یہ مندر بنانے کی نہیں فساد پھیلانے کی سازش ہے

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ رام مندر کا ایشو ایک بار پھر سے ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ایسے ایسے بیان سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ملک کے عوام اور خاص طور پر نوجوان مندر مسجد کے ایشو سے کافی آگے نکل گئے ہیں۔وہ ہندوستان کو ماڈرن اور اقتصادی طور پر بڑی طاقت بنانے اور پوری دنیا میں ہندوستان کا لوہا منوانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔لیکن سیاست اور رام مندر کے علمبردار ہندوستان کو پیچھے دھکیلنے پر آمادہ ہیں۔ رام مندر ایک اہم ایشو ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عوام اس کا پُر امن حل چاہتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں امن سے رام مندر بن جائے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ رام مندر کے نام پر زور زبردستی ہو اور انہیں چڑھایا جائے،حال میں جس طرح سے رام مندر ایشو کو اچھالا گیاہے وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ یہ ملک کے سپریم کورٹ، قانون اور مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی ایک شرمناک کوشش بھی ہے۔
ڈاکٹر منیش کمار
p-1ایک طرف کملیش تیواری کے نفرت انگیز بیان کو لے کرملک کا مسلم سماج غصے میں ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہورہے ہیں تو وہیں دوسری طرف رام مندر ایشو کو ہوا دے کر ماحول کو زہریلا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے باوجود اس کے بھگوان شری رام کے نام پر سماجی تانے بانے کو تار تار کرنے کی تیاری شروع ہو گئی ہے، ماحول کو آلودہ کرنے میں میڈیا بھی بھرپور تعاون دے رہا ہے۔ ٹی وی چینلوں پر آئے دن ایسی بحثیں ہورہی ہیں جن سے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ دوریاں بڑھ رہی ہیں۔کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کی تیاری ہے ،کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ سوئم سیوک سنگھ اور بی جے پی کے ذریعہ ہندوتوا کا ایجنڈے سامنے لاکر مرکزی سرکار کی کمیاں چھپانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ویسے ملک میں مسائل کی کمی نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک کے غریبوں ، کسانوں ،مزدوروں اورنوجوانوں کے سامنے چیلنجوں کا پہاڑ ہے۔ لیکن ملک کی سیاست ایسے ایشوز پر مرتکز ہوتی جارہی ہے جن کا عام آدمی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ 21ویں صدی میں بھی ہم مندر مسجد کے تنازع میں الجھے ہوئے ہیں۔ بیشک رام جنم بھومی ایک متنازع معاملہ ہے،لیکن یہ معاملہ سیاسی نہیں ہو سکتا ۔ کسی سیاسی پارٹی کو اس میں الجھنے کا حق نہیں ہے۔اگر اس ایشو کا انتخابی استعمال ہوتا ہے تو پورے ملک کے لئے شرم کی بات ہوگی۔ پوری دنیا ہندوستان پر ہنسے گی۔اس بار رام مندر کے معاملے کو سامنے لانے کا کام سبرامنیم سوامی نے کیا ہے۔ سبرامنیم سوامی ایک متنازع شخص ہیں۔ ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر بیان میڈیا کے لئے خبر ہے، سبرامنیم سوامی بڑی شخصیت ہیں،قانون اور معاشیات کے جاننے والے ہیں لیکن وہ ایک پیشن گوئی کرنے والے بھی ہیں۔اس کا پتہ تب چلا جب انہوں نے ایودھیا میں رام مندر بننے کی تاریخ بتا دی۔ انہوں نے کہا اور میڈیا نے اسے سچ مان کر خبر چلا دی۔ ملک بھر میں ہنگامہ مچ گیا۔ بی جے پی نے ان کے بیان سے کنارہ کر لیا۔غور طلب ہے کہ گزشتہ 7جنوری کو سبرامنیم سوامی نے کہا کہ دسمبر 2016 سے رام مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ میڈیا نے بھی فوراًبریکنگ نیوز چلا دی کہ رام مندر بننے کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے۔ شام ڈھلتے ڈھلتے ہر ٹی وی چینل پر’’بحث کی دکان ‘‘ لگ گئی۔ کچھ مولویوں کو بلایا گیا اور ان کے ساتھ وشو ہندو پریشد کے ترجمان کو بٹھا کر ٹی وی چینلوں نے ہندو مسلم کا کھیل شروع کردیا۔ کسی نے بھی دماغ نہیں لگایا کہ سبرامنیم سوامی نے جو کہا اس میں کتنی سچائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو سبرامنیم سوامی نے مسلمانوں کو بھڑکانے کا کام کیا اور میڈیا نے اسے ہوا دے کر رائی کا پہاڑ بنا دیا ۔ملک بھر کے اخباروں میں خبریں چھپ گئیں۔ دانشوروں نے مضمون بھی لکھ ڈالے اور سوشل میڈیا پر تو جنگ ہی چھڑ گئی۔ ایسا لگا کہ بس اب جادو کی چھڑی گھومے گی اور ایودھیا میں ایک بڑا رام مندر بن جائے گا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ رام جنم بھومی -بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ بات چیت سے یہ معاملہ ختم نہیں ہو سکتا ، کیونکہ دونوں ہی فریق اس پر راضی نہیں ہیں۔ ملک میں قانون کا راج ہے اور اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی سرکار ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بغیر ایودھیا میں مندر بننا تو دور، پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاسارا ہنگامہ بغیر کسی وجہ کے کھڑا ہوگیا یا پھر اس کے پیچھے کوئی گہری چال ہے۔
رام مندر کو لے کرگزشتہ 21دسمبر کو ایک ایسی خبر آئی جس سے سنسی پھیل گئی۔ خبر یہ تھی کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے راجستھان سے پتھر لائے جارہے ہیں۔ اس کے بعد رام جنم بھومی نیاس کے صدر نرتے گوپال داس نے ایک ایسا بیان دیا جس سے معاملہ سنگین ہو گیا۔ گوپال داس جی نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اشارہ ملنے کے بعد ہی پتھر لائے گئے ہیں، کیونکہ اب جلد سے جلد مندر بنانے کا یہ سب سے مناسب وقت ہے۔ اس معاملے نے بھی میڈیا میں طول پکڑا، اس وقت وشو ہندو پریشد یا پھر نیاس کے ہر شخص ایسے تھے کہ جیسے وہ اب اپنی من مرضی سے مندر بنانا شروع کر دیں گے۔ان کے بیانوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ مسلم طبقے کو بھڑکانا چاہتے ہوں۔ پتھر لانے کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے پتھر آتے رہے ہیں۔ 2007 تک پتھر لگاتار آرہے تھے۔ بیچ میں راجستھان سرکار کی طرف سے کانکنی قانون بدلنے کی وجہ سے پتھروں کا آنا بند ہو گیا۔ اب پھر سے یہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ راجستھان میں کچھ کان بند ہونے والی ہیں۔ اس لئے جلد بازی میں پتھر منگوانے کا کام کیا گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد اور نیاس کے لوگوں نے یہ سچائی کیوں چھپائی ؟اگر یہ بات شروع میں ہی بتا دی گئی ہوتی تو تنازع نہیں ہوتا۔ تو کیا جان بوجھ کر چڑھانے کے لئے سچائی کو چھپایا گیا؟لیکن سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے ایسا بیان دیا جس سے معاملہ بالکل ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں پتھر لانے کے واقعہ کا مسلم سماج کوئی جواب نہیں دے گا اور اس معاملے پر مسلمان سڑک پر نہیں اتریں گے،یہ بیان آتے ہی معاملہ شانت پڑ گیا۔ لیکن کچھ دن بعد پھر سبرامنیم سوامی نے اس معاملے کو نیا موڑ دے کر ہنگامہ کھڑا کردیا۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سبرامنیم سوامی نے جس جگہ سے رام مندر تعمیر کی تاریخ بتائی تھی وہ دلی کے رام کرشن پورم میں وشو ہندو پریشد کا ہیڈ آفس تھا۔ وہاں ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے میڈیا کو تاریخ بتائی۔ اس میٹنگ میں وشو ہندو پریشد نے کئی فیصلے لئے جس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ ملک کے ہر گاؤں میں وشو ہندو پریشد ایک رام مندر بنائے گی۔آنے والی 15 اپریل سے وشو ہندو پریشد سات دیوسیہ رام مہوتسو کا انعقاد کرے گی۔ اس دوران ہر گاؤں میں شری رام کی پوجا کا اہتمام ہوگا۔ رام مہوتسو کے لئے ملک کے 75 ہزار گاؤں میں کام چل رہاہے۔ وشو ہندو پریشد کے منصوبے کے مطابق اس کا ہدف ملک بھر کے سوا لاکھ گاؤں میں مندر بنانا اور بھگوان رام کے مجسمے کو قائم کرنا ہے۔ جن گاؤں میں مندر نہیں بن پائے گا یا مجسمہ قائم نہیں ہو پائے گا تو وہاں بھگوان رام کی تصویر کو لے کر پوجا کا اہتمام کیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ہر گاؤں میں بھگوان شری رام کی پوجا کے بہانے لوگوں کو متحرک کرنے کی یہ نئی پہل ہوئی ہے۔سات دنوں تک شام اور صبح پوجا پاٹھ کے ذریعہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کی مانگ کو لے کر دباؤ بنایا جائے گا۔ لگتا ہے کہ یہی مقصد پورا کرنے کے لئے سبرامنیم سوامی نے ایسا بیان دیا جس سے میڈیا میں یہ معاملہ پھر سے اچھل جائے اور تنازع کھڑا ہو۔یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت دیا گیا بیان تھا۔اس بیان سے ہنگامہ مچا۔ٹی وی چینلوں پر بحثیں ہوئیں۔ سبرامنیم سوامی خود کئی چینلوں پر بحث کرتے نظر آئے۔ بحث کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے تاریخ کس بنیاد پر بتائی تو ان کا جواب تھا کہ رام مندر کی تعمیر کسی تحریک کے ذریعہ نہیں کروائی جائے گی۔انہیں لگتا ہے کہ اگست ،ستمبر تک سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے گا اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آئے گا یہ سوامی جی کو کیسے پتہ چل گیا۔ جو لوگ کورٹ کی سرگرمیوں کو جانتے ہیں وہ اس بات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ سبرامنیم سوامی لوگوں کو ورغلا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ابھی تک جرح بھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ فی الحال وہ الٰہ آباد کورٹ کے فیصلے سے جڑے سارے کاغذات اور ثبوتوں کے طور پر پیش کئے گئے سبھی تاریخی دستاویزوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ جائزہ لینے میں ہی 6-7 مہینے سے زیادہ وقت لگ جائے گا پھر جرح شروع ہوگی۔ یہ بھی ایک لمبی کارروائی ہوگی۔ اس میں کافی وقت لگے گا۔ سبرامنیم سوامی کو سپریم کورٹ میں کیس لڑنے کا بہت تجربہ ہے۔ پھر وہ ایسی باتیں کیسے کرسکتے ہیں؟دلچسپ بات یہ ہے کہ’ آج تک ‘چینل پر جب ان کا سامنا اویسی سے ہوا تو اویسی نے سوامی سے کہا کہ 6-7 مہینے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آسکتا ہے تو اس پر سوامی نے یہ قبول کیا کہ ستمبر تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آئے گا۔ پھر یہ بھی کہہ دیا کہ وہ وزیر اعظم کو لیٹر لکھ کر یہ گزارش کریں گے کہ اس معاملے کی سنوائی روزانہ ہو،تاکہ جلد سے جلد فیصلہ ہو سکے۔ ایسا کہہ کر سبرا منیم سوامی نے معاملے کو نیا موڑ دے دیا ۔اب وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ بھی ان کے من مطابق کام کرے۔ سپریم کورٹ کے پاس کئی سارے اہم معاملے آتے ہیں۔ جس میں ضرورت کے مطابق الگ الگ بینچ یا کبھی کبھی آئینی بینچ کی بھی تشکیل کرنا پڑتی ہے۔ کیا سپریم کورٹ ہر معاملے کی سنوائی روزانہ کرنا شروع کر دے گا۔ اس بحث کے اگلے دن سبرامنیم سوامی نے لگے ہاتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھی لکھ دیا اور وہ پھر سے رام مندر کے ایشو کو گرمانے میں کامیاب ہو گئے۔
سیاست انسان کو کیا سے کیا بنا دیتی ہے۔ سبرامنیم سوامی وہی شخص ہیں جنہوں نے بابری مسجد کے ڈھائے جانے کے بعد سخت رد عمل دیا تھا اور جم کر مخالفت کی تھی۔ سبرامنیم سوامی کسی وقت ایسے ایسے کام کرتے تھے جس کی وجہ سے ملک کے مسلمانوں کا ان پر بھروسہ مضبوط ہوا تھا ۔وہ پہلے ایسے لیڈر تھے جنہوں نے میرٹھ فساد کے دوران ملیانہ میں ہوئی موتوں کامعاملہ دلی تک اٹھایا تھا۔ وہ کبھی مسلم مفاد کے محافظ تھے لیکن آج ملک کے مسلمانوں کو ایسا لگتا ہے کہ سبرامنیم سوامی جب بھی بولتے ہیں،انہیں چڑھانے کے لئے بولتے ہیں، طعنے مارتے ہیں اور نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج سبرامنیم سوامی وشو ہندو پریشد کے رام مندر آندولن کا چہرہ بن چکے ہیں۔ جب تک اشوک سنگھل زندہ تھے، تب تک وہ اس آندولن کا چہرہ بنے رہے۔ سنگھل کی موت کے بعد ان کی جگہ سبرامنیم سوامی کو دے دی گئی ہے۔ جو لوگ سیاست کی باریکیاں سمجھتے ہیں انہیں اکتوبر 2015 میں یہ بات اسی وقت معلوم ہو گئی تھی، جب سوامی پہلی بار اشوک سنگھل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں سامنے آئے تھے۔ انہوں نے اس پریس کانفرنس کے ذریعہ مودی سرکار سے رام مندر بنانے میں مدد مانگی تھی۔ جب اشوک سنگھل کی موت ہوگئی تو سبرامنیم سوامی مندر آندولن سے جڑی پریس کانفرنس کرنے لگے۔ اشوک سنگھل کی موت کے بعد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد نے سبرامنیم سوامی کو رام مندر آندولن کا چہرہ بنایا ۔ گزشتہ 12جنوری کو وہ اس آندولن کے قائد کی شکل میں میڈیا سے مخاطب ہوئے اور انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں ملک کے مسلمانوں کو کورووں کی سنگیا دے دی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح شری کرشن نے دوریودھن سے پانچ گاؤں مانگے تھے، اسی طرح وہ مسلمانوں سے ایودھیا ، کاشی اورمتھرا یعنی تین مندر مانگ رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان تینون جگہوں سے مسجد نہیں ہٹائی گئی تو ایک بار پھر مہا بھارت ہوگا۔ یہ سراسر ایک دھمکی ہے۔
سبرامنیم سوامی بی جے پی کے سینئر لیڈر ہیں۔ انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ رام مندر کا معاملہ اب ملک کے ہندوؤں کے لئے جذباتی ایشو نہیں ہے۔اگر بی جے پی سمجھتی ہے کہ اسے ہوا دے کر وہ انتخاب جیت جائے گی تو یہ خود کو کنفیوژڈ کرنا ہوگا۔بی جے پی لوک سبھا انتخاب رام مندر کے نام پر نہیں جیتی۔ لوک سبھا انتخاب میں نریندر مودی نے ترقی کو اہم ایشو بنایا تھا اور انہوں نے رام مندر کا نام تک نہیں لیا تھا۔ اسی وجہ سے بی جے پی کو ہر ذات، طبقہ اور برادری کی حمایت ملی تھی،لیکن جس طرح پھر سے رام مندر کو لے کر تنازع کو جنم دیا جارہاہے، اس سے بی جے پی کو کافی نقصان ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بی جے پی نے ماضی سے کوئی سبق نہیں لیا ۔مذہبی ایشو کا استعمال کرکے بی جے پی آج تک ایک بھی انتخاب نہیں جیت سکی۔ جب کبھی انتخاب سے پہلے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یا اس کی معاون تنظیموں کے ذریعہ مذہبی جذبات پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے، تو اس کا سیدھا نقصان بی جے پی کو ہوتا ہے۔کئی انتخابات اس کی مثال ہیں۔ جیسے 2002 کے اتر پردیش اسمبلی انتخاب سے پہلے وشو ہندو پریشد کی شیلا پوجن مہم، 2004 کے لوک سبھا انتخاب سے پہلے ایودھیا چلو مہم، 2007 کے اتر پردیش اسمبلی انتخاب سے پہلے رام پرتیما پوجن مہم، 2012 کے اسمبلی انتخاب سے پہلے ایودھیا میں راشٹریہ سنت سمیلن ، ستمبر 2014 کے اتر پردیش ضمنی انتخاب سے پہلے لو جہاد اور گھر واپسی اور پھر بہار انتخاب کے وقت گؤ مانس ایشو کو ہوا دی گئی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ان سارے انتخابات میں بی جے پی ہار گئی۔ کئی جگہوں پر تو جیتی ہوئی بازی ہار گئی، بی جے پی نے لوک سبھا انتخاب میں ان تمام متنازع ایشوز کو درکنار کر کے ترقی کو ایشو بنایا، اس لئے وہ جیت گئی۔ اس سچائی کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پوچھنا لازمی ہے کہ سبرامنیم سوامی بی جے پی کے خیر خواہ ہیں یا دشمن؟
مرکز میں بی جے پی کی سرکار ہے۔ سرکار چلانے کا مطلب ذمہ داری کو پورا کرنا ہوتا ہے ،اکثریت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برسراقتدار پارٹی یا اس کے لیڈر وں کو من مانی کرنے کی چھوٹ مل گئی۔ بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ذات ، برادری اور طبقے کے مفاد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔وہ ایسے ہر عمل پر لگام لگائے جس سے اقلیتوں میں الگ تھلک کئے جانے کا تاثر پیداہوتا ہو۔ ملک کا قانون کسی بھی طبقے اور ذات کو ڈرانے ،دھمکانے یا اس کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیتا۔ رام مندر کا معاملہ ویسے بھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ جتنا بھی وقت لگے، لیکن اس کا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہوگا۔ بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ فیصلے سے پہلے اس ایشو پر سماجی ماحول خراب نہ ہونے دے ۔ یہ مودی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو عدالت میں زیر غور معاملے پر جذبات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بی جے پی کو یاد رکھنا چاہئے کہ اچھی سرکار اور بری سرکار میں صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ جس دورحکومت میں اقلیتی طبقہ محفوظ اور خوشحال رہتاہے، اسے ہی دنیا اچھی سرکار کہتی ہے اور جس دور حکومت میں ملک میں نفرت،دشمنی کا جذبہ بھڑکانے کی کھلی چھوٹ ہو، وہ سرکار بری مانی جاتی ہے،بھلے ہی ملک اقتصادی طور پر کتنا بھی ترقی کرلے ۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *