جمہوریت کے لئے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔

سیاست کو قریب سے دیکھنے ،جاننے والے لوگوں نے جو خدشہ ظاہر کیا تھا ، اسی کے مطابق پارلیمنٹ بغیر کوئی خاص کام کئے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔پارلیمنٹ کا وقت بغیر کوئی با مقصد کام کئے برباد ہوا۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا پارلیمانی جمہوریت پر سے یقین کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ میرے خیال میں آج بھی اس ملک کے آئین اور موجودہ نظام میں سب کی حصہ داری ہے۔ کانگریس کو موجودہ صورت حال اور واقعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں (فرنٹ آرگنائزیشن ) کا اس نظام پر کبھی زیادہ یقین رہا ہی نہیں۔ ظاہر ہے ،وہ اسی آئین کے راستے اقتدار میں آئے ہیں، اس لئے انہیں یہ آئین مانناہے۔لیکن اقتدار میں آنے کی وجہ سے آئین کو ماننا اور سچ مچ آئین پر یقین رکھنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں یا کاموں سے کنفیوژن کی صورت بنتی ہے تو یہ ان کے ہی ہدف کو پورا کرتی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیمیں اور ممبران پارلیمنٹ جس طرح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ آخر کیا ہے؟یہ لوگ غیر متعلقہ ایشوز جیسے بیف اور منطقی لوگوں کے قتل وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن ایسی کوشش کرتے ہیں جس سے ملک کا ماحول خراب ہو۔

قانونی طور پر مرکزی سرکار صحیح کہہ رہی ہے کہ یہ سب صوبے کا موضوع ہے، صوبے کا معاملہ ہے،لیکن اصل میں ایشو یہ نہیں ہے۔ایشو کوئی قانون والی بات نہیں ہے۔ ایشو یہ ہے کہ ملک میں کس طرح کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ مہاتما گاندھی کا قتل سیدھے طور پر آر ایس ایس نے نہیں کیا تھا،لیکن اس قتل کے لئے ماحول یایوں کہیں کہ نفرت کا ایک ماحول تیار کیا گیا تھا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پانچ سال میں انتخاب ہوتے ہیں، اچھی بات ہے ۔ایک ممبر آف پارلیمنٹ پانچ سال کے لئے چنا جاتا ہے، اچھی بات ہے۔ یہ جمہوریت کا ایک حصہ ہے، جو اچھی طرح کام کر رہا ہے،لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جمہوریت پورے طور پر اچھی طرح کام کررہی ہے۔یہاں آزاد میڈیا اور آزاد عدالت بھی ہے۔ایک فعال جمہوریت کی اصل پہچان یہ ہے کہ کیسے ایک سول سوسائٹی کام کرتی ہے؟کیا تنقید کے لئے مناسب موقع فراہم ہے؟۔کیا عدم اتفاق کا اظہار کرنے کے لئے موقع دستیاب ہے ؟بد قسمتی سے، جب سے یہ سرکار اقتدار میں آئی ہے، تب سے ایسی چیزوں کا خاتمہ ہوا ہے۔دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ عدالت ان سبھی سیکٹروں میں بھی سرگرم ہورہی ہے،جہاں اس کا کوئی کام نہیں ہے۔لیکن ایک فعال سول سوسائٹی یا پارلیمنٹ کے فقدان کی صورت میں عدالت کو یہ سب کرنا پڑ رہاہے۔ اس کی ایک سب سے خراب مثال ہے سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کا ایک صوبہ کا گورنر بننا۔ جمہوریت یا عدلیہ کے لئے اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اور بھلا کیا ہوگی؟
اب دو ایسے ایشو ہیں، جو روزانہ اخباروں کی سرخیاں بن رہے ہیں۔ نمبر ایک، دلی کا اسٹیٹ کرکٹ ایسو سی ایشن یعنی ڈی ڈی سی اے۔ یہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے اور نہ اس میں سرکاری پیسہ لگا ہے۔ لیکن یہ ایشو سارے ملک میں چھایا ہوا ہے۔ نمبر دو، نیشنل ہیرالڈ کا ایشو۔یہ کانگریس کا معاملہ نہیں ہے۔لیکن سبرامنیم سوامی اور کیرتی آزاد ، دو سیلف اپوائنٹیڈ واچ ڈاگ ، ڈی ڈی سی اے اور نیشنل ہیرالڈ کو لے کر کافی فکر مند ہیں۔یہ سب ملک کو کیسے متاثر کرتا ہے، میرے لئے سمجھنا مشکل ہے۔سارا میڈیا ان دو غیر اہم ایشوز پر گھنٹوں خرچ کررہا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھ پارہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟
میں وزیر اعظم مودی کا ،ایک دانشمند شخص کے طور پر احترام کرتا ہوں۔ آخر انتخاب جیت کر وزیر اعظم بننے تک کے سفر کو انہوں نے کافی اچھے طریقے سے منظم کیا ہے۔وہ دنیا بھر کے لیڈروں سے مل رہے ہیں، وہ کام بھی کررہے ہیں،لیکن ان کا ڈیزائن سمجھ میں نہیں آتا۔ پہلے انہوں نے دلی میں کجریوال بنام لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو آمنے سامنے کرا دیا۔ پولیس کمشنر بسئی، وزیر اعلیٰ کجریوال کو ہر دن چیلنج دے رہے تھے، جس سے ایک خراب ماحول بن رہا تھا،لیکن اچھی بات ہے کہ پولیس کمشنر بسئی نے اب یہ سب کرنا بند کردیا ہے۔ اب کجریوال بھی کرکٹ میں مداخلت کررہے ہیں۔ بغیر سمجھے کہ یہ سب ان کے دائرہ اختیار سے باہر کی بات ہے۔ زمین ڈی ڈی اے کے تحت آتی ہے، ڈی ڈی سی اے کارپوریٹ معاملوں کی وزارت کے تحت آتا ہے اور یو پی اے سرکار اور کارپوریٹ معاملوں کی وزارت کے ذریعہ ان ایشوز کو پہلے ہی دیکھا جاچکا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ڈی ڈی سی اے کے طریقہ کار میں گڑ بڑی ہے، فنڈ میں لیکیج ہے اور ایسا ہندوستان کے سبھی اداروں میں ہے، لیکن یہ سب نیشنل ایشوز نہیں ہوسکتے ۔ ان سب کے لئے آپ مرکزی وزیر خزانہ سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتے، جس نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے ڈی ڈی سی اے میں کچھ نہیں کیا ہے۔ ڈی ڈی سی اے کے صدر رہتے ہوئے دو سال پہلے کئے گئے کچھ کاموں کے لئے آپ وزیر خزانہ سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مضحکہ خیز ہے۔
ایک اہم بات یہ کہ کسی کو آگے آکر ہاﺅس کو سسٹمک کرنا ہوگا ۔میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہوگا؟میں نہیں سمجھتا کہ وزیر اعظم کے علاوہ کوئی اور یہ کام کر سکتاہے۔ انہیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ اصل میں کیا ہونا چاہئے، انہیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں ہر دن کام ہو۔ یقینا رکاوٹیں پیدا ہوںگی، لیکن کام ہونے چاہئےں۔ اگلا سیشن بجٹ سیشن ہوگا ،جو ملک کے لئے بہت اہم ہوگا۔ بجٹ سیشن میں ملک کے اگلے ایک سال کے مالی راستے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بجٹ لوک سبھا میں پیش ہوتا ہے،اس لئے ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ راجیہ سبھا رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔لیکن لوک سبھا میں بھی کانگریس بہت پریشان ہے۔ دراصل چیزیں جس طریقے سے چل رہی ہیں، اس سے وہ ناخوش ہے۔
امریکہ میں صدر اوبامہ نے بھی کہا ہے کہ جمہوریت میں آپ کو سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ ایک اکیلی پارٹی ساری دانشمندی دکھاتے ہوئے کام نہیں کرسکتی ۔ کانگریس اور بی جے پی، دونوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے اور وہ جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ بی جے پی یہ سوچتی ہے کہ وہ کام کرنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس رکاوٹ پیدا کررہی ہے، یہ سب ختم ہونا چاہئے۔ اس سے کوئی بھلا نہیں ہونے والا ۔یا پھر آئین کے صفحے پلٹنے چاہئےں۔ کچھ قانونی ماہرین آئین کو دیکھیں اور بتائیں کہ پارلیمنٹ کیسے چلتی ہے۔کچھ لوگ یہ صلاح دے رہے ہیں کہ ایسے ممبروں کو معطل کر دینا چاہئے جو ہنگامہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب کس طرح کا پارلیمانی کام ہے؟1989 کی مثال لیجئے، وی پی سنگھ نے استعفیٰ دے دیا۔ سرکار نے انتخاب کا اعلان کر دیا۔ سرکار انتخاب ہار گئی ۔لیکن سرکار میں اتنی ہمت تو تھی کہ وہ وقت سے پہلے انتخاب کرانے کا اعلان کر سکی۔ کیا کانگریس کے پاس اتنی ہمت ہے کہ وہ سرکار کو وقت سے پہلے انتخاب کرانے کے لئے پابند کرسکے؟لیکن سب کچھ صحیح طریقے سے چلے، اس کے لئے راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ غلام نبی آزاد نے صحیح کہا کہ بی جے پی کو نہیں پتہ کہ پارلیمنٹ صحیح طریقے سے کیسے چلانی چاہئے ۔ پارلیمنٹ اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ذریعہ نہیں، بلکہ سرکار کے ذریعہ چلائی جاتی ہے۔ سرکار ایک پارلیمنٹری افیئرس منسٹر مقرر کرتی ہے جو برسر اقتدار سمیت اپوزیشن کے ممبروں کے تئیں بھی معاون ہوتا ہے۔ وہ مشکل ایشو کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایوان کے چلنے سے پہلے اور بعد میں بہت سارا کام کیا جانا ضروری ہوتاہے۔ پارلیمنٹ میں کام مناسب رفتار سے چلنا چاہئے ۔ یقینی طور پر اپوزیشن کے پاس کہنے کے لئے اپنی بات ہے، لیکن سرکار کے پاس اپنے راستے ہیں۔ آخر سرکار کے پاس اکثریت ہے،لیکن اگر رجحان ہی بحث کی جگہ ہلہ مچانا ہو ،پارلیمنٹ کے اندر کی جگہ پارلیمنٹ کے باہر سرگرمیاں چلانا ہو ں،تو یہ ملک کی جمہوریت کے مستقبل کے لئے صحیح نہیں ہوگا۔ جتنی جلدی ان سب کا حل دانشور لوگ نکال لیں ،اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *