آئیے، غداری کی تشریح طے کریں

الفاظ کا کیسا استعمال ہونا چاہیے، اس کی بہترین مثال جواہر لعل یونیورسٹی کے واقعہ کے بعد ملک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ غداری لفظ کا کتنا خوفناک استعمال بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ کرسکتے ہیں، یہ سب نے براہ راست دیکھا۔ اس کے لیے انھیں الفاظ کے غلط استعمال کا ’پرم ویر چکر‘ ملنا چاہیے۔ غداری لفظ کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کی معاون تنظیموں کی تشریح اگر ملک کی تشریح بن جائے، تو یہ مان لینا چاہیے کہ ہم نہ لفظ سمجھتے ہیں اور نہ لفظ میں چھپے ہوئے معنی سمجھتے ہیں۔ ہم رفتہ رفتہ ملک کو طوائف الملوکی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں یاکم سے کم وہ لوگ کر رہے ہیں،جو الفاظ کا غلط استعمال کررہے ہیں اور اسے تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں۔
لیکن، اگر اسی تشریح کے دائرے میں ناپا جائے، تو سب سے بڑی غدار پارٹی وہ ہے، جس کے وزیر سرکار میں ہیں، جس کا نائب وزیر اعلیٰ ہے اور اس ریاست میں ہونے والے تقریباً ہر مظاہرے میں پاکستانی جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، پاکستان زندہ باد کا نعرہ دیا جاتا ہے اور آئی ایس آئی ایس کے جھنڈے بھی لہرائے جاتے ہیں۔ میں جموں وکشمیر کی بات کررہا ہوں۔ وہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ملی جلی سرکار ہے۔ وہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر سرکاری اسٹیٹس کا مزے کے ساتھ استعمال کررہے ہیں۔ اور، مفتی صاحب کے انتقال کے بعد جب دوبارہ سرکار بنے گی، تب بھی وہ اس حالت کا استعمال کریں گے، کیونکہ اب تک انھوں نے نہیں کہاہے کہ وہ سرکار میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسے کیا مانا جائے؟ اسے ہم غداری مانیںیا انتظامیہ کی ناکامی؟ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے واقعہ کے نقطہ نظر سے دیکھیں، تو اس سے بڑی غداری نہیں ہوسکتی۔ جس ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی راج کررہی ہے، وہاں پاکستان کے جھنڈے گھروں پر لگائے جاتے ہیں، پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگتا ہے۔ اور اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ آئی ایس آئی ایس کے بھی نعرے لگتے ہیں، اس کا بھی جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔
میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی غداری کا کام نہیں کررہی ہے۔ وہ ایڈمنسٹریشن ٹھیک سے نہیں چلاپارہی ہے۔ اس کے وزیر جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہو پارہے کہ سرکار، جس کے وہ حصہ دار ہیں، ان کے مسائل یا ان کے دکھوں کو حل کرنے کے قابل ہے۔دوسری بات یہ کہ اگر اس لفظ کا استعمال ہونا ہی ہے، تو کسانوں کے حوالے سے ہونا چاہیے۔ جس کی ترجیح میں کسان نہ ہو، جو کسانوں کی خود کشی کو اپنے تشویش کا موضوع نہ بنائے، اپنی ذمہ داری کا تعین نہ کرے، اس سیاسی جماعت یا ان سیاستدانوں کو غداری کے دائرے میں لانا چاہیے۔ کسان خودکشی کررہا ہے او ر سیاسی پارٹی کے صدور یاوزیراعظم کے ماتھے کے اوپر شکن بھی نہیں آتی! ایک سیاسی پارٹی کا رکن پارلیمنٹ جب یہ کہے کہ کسان فیشن میں خودکشی کرتا ہے اور اس کی تردید یاا سے پارٹی سے نکالنے کا اعلان یا اس کی تنقید پارٹی کا صدر نہ کرے، تو میری نظر میں اس سے بڑی غداری کوئی نہیں ہے۔
ہمارا کسان ملک کو زندہ اور اقتصادی طور پر مضبوط رکھنے میں اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ وہ ملک کو خوش حال بنانے میں نہ اپنے خاندان کی فکر کرتاہے، نہ اپنی صحت کی فکر کرتا ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل کی۔ کسان جانتا ہے کہ وہ جو پیدا کررہا ہے، اس کی ا سے لاگت کے حساب سے قیمت نہیں ملنے والی،لیکن پھر بھی وہ بغیر کوئی تنظیم بنائے، بغیر کوئی دکھ ظاہر کیے اور بغیر کوئی تحریک چلائے ملک کو مضبوط بنانے میں لگا رہتا ہے۔ یہ ان کا فرض ہے ، جو سرکار میں ہیں کہ وہ کسانوں کی تکلیفوں ، دکھوں کو دور کرنے کے لیے منصوبے بنائیں۔ لیکن چاہے پچھلی سرکار ہو یا موجودہ، دونوں پورے طور پر کسان مخالف رہی ہیں۔ ان کے اقتصادی منصوبے میں کسان کہیں پر نہیں ہے۔ اور، مجھے مکمل یقین ہے کہ نریندر مودی سرکار کا جو تیسرا بجٹ آنے والا ہے، اس میں بھی کسانوں کو کچھ نہیں ملنے والا۔ جس طرح کے منصوبے کسانوں کے نام پر سامنے لاکر ڈھول نگاڑے بجائے جارہے ہیں، ان سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ ابھی لکھنؤ میں ہوئے کسانوں کے ایککنونشن میں کسانوں نے کہا کہ ہم سرکاروں کے ذریعہ پہلے بھی چھلے گئے، اس سرکار کے ذریعہ بھی چھلے جارہے ہیں۔ اس لیے میری پہلی درخواست ہے کہ جس ضلع میں کسان خود کشی کرے، وہاں کے انتظامیہ اور ضلع مجسٹریٹ کو غدار مان کر جیل بھیج دینا چاہیے۔ جس سرکار کے دائرے کے اندر کسان خود کشی کرے، اس کے وزیر اعلیٰ اور وزیر زراعت کو غداری کے دائرے میں جواب دینا چاہیے۔ لیکن،کوئی ایسا نہیں کرنا چاہے گا، کیونکہ کسان کا خون پینا سب جانتے ہیں، کسان کو زندگی دینا نہیں جانتے۔
لکھنؤ میں ہوئے کنونشن میں ابھر کر سامنے آئے کسانوں کے جس درد کو میں آپ سیبانٹناچاہتا ہوں، وہ اہمیت کا حامل ہے۔ کسان منچ کے مذکورہ کنونشن میں کسانوں نے کہا کہ ’جن دھن یوجنا‘ کے نام پر ہم سے حکومت ہند نے جو پیسہ اکٹھا کیا، اسے اس نے اس ملک کے کارپوریٹ گھرانوں کا قرض معاف کرنے میں لگادیا۔ جتناپیسہ اس ملک کے غریبوں اور کسانوں نے بینکوں میں جمع کیا، وہ بینک کا پرافٹ ہوا اور اسے سرکار نے کارپوریٹ سیکٹر کے ان کھلاڑیوں کی دھوکہ بازی کو رائٹ آف کرنے میں استعمال کرلیا، جو بینکوں سے پیسہ اسی لیے لیتے ہیں کہ واپس نہ کرنا پڑے۔ اور، اس کام میں وزیر،بینکوں کے چیئر مین او ربڑے صنعت کار یعنی سبھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ ایسے ہیں،جو پچھلی با ر بھی این پی اے کی لسٹ میں تھے او راس بار بھی این پی اے کی لسٹ میں ہیں۔
اس لیے میرا ماننا ہے کہ الفاظ کا انتخاب ، چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی ہو یا کانگریس یا پھر کوئی دوسری سیاسی پارٹی، بہت سوچ سمجھ کر ے، دوسری صورت میں ان کے ذریعہ دکھائے راستے پر الفاظ کا استعمال کچھ اس طرح ہونے لگے گا کہ پھر اس ملک میں کوئی دیش بھکت نہیں بچے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوگوں کے مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے، لوگوں کی تکلیفوں کو اپنی سرکار کے منصوبوں کے دائرے سے باہر رکھنے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بات کے لیے سادھوواد(خیر مقدم )دیناچاہیے کہ اس نے ملک میں ایک نیا شعور بھی بیدار کیا ہے۔ ان لوگو ں کی امیدوں پر پانی پھیر دیاہے، جنھوں نے بغیر کسی آئیڈیا لوجی کو دھیان میں رکھے، محض کانگریس کی کاہلی کے خلاف اسے اس امیدپر ووٹ دیاتھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار آئے گی، تو ملک کے ہر طبقہ کو کچھ نہ کچھ سکھ ملے گا۔ جب وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار شری نریندر مودی اچھے دن آئیں گے ،کا گانا اپنی سبھاؤں میں گا رہے تھے، تو لوگ اسی سُر میں ان کا جواب دے رہے تھے اور یقین کررہے تھے کہ سچ مچ اچھے دن آئیں گے۔ کیا یہی اچھے دن ہیں؟ میرا ابھی بھی یہی ماننا ہے کہ نریندرمودی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ملک کی معیشت میں تبدیلی لانے کی پہل کرسکتے ہیں، کیونکہ لوگوں نے انھیں اکثریت دی ہے۔ انھیں اس کی شروعات ملک کے کسانوں کو ملک کی معیشت کی مین اسٹریم میں لانے کی پہل کرکے کرنی چاہیے۔ اور ، ملک کے دیہی علاقوں کو کیسے صنعتی مرکز میں بدلا جاسکے، وہاں کی فصلوں کو بنیاد بناکر کیسے صنعتی دھندے لگائے جاسکیں، ا س کی پہل کرنی چاہیے۔ مودی جی، آپ کے افسر بتائیں گے کہ اس میں بہت پیسہ نہیں لگنے والا۔ 1.14 لاکھ کروڑ روپے آپ نے بے ایمان صنعت کاروں کے رائٹ آف کردیے۔ ایک بار ملک کے کسانوں کی زندگی سدھارنے کے لیے کم سے کم پچاس ہزار کروڑ روپے آپ خرچ کردیجئے۔ پھر دیکھئے گا، کسان اپنے آپ اپنی زندگی سدھار لے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *