ہندوستانی کمیونزم کو خراج تحسین

میگھناد دیسائی 
ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) لیڈر اے بھی بردھن کے انتقال نے ہمیں جتادیا ہے کہ آج بائیں بازو کی اہمیت کتنی کم ہوگئی ہے۔ ہندوستانی سیاست میں کمیونسٹ سب سے ایماندار اور خوش مزاج لوگ ہوتے ہیں، لیکن وہ سب سے زیادہ لا تعلق بھی ہیں۔ بہت کم لوگ ہوں گے، جنھیں کمیونزم کے لاتعلق ہونے سے انکار ہوگا۔ہندوستان میں پچاس سے ستّر کی دہائی تک کمیونسٹ انقلاب پر سنگین بحث ہوتی رہی تھی یعنی ہندوستان کا مستقبل لال تھا۔ لیکن، اب نہ تو کوئی کمیونسٹوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور نہ کمیونزم کو۔ سوویت یونین بغیر کسی خون خرابہ کے بکھر گیا۔ لینن واد ایک کنفیوژن ثابت ہوا ہے، جوبیسویں صدی میں اپنا وجود نہیں بچا سکا۔ اس کے باوجود عام رائے یہ تھی کہ کمیونسٹ ایک نظم و ضبط والی پارٹی ہے ا ور اس کے ارکان پارٹی کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انقلاب کی شروعات ہوجائے گی اور نہرو کو چیانگ کائی شیک کی طرح جلاوطن کردیا جائے گا۔تو پھر کمیونزم اتنی بری طرح سے کیوں ناکام ہوگیا؟ مارکس کی سرمایہ دارانہ نظام کے تئیں کشش تھی او ر وہ سرمایہ دارانہ کی وسیع پروڈکٹو کیپسٹی کا پرستار تھا۔ اینجلے کے ساتھ مل کر مارکس نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں گلوبلائزیشن کے آنے کا اعلان کردیا تھا۔ اس نے اپنے مثالی سوشلزم کے لیے کیپٹلزم کی میچورٹی کے بعد کا وقت منتخب کیا تھا۔ لیکن، لینن نے اس دلیل کو بدل دیا۔ وہ پہلی عالمی جنگ کے دوران مزدور طبقہ کے انٹر نیشنلزم کے تحلیل ہونے سے حیران تھا۔ اس نے مستقبل تاریک دیکھا۔ اس کا ماننا تھاکہ بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام خود تباہ ہوجائے گا۔روس میں قسمت کے بھروسہ ہوئی اس کی جیت کے سبب بیسویں صدی کو مارکسواد کے لیے مثالی دور مان لیا گیا۔
جس دور میں کمیونزم کا قسمت ساتھ دے رہی تھی، اسی دور میں سرمایہ دارانہ نظام کو عالمی کساد بازاری پرداشت کرنا پڑی۔ ایسالگنے لگا کہ انقلاب بس اب آنے ہی والا ہے۔ لینن نے سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ سامراجیت کو بھی جوڑ دیا تھا،جس کی وجہ سے سامراجی کالونیوں میں کمیونزم کے تئیں دلچسپی بڑھنے لگی۔ حالانکہ اسٹالن نے لاکھوں لوگوں کو قیدی کیمپوں میں بھیجا تھا، لیکن اس کے باوجود سوویتیونین دنیا کے لیے ایک مضبوط امید کی طرح قائم رہا۔ عالمی جنگ میں کامیابی اور مشرقی یوروپی ملکوں پر اس کے قبضہ نے سوویت یونین کی شبیہ کو مضبوطی دی تھی۔ چین کا اپنا انقلاب تھا، جو لینن کے اس نظریہ کو ثابت کرتا تھا کہ کمیونسٹ انقلاب پسماندہ ملکوں سے شروع ہوگا، نہ کہ ترقی یافتہ ملکوں سے ، جیسا کہ مارکس نے سوچا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہندوستان اگلا ملک تھا، جہاں انقلاب کی فصل کٹنے کے لیے تیار تھی۔ سی پی آئی نے عالمی جنگ کے دوران انگریزی حکومت کا ساتھ دے کر اپنی تاریخ داغدار کر لی۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ جنگ سوویت یونین کی حفاظت کے لیے تھی۔ اس نے آزادی کو ایک بھرم بتایااور وقت سے پہلے ہی تلنگانہ انقلاب شروع کردیا۔اسٹالن کی سوچ یہ تھی کہ ہندوستان انقلاب کے لیے ابھی تیار نہیں ہے۔اس لیے کمیونسٹ جمہوریت کا کھیل کھیلنے اور بغاوت کے لیے حکم کا انتظار کرنے لگے۔
لیکن افسوس، وہ ہندوستانی سماج اور ذات پات کے نظام کی خا موشی کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکے۔ انھوں نے بڑی بڑی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور طبقہ کا رومانائزیشن کرنا شروع کیا۔ پرائیویٹ سیکٹر کو شک کی نظر سے دیکھنے کے سبب اقتصادی ترقی رک گئی تھی۔ہندوستان میں صنعت کاری نہیں ہوئی اور مزدور طبقہ چھوٹا ہی رہا۔پھر اندرا گاندھی نے کمیونسٹوں کو تحفظ دے کر بڑی چالاکی سے اپنے حق میں کرلیا۔ لہٰذا کمیونسٹوں نے ہندوستانی سیاسی نظام کی تنقید کو طاق پر رکھ دیا اور سامراجیت پر نشانہ سادھنے لگے۔ لیکن ان کے لیے افسوس کی بات یہ تھی کہ سرمایہ دارانہ نظام لینن کی سوچ کے برعکس کافی سخت جان نکلا اور یہ پھر سے ترقی کرگیا، جبکہ اقتصادی تسلط کی جنگ میں لینن ازم ہار گیا۔ نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ نے سوشلزم کا ناکام ماڈل ہٹاکر ایکونامک لبرلائزیشن کی پالیسی اپنائی، جس کی وجہ سے معیشت میں اضافہ شروع ہوا۔ پھر کمیونسٹوں نے جوہری مدعے پر منموہن سنگھ کو چلینج کردیا،جس کے بعد کانگریس نے ان سے اپنی دوستی ختم کرلی۔ اس کے بعد ہندوستان میں کمیونزم ایک سیکنڈری موضوع بن گیا۔ ہندوستانی کمیونزم کو ہماری خراج تحسین ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *