بہار میں نئے سال کے سوال

سوکانت
p-10بہار کے اقتدار کے کئی سوالوں کے جواب کے ساتھ سال 2015 ختم ہوگیا۔ لیکن گزرا ہوا سال کئی سوالوں کو امانت کے طور پر نئے سال کو سونپ گیا۔ گزشتہ سال میں بہارنے ملک کی غیربھاجپائی سیاست کو سب سے بڑا پیغام دیا۔ نریندر مودی کے ’وجے رتھ‘ کے گھوڑوں کو باندھ کر انھیں لگام لگائی گئی۔ پاٹل پتر کی گدی پر قابض ہونے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیرو نریندر مودی کی ہر چال کو بہار کے ووٹروں نے سرے سے خارج کر دیا۔ لالو پرساد اور نتیش کمار کی جوڑی نے دو سال پہلے کے پارلیمانی انتخابات کی اپنی شکست کا حساب مع سود کے ادا کردیا۔ اس انتخابی نتیجہ نے ملک کی بی جے پی مخالف طاقتوں میں نئے سرے سے بھروسہ کی امیدیں جگائی ہیں او ربی جے پی کو بیک فٹ پر کھڑا کردیا ہے۔ بہار کے انتخابی نتیجہ نے ہندوستان کی علاقائی سیاست کےکئی لیڈروں کونئے سیاسی اتحاد بنانے کی ترغیب دی ہے، جو اب تک اپنے آپ میں ہی سکڑے ہوئے ہیں۔ اس انتخابی نتیجہ نے ان لیڈروں کو بھی اپنے سیاسی انداز پر نظر ثانی کا موقع دیا ہے، جوکئی خوشگوار غلط فہمیوں کے شکار رہے ہیں اور بہار کے سیاسی استعمال کے مخالف بھی۔ بہار نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے:بہار آگے کی سوچتا اور کرتا ہے، یہ جو آج کرتا ہے، ملک وہ کل کرتا ہے۔ گزرے سال میں حصولیابیوں کے ساتھ ساتھ کئی ناکامیاں بھی بہار کے کھاتے میں رہی ہیں۔ بہار کئی فرنٹ پر کامیاب ہوا ہے، تو کئی فرنٹ پر ناکام بھی رہا۔ لیکن اس غریب ریاست کو اپنی حصولیابیوں پر فخر کرنے کی کئی وجوہات ہیں، غلطیوں کو سدھارنا بھی اسے آتا ہے۔
بہار میں گزرے سال کا سب سے بڑا واقعہ اسمبلی انتخاب اور اس بہانے ریاست کی اقتداری سیاست میں اصولی تبدیلی رہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران یا اس کے نام پر اس ریاست نے بہت کچھ دیکھااور پرکھا اورپھر اس نے اپنا فیصلہ دیا۔ریاست کی سیاست کے لےے یہ بڑا ٹرننگ پوائنٹ رہا کہ گزشتہ کئی انتخابات کے سیاسی دشمن لالو پرساد اور نتیش کمار ایک ساتھ ایک گٹھ بندھن میں انتخابی میدان میںاترے اور ان کے ساتھ کانگریس بھی آئی۔ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے متوازی راشٹریہ جنتا دل، جنتا دل یونائٹیڈ اور کانگریس کا مہا گٹھ بندھن بنا۔ یہ بھی معمولی بات نہیں رہی کہ ایسے گٹھ بندھن کو شکل دینے کے لےے جے ڈی یو نے ایک درجن سے زیادہ سیٹوں کی قربانی دے دی۔ بہار میںپہلی بار بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی، لینن وادی) سمیت چھ لیفٹ پارٹیوں نے اپنا مورچہ بنایا۔ انتخاب کے نام پر بہار نے بہت کچھ پہلی بار دیکھا۔ وزیر اعظم کو پہلی بار اس طرح انتخابی پرچار کرتے دیکھا ۔ ریاست کے دو تہائی ضلعوں میںانھوںنے انتخابی سبھائیں کیں ۔ ایسی سبھاو¿ں کے انعقاد میں ووٹنگ کے دنوں کو بھی انھوں نے نہیں بخشا۔ الیکشن میںجیت حاصل کرنے کے لےے ہر ہتھکنڈے اپنائے گئے او راس میں کون آگے اور کون پیچھے رہا، یہ کہنا مشکل ہے۔ ریاستی، علاقائی لیڈروں کی بات کون کرے،جیت کے لےے وزیر اعظم تک نے مذہب، ذات، علاقہ اور زبان جیسے جذباتی مسئلے کا کھل کر استعمال کیا۔ پہلی بار مرکز کی پوری سرکار ریاست میں’نگری نگری دوارے دوارے ‘ گھومتی دکھائی دے رہی تھی۔ پہلی بار مرکز کی قومی پارٹی کے صدر نے بہار کو ایک مہینے سے زیادہ وقت تک اپنا ہیڈ کوارٹر بنائے رکھا۔بہار کے انتخاب میں اتنے بڑے پیمانے پر پہلی بار’پراکسی وار‘ چلی او راس کے لےے پارٹیاں تک تیار کی گئیں۔ مخالفین کو ستانے اور خود کو مضبوط کرنے کے لےے سرکاری ایجنسیوں تک کا استعمال کیا گیا۔ ساری سیاسی مریادائیں سیاست کے نام پر ہی تار تار ہوتی رہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ بہار کے انتخابات میں اب خون بہنا عام نہیں رہا، لیکن دولت کا بڑھتاکردار انتخابات کی غیر جانبداری کو تو سنگین طور پر متاثر کررہاہے۔انتخابات میںدولت کا جو مظاہرہ ہورہا ہے، وہ بہار اور بہار جیسی غریب ریاستوں سے غریبوں کی سیاست کے دن کے لد جانے کے اشارے ہیں۔ ا س کے ساتھ ہی، اس بار کے انتخابات میں بے حساب دولت کی بے حساب برآمدگی ،معاشرتی سیاست کے لےے تشویش کی بات ہونی چاہےے، لیکن اس پر غور کرنے کی فرصت کسی کو ہے، ایسا لگتا نہیںہے۔
بہار میںگزشتہ کئی انتخابات کی طرح پھر ایک گٹھ بندھن کی سرکار ہی بنی، ایسا ہی مینڈیٹ تھا، لیکن بہار نے ملک کو سب سے کم عمر کا نائب وزیر اعلیٰ دیا ہے۔ درحقیقت اس بار کا اسمبلی انتخاب لالو پرساد کے لےے اپنے بیٹوں کا لانچنگ پیڈ تھا او ر اس میںانھیںمرضی کے مطابق کامیابی ملی۔ اس کا ایک سیدھا اثر یہ ہوا کہ اس ریاست نے ملک کوسب سے کم عمر کانائب وزیر اعلیٰ دیا۔ نتیش کمار کی اس مہا گٹھ بندھن کی سرکار میںلالو پرساد کے چھوٹے بیٹے تیجسوی پرساد یادو نائب وزیر اعلیٰ ہیں اور بڑے بیٹے تیج پرساد یادو اسی کابینہ میںتیسرے نمبر پر۔ ان کے بعد ہی عبد الباری صدیقی اور وجیندر پرساد یادو جیسے پرانے لوگوں کو جگہ ملی ہے۔سرکار بننے کے ساتھ ریاست میںاقتدار کے دو مرکز بن گئے ہیں۔ نتیش کمار کی سرکار چلانے کی آزادی کو لے کر کئی’ اگر مگر‘ بتائے جانے لگے ہیں۔سرکار کے کئی فیصلوں کو ایسے ہی ’اگر مگر‘ سے متاثر کیا جارہا ہے۔ریاست کواس گزرتے سال کا یہ کنٹری بیوشن رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے سال میں یہ سیاست کیا رنگ دکھاتی ہے۔ رنگ تو ریاست کو اپوزیشن کی سیاست کو بھی دکھانا ہے۔ اسمبلی انتخابات کی ہار کے صدمے سے یہ ابھر چکی ہے، ایسا کہنا صحیح نہ ہوگا۔ لیکن اس میںکوئی شک نہیں کہ بی جے پی اس سے ابھرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاست میںالگ الگ جگہوںپر کارکن کانفرنس کرکے لوگوں کے دلوں کا غبار نکلنے کا موقع دیا ہے۔ دسمبر میں کئی پروگراموں کی شروعات کر کے اس نے اپنے کارکنوں کو سرگرم کرنے کے طریقے اپنائے ہیں۔ حالانکہ ان پروگراموں کو ا بھی اڑان لینی ہے۔ لیکن این ڈی اے کی دیگر جماعتوں کی حالت ایسی ہی ہے،یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی نے صدمہ سے ابھرنے کے لےے اپنی طرح سے کوشش کی ہے۔ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی دھان کی خرید کے مسئلے پر جنوبی بہار میں کچھ سرگرم دکھائی دیتی ہے، لیکن ایل جے پی خاموش پڑی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ سیاسی سرگرمی کے لےے مسائل کی کمیہے۔ لیکن سب سے سرگرمی جیتن رام مانجھی کے ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) میں ہے۔’ ہم ‘ کتنی لمبی عمر کے ساتھ بہار کی سیاست میں ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ نئے سال میں کچھ مہینے پہلے بنی اس سیاسی پارٹی کی موجودہ شکل او رکردار میں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔
نئے سال میں دو سوال بہار کو اور اس کی سیاست کو متاثر کرےں گے۔گزشتہ جنوری میںبھی بہار میںایسا ہی ہوا تھا۔ اُس نئے سال کی شروعات اقتداری سیاست میں تنازع سے ہوئی تھی۔ نتیش کمار بنام جیتن رام مانجھی کا تنازع دری کے نیچے کے پانی کی طرح ریاست کی سیاست کو متاثر کررہا تھا اور یہ دو قطبوں میںبٹ گئی تھی۔ بہار کے سیاسی حلقے ہی نہیں عوام میںبھی سوال تھا : جیتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر کیوں نہیںرہنے دینا چاہےے؟ جے ڈی یو سپریمو نتیش کمار کسی بھی قیمت پر وزیر اعلیٰ کی کرسی پر قابض ہونے کو بیتاب تھے، تو جیتن رام مانجھی اس پر بنے رہنے کی کوئی بھی کوشش چھوڑنا نہیںچاہ رہے تھے۔ بہار کی منڈل سیاست کے بڑے ہیرو لالو پرساد سال کے ابتدائی دنوں میںکھل کر نتیش کمار کے ساتھ نہیں آئے تھے، لیکن اتنا طے ہوگیا تھا کہ آر جے ڈی سپریمو منڈل کی سیاست کے اپنے چھوٹے بھائی نتیش کمار کے ساتھ ہی رہیں گے۔ کانگریس بڑی احتیاط کے ساتھ قدم بڑھا رہی تھی۔ اتنا سب ہونے کے باوجود جے ڈی یو کا نتےش مخالف گروپ بی جے پی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور مہا دلت لیڈر جیتن رام مانجھی کے ساتھ متحد ہورہا تھا۔ اس بار پھر گزرتے سال کے آخری ایام میںبہار کی سیاست تنازع میںپھنسی دکھائی دے رہی ہے۔ اگلے پارلیمانی انتخاب میںآل انڈیا سطح پر غیر بھاجپائی سیاست کے اتحاد کی قیادت کون کرے،نتیش کمار یالالوپرساد۔ آر جے ڈی کے لیڈر فطری طور پر اپنے سپریمو کے ساتھ ہوگئے ہیں، تو جے ڈی یو اپنے غیر اعلانیہ سپریمو نتیش کمار کے ساتھ ہے۔ پی ایم میٹریل کے تنازع کا حشر بہار کے عوام دیکھ چکے ہیں۔
بہار میںنئے سال کی شروعات رنگداری کے لےے انجینئروں کے قتل کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اس نے بہار کی عام حالت کو لے کر کئی سوال پیدا کےے ہیں ۔ نتیش کمار کی گڈ گورننس کی شبیہ کو اس معاملے سے اور دیگر واقعات سے بٹہ لگاہے۔لیکن بیہڑی جیسا واقعہ اکیلا ہے کیا؟ ریاست میں گزشتہ دو ڈھائی سال سے لاءاینڈ آرڈر کی حالت لگاتار بگڑتی جارہی ہے۔ رنگداری اور رنگداری کے لےے قتل، اغوا، بینک لوٹ، روڈ لوٹ وغیرہ کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ لیکن پولیس تفتیش کے نام پر وقت کاٹ لیتی ہے۔ ریاست میںگزشتہ کچھ سالوں سے تعمیراتی کام سنگین طورپر متاثر ہورہے ہیں، خواہ اس کے اسباب جو بھی ہوں۔ ایسے میںبیہڑی جیسے واقعے اپنا گہرا اثر چھوڑیں گے۔پولیس انتظامیہ جو بھی کہے، اتنا تو طے ہے کہ ایسے واقعہ کا خدشہ سبھی کو تھا۔ سیاست کو بھی، پولیس کو بھی، تعمیراتی کمپنی کو بھی۔ پھر بھی واقعہ ہوگیا۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ نئے سال کا سب سے بڑا سوال یہی ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کے مجرم ہی نہیں، بیک اسٹیج کی طاقتوں کی پہچان ہوتی ہے یا نہیں اور انھیں کوئی سزا ملتی ہے یا نہیں؟ نئے سال کے ان سوالوں کے جواب پر بہار کا مستقبل منحصر کرتا ہے، اس کی شبیہ بنتی اور بگڑتی ہے۔ نیا سال اس مسئلے پر سرکاری سرگرمی کا سنجیدگی کے ساتھ انتظار کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *