دنیا بھر میں زیکا وائرس کا خطرہ

p-8bایبولا کے بعد اب دنیا میں زیکا وائرس کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کی زد میں لیٹن امریکہ کے 23ممالک آچکے ہیں اور اس خدشہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ زیکا وائرس کی زد میں اگلے سال تک امریکہ براعظم کے قریب چالیس لاکھ لوگ آسکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے مچھروں سے پھیلنے والے زیکا وائرس کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک اور ہندوستان سے زیکا وائرس کے خلاف نگرانی بڑھانے اور احتیاطی قدم اٹھانے کے لیے ہدایت جاری کرتے ہوئے حاملہ خواتین کو متاثرہ علاقوں کا سفر ٹالنے یا منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
زیکا وائرس ’ایڈیز‘ مچھر سے پھیلتا ہے اور یہ خاص طور سے حاملہ خواتین کے لیے بہت نقصاندہ ہوتا ہے۔ اسے مائیکرو سیفیلی کہا جاتا ہے، جو کہ ایک نیورولوجیکل ڈس آرڈر ہے۔ زیکا وائرس کے خاص طور پر حاملہ خواتین پر زیادہ اٹیککرنے کے سبب حاملہ خواتین کے بچے چھوٹے سر کے پیدا ہوتے ہیں ، کیونکہ ان کے دماغ کی نشوو نما نہیں ہوپاتی۔
زیکا وائرس مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتاہے، جو پیسفک ریجن میں پہلی بار سال 2007 میں ، سال 2013 میں فرینچ پولی نیشیا اور سال 2015 میں امریکہ (برازیل اور کولمبیا) او رافریقہ (کیپ وردی) میں سامنے آیا تھا اور اب امریکہ کے تقریباً 23ملکوں میں اپنی دہشت قائم کیے ہوئے ہے۔ عالمی صحت ادارہ (ڈبلیو ایچ او) نے زیکا وائرس سے بچاؤ کے لییبتایا ہے کہ یہ وائرس ایڈیز مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ وہی مچھر ہوتاہے ، جس کے کاٹنے سے ڈینگو، چکن گونیا اور یلو بخار جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس وائرس کے جسم میں داخل ہونے سے انسانی جسم میں ہلکا بخار، جلد پر داغ دھبے اور آنکھوں میں جلن پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ زیکا وائرس کے انفیکشن سے بچنے کے لیے سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ خود کو مچھروں کے کاٹنے سے بچائیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے دنیا بھر میں زیکا وائرس کے تعلق سے الرٹ جاری کردیاہے۔ ا س وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت ہند بھی پوری طرح تیار ہے۔ مرکزی وزیر برائے صحت جے پی نڈا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت زیکا وائرس سے نمٹنے کے لے پوری طرح تیار ہے اور اب تک ہندوستان میں زیکا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے ذمہ دار لوگوں کو ضروری اقدامات اٹھانے کے کی ہدایت جاری کردی ہیں، تاکہ اس خطرناک وائرس کا ملک میں داخلہ اور پھیلاؤ نہ ہوسکے۔ مرکزی حکومت نے وائرس اور اس سے ہونے والی بیماری کی گائڈ لائن جاری کردی ہے اور حاملہ خواتین کو صلاح دی ہے کہ وہ زیکا سے متاثرہ ممالک کے سفر پر نہ جائیں۔ ہیلتھ منسٹر نے کہا کہ ہندوستان میں زیکا وائرس کے داخلہ اور انفیکشن کو روکنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز کے تحت ایک مشترکہ نگرانی گروپ نگرانی کرے گا، وہیںآئی سی ایم آر ریسرچ پرائرٹی کی نشاندہی کرے گا اور مناسب کارروائی کرے گا۔ ہوائی اڈوں یا بندرگاہوں پر آئیسولیشن کی سہولت ہوگی اور شہری ہوابازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے) سے کہا گیا ہے کہ اس بارے میں سبھی انٹر نیشنل ایئر لائنس کو ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس وائرس کے بارے میں ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیکا وائرس چونکہ مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے، اس لیے خود کے جسم کو پوری طرح ڈھک کر رکھیں۔ ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔ اس کے علاوہ کیڑوں سے بچنے والی کریم یا مچھر دانی کا استعمال کریں۔ مچھروں کی پیداوار کو روکنے کے لیے اپنے گھر کے آس پاس گملے ، بالٹی، کولر وغیرہ میں بھرا پانی نکال دیں۔ ابھی تک اس وائرس سے لڑنے کا کوئی علاج یا ٹیکہ دریافت نہیں ہوا ہے۔ زیکا وائرس کے انفیکشن سے متعلق اگر کوئی بھی علامت آپ کو نظر آئے یا درد اور بخار کی پرابلم پیدا ہو، تو عام دواؤں کے ساتھ مشروبات کا زیادہ استعمال کریں اور بھرپور آرام کریں۔ اس کے بعد بھی اگر آرام نہ ہوتو ڈاکٹر سے کنسلٹ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *