سیاستداں عوام کے مذہبی جذباتوں سے کھلواڑ کرتے ہیں

پربھات رنجن دین

p-3ایودھیا کی سڑکوں اور گلی محلوں میں آپ گھومیں تو کسی بھی شخص کو رام مندر کے بارے میں فکر کرتا ہوا نہیں پائیںگے۔ کسی کو کوئی مطلب ہی نہیں ہے کہ راجستھان سے 2 ٹرک پتھر آگئے کہ4 ٹرک،یا پتھر تراشنے کے کام میں پہلے8 آدمی بطور کاریگر کام کرتے تھے کہ اب 16 کاریگر کام کررہے ہیں۔خبریں تلاشنے اور تراشنے کا کام کرنے والے صحافیوں کو آپ کارسیوک پورم میں پتھر تراشتے کاریگروں سے بات کرتے ہوئے یا وشو ہندو پریشد کے کسی ممبر سے یا پھر بابری مسجد معاملے کے مدعی ہاشم انصاری کے گھر کے آگے کسی سے گفتگو کرتے ضرور پائیںگے۔ ایودھیا کی کل صورت حال یہی ہے کہ رام مندر یا بابری مسجد کے بارے میں ہر طرح کی فکر کا اظہار کرتے ہوئے وہی نظر آئیں گے جو یا تو میڈیا میں ہیں یا سیاست کے کسی خانے میں۔
ہماری ملاقات ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی ، پروفیسر سدھیر رائے۔ وہ فیض آباد ساکیت کالج میں پڑھاتے ہیں۔ لیکن رہتے ایودھیا میں ہیں۔ ان سے رام مندر کے بارے میں پوچھا تو وہ کہتے ہیں ،دیکھئے ایودھیا میں کوئی بھی سیاسی پارٹی ایودھیا کی ترقی کے بارے میں بات نہیں کرسکتی۔کیونکہ تنگ گلیوں اور مندروں سے بھرے ہوئے ایودھیا میں ترقی کا کوئی راستہ ہی نہیں بچا ہے۔ یہاں کے لوگ مذہبی شہر کا شہری ہونے کے ناطے نفسیاتی و روحانی طور پرسعادت کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے ہیں۔انہیں چوڑی سڑکیں، ترقی کے جدید طور طریقے، بجلی اور پانی کا آسان نظام اور منصوبہ بند رہائش سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔دیہی ماحول سے آکر ایودھیا میں بسے لوگوں کو باہری دنیا سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے اور ایودھیا میں ترقی کا کوئی اسکوپ بھی نہیں ہے ۔لیڈروں نے بھی ایودھیا کے لوگوں میں ترقی کی کوئی سمجھ پیدا نہیں ہونے دی۔ لیڈروں کا دھندہ رام مندر اور بابری مسجد سے چلتا رہا اور مقامی لوگوں کا کام پوجا پاٹ سے ۔
پروفیسر سدھیر رائے کی باتیں ہی ایودھیا کا سچ ہے۔پیشے سے معالج ،ڈاکٹر محمد شرف عالم بھی ایسا ہی کچھ کہتے ہیں۔ ڈاکٹر شرف عالم کہتے ہیں کہ ’ آپ پورے ایودھیا میں گھوم لیں، مسلم طبقے میں بھی آپ کو زیادہ تر لوگ ایسے ملیں گے، جن کا بابری مسجد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اپنے روزی روٹی اور روزگار کے لئے آپ کو زیادہ فکر مند ملیں گے۔ آپ ان لوگوں کو اس طرح کے کام میں مبتلا پائیں گے جن کے پاس اور کوئی کام نہیں ہے اور جن کے پاس نا معلوم طریقے سے کمایا ہوا فالتو پیسہ ہے اور ان پیسوں کے لئے ان کے ارد گرد گھومنے والے گرگے ہیں،جو بابری مسجد یا رام مندر کے نام پر شور و گل کرتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں اور اشارہ پانے پر مذہبی ماحول بگاڑتے ہیں۔ ان سب کے پیچھے صرف سیاسی ارادے ہیں، اور کچھ نہیں۔
بہر حال ایودھیا میں رام مندر کو لے کر آہٹ بہار انتخاب کے پہلے سے ہی سنائی دینے لگی تھی۔ وشو ہندو پریشد نے تقریبا 6 ماہ پہلے ہی ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لئے پتھر تراشنے کا کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پھر بہار انتخاب کا نتیجہ آنے کے بعد الگ الگ تنظیموں سے رام مندر تعمیر کے سُر سنائی دینے لگے۔وشو ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل کی موت کے بعد راشٹریہ سون سیوک سنگھ کے چیف موہن بھاگوت نے رام مندر تعمیر کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا،اس پر شیو سینا نے رام مندر تعمیر کے لئے سنگھ اور بی جے پی پر تاریخ بتانے کے لئے دباﺅ بڑھایا ۔ شیو سینا نے تو آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا کہ رام مندر کی تعمیر سے نریندر مودی کی مقبولیت بڑھے گی۔ پھر ممبر پارلیمنٹ ونے کٹیار نے رام مندر تعمیر کے لئے مسلمانوں سے مدد کی اپیل کر ڈالی، پھر سیاسی ماحول بنتا گیا اور سیاسی پارٹی جو چاہتی تھی، ویسا ماحول تیار ہونے لگا۔ تمام ڈرامہ بازیاں اسی طرح ہونے لگیں جس طرح لیڈر چاہتے تھے۔ ایک طرف مندر کے لئے پتھر تراشے جانے لگے تو دوسری طرف مسجد کے لئے پتھر تراشنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ 20دسمبر کو راجستھان سے پتھروں سے لدے دو ٹرک ایودھیا پہنچے اور 2017 کے اسمبلی انتخاب کی بنیاد رکھی جانے لگی۔ وشو ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے باضابطہ یہ بتایا کہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتے گوپال داس نے باقاعدہ ’شیلا پوجن ‘ کیا۔مہنت گوپال نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ مودی سرکار مندر تعمیر کے لئے متفق ہے،لیکن وہ یہ بھی بولے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے مندر تعمیر کی منظوری نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اب پتھروں کے آنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پتھروں کی پہلی کھیپ میں راجستھان کے بھرت پور سےتقریباً 15ٹن پتھر پہنچا۔ بعد میں دوسری کھیپ بھی پہنچی۔ اس بار پتھر تراشنے والے کاریگروں کی تعداد بھی بڑھائی گئی۔ وشو ہندو پریشد ترجمان کے مطابق ابھی تقریبا ً 75ہزار کیوب فٹ پتھر اور آئیں گے۔یہ پتھر عطیہ کرنے والوں کی طرف سے رام جنم بھومی ٹرسٹ کو دان کیا گیا ہے۔ معاملہ عدالت میں ہونے کے سوال پر مہنت گوپال داس نے کہا کہ معاملہ بھلے سپریم کورٹ میں ہے،لیکن انہیں یقین ہے کہ فیصلہ ہندو سماج کے حق میں ہی آئے گا۔
سنگھ چیف موہن بھاگوت کے بیان پر فوراً ہی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پوچھ لیا کہ تاریخ بتائیں مندر کب بنے گا؟کانگریس نے کہا کہ بی جے پی اپنے سیاسی فائدے کے لئے ایک بار پھر رام کا نام استعمال کررہی ہے۔ اتر پردیش میں بر سر اقتدار سماجوادی پارٹی بھی مسلم سائڈ سنھالنے میں لگ گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیو پال سنگھ یادو آگے آکر بولے کہ ایودھیا میں کورٹ کا اسٹے آرڈر لاگو ہے۔ وہاں پر پتھر لانے کا بھی حق کسی کو نہیں ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ اگر کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا کام کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ شیو پال کے طرز پر ہی بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور صوبہ کے ایڈیشنل سالسٹر جنرل ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ 2002 میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق متنازع 67ایکٹر زمین پر کسی بھی مذہبی سرگرمی پر روک ہے اور وہاں کوئی بھی سامان رکھنے پر پابندی ہے۔ ایسے میں وشو ہندو پریشد یا کوئی پارٹی کچھ نہیں کر سکتی۔ راجستھان سے پتھر منگوانے کی بات پر جیلانی نے کہا کہ یہ اور کچھ نہیں، صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ سماج وادی پارٹی کی سرکار سپریم کورٹ کا حکم ماننے کی جوابدہی کو سمجھتی ہے۔اس لئے اس احاطے میں کوئی بھی سرگرمی نہیں ہونی دے گی۔ صوبہ کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی فوراً چیف داخلہ سکریٹری دیوا شیش پانڈا سے رپورٹ مانگ لی اور تاکید کی کہ فرقہ وارانہ ماحول نہ بگڑے۔ اکھلیش نے سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت دی ،تاکہ ایودھیا تنازع کو لے کر کسی بھی طرح کا غلط میسیج لوگوں کے بیچ وائرل نہ ہو پائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایودھیا کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے، لہٰذا سرکار قانون اور آئین کے تحت کام کرے گی۔انہوں نے صحافیوں سے بھی سوچ سمجھ کر اپنا کردار نبھانے کی اپیل کر ڈالی۔
مایا وتی نے سماج وادی پارٹی کو گھسیٹا
بہو جن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی نے کہا کہ ریاست میں سماج وادی پارٹی کی سرکار ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ ایودھیا میں ایسا کچھ نہیں ہو جس سے ماحول بگڑے۔ مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی اور سنگھ پہلے سے ہی جبراً اور غلط طریقے سے مندر تعمیر میں لگے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی ذمہ داری صوبہ کے اقتدار میں رہنے والی سماج وادی پارٹی سرکار کی ہے کہ وہاں عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی نہ ہونے دے اور ماحول خراب ہونے سے بچائے۔ مایاوتی نے کہا کہ اگر ایودھیا میں کچھ بھی غیر قانونی طریقے سے ہو رہاہے تو اسے روکنا یوپی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یوپی سرکار پوری طرح فیل ہو گئی ہے۔
ناکامی چھپانے کا بہانہ ہے رام مندر کا مسئلہ
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور بیان دینے میں مشہور اعظم خاں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار ہر موچے پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔سرکار کی ناکامی چھپانے کے لئے رام مندر کا ایشو اٹھایا جارہاہے۔ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ سبھی کو عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگر حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نقصان ملک کو ہوگا۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے راجستھان سے پتھروں کی کھیپ پہنچنے کے سوال پر اعظم خاں نے کہا کہ ایودھیا میں شری رام کے کئی مندر ہیں،کئی مہنت بھی ہیں۔ سبھی اپنے اپنے مندر کو ہی اصلی مندر بتاتے ہیں۔ ہمیں اس جھگڑے میں نہیں پڑنا ہے۔ معاملہ عدالت میں ہے تو فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہاراﺅ اور سنگھ کے سمجھوتے سے وہاں پر چبوترے کی تعمیر ہوئی تھی۔ پوجا وہاں بھی ہوتی ہے۔ اعظم نے کہا کہ یہ ایشو اس لئے اٹھایا جارہا ہے ، کیونکہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔ مہنگائی، بد عنوانی ، بے روزگاری، لوٹ مار جیسے مسائل جیوں کے تیوں سامنے کھڑے ہیں۔ بی جے پی نے انتخابات کے دوران جو وعدہ کیا تھا، اب عوام اس کا حساب مانگ رہے ہیں۔ اس لئے عوام کا دھیان اہم ایشو سے ہٹانے کے لئے مندر کا ایشو اٹھایا جارہا ہے۔ اعطم خاں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی بابری مسجد بنوا دے تو مسلم بار بار بی جے پی کی سرکار بنوائیں گے۔اگر سنگھ اپنی معاون پارٹی بی جے پی کی سرکار آگے بھی ملک میں چاہتی ہے تو اسے بس یہ ایک چھوٹا سا کام کرنا ہوگا۔
پھر اویسی کیوں خاموش رہتے
مندر -مسجد سیاست کے گرم توے پر روٹی سینکتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر نہیں بلکہ بابری مسجد بن کر رہے گی اور موہن بھاگوت کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔اویسی نے مرکزی سرکار سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے وشو ہندو پریشد کے ذریعہ وہاں پتھر اور کھمبے لائے جانے کے کام پر روک لگانے کی گزارش کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ آنے تک کسی بھی طرح کی سرگرمی کومنظوری نہیں دی جاسکتی ۔ اویسی نے کہا کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی سرکار کو پتھروں کو ضبط کر لینا چاہئے تھا۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہاں نورا کشتی چل رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *