اترا کھنڈ : بی جے پی کے نئے صدرکی کانٹوں بھری راہ

اتراکھنڈ کے نئے صدر کی راہ کانٹوں بھری ہوگی۔ انھیں مشن- 2017 کی کامیابی کے لےے ’اگنی پتھ‘ پر چلنا ہوگا۔ نو منتخب صدر اجے بھٹ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مشن- 2017 کی فتح کا ہے۔ تنظیم کے قومی صدر امت شاہ نے اس امید کے ساتھ بھٹ پر یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مشن2017 میںپارٹی کو ریاست کے اقتدار تک پہنچائیں گے۔ بھٹ کی تاج پوشی سنگھ پریوار کے دباو¿ میں’کرو یا مرو‘ کے طرز پر کی گئی ہے۔ اس ریاست میں کانگریس کے قد آور لیڈر ہریش راوت کی بڑھتی مقبولیت کے واحد متبادل کے طور پر کماو¿نی برہمن لیڈر کا انتخاب سابق وزیر اعلیٰ میجر جنرل بھوون چندر کھنڈوری کی صلاح پر کیا گیاہے۔ اس سے ایک بات یہ بھی ابھر کر سامنے آئی ہے کہ اترا کھنڈ میں آج بھی کھنڈوری کی پسندیدگی کم نہیںہوئی ہے۔
الیکشن میںبھٹ کے سامنے بڑی دقت یہ پیش آئے گی کہ ان کے پاس بارہ پورنیما کاوقت ہی اسمبلی انتخاب کی تیاریوںکے لےے بچا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ٹیم کی تشکیل کولے کر بھی مسئلہ پیش آئے گا۔ان کی ٹیم میںہر گروپ کے لوگوںکو ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔ ریاستی بی جے پی کے نئے صدر کے سلیکشن کو لے کر جتنی الجھنیںبی جے پی ہائی کمان کو برداشت کرنی پڑی ہیں،اس سے کہیںزیادہ مستقبل میںچیلنجز بھی نئے صدر کے سامنے ہیں۔ یہ کام بھی بھٹ کے لےے آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ابھی سے ہی نئے صدر کی ٹیم میںشامل ہونے کے لےے بی جے پی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ ہر گروپ کے لیڈروں کے ذہن میںایک ہی سوال ہے کہ بھٹ سب سے زیادہ توجہ کس گروپ کے لیڈروں کو دیتے ہیں۔ نئے صدر کو انتخابی حکمت عملی بھی تیار کرنی ہوگی۔ 70 اسمبلی حلقوں کے لےے اکوئیشن کی بنیاد پر پالیسی تیار کرنی ہوگی،تاکہ وہ مشن2017- میںپارٹی کو اونچے مقام تک پہنچانے میںکامیاب ہوسکیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے مختلف پروگرام ، جس میں ورک شاپیں بھی شامل ہےں، جو ریاست میںمہینوں سے بند پڑی ہیں، اس کو بھی رفتار دینے کی کوشش کرنی ہوگی۔ بی جے پی کی ممبر شپ مہم کی حالت بھی صاف نہیں ہے۔ بی جے پی لیڈر یہ دعویٰ ضرور کر رہے ہیں کہ نئے ممبروںکی تعداد 10 لاکھ سے اوپر پہنچی ہے۔ حقیقت کیا ہے وہ بھی انھیںپرکھنا ہوگی۔ اس پر بھی نئے صدر کو نئے سرے سے غورو فکر کرنا ہوگا۔ بی جے پی کے نئے صدر کو کانگریس سرکار کو ٹکر دینے کے لےے ان مدعوںکی بھی تلاش کرنی ہوگی،جو دھاردار ہونے کے ساتھ ہی ساتھ ٹکاو¿ بھی ہوں۔ریاست کی ہریش راوت سرکار کو نئے مدعوںپر گھیرنے کا چیلنج بھی ہے۔ بی جے پی کے پاس گزشتہ دو سال کے اندر کئی ایسے مدعے ہاتھ لگے، جس سے کانگریس سرکار گھر سکتی تھی،لیکن بی جے پی لیڈر کانگریس کی سرکار کو نہ تو ایوان میںاور نہ ہی سڑک پر پوری طرح سے گھیرنے میںکامیاب ہوپائے۔ ڈیزاسٹر میںہوئے گھوٹالے جیسے مدعوں کو بھی بی جے پی مضبوطی کے ساتھ نہیںاٹھا پائی۔ سال 2013 کی تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر ی کام کی بھی دھجیاں اڑ گئیں۔ بی جے پی لیڈر محض بیان بازی کرنے میں لگے رہے۔ نئے صدر کو اب اس معاملے پرزیادہ کسرت کرنی ہوگی،کیونکہ گزشتہ سالوں میںبی جے پی کے لیڈر کانگریس کی ہریش سرکار کے خلاف آواز تک نہیں اٹھا پائے۔ لہٰذا کم وقت میںنئے صدر کو زیادہ کسرت کرنی ہوگی۔ سنگھ کی نظر میںبھٹ ایک مہذب اور سلجھے ہوئے لیڈرہیں، جن کے کندھے پر گروپوں میںبٹی بی جے پی کو اتحاد کی راہ دکھا کر کامیابی حاصل کرنے کی چنوتی ہے۔
سنگھ پریوار سے ہری جھنڈی کے بعد ہی بی جے پی ہائی کمان ایک پکھواڑہ پہلے ہی اجے بھٹ کو ریاستی صدر بنانے کا من بناچکا تھا۔ انتخابی عمل تو محض ایک رسم ہی تھا۔ ریاستی صدرکے عہدے کی جنگ میں بی جے پی ہائی کمان ہر نظریہ سے دعویداروں کوپرکھ رہی تھی۔ دو دن پہلے تک صدرکے عہدے کی کرسی کے لےے محض اجے بھٹ او رترویندر سنگھ راوت ہی رہ گئے تھے۔ ہائی کمان نے ریاست کے بھاجپائیوں کو دکھانے کے لےے جبل پور کے رکن پارلیمنٹ راکیش سنگھ کوبطور سپروائزر بھیجا، تاکہ وہ نئے صدر کے نام پر کارکنوں اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ رائے شماری کر کے کسی ایک نام پر متفق ہوسکیں۔ سنگھ نے ہائی کمان کا خط دکھایا اور کہا کہ سبھی کی منشا اجے بھٹ کو ہی نیا صدر بنانے کی ہے۔ اس لےے اس کی تیاری فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دن کے بارہ بجے ریاستی بی جے پی ہیڈ کوارٹر میںاجے بھٹ کے نام کا اعلان کیا جاسکے۔ اس فرمان کے ایک گھنٹہ بعد ہی انتخابی عمل شروع کردیا گیا۔ سابق ریاستی بی جے پی صدر تیرتھ سنگھ راوت، رکن اسمبلی مدن کوشک اور رکن اسمبلی پشکر سنگھ دھامی تین موور بنے۔ ان تینوں نے 10-10 بھاجپائیوںکی فہرست بھی ریاست کے انتخابی افسر کے سامنے پیش کی۔ تینوںتحریک پیش کرنے والوں نے صرف اجے بھٹ کا نام پیش کیا۔اس کے بعد اجے بھٹ کے نام کا اعلان کرنے کی محض رسم ہی باقی رہ گئی اوریہ رسم مقررہ وقت دن کے بارہ بجے مرکزی سپر وائزرراکیش سنگھ نے ریاستی بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں پوری کردی۔اس بارے میںریاستی بی جے پی کے انتخابی افسر کیدار جوشی نے بتایا کہ تینوں تحریک پیش کرنے والوں کی جانب سے اجے بھٹ کا ہی نام پیش کیا، اس لےے بھٹ کو حسب قانون بی جے پی کا نیا صدر ڈکلیئر کیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *