مندر ۔ مسجد نہیں روزگار چاہئے

ایودھیا میںرام مندر کو لے کرپھر سے سرگرمی ہے۔ رام مندر کے لےے پتھرکاٹنے اور اس کے جواب میں بابری مسجد کے لےے بھی پتھر منگا کر کاٹنے کی تیاریوں اور چرچاو¿ں کے بیچ سیاسی فصل کاٹنے کی منشا پروان چڑھ رہی ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب ہونے میں ابھی ایک سال کی مدت باقی ہے، اس لےے ووٹ کاٹنے اور تراشنے کے لےے بی جے پی کو پتھر کاٹنا اور تراشنا ضروری لگ رہا ہے۔ جبکہ بہار اسمبلی انتخاب میں بری طرح ہارنے کے بعد اتر پردیش میں اس طرح سے زمین تیار کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے میچیور پالیسی ڈسیزن کا اشارہ نہیں ہے۔ سنگھ اور بی جے پی کے اندرونی سروے میں یہ تصویر سامنے آئی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی اور اتر پردیش میں برسر اقتدار سماجوادی پارٹی کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی تیسرے نمبر پر چل رہی ہے۔ یہ بی جے پی کی بوکھلاہٹ تو نہیں ہے!
سنتوش بھارتیہ
P-1اچانک رام جنم بھومی کا مدعا ملک میں گرمانے لگا۔ بہار انتخاب سے پہلے اور بہار انتخاب میںگائے مدعا تھی۔ اب آسام اور پنجاب میںالیکشن ہونے والے ہیں، اتر پردیش میںاگلے سال الیکشن ہے، تو رام جنم بھومی کا مدعا کھڑا ہوگیا۔ سنگھ کے پرمکھ موہن بھاگوت نے ریزرویشن کے اوپر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ریزرویشن کے اوپر نظر ثانی ہونی چاہےے، اس کا تجزیہ کرنا چاہےے۔ لوگوں میںیہ پیغام گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بہار میںجیتنے کے بعد ریزرویشن کا جائزہ لینے کے لےے ایک کمیشن بنا دے گی۔ موہن بھاگوت نے ایک نیا بیان یہ دیا کہ سو سال تک ریزرویشن بنا رہے گا۔ میںیہ تو نہیں کہتا کہ سنگھ پرمکھ ذمہ دار شخص نہیں ہیں، لیکن دونوں بیانوں میں تضاد دیکھنے پر لگتا ہے کہ سنگھ بھی اب سیاسی زبان بولنا نہ صرف سیکھ گیا ہے، بلکہ سیاست کرنے کی تیاری بھی کررہا ہے۔
اب اچانک ایودھیا میں مہنت نرتیہ گوپال داس نے اعلان کیا کہ انھیںمودی سرکار سے اشارہ ملا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کی تیاری شروع کر دی جائے۔ ابھی تک پتھروں کی صفائی کا کام چل رہا تھا، اب پتھر لانے کا کام شروع ہوگیا۔ سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ سال 2016 میں رام مندر بنے گا۔ یہ فیصلہ سنگھ پرمکھ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ، جس میں انھوں نے کہا، میں اپنی زندگی میں رام مندر بنتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں یا میری زندگی میںرام مندر بن جائے گا۔ ان سارے سوالوں کے اوپر سرکار نے اب تک کوئی صفائی نہیں دی ہے۔ ایک بھرم پھیل گیا کہ سرکار چاہتی ہے کہ رام مندر بنے۔ لیکن اگر سرکار چاہتی ہے کہ رام مندر بنے، تو اسے یہ بات واضح طور پر کہنی چاہےے اور یہ بھی صاف کرنا چاہےے کہ اب ملک میں آئین کی نہیں،’آستھا‘ کی حکومت ہے۔ آئین کی وضاحت کے حساب سے کسی بھی متنازع موضوع پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آخری ہوتا ہے،سرکار کا نہیں۔ یا تو پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے قانون بدل دے یا پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ دے۔ نہ پارلیمنٹ نے قانون بدلا ہے، آئین میں ترمیم بھی نہیں کی ہے اور نہ سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے۔ بابری مسجد ، رام مندر کی سچائی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ جو بھی لوگ جلدی سے جلدی رام مندر بنانا چاہتے ہیں، وہ سپریم کورٹ سے یہ درخواست کرتے کہ وہ روزانہ سنوائی کرکے اس معاملہ پر اپنا فیصلہ دے، تاکہ ملک میں بھرم کی حالت ختم ہوجائے۔ لیکن ایسا نہیںہے۔اس کی جگہ اعلان کیا جارہا ہے کہ سال 2016 میںرام مندر بنے گا۔
کیا اس کا مطلب ہم یہ مانیںکہ رام مندر بنانے والی طاقتوں کی سپریم کورٹ سے پردے کے پیچھے کوئی بات چیت چل رہی ہے، جس میںانھیںیہ اشارہ ملا ہے کہ سپریم کورٹ سال 2016 میں آخری فیصلہ دے دے گا او روہ مندر کے حق میں فیصلہ دے گا، اسی لےے مندر بنانے کی تیاری ہورہی ہے؟ سرکار بھی اس کے اوپر اپنا کوئی بیان نہیں دے رہی ہے اور اس نے ایک پراسرار ماحول بنا رکھا ہے۔ یا پھر آئین اور سپریم کورٹ کو درکنار کرکے مندر بنانے کی شروعات کرنے کا کوئی منصوبہ ان تنظیموں نے بنالیا ہے، جو بابری مسجد کی شہادت کے لےے ذمہ دار ہیں؟ جس دن بابری مسجد منہدم ہوئی، اس دن ہندوستان کا سوشل فیبرک یعنی سماجی تانا بانا یعنی بھائی چارہ کا تانا باناٹوٹ گیا۔ ان لوگوں کے دل میں یہ سوال اٹھا، جو آئین میں عقیدت رکھتے ہیں کہ کیا ہم تعداد کے زور پر حکومت کریں گے؟ ہماری حکومت چلے گی یا پھر آئین کے مطابق حکومت چلے گی؟ مجھے یاد ہے، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا تھا کہ سرکار بابری مسجد کی حفاظت کرے گی، لیکن ریاستی سرکار نے بابری مسجد کی حفاظت کے لےے اپنے دےے گئے حلف نامہ کے مطابق ایک بھی قدم نہیںاٹھایا۔ مرکزی سطح پر بھی اس بابت کوئی کوشش نہیں ہوئی ۔ وزیر اعظم نرسمہا راو¿ سوتے رہ گئے۔ سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے دسیوں بار فون کیا، لیکن پرائم منسٹر ہاو¿س سے ایک ہی جواب ملتا رہا کہ نرسمہا راو¿ آرام کر رہے ہیں اور بابری مسجد منہدم کردی گئی۔ سپریم کورٹ میں ریاستی سرکار کے ذریعہ دےے گئے حلف نامے اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا کوئی مطلب نہیں نکلا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہاں کی حالت جوں کی توں بنائی رکھی جائے۔
مجھے ایک اور واقعہ یاد ہے۔ وی پی سنگھ کی سرکار تھی۔ اٹل بہاری واجپئی ان سے ملنے گئے۔ اٹل جی نے کہا، آپ پانچ اینٹیں لے جانے کی اجازت دے دیجئے، ہم کوئی آندولن نہیں کریں گے۔وی پی سنگھ نے کہا، اٹل جی، وزیر اعظم کا عہدہ آئین کی حفاظت کرنے کے لےے ہے۔ اگر میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف جاتا ہوں اور اس کے حکم کی حفاظت نہیں کرپاتا ہوں، تو میرا وزیر اعظم بنے رہنا بیکار ہے۔ آپ جب وزیر اعظم بنیں گے، تب بھی آپ اس کرسی پر بیٹھ کر رام مندر بنانے کے لےے پانچ اینٹیں وہاں نہیں لے جا پائیں گے اور نہ اس کا حکم دے پائیں گے، یہ کرسی ہی ایسی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی یہ سن کر اٹھ کر چلے آئے۔ سالوں بعد اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم بنے۔ وی پی سنگھ نے انھیں فون کیا او رکہا، واجپئی جی، اب آپ وزیر اعظم ہیں، رام مندر بنانے کے لےے آپ پانچ اینٹیں بھجوا سکتے ہیں۔ سرکار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں نے آپ سے کہا تھا، آپ یہ نہیں کرپائیںگے۔ ادھر سے اٹل جی نے جو بھی کہاہو، لیکن میرا ماننا ہے کہ اٹل جی یہ بات سن کر خاموش ہوگئے ہوں گے، کیونکہ پوری چھ سال کی مدت کار، جس میں اٹل جی نے ایک اچھے وزیر اعظم کی چھاپ اس ملک کے اوپر چھوڑی، کے دوران وہ رام جنم بھومی کے مسئلے پر وشو ہندو پریشد کی کسی بھی بات کے اوپر متفق نہیں ہوئے اور نہ انھوں نے اس کی اجازت دی۔
سالوں کے بعد پھر رام جنم بھومی کا سوال ملک میںچاروں طرف اچھال دیا گیا ہے۔ اپوزیشن اس کے خلاف ہے، برسر اقتدار پارٹی اس کے حق میںبول رہی ہے اور مزے کی چیز یہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ترقی کا ایجنڈا کہیںلڑکھڑا گیا ہے۔ کیا یہ سارے سوال ترقی کا ایجنڈا صحیح ڈھنگ سے لاگو نہ کر پانے کی وجہ سے اٹھائے جارہے ہیں، لوگوں کو الجھانے کے لےے اٹھائے جارہے ہیں؟ رام مندر یا بابری مسجد ضرور بنے، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد۔ ترقی کا ایجنڈا تو چلے۔کہاںہے ترقی کا ایجنڈا؟ لوگوں کی تھالیوں میںروٹیاں نہیں بڑھ رہی ہیں، روزگار نہیں بڑھ رہے ہیں۔ جو جو وعدے ہوئے تھے، وہ زمین پر تو کہیں پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہاں، سرکاری اعداد وشمار اور سرکار کے کتابچے کے ذریعہ یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے وعدے پورے کرنے شروع کردےے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کہاں وعدے پورے ہورہے ہیں؟ اس ملک کی آبادی میں70 فیصد حصہ داری کسانوں کی ہے۔ کسان تو اور بھوکا ہوا ہے اور ننگا ہوا ہے اور قرض دار ہوا ہے۔ ثبوت سامنے ہے،کسانوں کی خود کشی روکے نہیں رک رہی ہے۔ کھیتوں میںفصل اس لےے نہیں ہورہی ہے، کیونکہ کسان کو فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی۔اور ، اس کے بعد بھی اگر مقصد لوگوں کا دماغ بھٹکانے کا ہو، تو آپ بھٹکا سکتے ہیں،یہ سرکار یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن یہ ملک کے امن کے ساتھ کھیلنے جیسا ہوگا۔ آج ملک کا کوئی بھی شخص فساد نہیںچاہتا۔ترقی کے لےے دماغ میں بھی سکون چاہےے اور زمین پر بھی امن چاہےے۔اگر امن نہیں ہوگا، تو ترقی نہیں ہوگی۔ امن نہیں ہوگا،تو منصوبے نہیں بنیں گے۔ جب ان موضوعات کے اوپر برسر اقتدار پارٹی بولنے لگے، جن پر سپریم کورٹ نے پابندی لگا رکھی ہے، تب کہیں نہ کہیں من میںسوال اٹھتا ہے کہ ایسا تو نہیں ہے کہ آج کا نظام یعنی آج کی پارلیمنٹ اور آج کے سپریم کورٹ کی منشا وزیر اعظم پر مبنی مکمل ریاستی نظام بدلنے کے لےے کوئی مہم چلانے کی ہے؟میرا ماننا ہے کہ ہندوستان کا آئین بہت خوبصورت آئین ہے، اسے بدلنے ، توڑنے اور جمہوریت میںوزیر اعظم پر مرکوز نظام بدلنے کی کوشش نہیں کرنی چاہےے۔ ایسے سوال نہیںاٹھانے چاہئیں، جن کا واسطہ ملک کے امن، خوشحالی، منصوبے اور خواب سے ہو۔ اس ملک میں پیار و محبت کیسے بڑھے، اس کا منصوبہ بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ سرکار کو چاہےے کہ وہ جلد سے جلد صورت حال کو صاف کرے۔
سروے سے گھبراکر بنی حکمت عملی؟
راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی سروے رپورٹ اتر پردیش میں بی جے پی کی کمزور حالت کی نشاندہی کررہی ہے۔ اس لےے سنگھ شکتی کوئی چمتکاری حکمت عملی اختیار کرنے کے حق میں ہے۔ سنگھ نے اپنی رپورٹ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی دی ہے۔ سنگھ نے اتر پردیش میںمضبوط قیادت اور مضبوط ٹیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سنگھ نے کسی طاقتور مرکزی لیڈرکو اترپردیش کی مہم لگانے کی سفارش کی ہے۔ سنگھ نے یہ سروے اپنے سینئر پرچارکوں اور مہاراشٹر ، گجرات اور دہلی کی سروے ایجنسیوں کی مدد سے کرایا۔اسی رپورٹ کی بنیاد پر بی جے پی اتر پردیش میںآئندہ اسمبلی انتخاب کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ اس سے یہ بھی پختہ ہو رہا ہے کہ رام مندر کی تعمیرکو لے کر بڑھی سرگرمی مذکورہ سروے کے بعد بن رہی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالانکہ اس سوال پر بی جے پی کے لیڈر فی الحال خاموش ہیں۔
وسیع عام اتفاق رائے یا بھاگوت کا خواب
نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کو امید تھی کہ آئین کے آرٹیکل 370-، یونیفارم سول کوڈ اور رام مندر جیسے بنیادی مدعے سلجھ جائیں گے، لیکن مودی نے ان مدعوں کو چھوڑکر ترقی کا مدعا اپنایا۔ انھوںنے سنگھ کے خلاف جاکر جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن کیا۔ ایودھیامیں رام مندر کی تعمیر کے لےے سنگھ نے کئی بار مودی سے بات کی، لیکن وہ چپ رہے۔ گزشتہ ستمبر ماہ میںدہلی میںمنعقد راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اور سرکار کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی میٹنگ میںشامل ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے سنگھ پر مکھ موہن بھاگوت نے الگ سے بات کی۔ ایسا سنا جاتا ہے کہ مودی نے بھاگوت سے واضح طور پر کہا کہ سرکار ترقی پر دھیان دینا چاہتی ہے، رام مندر اس کی ترجیح میںنہیں ہے۔ پھر رام مندر کا مدعا اکتوبر کے آخیر میں رانچی (جھارکھنڈ) میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی آل انڈیا ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ میںاٹھا۔ سنگھ نے اترپردیش میں رام مندر تعمیر آندولن کو تیز کرنے کے لےے وشو ہندو پریشد کے لیڈرو ں سے بات کی۔ وشو ہندو پریشد کے انٹر نیشنل ایگزیکٹو چیئرمین اشوک سنگھل کے انتقال کے بعد 23 نومبر کو منعقد شوک سبھا میں سنگھ پرمکھ موہن بھاگوت شامل ہوئے اور وہاں انھوں نے کہا کہ ایودھیا میںرام مندر کی تعمیر ہی سنگھل کو اصلی خراج عقیدت ہوگی ۔ بھاگوت بعد میںیہ بھی بولے ، مجھے امید ہے کہ رام مندر کی تعمیر میری زندگی میںہوجائے گی۔ رام جنم بھومی مندر نرمان نیاس ایودھیا کے صدر جنمے جے شرن داس کہتے ہیں کہ ایک وسیع عام اتفاق رائے بن کر ابھری ہے کہ رام مندر کی تعمیر شروع ہو۔ مندر کی تعمیر کے مسئلے پر ہوئی میٹنگ میں 17 تنظیموں نے حصہ لیا تھا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *