کیا محبوبہ مفتی پارٹی کے اندرونی خلفشار کو روک پائے گی؟

ہارون ریشی
p-2مفتی محمد سعید کی وفات کے ٹھیک 10 دن بعد یعنی 17جنوری کو سرینگر میں محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کے ’’کور گروپ ‘‘ کی 4گھنٹے کی طویل میٹنگ کے بعد صحافیوں کو یہ نوید سنائی گئی کہ پی ڈی پی اب بی جے پی کے ساتھ مخلوط سرکار بحال کرنے پر تیار ہے۔ اگرچہ محبوبہ مفتی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم پی ڈی پی نے پہلی بار واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہی حکومت بنائے گی۔
بظاہر پارٹی کے کور گروپ کی یہ میٹنگ حکومت سازی کے مسئلے پر ’’صلاح و مشورہ‘‘ کرنے کے لئے ہی بلائی گئی تھی۔ لیکن میٹنگ میں موجود پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ اس میٹنگ میں اگرچہ بی جے پی کے ساتھ گزشتہ دس ماہ کی مخلوط سرکار کے تجربات کے تناظر میں کھل کر بات چیت کی گئی لیکن سچ تو یہ ہے کہ نئے سرے سے حکومت قائم کرنے کا فیصلہ خود محبوبہ مفتی نے ہی سُنایا۔
مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد وادی میں یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ پی ڈی پی پر مفتی خانوادے کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت سازی کا فیصلہ کرنے لئے بلائی گئی اس اہم ترین میٹنگ میں پارٹی کے صرف چنیدہ لوگوں کو ہی شرکت کے لئے بلایا گیا تھا۔ پی ڈی پی کے پاس فی الوقت 27ممبران اسمبلی ہیں لیکن اس اہم میٹنگ میں صرف 9ممبران کو بلایا گیا تھا، یعنی اُن ممبران اسمبلی جن کے بل پر حکومت قائم ہونے جارہی ہے، کی اکثریت (18ممبران) کو اس فیصلہ ساز میٹنگ سے دور رکھا گیا تھا۔ اسی طرح پی ڈی پی 9 اراکین قانون ساز کونسل میں سے صرف 5 کو میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں پارٹی کے ’’کور گروپ‘‘ کے نام سے بلائی گئی اس میٹنگ میں مفتی خاندان کے کئی لوگ جو پارٹی کے بھی رکن نہیں ہیں کو بھی شریک کیا گیا۔ میٹنگ چند میں کئی ایسے سرکاری عہدیداروں کو بھی شامل کیا تھا، جو براہ راست پارٹی میں شامل نہیں ہیں۔ یہ 17سالہ پرانی پی ڈی پی کی پہلی ایسی میٹنگ تھی، جس میں مرحوم مفتی محمد سعید کے اکلوتے بیٹے اور محبوبہ مفتی کے چھوٹے بھائی تصدق حسین مفتی بھی موجود تھے۔ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد تصدق، جو پیشے کے اعتبار سے ایک فلم ساز ہیں، کے بارے یہ افواہیں گرم ہیں کہ وہ اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے پارٹی کے اگلے اُمیدوار ہونگے۔ اس وقت خود محبوبہ مفتی پارلیمنٹ میں اس حلقہ انتخاب کی نمائندگی کررہی ہیں۔ لیکن محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننے کے نتیجے میں یہ پارلیمانی سیٹ خالی ہوجائے گی۔ یہی نہیں پارٹی کے اندرونی ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پارٹی کی صدارت کا عہدہ محبوبہ کے مامو سرتاج مدنی کو دیا جائے گا، جو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگئے تھے۔
پارٹی کی ’’کور گروپ‘‘ میٹنگ میں پارٹی کے بانی لیڈران میں شامل طارق حمید قرہ بھی موجود تھے۔ طارق حمید قرہ نے 2014کے پارلیمانی انتخابات میں سرینگر کی سیٹ پر نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ کو شکست دی تھی۔ طارق قرہ پارٹی کے واحد لیڈر ہیں، جو کھلے عام بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت بنانے کی مخالفت کررہے ہیں۔ اس میٹنگ میں اگرچہ وہ مکمل طور خاموش رہے ہیں، لیکن میٹنگ کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اُن کی ’’خاموشی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے پارٹی کے فیصلے کی حمائت کررہے ہیں۔‘‘ مفتی محمد سعید کی وفات سے چند ہفتے قبل طارق قرہ نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل انٹرویو میں پی جے پی کے تئیں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا،’’ میں اس لئے بی جے پی کے ساتھ پی ڈی پی کے اتحاد کا مخالف ہوں کیونکہ اس اتحاد کی وجہ سے ہماری پارٹی کی عوامی ساکھ ختم ہوگئی ہے۔ کشمیر کے بارے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کا ایک خفیہ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر یہ جماعتیں گزشتہ چھ دہائیوں سے عمل نہیں کر پائی ہیں لیکن اب ہماری پارٹی کی مدد سے یہ اپنے منصوبے کو اپنا رہی ہیں۔‘‘
مفتی محمد سعید کی وفات کے صرف 5دن بعد ہی طارق قرہ نے اعلانیہ طور پر محبوبہ مفتی کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست کی سیکولر جماعتوں کے تعاون سے حکومت بنانے کو ترجیح دیں۔ اس طرح سے طارق قرہ پی ڈی پی کے واحد لیڈر ہیں، جو کھلے عام بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کی مخالفت کررہے ہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ پارٹی کے ایک بانی لیڈر، جو ممبران اسمبلی میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں، کا اس طرح سے کھلے عام بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت سازی کی مخالفت محبوبہ مفتی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
سینئر صحافی اور سیاسی مبصر سبط محمد حسن نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’ میرے خیال سے محبوبہ مفتی کے لئے چیلنج یہ نہیں ہے کہ مخلوط حکومت بننے کے بعد وہ بی جے پی کو کیسے قابو میں رکھے گی۔ بلکہ محبوبہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ پارٹی کے اندر اٹھنے والی موثر آوازوں کو کیسے روک لے گی۔ کیونکہ اس طرح کی آوازیں پارٹی کو عملاً دو ٹکڑوں میں بھی بانٹ سکتی ہیں۔‘‘ سبط محمد حسن کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ پارٹی میں مفتی خانوادے کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے بھی پارٹی کے اندر بعض سینئر لوگوں میں ناراضگی پھیلے گی۔ ایسی صورت حال میں محبوبہ مفتی کے لئے پارٹی کو قابو میں رکھنا ہی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔‘‘
’’کور گروپ‘‘ کی میٹنگ میں شمولیت کے لئے نہ بلائے جانے پر ناراض پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا،’’ ابھی مفتی صاحب کو رخصت ہوئے دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ اس ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ میں ’’ڈکٹیٹر شپ‘‘ شروع ہوگئی ہے۔ جن ممبران اسمبلی کے بل پر محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ بننے جارہی ہیں۔ اُن کو ہی فیصلہ ساز میٹنگ میں نہ بلانا اس بات کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے کہ محبوبہ مفتی پارٹی کو اپنی وراثت سمجھنے لگی ہیں۔ یہ جمہوریت کی سراسر توہین ہے۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد انکی جانشین بیٹی کو قدم قدم پر چیلنچوں کو سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک جانب انہیں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت اور دفعہ 370 کو ختم کرنے کی کوششیں کرنے والی بی جے پی کو قابو میں رکھنا پڑے گا اور دوسری جانب پارٹی کو اندرونی خلفشار سے بچانا ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ مفتی صاحب کی موت کے نتیجے میں محبوبہ مفتی کے مقدر کو اقتدار کی جو مسند آگئی ہے وہ پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *