشتہ داروں کی وزیر اعلیٰ سے بات تک کرانی پڑی۔ ادھر پھیروتی کے لئے بار بار فون آنے کے باوجود ناکارہ پولیس، مجرموں کو ٹریس نہیں کر پائی۔ آخر مایوس کاروباری نے 50لاکھ کے بجائے پانچ لاکھ روپے دینے کی بات کہی، مجرم پانچ لاکھ پر ہی مان گئے۔ بدمعاشوں نے رشتہ داروں کو پھیروتی کی رقم لے کربھیرم پور بلایا۔ جنگل لے جاکر مجرموں نے پہلے پھیروتی کی پوری رقم گنی،پھر اغوا شدہ بہنوں کو بیلرایاں ریلوے لائن کے پاس لاکر چھوڑ دیا۔ پولیس کچھ نہیں کر پائی۔
بعد میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایس ٹی ایف اور پولیس نے ایس ایس بی کی مدد سے مجرموں میں سے تیکونیا کے رائے پور کا رہنے والا راج کمار عرف راجو پسر وشرام، بگوڑیا کا رہنے والا گورمیت سنگھ اور کولونت سنگھ کو گرفتار کر لیا ۔پولیس کہتی ہے کہ وصول کی گئی پھیروتی کی رقم میں سے بھی تقریباً سوا دو لاکھ روپے برآمد کئے گئے ہیں۔ لیکن برآمد ہوئے نوٹوں اور پھیروتی میں دیئے گئے نوٹوں کے نمبر الگ الگ بتائے جارہے ہیں۔ اس مسئلے پر پولیس خاموش ہے۔

لاپرواہی میں صرف ایس او کو ہی کیوں سزا؟
تین سگی بہنوں کے اغوا کی اطلاع دینے کے لئے کیا گیا فون ریسیو نہیں کرنے پر سنگاہی تھانے کے انچارج جے پی یادو تو معطل کردیئے گئے، لیکن ایس پی اکھلیش چورسیا نے سرکل آفیسر محمد ابراہیم کو کیوں بخش دیا؟اس کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ جبکہ ضلع کلکٹر کنجل سنگھ نے اغوا معاملے میں ایریا آفیسر کے کردار کو مشتبہ مانتے ہوئے انہیں سخت پھٹکار بھی لگائی تھی۔
ایس ٹی ایف فیل، ڈائل 100 بھی ناکام 
جرم کی گتھیاں سلجھانے کا دعویٰ کرنے والی ایس ٹی ایف ایس اس اغوا معاملے میں فیل ثابت ہوئی ہے۔ کھیری گڑھ کے جنگلوں میں اغوا شدہ لڑکیوں کو چھپائے رکھا گیا اور فون پر پھیروتی کے لئے مول بھاؤ ہوتا رہا، لیکن ایس ٹی ایف سرویلانس نہیں کر پائی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اغوا کرنے والے پھیروتی کی رقم کے لئے رشتہ داروں سے موبائل کے ذریعہ لگاتار رابطے میں رہے۔ عام لوگوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ محض 14-15کلو میٹر دور نیپال کی طرف موبائل کا نیٹ ورک نہیں ملتا ، یعنی اغوا شدہ لڑکیاں اور مجرمین کا لوکیشن 14-15 کلو میٹر کے دائرے میں ہی تھا۔ اس کے باوجود ایس ٹی ایف کچھ نہیں کر پائی اور مجرم جو چاہتے تھے وہ کر لے گئے۔ اسی طرح پولیس کنٹرول روم کی ڈائل 100 سسٹم بھی بری طرح فیل رہا۔ اس سسٹم پر سرکار کے کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس میں ذاتی دلچسپی دکھائی لیکن کنٹرول روم نے فون ہی نہیں اٹھایا۔کھیری گڑھ کے گڑ کاروباری کی تین بیٹیوں کو بدمعاش اٹھا کر لے گئے۔ رشتہ دار 100نمبر پر ڈائل کرتے رہے۔ پولیس سوتی رہی۔ آخر کار وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کا فون اٹھا اور متاثرین کی عرضی وہاں سنی گئی۔ وزیر اعلیٰ رہائش گاہ سے پولیس کو دھمکایا گیا تب جاکر پولیس حرکت میں آئی۔ پھر بھی کاروباری کو پھروتی دے کر ہی اپنی بیٹیوں کو چھڑانا پڑا۔

جب عوام اتر پڑے سڑک پر
سنسی خیز اغوا کی واردات کو لے کراور پولیس لاپرواہی کے خلاف عام لوگوں کے ساتھ سماجی ادارے اور سیاسی پارٹیاں بھی سڑک پر اتر پڑیں۔ بی جے پی نو منتخب ضلع صدر شرد باجپئی کی قیادت میں سابق وزیر رام کمار ورما ، دھورہرا ممبر پارلیمنٹ ریکھا ورما سمیت سینکڑوں بی جے پی کے لوگوں نے دھرنا دیا اور چکا جام کیا ۔اسی سلسلے میں بھاکپا (مالے ) کی مرکزی کمیٹی کے ممبر کرشن ادھیکاری کی قیادت میں درجنوں کارکنوں نے پلیا تحصیل میں احتجاج کر کے واقعہ کے تئیں ناراضگی ظاہر کی۔ اس میں مالے لیڈر رام درس اور تحصیل کنوینر رنجیت سنگھ بھی شریک تھے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر ظفر علی نقوی اور سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر انوراگ پٹیل نے کھیری گڑھ جاکر متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔

الجھے رہ گئے کچھ سوال
*اغوا شدہبہنوں نے راستے میں اپنے چپل پھینک دیئے تھے، تاکہ راستے کا پتہ چل سکے۔ تھالی میں رکھ کر دیا گیا یہ سراغ ایس ٹی ایف اور ایس ایس بی کی نگاہوں میں کیوں نہیں آیا؟
*ڈی آئی جی، ڈی کے چودھری نے کہا تھا کہ 48گھنٹوں کے اندر خلاصہ نہیں ہوا تو ایس او اور سی او پر کارروائی ہوگی۔ پھر اکیلے ایس او کے ہی خلاف کارروائی کیوں ہوئی اور سی او کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟
*لکھیم پور کھیری کے ایس پی اکھلیش چورسیا نے کہا کہ اغوا معاملے میں تین مجرم پکڑے گئے ہیں۔ جب حادثہ سے جڑے تین مجرم پکڑ لئے گئے تو اغوا میں استعمال موٹر سائیکلیں اب تک کیوں نہیں بر آمد ہو پائیں؟ایس ٹی ایف اب تک کیوں جھک مار رہی ہے؟
*گرفتار مجرمین کے پاس سے برآمد نوٹوں کا نمبر الگ ہے، جبکہ پھیروتی میں دیئے گئے نوٹوں کا نمبر الگ ۔نوٹوں کے سیریل نمبر پر اٹھ رہے سوال پر ایس ٹی ایف کے ایس ایس پی امیت پاٹھک نے خاموشی کیوں اختیار کی؟
*مختلف جرائم میں پکڑے جانے والے مجرمین کو میڈیا کے سامنے لانے کا ضلع میں رواج رہا ہے،لیکن اغوا معاملے میں پکڑے گئے مجرموں کو میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟۔

پولیس کی اصلیت بتاتا ہے اغوا کا یہ واقعہ 
ضلع میں گزشتہ ایک دہائی میں ہوئے اغوا کے معاملے دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ تقریباً تمام ورداتوں میں پھیروتی دے کر ہی چھڑایا جا سکا ہے۔ 2008 میں گولا کے تین بڑے کاروباریوں کو اغوا کئے جانے کے معاملے میں بھی پھیروتی دے کر ہی انہیں چھڑایا جاسکا ۔2009 میں ریشو نام کے بچے کو مٹیہیا تھانہ عیسٰی نگر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس میں بھی پانچ لاکھ روپے کی پھیروتی مانگی گئی تھی۔ جون 2015 میں سنگاہی تھانہ علاقے سے رام نیواس کا اغوا ہوا تھا۔ پولیس نے رام نیواس کو چھڑا لیا لیکن اس میں بھی پھیروتی دینے کی بات کہی جاتی ہے۔ اگست 2015 میں آواس وکاس کالونی میں رہنے والے طالب علم پرانجل سچان کا اغوا کر لیا گیا تھا۔ بیچ شہر میں ہوئی اس سنسنی خیز واردات نے سب کے رونگٹے کھڑے کر دیئے تھے۔ پولیس اور ایس ٹی ایف کی مشترکہ ٹیم نے بچے کو چھڑایا لیکن پھیروتی کی رقم گروہ تک پہنچائی گئی، اس بات کی چرچا عام رہی ۔ حالانکہ اس کی توثیق نہیں ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *