ہندوستان اور روس کا مضبوط دوستی کی طرف بڑھتا قدم

نیشنل یا انٹرنیشنل اسٹیج پر چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، روس نے ہمیشہ ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے ہندوستان کے کچھ فیصلوں نے روس کو بہت ناراض کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں مودی روس کا دورہ کرکے دوستی اور اسٹریٹجک رشتوں کو ایک نئے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئے۔ لیکن ان کی یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوگی ۔یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

راجیو رنجن
p-8وزیر اعظم نریندر مودی گزشتہ دنوں روس کے دورہ پر تھے۔ یہ موقع تھا ”16ویں ہند-روس کانفرنس“ کا۔ ہند-روس سالانہ کانفرنس باری باری سے ہندوستان اور روس میں ہوتی رہی ہے۔ اس میٹنگ کے دوران روس اور ہندوستان کے لیڈر اور آفیسر اہم ایشوز پر بات چیت کرتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد مودی اس کانفرنس میں پہلی بار شامل ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس طرح کی کانفرنس ہندوستان اور روس کے درمیان ہوتی رہتی ہے، لیکن ا س کانفرنس کے مضمرات کو سمجھنے سے پہلے ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا ہندوستان اور روس کے رشتے پہلے کی طرح مضبوط ہیں یا نہیں؟۔ گزشتہ سال روس کے وزیر دفاع نے پاکستان کے ساتھ دفاعی سمجھوتے پر دستخط کر کے ہندوستان کی وزارت خارجہ کو حیران کر دیا تھا۔ جب روس نے پاکستان کو 20حملہ آور ہیلی کاپٹر بیچا تھا تو سفارتی حلقوں میں یہ بات اٹھنے لگی تھی کہ ایسا کر کے روس نے چالیس برسوں کی روایت کو توڑ کر ہندوستان کو نظر انداز کیا ہے اور لگتا ہے کہ ہندوستان اور روس کے رشتے اب پہلے جیسے نہیں ہو پائیں گے۔لیکن عالمی رشتوں میں کوئی ہمیشہ کے لئے نہ تو دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن ۔ کم سے کم مودی سرکار کے روس دورے کے دوران ہوئے سمجھوتوں میں یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ صرف یہ سمجھوتے مستقبل میں دونوں ملکوں کے رشتوں کی بنیاد طے نہیں کر سکتے۔ کیونکہ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان کو ہتھیاروں کی سیدھی سپلائی کرنے اور ہندوستان میں ہی ہندوستان کے ساتھ مل کر مختلف طریقے سے ہتھیاروں کو بنانے والا روس آج بھی ہندوستان کا ایک اہم دوست ملک ہے۔ ہندوستان کی فوج آج 80فیصد تک روسی آلات اور روسی ہتھیاروں سے لیس ہے، جبکہ ہندوستان کی ایئر فورس میں بھی 70فیصد ہتھیار اور آلات روس میں تیار ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ ہندوستان اتنی بڑی سطح پر باہمی تعاون نہیں کرتا ہے۔
مودی کے دورے کے دوران بھی کئی دیگر دفاعی اور ایٹمی سمجھوتوں سمیت کل 16 سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔ اس میں” میک ان انڈیا مشن “کے تحت کامو 226 ہیلی کاپٹر بنانا بھی شامل ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ” میک ان انڈیا “کے تحت ہندوستان کو ملا پہلا ڈیفنس پروجیکٹ ہے۔ ریلائنس ڈیفنس اور ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم ڈیولپ کرنے والی روسی کمپنی’ الماج آٹے‘ نے ہندوستان کے لئے ایئر سیکورٹی میزائل اور راڈار سسٹم کی مکمل رینج پر مل کر کام کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔’ الماج انٹے‘ نے ایس 400 ٹرمف ڈومیننگ ڈیفنس سسٹم تیار کیا ہے۔ جسے ہندوستان تقریبا ً 40,000 کروڑ روپے میں خریدے گا۔ اس سے پہلے 18دسمبر کو ہندوستان روس سے ایس 400 ٹرمف ایئر کرافٹ ویپن سسٹم کو خریدنے کو منظوری دی تھی۔ ایس 400وہی کیئر کرافٹ ویپن سسٹم ہے جسے روس نے شام میں تب تعینات کیا تھا ،جب ترکی نے گزشتہ دنوں ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرایا تھا ۔ایس 400 سسٹم کو پہلے ایس 300 پی ایم یو -3 کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسے 1990 میں روس کی الماج سینٹرل بیورو نے تیار کیا تھا۔ اس سسٹم کا سرکاری طور پر اعلان جنوری 1999 میں روسی ایئر فورس نے کیاتھا۔ 12فروری 1999 کو اس کا پہلا تجربہ کمپوسٹن میں کیا گیا تھا۔ جو کامیاب رہا ۔ اس کے بہتر نتیجے کی وجہ سے ایس 400 کو 2001 میں روسی فوج میں شامل کیا گیا تھا اور تب سے اب تک یہ روسی فوج میں شامل ہے۔ ایس 400 اپنی پوری صلاحیت کو کوور کرنے کے لئے الگ الگ میزائیلوں کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی کمپنی کی مدد سے ملک میں 12 نیوکلیئر پلانٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادمیر پوتین نے دفاع، ایٹمی تعاون کے ساتھ ہی روس کے تیل اور گیس کے میدان میں ہندوستانی کمپنیوں کی حصہ داری بڑھانے پر رضامندی دی ہے۔ دونوں کمپنیوں نے ہندوستانی سیکورٹی فوج میں پہلے سے شامل ’ الماج انٹے سسٹم‘ کی جدید کاری ، مرمت اور پوری طرح چست و درست بنانے پر باقاعدہ طور سے کام کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ روس بھی سیکورٹی سیکٹر کے کئی جوائنٹ وینچر کے لئے تکنیکی ٹرانسفر کرنے کو تیار ہو گیا ہے۔’ میک ان انڈیا‘ کے تحت ہندوستان اور روس کے بیچ ہندوستان میں دو جگہوں پر 12سویلین نیوکلیئر پلانٹ قائم کرنے کو منظوری مل گئی ہے۔ اس میں سے ایک سائٹ آندھرا پردیش میں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ وہیں تمل ناڈو میں کچھ ہی ہفتوں کے اندر کوڈنکولم ایٹمی توانائی پلانٹ کی ایک سائٹ پر دوسرے مرحلے کے پلانٹ قائم کئے جائیں گے۔ تیسرے اور چوتھے مرحلے کے ایٹمی ری ایکٹر قائم کرنے پر سمجھوتہ کی بات چیت جاری ہے۔ بارہویں میزائیل کی تعمیر میں بھی ہندوستان کے ساتھ روس تعاون کرے گا۔
پوتن نے عالمی سیکورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل ممبرشپ کی حمایت بھی کی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ روس کے ساتھ ہندوستان کا رشتہ صرف ہائیڈرو کاربن تک محدود نہ رہے بلکہ وہ ہندوستان کی گروتھ اسٹوری کا اہم حصہ بنے
مودی نے ایک بار پھر دہشت گردی کا ایشو اٹھاتے ہوئے پوری دنیا کو اس کے خلاف ایک ہوکر لڑنے کی بات بھی دوہرائی۔ مودی نے کہا کہ دہشت گرد گروپ اور ٹارگیٹ کنٹریز میں بغیر کوئی تفریق کئے دنیا کو متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا۔ مودی کے اس بیان کو اشاروں میں امریکہ کے خلاف اسٹینڈ لینے اور شام میں روس کی فوجی کاررروائی کی حمایت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دراصل امریکہ لگاتار روس پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ اسد سرکار کے حق میں داعش دہشت گردوں کے بجائے مخالفین کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ وہیں امریکہ پر الزام ہے کہ وہ اس کے خلاف لڑنے والے مخالفین کو ہتھیار ،پیسہ اور ٹریننگ دے کر مدد کرتا ہے۔ ہندوستان اور روس کے بیچ دو طرقہ سالانہ کاروبار فی الحال دس ارب ڈالر کا ہوتاہے۔ جسے اگلے دس سالوں میں بڑھا کر30 ارب ڈالر کرنے کا ہدف ہے۔ روس ہندوستان کے ساتھ دو طرفی کاروبار بڑھانے کے لئے پُر جوش ہے۔ یوکرین مسئلہ اور کساد بازاری کے بعد سے پوتن اس سمت میں خاص طور پر کوشش کرتے رہے ہیں۔
کل ملا کر دیکھا جائے تو ہندوستان کو چاہئے کہ وہ روس سے مضبوط رشتہ بنائے رکھے،کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں میں ہندوستان و روس رشتہ پہلے کی طرح نہیں رہے۔اگر ہندوستان روس سمیت امریکہ اور مغربی ملکوں کا بھی قریبی بن کر رہنا چاہے گا تو حقیقت میں وہ کسی کے ساتھ اپنے رشتوں کو نہیں نبھا سکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *