میں ایک مفتی ہوں اور میں دہشت گرد نہیں ہوں

p-7bلیکن چونکہ رات کے ساڑھے آٹھ ، پونے نو بج رہے تھے۔ لوگ دوپہر سے باہر بھوکے پیاسے تھکے ماندے امید لگائے بیٹھے تھے اور جیل عملہ کو بھی اس آخری بات پر اس لےے اصرار تھا کہ اب وہ تذبذب کا شکار تھے اور گرفت سے بچنے کے لےے یہ ضمانت چاہتے تھے۔لہٰذا ہم نے آپسی مشورہ کے بعد وکیل کو کاغذات پر یہ بات لکھ دینے کے لےے کہا، جس پر ہمارے وکیل جناب جاوید خان پٹھان نے لکھا کہ آج تاریخ 17-5-2014 کو اکشر دھام مقدمہ میں سپریم کورٹ کا ججمنٹ اور دیگر تمام قانونی کارروائی مکمل کر کے شام 5:30 بجے سے اپنے مو¿کل کی رہائی کے منتظر ہیں۔ ہم نے سپریم کورٹ اور ذیلی عدالتوں کے سارے کاغذات جمع کردےے ہیں۔ ابھی رات کے 8:45 بج رہے ہیں، لیکن اب تک ہمارے مو¿کلوں کو رہا نہیں کیا گیا ہے اور ان حضرات پر دوسرا مقدمہ نہ ہونے کی ہم سے ضمانت طلب کی جارہی ہے۔ ابھی اتنا لکھا تھا کہ بھگورا صاحب پھر گھبراگئے کہ بھائی آپ مجھے پھنساو¿گے۔ یہ سب باتیں کیوں لکھ رہے ہو؟ آپ صرف اتنا لکھو کہ میری معلومات کے مطابق ان پر کوئی دوسرا مقدمہ نہیں ہے۔ بہر حال ہمارے وکیل سے کچھ سطریں کینسل کروائیں اور بادل ناخواستہ ہمیں جانے کے لےے کہا۔ جیسے ہی ہم سپرنٹنڈنٹ کی آفس سے باہر نکل کر آخری خانہ پوری کے لےے جیل کے صدر دروازہ کے کاو¿نٹر پر گئے۔ عوام کا ہجوم دروازہ سے قریب دوڑا چلا آیا۔ رجسٹر میں ہمارے نام پکارے گئے اور جیل سے رہائی کی ایک پرچی ہمیں دے کرجانے کے لےے کہا اور 17/5/2014 برابر پونے گیارہ سال کے بعد اللہ رب العزت نے الحمد للہ سنت یوسفی ؑ پر عمل کراتے ہوئے جیل کی تاریک دنیا سے نجات عطا فرمائی۔ رات پونے نو بجے میںنے اور میرے ساتھیوں نے صدر دروازہ کی کھڑکی جس سے داخل ہوئے تھے، آج باری باری باہر قدم رکھا۔ جیل سے باہر میرے قیدکے ساتھی حاجی فاروق نے پھولوں کی سیج بچھا کر غالیچہ کی شکل دی تھی، تاکہ ہم اس پر چل کر گاڑی تک جائیں، لیکن جیسے ہی ہم نے جیل سے باہر قدم رکھا، پُر ہجوم عوام نے غالیچہ کو روند کر رکھ دیا۔
بھائی سلمان، نوربیگ، اختر بھائی، مولانا یحییٰ، میرے بچے اور دیگر حاضرین سے مصافحہ و معانقہ ہوا۔ اللہ اکبر کی صدائیں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کررہی تھیں۔میڈیا موجود تھا، ہمارا تعارف و انٹرویو ہوا۔ لیکن شاید یہ ان حضرات کی مجبوری تھی کہ ساری ہی باتوںکو سینسر کردیا گیا۔
بہرحال جیل سے نکل کر سب سے پہلے میں اپنے والد کی آخری آرام گاہ ”موسیٰ سہاگ قبرستان“ گیا۔ میری والد کی قبر پر کھڑے ہوتے ہی ا ن کی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں او رآنکھوںسے آنسوو¿ںکا سیلاب جاری ہوگیا۔ ایصال ثواب اور مغفرت کی دعاکے بعد میں دریا پور، لیمڑی چوک، شیخ جی کی مسجد میں گیا۔ وہاںعوام نے جو والہانہ استقبال کیا، وہ لفظوں میںبیان نہیں کیا جاسکتا۔ مسجد سے میں اپنے محسن سلمان اور نور بیگ کے گھر پہنچا۔ ان حضرات کے مجھ پر جو احسانات تھے، اس کی ادنیٰ قدردانی او راحسان شناسی کا یہ تقاضہ تھا۔
وہاں سے میںاپنے پیارے محلے دریا پور، چارواٹ گیا۔ یہاںپر بھی عوام نے بے انتہا خوشیوں کا اظہار کیا اور ”اللہ اکبر“ کے فلک شگاف نعرے لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ میری وہ مسجد جہاںسے گیارہ سال قبل مجھے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میںکرائم برانچ کے افسران اغوا کرکے لے گئے تھے اور مسجد کے مصلی بڑی حسرت و بیچارگی سے تکتے رہ گئے تھے۔ آج میری آمد و استقبال کا انتظار کر رہے تھے۔
چنانچہ میںحاجی سخی مسجد گیا، کچھ کلمات کہے اور دعا کی۔ وہاں سے میں اپنے گھر کے لےے روانہ ہوا۔
صحرا میں پانی اور منزل کی تلاش میں بھٹکنے والا مسافر بڑی محنت و مشقت کے بعد جب واقعی پانی اور منزل کے پاس پہنچ جاتا ہے، تو اب تک کے تجربات کی بنیاد پر وہ واقعی پانی اور منزل کو بھی سراب کا دھوکہ سمجھتا ہے اور عین منزل کے قریب پہنچ کر اس کے پیر جواب دے جاتے ہیں۔
11 سال سے منزل کی تلاش میں بھٹکنے اور امید وبیم کے مراحل سے گزرنے کے بعد اور بارہا رہائی کے خواب دیکھنے اور بیداری پر اپنے آپ کو ان ہی سلاخوں کے پیچھے پایا تھا۔ اس لےے آج واقعی منزل بھی خواب اور سراب کا دھوکا معلوم ہورہی تھی۔ پیروں میںچلنے کی طاقت نہیںتھی۔لوگوں کے کندھے کے سہارے پُرہجوم عوام کے سیلاب پر تیر رہا تھا، اپنے ارادہ سے ایک قدم آگے پیچھے نہیں ہوسکتا تھا۔ عوام کا ہجوم مجھے بہاتے لے جارہا تھا، پیر اور زمین دیکھنے کا تو سوال ہی نہیںہوتاتھا۔
ایام اسیری میںایک خواب دیکھاتھا کہ میں قید خانہ سے باہر ہوں او رعوا م کا اتنا ہجوم ہے کہ نیچے زمین اور پیر نظر نہیںآرہے ہیں۔ میرے پیروں میں چلنے کی طاقت نہیں ہے اور میں بےساخی جیسے لمبے لکڑے سے ٹیک لگائے لوگوںکے کندھوںکے سہارے عوام کے سیلاب پر بہہ رہا ہوں۔ آج الحمد للہ اپنے خواب کی تعبیر اپنی آنکھوںسے پوری ہوتے دیکھ رہا تھا۔
اس کے بعد میںآدم شاہ کی مسجد گیا۔ وہاںدعا کی اور پھر اپنے گھر کی راہ لی۔
گھر واپسی
یہ چونکہ آخری منزل تھی، اس لےے عوام و خواص کا جوش بھی عروج پر تھا۔ فلک شگاف نعروں سے گلی کے درودیوار ہل رہے تھے، دھکوں کے سہارے میں اپنے گھر تک پہنچا۔ لمبے انتظار اور تمناو¿ں کے بعد آج میرا گھر میرے سامنے تھا۔ آپ شاید یقین نہ کریں، میں پہلی بار ہی اپنا گھر دیکھ رہا تھا، چونکہ میری گرفتاری کے بعد یہ گھر تعمیر ہوا تھا اور میرے والدین میری گرفتاری کے بعد یہاںمنتقل ہوئے تھے۔ میں اپنے گھر کی تعمیر و کیفیت سے بھی ناواقف تھا۔ گھر اور برآمدہ بچوں، مردوں اور رشتہ دار خواتین سے بھر چکا تھا۔ جذبات کی شدت سے لوگ رورہے تھے اور مجھے بھی رلا رہے تھے۔ میںجیل سے 8:45 کو نکلا تھا، تین گھنٹے بعد تقریباً رات میں 12:00 بجے اپنے گھر پہنچا۔ الحمد للہ گھر میں داخل ہوتے ہی دل سے ایک ٹھنڈی سانس اور گیارہ سال سے غائب ہونٹوںپر مسکراہٹ آگئی۔میری ماں، بیوی، بچے، بہنیں اور سارے رشتہ داروں نے گھیر لیا او رخاندان کی بوڑھی عورتیں بلائیں لے کر اپنی خوشی اور جذبات کا اظہار کررہی تھیں اور روشن محفوظ مستقبل کی دعائیںدے رہی تھیں۔
آہستہ آہستہ لوگ روانہ ہونے شروع ہوئے او رایک طویل عرصے کے بعد رات میںتقریباً 1:00 بجے کے بعد اپنے گھر والوںکے ساتھ کھانا کھایا او راس طرح الحمد للہ ایک لمبی آزمائش ختم ہوئی۔ برسوںسے آنکھوں میںسجایا خواب آج اللہ کے فضل سے پورا ہوگیا، خوف و ہراس اور یاس و ناامیدی کی تاریکیاںچھٹ گئیں۔
اللہ تعالیٰ میری رہائی کوامت کے لےے خیر کا ذریعہ بنادیں اور دنیا و آخرت کے تمام شر، فتن سے میری او رامت کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)
(ختم شد)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *