مفتی محمد سعید ایک سچا کشمیری ایک سچا ہندوستانی

p-9bگزشتہ دنوں ہندوستان کے ایک قد آور اور کشمیر کے وزیر اعلی ٰمفتی محمد سعید کی 79 سال کی عمر میں دلی کے ایک اسپتال( ایمس) میں وفات ہو گئی۔ مفتی سعید اپنے سیاسی سفر کے جس مقام تک پہنچے تھے، وہاں پہنچنے کے لئے انہیں کئی اتار چڑھاﺅ سے گزرنا پڑا تھا۔ اس دوران انہیں سیاست کے ہر رنگ میں دیکھا گیا۔ اپنی سیاسی زندگی کی شروعات کے بعد سے وہ ایک لمبے وقت تک کانگریس کے ساتھ رہے۔ پھر سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کی پارٹی’ جن مورچہ‘ اور’ جنتا دل‘ میںشامل ہوئے۔ بعد میں اپنی خود کی پارٹی ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) بنائی اور فی الحال بی جے پی کے ساتھ مل کر ریاست میں گٹھ بندھن سرکار چلا رہے تھے۔
مفتی محمد سعید کی پیدائش کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے قصبے بج بیہرا میں 12جنوری 1936 کو ایک مذہبی خاندان میں ہوئی تھی۔ گورمنٹ ایس پی کالج شری نگر سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون اور تواریخ میں ڈگری حاصل کی تھی۔ اپنی سیاسی زندگی کی شروعات انہوں نے غلام محمد صادق کی پارٹی ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس کے ساتھ کی تھی۔ 1962 میں وہ پہلی بار بج بیہرا اسمبلی سیٹ سے چنے گئے تھے۔ بعد میں صادق کی کابینہ میں ڈپٹی منسٹر بنائے گئے تھے۔ کچھ وقت بعد انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی اور سید میر قاسم کی سرکار میں کابینی وزیر بنائے گئے اور ساتھ میں لیجسلیٹیو کونسل میں کانگریس کے لیڈر بھی بنائے گئے۔ 1977 میں انہیں ریاستی کانگریس کمیٹی کا صدر بنایا گیا لیکن ان کی قیادت میں لڑا گیا انتخاب کانگریس ہار گئی۔یہاں تک کہ مفتی اپنی سیٹ بھی نہیں بچا پائے۔
کئی تجزیہ کار یہ مانتے ہیں کہ کانگریس سے ان کی دوری کے دور کی شروعات یہیں سے ہو گئی تھی۔ حالانکہ راجیو گاندھی نے 1986 میں اپنی کابینہ میں انہیں وزیر سیاحت کا عہدہ دے کر خوش کرنے کی کوشش کی، لیکن راجیو- فاروق سمجھوتے کی وجہ سے انہیں جلد ہی کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر وی پی سنگھ کے ’جن مورچہ‘ کا دامن تھامنا پڑا۔ لیکن کشمیر سے ان کی جلا وطنی جاری رہی۔ 1989 میں کشمیر کے بجائے انہوں نے لوک سبھا کا انتخاب اتر پردیش سے جنتا دل کے ٹکٹ پر لڑا اور انتخاب جیتنے کے بعد وی پی سنگھ کی کابینہ میں وزیر داخلہ بنے، جو اپنے آپ میں بہت بڑی کامیابی تھی۔ وہ ہندوستان کے پہلے مسلم وزیر داخلہ تھے۔
وی پی سنگھ کی سرکار بہت دنوں تک نہیں چل پائی تھی ، اس لئے مفتی کا دور کار بھی بہت چھوٹا تھا۔ جموں وکشمیر میں ان کے سیاسی مخالفین ان پر الزام لگاتے رہے کہ ان کے دور کار میں کشمیری ملی ٹینٹ پر فوجی کارروائی ہوئی۔ خاص طور پر جگموہن کے گورنر مقرر کئے جانے پر انہیں خاص طور سے فاروق عبد اللہ کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی ایشو کو لے کر فاروق عبد اللہ نے وزیر اعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ اسی وجہ سے ریاست کے عوام سے ان کی دوری اور زیادہ بڑھ گئی تھی اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے انہیں ایک دہائی تک انتظار کرنا پڑا۔
ان کے وزیر داخلہ رہنے کے دوران کا ایک اور اہم واقعہ ہے ان کی بیٹی روبیا سعید کا جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے دہشت گردوں کے ذریعہ اغوا ہونا۔ اس وقت روبیا کی رہائی کے عوض پانچ دہشت گردں کو چھوڑا گیا تھا۔ جس کو لے کر آج بھی مفتی محمد سعید کی تنقید کی جاتی ہے۔ بہر حال مفتی محمد سعید نے ایک بار پھر 1996 میں کانگریس کا دامن تھاما،لیکن کشمیر سے ان کی جلا وطنی جاری رہی۔ کشمیر گھاٹی سے ان کی جلا وطنی کے خاتمے کی شروعات 28جولائی 1999 کو نئی پارٹی پی ڈی پی کی تشکیل کے ساتھ ہوئی۔ اس بار انہوں نے کشمیر پر مرتکز اپنی پالیسی اپنائی۔پارٹی کی تشکیل کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کا مقصد کشمیر مسائل کے حل کے لئے سرکار کے ذریعہ کشمیریوں سے بغیر شرط بات چیت کے لئے راضی کرنا ہے۔ ان کی کوششوں کا اثر بھی دکھائی دیا اور ہندو پاک بات چیت کرنے پر راضی ہوئے۔ اس دوران ان کا ایک اور کارنامہ ہے جو بہت ہی اہم ہے۔ انہوں نے بہت سارے علاحدگی پسند طاقتوں کو ملک کے دھارے میں لانے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے نئی پارٹی میں سابق علاحدگی پسندوں ، سابق نوکر شاہوں اور کاروباریوں کو شامل کر کے بڑی کامیابی حاصل کی۔
گزشتہ پندرہ برسوں میں کشمیر کی سیاست میںان کا دوسرا کارنامہ عبد اللہ ( شیخ عبد اللہ، فاروق عبد اللہ اور عمر عبد اللہ) خاندان کی اجارہ داری کو ختم کرنا بھی ہے۔ حالانکہ نیشنل کانفرنس کی غلطیوں کا بھی پی ڈی پی کی مقبولیت بڑھنے میں بہت بڑا اثر تھا۔ ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو نیشنل کانفرنس ریاست کی 87 سیٹوں میں سے 57 سیٹیں جیتی تھی، اسے 2002 میں 28 سیٹوں پر ہی سمٹنا پڑا تھا۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں مفتی دو بار ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے۔ پہلی بار 2002 میں کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن میں اور دوسری بار انہوں نے 2014 میں بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے کا جوکھم اٹھایا۔
بج بیہرا سے اپنی سیاسی زندگی کی شروعات کرنے والے مفتی محمد سعید کا آخری ٹھکانا بھی ان کا آبائی گاﺅں بج بیہرا ہی رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک سچے ہندوستانی مسلمان تھے۔ مفتی کی موت پر اپنا تاثر دیتے ہوئے حریت کانفرنس کے علاحدگی پسند لیڈر عبد الغنی بھٹ کہتے ہیں،’فاروق عبد اللہ منڈیٹری ہندوستانی ہیں۔غلام نبی آزاد اتفاقی طور پر ایک ہندوستانی ہیں لیکن مفتی بالعزم ہندوستانی ہیں۔ان کا دنیا سے رخصت ہونا ہندوستانی سیاست کا بہت بڑا نقصان ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *