دلی والوں کے دل کا سامان :مشاعرہ جشن بہار

p-11عظیم الشان پنڈال بے حد خوبصورت مغلائی طرز کا سیٹ،دنیا کے مشہور ترین آرٹسٹ مقبول فدا حسین کی پینٹنگ اور عظم کیلی گرافر صادقین کا لوگو۔ یہ مشاعرہ جشن بہار کا منظر ہے۔ پورے سال دلی والوں کو تین ہی مشاعروں کا انتظار رہتا ہے۔ لال قلعہ کا یوم جمہوریہ کا مشاعرہ، ڈی سی ایم کا مشاعرہ اور جشن بہار جو کامنا پرساد کا مشاعرہ کہلاتا ہے۔
کامنا پرساد کا نام دلی والوں کے لئے نیا نہیں ہے۔ اس نام سے دلی والے اس لئے بھی بے حد محبت کرتے ہیں کہ کامنا پرساد نے دلی والوں کو مشاعرہ جشن بہار جیسا باوقار مشاعرہ عطا کیا ہے۔ آج یہ نام پوری دنیا کی اردو بستیوں میں احترام سے لیا جاتاہے ۔ایک معتبر اور باوقار شخصیت جو دلی والوں کے دل سے قریب ہیں۔
کامنا پرساد نے 1991 میں جشن بہار ٹرسٹ قائم کیا۔ تب سے ہر سال یہ مشاعرہ پورے آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔ اس مشاعرے کو سیاسی طور پر کوئی مدد نہیں ملتی ہے۔یہ ایک غیر سرکاری اورغیر سیاسی ادارہ ہے۔ بقول کامنا اردو پوری دنیا میں مقبول ہے۔ ہر خطہ میں اردو پر کام ہورہا ہے۔ اردو زبان اور شاعری کی پوری دنیاشیدائی ہے۔ اس لئے میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے مشاعرے کے ذریعہ اردو زبان کی خدمت انجام دینے کا موقع ملا۔ کامنا کہتی ہیں کہ ان کی مادری زبان ہی اردو ہے۔اس سال بھی ڈی پی ایس کے لان میں پہلے پریس کانفرنس اور پھر مشاعرے کا انعقاد بے حد معیاری تھا۔ پورے شہر میں مشاعرے کے پوسٹر گلابی، ہرے، پیلے رنگوں میں دلی والوں کو دعوت سخن دے رہے تھے۔ پوری دلی میں اس مشاعرے کا چرچا تھا۔ جس میں اردو داں ہی نہیں غیر اردو داں بھی شامل تھے۔ شام کے 6بجے سے پریس کانفرنس چل رہی تھی۔ پاکستان سے تشریف لائے معزز و معتبر شاعر و شاعرات سے پریس مخاطب تھا۔ پیر زادہ قاسم ، امجد اسلام امجد، عباس تابش اور ریحانہ رومی یہ سبھی بے حد پرخلوص مسکراہٹ کے ساتھ پریس سے مخاطب تھے۔ ہندوستان سے بے حد معتبر شاعر وسیم بریلوی صاحب تھے، منصور عثمانی تھے ،جن کی نظامت تھی۔ نصرت مہدی، دیپتی مشرا، نسیم نکہت، فرحت احساس، آلوک شریواستو، جانی فاسٹر، وجندر پرواز،پاپولرمیرٹھی،شعراء و شاعرات تھے۔ امریکہ سے فرحت شہزاد، کینڈا سے ضامن جعفری اور سعودی عرب سے ڈاکٹر زبیر فاروق تھے۔ پریس کانفرنس کے ساتھ ساتھ ہی مشاعرے میں سامعین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیاتھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈی پی ایس کا وسیع لان شائقین و سامعین سے بھر گیا۔ اس مشاعرے میں مہمان خصوصی مراری بابو تھے یعنی پورے مشاعرے پر روحانیت طاری تھی۔
وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ، سینئر لیڈر فاروق عبدا للہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنرل ضمیرا لدین شاہ بھی مشاعرے میں موجود تھے۔ رات 12بجے تک یہ مشاعرہ اسی آب و تاب سے چلتا رہا۔ بے حد معیاری اور خوبصورت شاعری اس مشاعرے میں سننے کو ملی۔ سامعین اسٹیج کے سامنے زمین پر بیٹھے رات کے 12بجے تک یہ مشاعرہ سنتے رہے ۔دلی والوں کو خوشی تھی کہ ایک عرصے بعد بے حد معیاری مشاعرہ سننے کو ملا ۔کامنا پرساد اسی خوبصورت اور معصوم مسکراہٹ کے ساتھ انتظام میں لگی رہیں۔ جیسے کہ اردو کی سچی خادم ہوں اور سچ ہے اردو کی آبیاری کرنے والے اس وقت وہ لوگ زیادہ ہیں جو خود کو اردو کا سپاہی کہتے ہیں اور خاموشی سے اردو کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں۔
کچھ پسندیدہ اشعار
تو سمجھتا ہے کہ رشتے کی دہائی دیں گے
ہم تو وہ ہیں،تیرے چہرے میں دکھائی دیں گے
پروفیسر وسیم بریلوی
خون سے جب جلا دیا،ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا، ایک دیا بجھا ہوا
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
کہتے تھے ایک پل نہ جئیں گے تیرے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
اجمل اسلام امجد (لاہور پاکستان)

غزل ضرور پڑھیں دوسروں سے لکھوا کر
مگر یہ شرط بھی ہے آپ کی لگے تو صحیح
زمین جعفری(ٹورانٹو کینڈا)

مجھے سمجھاؤ ،یہ دیوانگی ہے
میں کیوں خود سے بھلا اتنا خفا ہوں
فرحت شہزاد (نیو جیرسی، امریکہ)

عجب مجمع لگایا جارہا ہے
نہیں وہ جو جو بتایا جارہا ہے
ڈاکٹر زبیر فاروق (دبئی ، یو اے ای)

حالات کیسے دوستوں اس گھر کے ہو گئے
شیشہ مزاج لوگ بھی پتھر کے ہوگئے
منصور عثمانی

بازاروں تک آتے آتے زنگ لگا ،بیکار ہوا
ہم نے لوہے کے ٹکڑے پر برسوں میناکاری کی
وجندر پرواز

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے
محبت کرکے دیکھو نہ ،محبت کیوں نہیں کرتے
فرحت احساس

جس گھر میں میرے نام کی تختی بھی نہیں ہے
ایک عمر اس گھر کو سجانے میں گزر جائے
نسیم نکہت

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے
یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے
نصرت مہدی

یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں
مصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیں
آلوک شریواستو

نئی شکلیں نئے منظر تھکن کی شرط پر منزل
سفر کا فلسفہ حاصل سفر کے بعد ہوتا ہے
جونی فوسٹر
انکار کروں، اقرار کروں، یہ عشق کہاں جان چھوڑے ہے
جب جو چاہے یہ دل جو ڑے، جب جی چاہے دل تو ڑے ہے
دیپتی مشرا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *