مودی کا اچانک پاکستانی دورہ

نریندر مودی نے کہا نمستے نواز شریف بولے سلام اور پھر یوں گلے ملے کہ تمام گِلے جاتے رہے۔ انڈین ایئر فورس کے طیارے میں نریندر مودی لاہور ایئر پورٹ پہنچے۔ وزیر اعظم نواز شریف استقبال کیلئے پہلے سے موجود تھے، جیسے ہی ہندوستانی وزیر اعظم نے پاکستانی سر زمین پر قدم رکھا، وزیر اعظم پاکستان نے کھلے دل سے انہیں خوش آمدید کہا۔ نریندر مودی نے دورہ کیلئے کرتا پاجامہ اور واسکٹ کا انتخاب کیا، جبکہ پاکستانی وزیر اعظم نے بلیو شلوار قمیض اور واسکٹ زیب تن کی۔ دونوں وزرائے اعظم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے رن وے پر موجود ہیلی کاپٹر کی جانب بڑھے۔ نریندر مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں جو پاکستانی ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے۔ لاہور ایئر پورٹ سے اڑنے والا ہیلی کاپٹر وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گا میں اترا جہاں ان کے لئے ضیافت کا انتظام کیا گیا، نریندر مودی نے نواز شریف کو نواسی کی شادی پر مبارک باد بھی دی 

p-8bہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے افغانستان کے دورے کے بعد پاکستان کا مختصر دورہ کیا۔وزیر اعظم کے اس دورے پر الگ الگ طرح کے خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے۔کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ”اچانک دورہ لاہور“کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے عوام اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اندھیرے میں کیوں رکھا۔ وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کی خبر ٹوئٹر سے ملنا ملک کی بد قسمتی ہے،ابھی پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کسی ملک کے دورے سے واپسی پر پاکستان رک جائیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کچھ عرصہ قبل لوک سبھا کے اجلاس میں اس بات کا تذکرہ کیوں نہیں کیا گیا ، ہندوستانی عوام اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اندھیرے میں کیوں رکھا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حوالے سے پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا۔ کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کو ”ایڈ ونچر “قرار دے دیا۔ ان کا کہناہے کہ نریندر مودی کے اس ایڈ ونچر کا نیشنل سیکورٹی پر بہت اثرات پڑیں گے۔
ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے لاہور میں ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ روابط بڑھانے، تعلقات کی بہتری اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ امن کا مقصد ہندو پاک کے عوام کی خوشحالی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے تعلقات کی بہتری کے لیے باہمی کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ وزرائے اعظم کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس کے دوران امن کے قیام اور تعلقات کی بہتری کے لیے اتفاقِ رائے کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان جنوری کے وسط میں ملاقات ہو گی۔پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ہندوستانی وزیراعظم کی دہلی روانگی کے بعد ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دورہ خیرسگالی کادورہ تھا۔
اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے سلامتی کے مشیر بھی موجود تھے جس میں پاکستان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وہ خود بھی موجود تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں وزرائے اعظم نے خیرسگالی کے ماحول میں ملاقات کی۔انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ کابل سے واپسی پر پاکستان آنا چاہتے ہیں اور وزیراعظم نے اسے خوش آئند قرار دیا۔
ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت متحد ہے۔تاہم ان کے مطابق یہ دورہ نہایت مختصر نوٹس پر ہوا جس کے باعث اہم حکومتی شخصیات وزرائے اعظم کی ملاقات میں شریک نہیں ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ وہ چونکہ لاہور میں موجود تھے اس لیے اس ملاقات میں شریک ہو سکے۔ ’اگر تھوڑا زیادہ نوٹس ہوتا تو ہمارے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز صاحب، طارق فاطمی (امورِ خارجہ کے لیے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی)، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ صاحب اور دیگر جن کی ضرورت ہوتی وہ موجود ہوتے۔ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ دورہ باقاعدہ طور پر خیرسگالی کا دورہ تھا۔ اور وہی اس کی ابتدا تھی، ہاں وزیراعظم کو انھوں نے مبارکباد دی۔

مودی کا اچانک پاکستانی دورہ اور کچھ اہم باتیں
٭وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے چند گھنٹوں کے دورے سے پہلے افغانستان پارلیمنٹ سے بھی خطاب کیا۔
٭نریندر مودی نے نواز شریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر لاہور کا دورہ کرکے سب کو حیران کردیا۔
٭کانگریس پارٹی نے اس دورہ کی مخالفت کی۔
٭پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستان کے وزیر اعظم کا لاہور ایئر پورٹ پر بڑی گرمجوشی سے روایتی مشرقی انداز میں استقبال کیا۔
٭نریندر مودی کی لاہور آمد کے بعد انہیں نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ رائے ونڈ لے جایا گیا۔
٭ لاہور ایئر پورٹ پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *