ہند و متحدہ عرب امارات کے درمیان رشتوں کی نئی عبارت لکھی جارہی ہے

شرد ترپاٹھی
p-8جب وزیر اعظم نریندر مودی یو اے ای کے کراؤن پرنس شیخ محمد کا استقبال کرنے پروٹوکول کو توڑ کر خود پالم ایئر پورٹ پہنچے، تو دونوں ملکوں کے بیچ رشتوں کی نئی عبارت کی تصویر صاف دکھائی دی۔ اس دورے نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات اورجیو پالیسی رلیشنز کو ایک نئیسمت عطا کی ہے۔
اس دورہ کے نقطہ نظر سے یہ حقیقت خاص اہمیت رکھتی ہے کہ محض چھ ماہ پہلے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے یو اے ای کا دورہ کیا تھا اور 1981 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بعد کسی وزیر اعظم کا یہ پہلا یو اے ای دورہ تھا۔ حالانکہ یواے ای سے ہمارے رشتے کئی نقطہ نظر سے بے حد اہم ہیں، لیکن تین دہائیوں سے کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا وہاں نہ جانا اچھااشارہ نہیں مانا جا سکتا۔ رشتوں میں جمی برف پگھلنے کو ان دوروں کے حوالے سے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم مودی کے اگست 2015 میں متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران دونوں ملک اپنے دو طرفہ تعلقات کو’ کمپرہینسو اسٹریجٹک رلیشن‘ میں بدلنے پر متفق ہوئے تھے۔ اسی کے مدنظر کراؤن پرنس اپنے ساتھ وزراء اور صنعت کاروں پر مشتمل وفد کو لے کر آئے۔ دونوں ملکوں کے بیچ جوہری توانائی ، پیڑولیم ، بنیادی ڈھانچہ سمیت کاؤنٹر ٹیررزم جیسے 16 ایشوز پر مشتمل معاہدے پرہوئے دستخط بھی تعلقات کے وسیع فارم کو ظاہر کرتے ہیں۔
ہندوستان کی بدلتی اقتصادی تصویر عالمی سیاست میں اس کے بڑھتے قد کی تصدیق کررہی ہے۔ ہندوستان آج یو اے ای جیسے ملک سے صرف تجارت اور وہاں رہ رہے 25 لاکھ ہندوستانیوں سے جڑے مسائل کو تعلقات کی بنیاد نہ بناتے ہوئے علاقائی اور عالمی اہمیت کے مدعوں پر اسٹریجٹک رلیشن کو چلانا چاہتا ہے۔ اس دورہ کی مرکزی اہمیت کے حامل مدعوں کے طور پر ہم دہشت گردی،توانائی شعبہ میں ہوئے فیصلوں، جامع اقتصادی تعلقات اور دفاعی شعبہ کواہم مان سکتے ہیں۔
دہشت گردی کے موضوع پر خلیجی ممالک کا مخصوص جیوپالیٹکل اسٹیٹس رہا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کے خاص حوالے سے یہ آج اور بھی بڑا مدعا ہے۔ ایسے میں ان دونوں دوروں کے دوران دہشت گردی کے موضوع پر جو مشترک سوچ مشترکہ اعلامیہ میں دکھائی دیتی ہے، اسے بے حد اہم مانا جاسکتا ہے۔ یو اے ای نے ہندوستان کے سُر میں سُرملاتے ہوئے سبھی ملکوں سے دہشت گردی کواور دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کرنے اور دہشت کے آقاؤں او رحامیوں کو عدالتی کارروائی سے سزا دلانے کی اپیل کرکے اس حساس مدعے پر اپنا رخ صاف کردیا ہے۔ اس حوالہ سے دونوں ملک انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے کو منع کرتے ہیں، جو مودی کے دہشت گردی سے لڑنے کی 10 نکاتی تجویز کا مشہور پوائنٹ رہا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں فریقوں کو یہ مسئلہ دو فریقی سطح پر پُرامن طریقے سے سیاسی بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہیے اور اس بارے میں تشدد اوار دہشت گردی کا سہارا لینے سے بچنا چاہیے۔سیدھے طور پر یہ بیان پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرسکتا ہے۔پاکستان کے ساتھ یو اے ای کے تعلقات کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یقینی طور پر اسے ایک بڑی تبدیلی مانی جانی چاہیے۔ یہاںیہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے ذریعہ سعودی عرب کی قیادت میںیمن میں حوثی باغیوں کے خلاف چھڑی مہم میں پاکستان کے ذریعہ حمایت نہ دینے کے نتیجے میں یو اے ای اور پاکستان کے بیچ تعلقات کشیدہ ہیں۔
تعلقات کا اقتصادی پہلو: ہندوستان اس وقت یو اے ای کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ملکوں کی دو طرفی تجارت 60 بلین ڈالر ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اگست 2015 کے دورے کے دوران دونوں ملکوں میں اپنی تجارت کو اگلے پانچ سالوں میں60 فیصد بڑھانے اور اس تعلق سے ایک دوسرے کے بازاروں تک رسائی کے لیے ٹیرف اورغیر ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق رائے بنی تھی۔
یو اے ای اپنی کل تین بلین ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ ہندوستان میں دسواں سب سے بڑا سرمایہ کار ملک ہے۔ایسے میں امکانات کی نظر سے ہندوستان سرمایہ کاری کے حوالے سے خاص کوششوں پر زور دے رہا ہے۔’’میک اِن انڈیا‘‘ جیسی مہموں میںیو اے ای کے سرگرم تعاون کے امکانات ہندوستان کے لیے اہم معنی رکھتے ہیں۔مودی کے دورے کے دوران ہی یو اے ای نے 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پراپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس مقصد سے ’’انڈیا انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ فنڈ‘‘ کو بھی قائم کیا گیا ہے۔ ہندوستان، ریفائنری، پیڑو کیمیکل، پائپ لائن او رایل این جی جیسے شعبوں میں مجوزہ سرمایہ کاری کرکے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشش کررہا ہے۔ حالانکہ دورے کے آخری مرحلہ میں کراؤن پرنس نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو اور بہتر بنانے کے لیے کچھ ضروری اقتصادی اصلاحات کی طرف اشارہ کیا ہے، جس پر ہندوستان کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
تیل اور توانائی کے حوالہ سے :ہندوستان کی بڑھتی توانائی کی مانگ اور توانائی کے وسائل کے حوالے سے امپورٹ پر انحصار ہماری خارجہ پالیسی کی سمت طے کرنے میں ایک ہم فیکٹر رہا ہے۔مغربی ایشیا پر مرکوز خارجہ پالیسی میں اسے سب سے اہم فیکٹرماناگیا ہے۔ یو اے ای کچے تیل کے امپورٹ کا ہما را چھٹا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ہم کل تیل امپورٹ کا 8 فیصد اس سے کرتے ہیں، لیکن ہندوستان نے اس مالی سال میں اس میں کافی اضافہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔
یہی نہیں، اس دورے کے دوران دونوں ملکوں نے توانائی کے شعبے میں اسٹریٹجک رلیشنز کو وسیع بناتے ہوئے مشترکہ طور پر ہندوستان میں تیل کے اسٹاک پالیسی کو ڈیولپ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔یہ یو اے ای کا کسی بھی ملک کے ساتھ اس قسم کا پہلا عالمی سمجھوتہ ہے۔ اس کی تعمیل میں وہ ہندوستان کو دو تہائی تیل فری میں فراہم کرائے گا اور باقی تیل یو اے ای دیگر ملکوں کو بیچ سکے گا۔ دراصل اس سسٹم کا استعمال یو اے ای کچے تیل کی قیمتوں میں لگاتار ناپائیداری اور گراوٹ کے نقطہ نظر سے اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے کرسکے گا۔ ہندوستان میں وشاکھا پٹنم، منگلور اور پردور میں ایسے تیل ذخائر تیار ہورہے ہیں، جو ہنگامی حالات میں ہماری تیل کی ضرورت کو پوراکریں گے اور تیل کی قیمتوں میں اچھال کے وقت ہماری ادائیگی کو متوازن رکھنے میں مددکریں گے۔
ہندوستان اور یو اے ای دفاع کے حوالے سے بھی نزدیک آئے ہیں۔ دونوں ملک قومی سلامتی کونسل کی سطح پر معمول کے مطابق سیکورٹی ڈائیلاگ چلارہے ہیں۔ اسٹریٹجک رلیشنز کو مضبوط بنانے کے لیے سیکورٹی سے متعلق کئی وسیع موضوعات پر دونوں ملک ساتھ چلنے کو رضامند ہوئے ہیں۔ ا س میں کاؤنٹر ٹورزم، میری ٹائم سیکورٹی اور سائبر سیکورٹی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔خلیجی اور بحر ہند کے علاقے میں دونوں ملکوں کے سیکورٹی مضمرات کو دیکھتے ہوئے اسے ان دفاعی تعلقات میں بنیادی کردار دیا گیا ہے۔
دونوں ملک مستقبل میں اپنے دو طرفی تعلقات کو سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبہ میں تعاون کے ذریعہ بھی ایک پروسپیکٹولی نقطہ نظر دے رہے ہیں۔ کراؤن پرنس شیخ محمد کے ہندوستان پہنچنے سے کچھ گھنٹوں پہلے ہندوستان کے ذریعہ یو اے ای کو 2025 تک اس کے مجوزہ منگل ابھیان میں مدد فراہم کرنے کا عہد بھی ہائی ٹیکنالوجی شعبے میں دونوں ملکوں کے بیچ بڑھ رہی نزدیکیوں کو واضح کرتا ہے۔
دونوں ملک اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ 21 ویں صدی میں باہمی جامع تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کا اہتمام لازمی ہے۔ واضح ہو کہ ہندوستان اوریو اے ای اپنی تاریخی ثقافتی تعلقات کو ان دوروں کی بنیاد پر ایک نئی سمت دینے میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں، جس کا اثر علاقائی اور عالمی سیاست پردیکھنے کو ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *