وطن پر مرنے والوں کوبھلایا جارہا ہے

p-728دسمبر کی صبح ملاک بلﺅ گاﺅں والوں کے لئے حیران کر دینے والی تھی۔ تقریباً دو سال پہلے8 جنوری 2013 کو جھارکھنڈ کے لاتہار جنگل میں نکسلیوں کے ذریعہ13 جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ اس میں شہید بابو لا ل پٹیل بھی شامل تھے۔ شہید کے قاتلوں کو سرکار کی طرف سے معافی دینے کی خبر پہنچتے یہ شہید بابو لال پٹیل کے گاﺅں والے حیران رہ گئے۔ گاﺅں کے آس پاس سینکڑوں لوگ شہید کے گھر کے سامنے جمع تھے۔ سبھی کی زبان پر بس ایک ہی سوال کہ دہشت گرد کو پھانسی کے بجائے معافی کیوں؟شہید بابو لال کے بوڑھے والدین نے کہا کہ میرے بیٹے نے ملک کے لئے قربانی دی ہے، سرکار نے جن نکسلیوں کو بسانے اور ان کے مقدمے واپس لینے کا اعلان کیا ہے وہ میرے بیٹے کے قاتل ہیں۔ اس کی لاش پر بم پلانٹ کیا گیا تھا۔ یہ شہید کی شہادت اور ان کے خاندان کی توہین ہے۔ سرکا کی پالیسی سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔

8جنوری 2013 کو جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع کے کٹیا جنگل میں نکسلیوں نے حملہ کر کے سی آر پی ایف جوان بابو لال پٹیل سمیت 13 جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس واردات سے پورا ملک دہل گیا تھا۔ اتنا ہی نہیں،بابو لال پٹیل کو قتل کرنے کے بعد قاتلوں نے ان کے پیٹ میں بم پلانٹ بھی کیا تھا۔ نکسلیوں کا منصوبہ پوسٹ مارٹم کے موقع پر بڑا دھماکہ کرکے اور بھی کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی ایجنسیوں کی ہوشیاری سے پیٹ میں پلانٹ بم پھٹ نہیں ہو سکا اور ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔
شہید بابو لال پٹیل الٰہ آباد کے نواب گنج تھانہ کے ملاک بلﺅ گرام سبھا کے رہنے والے منی لال پٹیل اور شیو پتی دیوی کی اکلوتی اولاد تھا۔ بوڑھے والدین کے علاوہ خاندان میں اب کوئی بھی نہیں ہے۔ شہادت کے واقعہ کے بعد شہید کے گاﺅں میں تقریباً نصف ماہ تک کافی گہما گہمی رہی۔ ”اپنا دل“ کی قومی صدر انو پریا پٹیل نے گاﺅں پہنچ کر بھوک ہڑتال کیا تھا ۔بعد میں بی جے پی اور بہو جن سماج پارٹی کے بھی کئی لیڈروں نے وہاں پہنچ کر احتجاج کیا ۔مخالفت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو شہید بابو لال کے گھر آئے اور رشتہ داوں کو تسلی دینے کے علاوہ20 لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا۔ اسی دوران ریاستی سرکار کی طرف سے گاﺅں میں شہید کے گھر کو پکی سڑک سے جوڑنے ، ڈیولپ کرنے ،شہید یادگاری،کھیل کود کے میدان سے لے کر شہید گیٹ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے بہو جن سماج پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کپل مونی کروریا ،سابق ایم ایل اے اور بی جے پی کے پربھا شنکر پانڈے ،اپوزیشن لیڈر بہو جن سماج پارٹی کے نیشنل مہا منتری سوامی پرساد موریہ سے لے کر علاقائی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے انصار احمد نے بھی شہید کے رشتہ داروں سے مل کر کئی طرح کا یقین دیا تھا۔ گاﺅں والے بتاتے ہیں کہ اس کے بعد کسی نمائندہ نے یہاں جھانکا تک نہیں ۔ شہید بابو لال کے رشتہ داروں کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔
دو سال ہونے کو ہے۔ ابھی تک زیادہ تر اعلانات ہوا ثابت ہورہے ہیں۔ شہید یادگاری اور کھیل کود کے میدان کے لئے ابھی تک زمین کا ہی الاٹ نہیں کیا جاسکا ہے۔ پکی سڑک بھی ملتوی ہے۔ اعلان کے ایک سال بعد شہید بابو لال کے نام پر جو گیٹ بنا،اسے” لوہیا گیٹ “ کا نام دے دیا گیا۔یہاں تک کہ شہید بابو لال پٹیل کی شہادت کی تاریخ بھی بھلا دی گئی۔بابو لال پٹیل کی شہادت کی تاریخ 8 جنوری 2013 کے بجائے8 جنوری 2012 درج کی گئی ہے۔ شہادت کے6 مہینے بعد کئی سینئر افسروں کی موجودگی میں شہید کے رشتہ داروں کو عوام کے سامنے اعزاز سے نوازا تو گیا لیکن یہاں بھی لاپرواہی کی حد ہو گئی۔” منگلم سنستھا “کی طرف سے منعقدہ پروگرام میں سونپی گئی سند میں شہید بابو لال پٹیل کے بجائے بابو لال پانڈے کا نام درج کر دیا گیا ۔قابل ذکر ہے کہ ترقی کے نام پر تمام سہولت دینے کا دعویٰ کرنے والی مرکزی اور ریاستی سرکاریں شہیدوں کے رشتہ داروں کو بجلی ،پانی ،سڑک اسپتال جیسی بنیادی ضرورتیں بھی نہیں پہنچا رہی ہیں۔گاﺅں کے سابق پردھان شیام لال پانڈے کہتے ہیں کہ شہید کی لاش پر لیڈروں نے جم کر سیاست کی۔ افسروں نے بھی تعزیت کی ۔اس وقت شہید کے ایک منحصر رشتہ دار کو نوکری، شہید گیٹ بنانے، گزر بسر کے لئے کھیت کا پٹہ سمیت تمام سہولتیں دینے کا عوام کے سامنے وعدہ کیا ۔مگر دن، مہینے، سال گزر گئے لیکن وعدے پورے نہیں ہوئے۔ واردات کے ملزم اور نکسلائٹ مشن کے دو سب ژونل کمانڈروں کو سرکار کی طرف سے معافی دینے کے اعلان پر شہید بابو لال کے رشتہ دار بے حد خفا ہیں۔
شہید بابو لال پٹیل کے گھر پہنچی ” چوتھی دنیا “ ٹیم سے بات چیت کے دوران شہید کے بوڑھے والدین نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔ آنسوﺅں سے ڈبڈبائی آنکھیں اور بھرائی آواز میں کہا کہ یہ تو کوئی انصاف نہیں ہے۔
سوال : لاتہار کے جنگل میں 13 جوانوں کی موت کے ملزمین کو سرکار معافی دے رہی ہے۔ ان کے مقدمے بھی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
جواب: یہ سرکار غلط کررہی ہے۔ ایسا کرنا قطعی ٹھیک نہیں ہے۔ گھر کے اکلوتے چراغ اور ہم بوڑھوں کے لئے سہارا بننے والے ہمارے بیٹے کو پہلے قاتلوں نے ہم سے چھین کر بالکل تنہا کر دیا ۔ہم سب کورٹ سے انصاف ملنے کا انتظار کررہے تھے،لیکن سرکار انہیں سخت سزا دلانے کے بجائے معافی دے رہی ہے۔یہ تو شہیدوں کے رشتہ داروں کی امیدوں پر کسی ظلم سے کم نہیں ۔اس ایشو پر سرکار کو پھر سے غور کرنا چاہئے۔
سوال : کیا سرکار کے اس فیصلے سے آپ لوگ مطمئن ہیں؟
جواب: آپ اطمینان کی بات کرتے ہو۔یہ سراسر ناانصافی ہے۔ایسے میں تو اب لوگ اپنے بیٹے بیٹیوں کو فوج میں بھرتی کرانے کے لئے سو بار سوچیں گے۔
سوال: کیا چاہتے ہیں آپ بوڑھے والدین؟
جواب: ہم دونوں کا صاف طور پر کہنا ہے کہ ملک کے دشمنوں کو معافی نہیں،پھانسی ملنی چاہئے ، اس سے کم نہیں ۔تبھی ہم بزرگوں کی آتما کو شانتی ملے گی۔
ادھر چھتیش گڑھ کے سوکما جنگل میں نکسلیوں کے حملے میں شہید مکیش پاسی کے بوڑھے والدین کی آنکھیں سرکاری مدد کا انتظار کررہی ہیں۔ انتہائی پسماندہ گرام سبھا میں شماربجھا گرام سبھا کا ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے ڈیہوا۔یہاں مزدوری کرنے والے پرتھوی پال سروج کا اکلوتا بیٹا مکیش کمار 2012 میں سی آر پی ایف میں بھرتی ہوا ،تب رشتہ داروں کو خوشی ہوئی ۔ٹریننگ کے بعد مکیش کمار کی پہلی پوسٹنگ چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقے سوکما میں ہوئی۔ 30نومبر 2014 کی رات سوکما کے جنگل میں نکسلیوں کے حملے میں جو 14 جوان شہید ہوئے ،ان میں اسی علاقے کے ڈیہوا گاﺅں کے جانباز مکیش کمار بھی شامل تھے ۔ پرتھوی پال نے مزدوری کر کے اکلوتے بیٹے کو پال پوس کر ملک کی حفاظت کے لئے بھیجا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ بوڑھاپے کی لاٹھی ٹوٹ گئی۔ بتاتے ہیں کہ تاریخ یاد نہیں لیکن مارچ 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے فون پر ڈھارس بندھاتے ہوئے ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا ۔ مقامی ممبر پارلیمنٹ کیشو پرساد موریہ نے شہید استھل کے لئے 10 لاکھ روپے دینے اور اس وقت کے کلکٹر بھو ناتھ نے پکا مکان فراہم کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن ہوا کچھ نہیں۔ گاﺅں کے باہر بنے شہید گیٹ کو” لوہیا گیٹ“ کا نام دے دیا گیا ہے۔ ایم ایل اے فنڈ سے تعمیر شدہ گیٹ پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا نام اور ایم ایل اے انصار احمد کا نام سنہرے لفظوں میں لکھا ہوا ہے لیکن شہید مکیش کمار کی شہادت کی تاریخ تک درج نہیں کی گئی۔ پکا مکان ،معاوضہ اور یادگاری بنانے کا اعلان محض سرکاری فائلوں تک سمٹا ہے۔ مکیش کمار کے رشتہ دار مایوس ہیں۔ ادھر جوڈا پور بیہر گاﺅں میں شہید کی یاد میں بنایا جارہا گیٹ کی چھت کا لنٹر تعمیر کے دوران ہی دو بار منہدم ہو چکا ہے۔
( شہید کے گاﺅں کا معائنہ کرنے والے شیوا شنکر پانڈے)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *