جموں وکشمیر کے پرچم کی تکریم کرنے سے بی جے پی کا انکار

ہارون ریشی
p-2جموں و کشمیر میں بی جے پی نے ریاستی پرچم کی تکریم اور اسے ترنگے کی برابری کے سطح کا ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی اتحادی جماعت پی ڈی پی کو پریشانی سے دوچار کردیا ہے۔ جہاں اب ناقدین بی جے پی کے رویے کی مذمت کررہے ہیں وہیں وہ لگے ہاتھوں پی ڈی پی کو بھی اس بات پرطعنے دے رہے ہیں کہ اسی پارٹی نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی خواہش رکھنے والی بی جے پی کو ریاست میں اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا ہے۔
دراصل جموںو کشمیر ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے مفاد عامہ کی ایک عرضی پر فیصلہ سُناتے ہوئے ہدایات دی ہیں کہ ریاست میں ہر اُس جگہ پر ریاستی پرچم بھی لہرایا جانا چاہیے جہاں ہندوستانی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ اس عدالتی حکم کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ نے گزشتہ دنوں کہا ہے کہ وہ ریاستی پرچم کو ترنگے کے برابر نہیں مانتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں عدالتی احکامات کو یہ کہہ کر ماننے سے انکار کیا کہ ”کوئی بھی پرچم ترنگا کی برابری کی سطح پر نہیں لہرایا جاسکتا ہے۔“ انہوں نے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم ( بی جے پی ) اس معاملے میں قانونی طور پر ہی نمٹیں گے۔“
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی پرچم کا رنگ لال ہے اور اس پر تین لکیریں اور ایک ہل کا نشان ہے۔ دراصل اس پرچم کو مطلق العنان ڈوگرہ حکمرانوں کے دور میں کشمیری عوام کے ساتھ جبر و ذیادتیوں کے پس منظر میں معرض وجود میں لایا گیا ہے۔ 13جوالائی 1931ءکو سری نگر میں ڈوگرہ سپاہیوں کے ہاتھوں 21 معصوم مسلمان مارے گئے تھے۔ ریاستی پرچم میں لال رنگ دراصل ان ہی معصومین کے خون کی نشانی ہے، ہل زراعت کی اور اس پر لگی تین لکیریں ریاست کے تین صوبوں یعنی وادی ، جموں اور لداخ کی علامت کے طور پر رکھی گئی ہیں۔7 جون 1952کو ریاست کی آئین ساز اسمبلی میں ایک قرار داد پاس کرتے ہوئے اس پرچم کو ریاست کا قومی پرچم قرار دیا گیا تھا۔ ریاستی آئین کی دفعہ 144 کے مطابق اس پرچم کو ہر اُس جگہ پر لہرانا لازمی ہے جہاں پر ترنگا لہرایا جائے۔
بی جے پی کی جانب سے ریاستی پرچم کو ترنگے کی برابری کی سطح کا ماننے سے انکار کرنے پر جموں وکشمیر میں مختلف سیاسی حلقوں نے اپنے مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حزب اختلاف نیشنل کانفرنس نے اپنے ردعمل میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی کو بھی یہ کہہ کر لتاڑا ہے کہ اسی پارٹی نے بی جے کو اقتدار کے گلیاروں تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے اس رویے کو ”ریاستی پرچم، ریاستی آئین اور عدالت کی توہین“ قرار دیا۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے بیان میں پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا، ” یہ پی ڈی پی کی دین ہے۔ اسی جماعت نے الیکشن میں بھاجپا کی تن دہی سے مدد کی اور یہاں نرمل سنگھ جیسے کٹر آر ایس ایس رکن کے لئے پلیٹ فارم تیار کیا۔“ نیشنل کانفرنس نے نرمل سنگھ کی جانب سے ریاستی پرچم کی تکریم کرنے سے انکار کرنے پر اُن کے خلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ” نائب وزیر اعلیٰ ،عدالت عالیہ کی توہین کے بھی مرتکب ہوئے ہیں ،اس لئے ان کے خلاف دوہرے کیس چلائے جانے چاہئیں۔“
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں بی جے پی حکومت کا حصہ بننے سے پہلے اس ضمن میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ ماضی میں کبھی بھی کسی جماعت یا سیاستداں نے ریاستی پرچم کی تکریم کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ تاہم گزشتہ سال یکم مارچ کو پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت بننے کے ساتھ ہی بی جے پی کے بعض وزراءاور بی جے پی کے قریبی سمجھے جانے والے بعض اعلیٰ افسران نے اپنے دفاتر میں اور اپنی سرکاری گاڑیوں پر ریاستی پرچم لگانے سے انکار کیا۔ جس پر ایک تنازعہ پیدا ہوا۔ اس وجہ سے پی ڈی پی کے مخالفین نے اسے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا تھا کہ اسی پارٹی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی بی جے پی کو اقتدار کی مسند تک پہنچانے میں ایک رول ادا کیا۔ پی ڈی پی کے سرپرست اور وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے خفت سے بچنے کے لئے قیام حکومت کے صرف دو ہفتوں بعد یعنی 12مارچ 2015 کو ایک سرکولر جاری کرواتے ہوئے تمام وزراءاور افسران کو ریاستی پرچم کی تکریم کرنے کی ہدایات جاری کردیں ،لیکن بی جے پی نے وزیر اعلیٰ پر اس قدر شدید دباﺅ ڈالا کہ انہیں اپنا سرکولر صرف 24گھنٹے کے اندر واپس لینا پڑا۔
اب جبکہ بی جے پی نے ریاستی پرچم کے بارے میں عدلیہ کی تازہ ہدایات کو ماننے سے بھی صاف انکار کردیا ہے ، جس کی وجہ سے اس معاملے کو لیکر ایک بار پھر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ریاستی پرچم کا احترام کرنے اور ایک آئینی ضرورت کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے دراصل ایک بار پھر یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسے ریاست کی خصوصی پوزیشن ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ سرکردہ صحافی اور تجزیہ نگار شاہ عباس نے اس موضوع پر ”چوتھی دُنیا“ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا، ” ظاہر ہے کہ ریاستی پرچم کو ترنگے سے کم تر قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے دراصل اپنے اُس موقف کا اعادہ کیا ہے، جس کے مطابق بی جے پی جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ بی جے پی نے ریاستی پرچم کو ترنگے کے برابر تکریم دینے سے انکار کرتے ہوئے دراصل یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ریاستی آئین اور اس کی ہدایات کو ماننا ہی نہیں چاہتی ہے۔“ تاہم شاہ عباس کا ماننا ہے کہ ریاستی عدلیہ کا فیصلہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی وجہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عدلیہ بھی یہ مانتی ہے کہ آئین کی رو سے جموں وکشمیر ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے مختلف ہے۔
بہر حال فی الوقت مخلوط سرکار کی قیادت کرنے والی پی ڈی پی، اس کے سرپرست اور وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعت کو ریاستی پرچم کی تکریم کرنے کا آئینی تقاضا کیسے پورا کرائے گی۔ کیونکہ اگر بی جے پی اس معاملے میں اپنی ضد پر قائم رہی ،تو پی ڈی پی کو اس معاملے میں مسلسل اپنے ناقدین کے طعنوں کا نشانہ بننا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *