جھارکھنڈ اب دہشت گردوں کی پناہ گاہ ، بچوں اور نوجوانوں کو ٹریننگ

کمار کرشنن
p-09نکسل متاثرہ صوبوں میں شمار ہونے والا جھارکھنڈ اب دہشت گردوں کا نیا ٹھکانا بنتا جارہا ہے۔ اب تک جھارکھنڈ کو انڈین مجاہدین اور سیمی استعمال کرتے رہے ۔ہریانہ سے القاعدہ کے دہشت گرد جمشید پور کے عبد السامی کی گرفتاری سے یہ بات پختہ ہو گئی ہے کہ القاعدہ دہشت گردی کے تار جھارکھنڈ سے جڑے ہیں۔ اس کی گرفتاری بھلے ہی ہریانہ سے ہوئی ہو، لیکن جمشید پور پولیس نے عبد السامی کی ریکی کی تھی اور اس کے دلی جانے کی اطلاع دلی پولیس کو دی تھی۔ اسی بنیاد پر دلی پولیس کی اسپیشل سیل نے عبد السامی کو گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ 10 سالوں کے دوران ایسے کئی موقع آئے جب یہاں کے کئی لڑکے گرفتار ہوئے یا پھر دوسرے صوبوں کے دہشت گردوں نے یہاں پناہ لی۔
دلی پولیس کے اسپیشل سیل نے میوات کے نوح قصبے میں بنی مسجد کے پاس سے جمشید پور کے دھتکی ڈیہہ کے رہنے والے 32 سالہ عبد السامی کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری اڑیسہ کے کٹک سے گرفتار ہوئے القاعدہ کے مشتبہ عبد الرحمن کے خلاصے کے بعد ہوئی ۔ سامی کو جھارکھنڈ ، بہار اور بنگال سے نوجوانوں کو دہشت گرد بنانے کا کام ملا تھا۔ وہ کٹک کے مدرسے میں 60 سے زیادہ نوجوانوں کو لے جا چکا ہے۔ وہ پانچ نوجوانوں کو پاکستان لے گیا تھا۔ ان نوجوانوں کو وہاں دہشت گردی کی ٹریننگ ملی تھی۔ یہ نوجوان آزاد نگر، کپالی، دھتکی ڈیہہ کے رہنے والے ہیں۔ سامی کا پاسپورٹ کپالی کے کبیر نگر کے پتے پر 2010 میں بنوایا گیا تھا۔ پاسپورٹ میں 2014 کے جنوری میں یو اے ایس اے میں انٹری دکھائی گئی ہے۔ اس کے ملیشیا کی انٹری دسمبر 2014 میں ہے۔ بیچ کے دس ماہ کی کوئی انٹری نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اسی دوران پاکستان میں جاکر ٹریننگ لی۔
عبد الرحمن اڑیسہ کے جگت پور میں دہشت گرد کیمپ چلاتا ہے جہاں جھارکھنڈ اور دیگر صوبوں کے مسلم نوجوانوں کو لے جاکر دہشت گرد بننے کے لئے تیار کیا جاتاہے۔ اڑیسہ کے کٹک سے گرفتار عبد لرحمن عرف کٹکی جمشیدپور، رانچی اور لوح درگارہ میں لگاتار آتا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں جھارکھنڈ پولیس ہیڈ کوارٹر نے پاکوڑ پولیس کو الرٹ کر کے پولولر فرنٹ آف انڈیا نام کی تنظیم کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدات دی تھی۔
عبد الرحمن ،محمد آصف اور عبدا لسامی کو ملا کر اسپیشل سیل اب القاعدہ کے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ پولیس کے مطابق عبد السامی کا داہنا ہاتھ یوسف تھا،جو محمد آصف کے رابطے میں تھا۔ آصف القاعدہ مائڈیول ان انڈین سب کنٹیننٹ کے بانی ممبروں میں ایک ہے۔ آصف اس مہم میں گرفتار ہونے والا پہلا دہشت گرد تھا، جسے دلی کے سیلم پور سے پکڑا گیا تھا ۔اس کے بعد کٹک سے عبد الرحمن عرف کٹکی ، سنبھل پور سے ظفر مسعود اور بنگلور سے مولانا انظار شاہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔چاروں کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ایسے تین افراد کی پہچان کی، جسے کٹکی نے اپنی سرگرمی میں شامل کیا تھا اور ٹریننگ کے لئے بھیجا تھا ۔ان میں سامی کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ ابو سفیان عمر حیدر آبادی کے بارے میں مانا جاتاہے کہ وہ اب بھی پاکستان میں ہے۔ عبد الرحمن 20 سے زیادہ مرتبہ جمشید پور آچکا تھا اور وہاں آنے پر وہ دھتکی ڈیہہ اور مانگو میں رہتا تھا۔ حال ہی میں گرفتار ہوئے ہندوستان میں القاعدہ کا چیف آصف کی بہن کی شادی جمشید پور میں ہوئی ہے۔ عبد الرحمن آصف کی بہن کے ذریعہ عبد السامی کے رابطے میں آیا اور پھر دھیرے دھیرے رابطہ بڑھتا گیا۔ عبد السامی ، کٹکی کے رابطے میں تھا ۔گزشتہ ماہ کٹک سے گرفتار مدرسہ کے ذمہ دار عبد الرحمن عرف کٹکی کی مدد سے عبد السامی جنوری 2014 میں دبئی ہوتے ہوئے کراچی پہنچا تھا۔ کراچی میں کچھ دن رہنے کے بعد وہ مان سیہرا چلا گیا تھا۔ مان سیہرا میں ہی ہتھیار چلانے کی ٹریننگ لی تھی ۔اس کے پاکستان جانے کی پوری تیاری کٹکی نے ہی کی تھی۔ بنگلور کے مولانا نے بھی اس کی مدد کی تھی۔ سامی مانسیہرا میں ٹریننگ لینے کے بعد جنوری 2015 میں لوٹا تھا۔ سامی کو پاکستان سے یوسف نام کے ہینڈلر انسٹرکشن دے رہا تھا۔ وہ دیگر نوجوانوں کو بھی تنظیم میں شامل کرنے کی کوشش میں تھا۔ کٹکی کی گرفتاری کے بعد اسپیشل سیل نے مولانا کو بھی پکڑ لیا تھا۔ کٹکی سے ملی جانکاری کے بعد عبد السامی کو بھی گرتار کر لیا گیا۔
خطرناک بات تو یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم جھارکھنڈ کے بچوں اور نوجوانوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ اڑیسہ سے گرفتار دہشت گرد عبد الرحمن کٹکی کے مدرسے میں جس طرح سے بڑی تعداد میں جھار کھنڈ کے بچے کی تربیت لینے کی بات سامنے آئی ہے،ریاستی پولیس کی نیند حرام کر دی ہے۔ اپنے ناپاک ارادوں کو پورا کرنے کے لئے اب دہشت گرد تنظیم جھارکھنڈ کے نونہالوں کا استعمال کرنے کی سمت میں کام کررہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ القاعدہ سے جڑے دہشت گرد عبد الرحمن کٹکی جیسے لوگ مدرسہ چلا رہے ہیں ۔ان کے مدرسے میں پڑھ رہے تقریبا 90فیصد بچے جھارکھنڈ کے ہیں۔ کٹکی جھارکھنڈ کے کئی علاقوں میں جیسے چانہو، نام کوم، لوہر دگا سمیت مختلف علاقوں میں مذہبی پرچار کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرتا ہے۔ القاعدہ کے دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد کٹکی کا اصلی چہرہ سامنے آیا۔37سالہ کٹکی نے اسلام اور عربی جائزہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس نے جھار کھنڈ کے علاوہ اتر پردیش، کرناٹک ،بنگلور میں درجنوں میٹنگیں کی۔ اس کا تعلق سعودی عرب، دبئی کے دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ وہ نوجوانوں کو کئی حصوں میں دہشت گردی کی ٹریننگ دے رہا تھا۔وہ اتر پردیش میں 7 برس تک رہاہے۔
جھارکھنڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ایس این پردھان کے مطابق عبد السامی کو اڑیسہ سے گرفتار دہشت گرد کٹکی سے پوچھاتاچھ کے بعد ملی جانکاری کی بنیاد پر پکڑا گیا۔ عبد السامی کی تلاش میں تقریباً 15دن پہلے دلی پولیس کی ٹیم جمشید پور آئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ جمشید پور کے علاوہ جھارکھنڈ کے دیگر ضلعوں کے اور بھی نوجوان دہشت گرد گروپ کے رابطے میں ہیں۔ ان کی مانیں تو 2002 میں جھارکھنڈ میں دہشت گردی نے دستک دی تھی۔ اس کے بعد لگاتار دہشت گردوں کی گرفتاری نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جھارکھنڈ میں دہشت گردوں نے اپنا امپائر قائم کر لیا ہے۔دراصل جھارکھنڈ کا علاقہ بنگلہ دیش کی سرحد سے لگا ہواہے ۔ اس کی جغرافیائی صورت حال کا فائدہ ان تنظیموں کے لوگ اٹھاتے رہے ہیں۔
دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے جھارکھنڈ نیٹ ورک کا خلاصہ ہونے کے بعد ڈی جی پی ڈی کے پانڈے نے پولیس ہیڈ کوارٹر کے سینئر افسروں ، اے ڈی جی مشن، اے ڈی جی ہیڈ کوارٹر، اے ڈی جی اسپیشل برانچ، آئی جی سی آئی ڈی، ڈی آئی جی رانچی، آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ،رانچی کے گرامن ایس پی اور اے آئی جی ٹو ڈی جی پی کے ساتھ میٹنگ کی۔ دلی پولیس کے ذریعہ فراہم کرائی گئی اطلاعات پر غور کیا گیا۔ آئی بی اور خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کا جائزہ لیا گیا۔اس کے بعد ڈی جی پی نے متعلقہ پولیس افسروں کو الرٹ رہنے اور القاعدہ کے جھارکھنڈ نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہدایت دیئے۔ صوبہ میں 10 لوگ القاعدہ سے جڑے ہیں اور ملک کے باہر جاکر ٹریننگ لے چکے ہیں۔
مرکزی سرکار کے سیکورٹی ایڈوائزر کے وجے کمار نے بھی وزیر اعلیٰ رگھو ویر داس سے ملاقات کی اور دہشت گرد سرگرمیوں کے مد نظر جھارکھنڈ کے ڈی جی پی ڈی کے پانڈے، اڑیسہ کے پولیس ڈی جی پی کے بی سنگھ، وزیر اعلیٰ کے چیف سکریٹری سنجے کمار، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری سنیل ورناوال کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی کے ایشو پر گفتگو کی۔
جس ڈھنگ سے دہشت گردوں کے القاعدہ سے بھی رابطہ ہونے کی خبریں آرہی ہیں،وزیر داخلہ کی تشویش اور بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ القاعدہ چیف ایمن الظواہری نے بھی ہندوستان کو سیدھے سیدھے دھمکی دی تھی اور اشارہ کیا تھا کہ ہمارا نیٹ ورک ہندوستان میں مضبوط ہو رہا ہے۔ دوسری طرف آئی ایس کے ہندوستان میں بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے ریاستی سرکاروں کو الرٹ کیا تھا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آئی ایس کے تئیں بڑھتے لگاؤ کو دیکھتے ہوئے بیان دیا تھا کہ کچھ لوگ ضرور ہیں جو نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں لیکن انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیاتھا کہ اس ملک کے نوجوان ان کی سازش میں نہیں آئیں گے۔
دہشت گردوں کی کچھ تاریخی باتیں
2002 میں کولکتا میں ہوئے حملوں کے بعد دلی پولیس کی اسپیشل ٹیم نے دو دہشت گردوں کو ہزاری باغ میں مار گرایا۔
نومبر 2002 کو دلی کے انسل پلازا میں مڈ بھیڑ میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد شاہنواز کے پاس سے ایک لائسنس ملا تھا،جس میں جمشید پور کے مانگو کے جواہر نگر کا پتہ تھا اور لائسنس بھی جمشید پور کا بنا دکھایا گیا تھا،لیکن دلی سے آئی ٹیم کو اس پتے پر شاہنواز کا کوئی رشتہ دارنہیں ملا اور نہ ہی ضلع ٹرانسپورٹ محکمہ کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ۔
2006 میں کولکتا سے آئی ٹیم نے نور محمد کو مانگو آزاد نگر سے گرفتار کیا تھا۔ جس پر کولکتا میں امریکن سینٹر میں ہوئے حملے کا الزام تھا۔ حالانکہ اس معاملے میں سالوں تک مقدمہ چلنے کے بعد قصور ثابت نہیں ہو پایا اور ملزم چھوٹ گیا۔
2007میں راجستھان کے اجمیر میں ہوئے دھماکہ کے تار جھارکھنڈ سے جڑے ملے اور راجستھان کی سی آئی ڈی ٹیم نے جماتارا سے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا۔
2008 میں گجرات میں ہوئے دہشت گرد حملوں کے الزام میں پولیس نے رانچی میں رہنے والے دانش کو گرفتار کیا۔
2011 میں ممبئی حملوں کے بعد اے ٹی ایس اور این آئی اے کی ٹیم نے چھوٹے شہروں میں جاکر ممبئی حملوں کے تار ڈھونڈنے کے دوران دانش کے ساتھی منظر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا۔
5جون 2011 مدھیہ پردیش کے اے ٹی ایس کی ٹیم نیجمشید پور کے مانگو کے ذاکر نگر روڈ نمبر 13 ویسٹ میں ایک دو منزلہ مکان مین چھاپے ماری کرکے انڈین مجاہدین کے دہشت گرد ابو فضل ، ارشاد اور ایک خاتون کو گرفتار کیا تھا۔ ابو فضل مدھیہ پردیش کی ایک فائننس کمپنی میں ہوئے سونا لوٹ حادثے کا ملزم تھا۔ یہ مکان رانچی کے ایک آدمی نے انہیں دلایا تھا۔ ابو فضل اور ارشاد دونوں مدھیہ پردیش کی جیل میں ہیں۔
2013 میں بودھ گیا اور پٹنہ میں نریندر مودی کے اجلاس میں دھماکہ کرنے کے معاملے میں 6دہشت گردوں کو رانچی سے گرفتار کیاگیا۔
اکتوبر 2014 کو اے ٹی ایس نے مغربی بنگال کے وردوان میں ہوئے بس دھماکہ معاملے میں آزاد نگر تھانہ کے آزاد بستی سے شیث محمود نام کے آدمی کو گرفتار کیا تھا۔ اے ٹی ایس کے مطابق محمود جماعت المجاہدین کا ممبر تھا۔
20دسمبر 2015 کو جھارکھنڈ کے کلو مانڈو، رام گڑھ کے گیتانجلی سنیما ہال کے قریب کا رہنے والا افروز انصاری عرف سلیم نیپال بارڈر کے رمگڑھوا میں 6لاکھ جالی نوٹ کے ساتھ مظفرپور پولیس کے ذریعہ گرفتار کیا گیا ۔پوچھ تاچھ میں افروز نے مالدہ سے رمگڑھوا میں جالی نوٹ کا کھیپ لے کر پہنچنے کی جانکاری ڈی آر آئی ٹیم کو دی تھی۔
16دسمبر 2015 کو اڑیسہ پولیس نے القاعدہ دہشت گرد عبد الرحمن عرف کٹکی کو گرفتار کیا، اس نے بتایا کہ جمشید پور کے کئی نوجوانوں کو اڑیسہ میں تربیت دے چکا ہے اور کئی بار جمشید پور آچکا ہے۔
17دسمبر 2015 کو دلی کے سیلم پور سے القاعدہ کا ہندوستان میں چیف محمد آصف کو گرفتار کیا گیا۔ اس کی بہن جمشید پور میں رہتی ہے۔جس سے ملنے کے لئے وہ دو بار جمشیدپور آچکا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *