اتر پردیش میں پریشر ہارن شہریوں کو بہرہ بنا رہے ہیں

اکھلیش پانڈے 
p-5aایک طرف دہلی سرکار ماحولیات میں بڑھتے خطروں سے نمٹنے کے لئے سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی جدو جہد میں لگی ہے تو دوسری طرف اتر پردیش سرکار ماحولیات کی آلودگی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ساﺅنڈ پولیوشن کو بھی پھلنے پھولنے کا پورا موقع دے رہی ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی ہو یا ساﺅنڈ پولیوشن،اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو یا دیگر شہروں میں بھی نہ تو عدالتوں کو کوئی فکر ہے اور نہ نیشنل گرین ٹریبونل جیسے اداروں کو۔ پردہ سماعت کو پھاڑنے والے ہارن بجا کر راجدھانی کی سڑکیں روندنے والی گاڑیاں شہر کے لوگوں اور خاص طور پر بچوں کو بہرہ بنا رہی ہیں، لیکن اس پر روک تھام کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ روک تھام کون کرے؟ انتظامیہ اور حکومت کے علمبرداروں کی گاڑیاں ہی شور کررہی ہیں۔ بغیر شور مچائے انہیں لگتا ہی نہیں کہ وہ وی آئی پی ہیں۔ نوابوں کے شہر کے پرانے لوگ ایسے لا پرواہ وی آئی پی ہستیوں کو تہذیب کے شہر کی بد تمیز ہستیاں کہہ کر بلاتے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ ان دنوں گاڑیوں کے نمبر پلیٹ پر لکھے الٹے سیدھے اعداد نمبروں اور عہدہ یا ادارے کے نام کو ہٹانے پر لگا ہوا ہے۔ لیکن شہر میں رہنے والوں کو بہرہ کررہے تیز آواز کے ہارن کے خلاف مہم چلانے میں محکمہ کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے ۔ حالانکہ محکمہ کے افسران یہ کہنے یا ماننے سے گریز نہیں کرتے ہیں کہ شہر میں وقت بہ وقت پریشر ہارن کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے،لیکن حقیقت ان بیانوں سے بالکل الگ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ریاستی سرکار کی وی وی آئی پی گاڑیوں پر کارروائی کرنے میں محکمہ کے افسران خود ہی نوکری جانے کے خطرے سے گھبراتے ہیں۔وہیں ریاست کے افسران مانتے ہیں کہ عہدیدار اپنا دبدبہ دکھانے کے لئے ہی گاڑیوں میں پریشر ہارن لگواتے ہیں جس سے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ سچائی یہی ہے کہ وی وی آئی پی گاڑیوں میں لگے پریشر ہارن لوگوں کو تو بہرہ کر ہی رہے ہیں، سپریم کورٹ کی ہدایت کی بھی توہین کررہے ہیں ۔ اس پر نہ راجدھانی کی پولیس اور نہ ہی ٹرانسپورٹ محکمہ کے افسران دھیان دے رہے ہیں۔ شہر میں ساﺅنڈ پولیوشن اپنے عروج پر ہے۔
نمبر پلیٹ کے خلاف چلائی جارہی مہم کے بارے میں ٹرانسپورٹ محکمہ کا مانناہے کہ نمبر صحیح نہ لکھے ہونے کی وجہ سے کئی بار گاڑی والے ایکسیڈنٹ کرکے موقع سے فرار ہوجاتے ہیں اور گاڑی پر عہدہ یا ادارہ کا نام لکھے ہونے کی وجہ سے ٹریفک پولیس بھی ان پر کارروائی کرنے سے کتراتی ہے ۔ایسے میں یہ گاڑی محکمہ کے قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہے۔ حالانکہ محکمہ کے قانون میں نمبر پلیٹ پر کچھ بھی لکھے ہونے کو لے کر عہدیدار ہی باہم متحد نہیں ہیں۔ اعلیٰ عہدیدار کا یہاں تک کہنا ہے کہ محکمہ کے قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ نمبر پلیٹ پر کچھ لکھا نہ ہو۔ یہ ضرور درج ہے کہ نمبر کا کیا سائز ہونا چاہئے اور نمبر صاف ستھرے لکھے ہونے چاہئے۔ محکمہ نمبر پلیٹ پر لکھے سلوگن ، عہدہ یا ادارہ کے نام پر کارروائی کرنے میں سنجیدگی دکھا رہا ہے جس کا عوام سے کوئی خاص لینا دینا نہیں ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی چوراہے پر ٹرانسپورٹ محکمہ کے آفیسر اور ٹریفک پولیس گھیرا بندی کر کے سینکڑوں چالان اور گاڑی سیز کی کارروائی کررہے ہیں لیکن اس کے اس مہم میں پریشر ہارن کے خلاف کارروائی دور دور تک شامل نہیں ہے۔ شہر کے ہر علاقے میں پریشر ہارن لگے گاڑیوں کی بھرمار ہے۔ کان پھاڑنے والے ہارن کے شور سے حادثے تو ہورہی رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ شہر کے الگ الگ علاقوں میں سائلنٹ ژون بھی ڈسٹرب ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی چوراہوں پر موجود ٹریفک پولیس کے جوان گاڑیوں میں لگے پریشر ہارن کو محسوس کرپانے میں ناکام ہیں۔ شہر میں کئی ایسی جگہ ہیں جہاں پر پریشر ہارن یا کسی طرح کا ہارن بجانا منع ہے اس کے باوجود اسپتال اور اسکولوں کے باہر ہارن بجانے میں افسروں سے لے کر عام آدمی بھی پیچھے نہیں رہتے۔ بائیک سے لے کر کار اور ٹرک سے لے کر بسوں تک میں لوگ بے خوف ہوکر پریشر ہارن کا استعمال کررہے ہیں اور ان کے خلاف مہم چلا کر کوئی کارروائی کرنا تو دور، ان کو کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں ہے۔ پریشر ہارن کا اثر صرف شہر کی سڑکوں پر ہی نہیں ہے بلکہ گلیوں میں بھی سننے کو مل رہا ہے۔ گاڑیوں میں لگے پریشر ہارن کا استعمال کار اور بائیک والے آمدو رفت والی گلیوں میں اس طرح کررہے ہیں کہ کمزور دل والے سہم جاتے ہیں ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کئی ایسی گلیاں ہیں جہاں بائیک لے کر نکلنے والے پریشر ہارن کو بجاتے ہوئے چلنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گلیوں میں بھی حادثے ہوتے رہتے ہیں۔
پریشر ہارن کی وجہ سے آئے دن ہورہے حادثوں کو روکے گا کون؟یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ کیونکہ اس کی ذمہ داری ٹریفک پولیس کی ہے کہ وہ مہم چلاکر پریشر ہارن کے خلاف کارروائی کرے ،لیکن ایساہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وہیں ٹرانسپورٹ محکمہ کے افسران پریشر ہارن کے خلاف مہم چلانے کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ وقت بہ وقت گاڑیوں کی چیکنگ کرا کر پریشر ہارن کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے لیکن ان کے پاس اس کے اعداد و شمار نہیں ہیں کہ اب تک کتنے پریشر ہارن والی گاڑیوں کا چالان کاٹا گیا ۔پریشر ہارن کے خلاف مہم چلانے میں محکمہ اور ٹریفک پولیس کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ نومبر مہینے میں’ منتھ آف ٹریفک ‘کے دوران ہوئی چیکنگ سے لگایا جاسکتاہے ۔ چیکنگ میں ٹریفک پولیس کاپورا دھیان صرف اور صرف وصولی اور روڈ سائڈ تجاوزات کو ہٹانے میں لگا رہا۔ اس وجہ سے پریشر ہارن لگا کر چلنے والے بے خوف ہوکر فراٹا بھرتے رہے اور اب بھی حال ویسا ہی ہے۔ قانون ہے کہ پریشر ہارن لگا کر چلنے والوں کو ایک ہزار روپے تک چالان کی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتاہے کہ پریشر ہارن کو لے کر ٹریفک پولیس یا محکمہ ٹرانسپورٹ سخت ہوا ہو۔
قابل ذکر ہے کہ شہر کی آبادی دن بہ دن بڑھتی ہی جاری ہے لیکن پریشر ہارن کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے شور کو کیسے روکا جائے، اسے لے کر ٹرانسپورٹ محکمہ کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں ساﺅنڈ پولیوشن کی سطح بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ساﺅنڈ پولیوشن بڑھنے سے لوگوں میں بہرہ پن آرہا ہے۔ اتنا ہی نہیں کان پھاڑتے ہارن سے بزرگوں کو دل کا دورہ پڑنے کا بھی خطرہ بڑھ رہاہے۔ باوجود اس کے محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس پریشر ہارن ہٹوانے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ محکمہ کے افسران ان پریشر ہارن سے لیس گاڑیوں پر کارروائی کرے بھی تو کیسے جب محکمہ کے عہدیداران کی گاڑیوں میں ہی پریشر ہارن لگے ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ محکمہ اور ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے عہدیداروں سے لے کر عام ملازمین تک کی گاڑیاں پریشر ہارن سے لیس ہیں۔
ساﺅنڈ پولیوشن پھیلانے میں سب سے زیادہ ہاتھ سرکاری گاڑیوں کا ہی ہے۔ محکمہ ریاستی جائیداد کی تقریباً 375 گاڑیوں میں سے 80فیصد گاڑیوں میں پریشر ہارن لگے ہوئے ہیں۔سڑک پر چلنے کے دوران افسروں کی ان گاڑیوں کے سامنے عام آدمی راستہ خالی کر دے، اس کے لئے افسران ہی گاڑی میں پریشر ہارن لگوانے کی اجازت ڈرائیوروں کو دیتے ہیں۔ سرکاری جائیداد کے افسران خود اس بات سے انکار نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی سرکاری گاڑیوں میں پریشر ہارن سرکاری طور پر نہیں لگتا ہے۔ کیونکہ عدالت کی ہدایت کے مطابق گاڑیوں میں پریشر ہارن لگانا منع ہے۔ لیکن افسروں کے ڈرائیور گاڑیوں میں پریشر ہارن لگواتے ہیں اور آفیسر اس کی مخالفت نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے خود مانا کہ پریشر ہارن سے ساﺅنڈ پولیوشن پھیل رہا ہے جو کہ کافی نقصان دہ ہے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی ٹرانسپورٹ کمشنر اروند پانڈے کہتے ہیں کہ وقت بہ وقت گاڑیوں کے نمبر پلیٹ چیک کرنے کے ساتھ ہی پریشر ہارن کے خلاف بھی محکمہ ٹرانسپورٹ مہم چلاتا ہے۔ مہم میں پریشر ہارن لگے گاڑیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ کے طور پر نقد ایک ہزار روپے وصول کئے جاتے ہیں، وہیں دوسری بار پکڑ میں آنے والے دوگنا جرمانہ ادا کریں گے۔جلد ہی پریشر ہارن کے خلاف اسپیشل مہم چلائی جائے گی۔ مہم میں وی وی آئی پی گاڑیوں کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔
لکھنو¿ کے آر ٹی او صغیر احمد کہتے ہیں کہ جلد ہی پریشر ہارن اور ہوٹر لگی سرکاری و پرائیویٹ گاڑیوں کے خلاف ٹرانسپورٹ محکمہ مکمل طور پر مہم چلائے گا ۔مہم میں چاہے کوئی کتنا بھی اثرو رسوخ والا کیوں نہ ہو اسے بخشا نہیں جائے گا۔ پریشر ہارن لگی گاڑی سپریم کورٹ کی ہدایت کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔ ایسے میں ان گاڑیوں پر کارروائی لازمی طور پر کرائی جائے گی۔
ریاست کی سرکاری جائید اد کے ایک عہدیدار راج یادو کہتے ہیں کہ ریاستی جائیداد کا محکمہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتا ہے اور کسی بھی گاڑی میں پریشر ہارن نہیں لگاتا ہے۔ محکمہ کی جن گاڑیوں میں پریشر ہارن لگا ہے وہ کسی وزیر، آفیسر یا پھر افسروں کی حمایت سے لگتا ہے۔ ان کی نظر میں اگر کسی گاڑی میں پریشر ہارن لگا ہوا پایا جاتاہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

کوئی معنی نہیں رکھتا عدالت کا فیصلہ
80 ڈی سیبل سے زیادہ تیز آواز سے کان کا پردہ متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
پریشر ہارن کے استعمال پر سپریم کورٹ نے روک لگا رکھا ہے۔
ہوٹر کا استعمال بھی پوری طرح سے ممنوع ہے۔
قانون کے مطابق پریشر ہارن کے استعمال پر جرمانہ کی تجویز ہے۔
گاڑی میں پریشر ہارن لگے ہونے پر پہلی بار ایک ہزار روپے اور دوسری بار دوگنا جرمانہ ہوگا۔
پریشر ہارن سے ساﺅنڈ پولیوشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *