کول فیلڈ میں دھماکوں کا قہر

شلیندر کمار چوہان
p-10bکول انڈیا یونٹ میں کانکنی کے کام میں بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادے کا استعمال ہوتا ہے۔ بارود سے ہیوی بلاسٹ کرنے کے بعد کوئلہ نکالا جاتا ہے جس کی بدولت کول انڈیا آج مینی رتن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ہیوی بلاسٹنگ کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو نقصان ہوتا ہے اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔ حالانکہ اس نقصان کے معاوضہ کے لئے کوئی تیار نہیں۔ کول فیلڈ میں رہ رہے لوگ ہیوی بلاسٹنگ کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ پروجیکٹ کے آس پاس جب بلاسٹنگ کی جاتی ہے تو لوگ گھر چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ دھماکہ کی وجہ سے گھر کی دیواروں میںشگاف پڑ جاتی ہے۔ کئی گھر تو منہدم ہو چکے ہیں۔ دھماکہ سے پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑے گھروں پر آکر گرتے ہیں۔ ان کے مسائل کو سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ بی سی سی ایل اور ڈی جی ایم ایس کے اعلیٰ آفیسر اس پر کوئی دھیان نہیں دیتے ۔مائننگ ایکٹ کی کھلے عام خلاف ورزی بی سی سی ایل کے ماتحت کام کر رہی آﺅٹ سورسنگ کمپنیاں کررہی ہیں۔ڈائریکٹوریٹ آف مائننگ سیفٹی کے ذریعہ مقررہ معیار کی خلاف ورزی کر کے بلاسٹنگ کی جاتی ہے۔ اب تک سینکڑوں لوگ بلاسٹنگ میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ 12اکتوبر 2015 کو بی سی سی ایل ، لودنا سیکٹر نمبر 10 کے جینا گورا ساﺅتھ کے تیسرے پروجیکٹ میں ہیوی بلاسٹنگ کی گئی جس میں شیو مندر گھوڑا کی رہنے والی جگ متی دیوی ، منوج ٹھاکر سمیت کئی لوگوں کے گھروں میںشگاف آگئی ۔ کیونکہ بلاسٹنگ کی وجہ سے ایک بھاری پتھر ان کے گھر کے اوپر گر گیا تھا۔ 11دسمبر 2015 کو بی سی سی ایل کے نارتھ پروجیکٹ میں دوپہر میں ہیوی بلاسٹنگ کی گئی جس میں ڈی بی روڈ کی رہنے والی میرا دیوی سنگین طور سے زخمی ہو گئی۔ گاﺅں کے ناراض لوگوں نے زخمی کے ساتھ متعلقہ انتظامیہ کے دفتر کے سامنے جم کر احتجاج کیا اور گھنٹوں کام بھی بند کرا دیا۔ گاﺅں والوں نے الزام لگایا کہ کبھی بھی انتظامیہ بلاسٹنگ کرنے سے پہلے سائرن کا استعمال نہیں کرتا ہے۔ 9ستمبر 2015 کو سیندرا باس جوڑ کانکنی پروجیکٹ میں ہیوی بلاسٹنگ کے خلاف کانکنی کے دفتر میں جنتا دل یو کے بینر تلے زبردست ہنگامہ کیا گیا ۔ حد تو تب ہو گئی جب بی سی سی ایل گووند پور سیکٹر 3 کے مہیش پور کے دفتر میں چل رہے امبے مائننگ آﺅٹ سورسنگ کمپنی نے قانون کو طاق پر رکھ کر ہیوی بلاسٹنگ کیا ۔ جس کی وجہ سے آس پاس کے درجنوں لوگ زخمی ہو گئے۔ گاﺅں والوں نے پروجیکٹ کا کام کاج بند کرا کر اس کی شکایت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائننگ سیفٹی دھنباد سے کی۔ 8جولائی کو ڈی جی ایم ایس کے مائننگ ڈائریکٹر سی آر کمار اور ڈپٹی ڈائریکٹر راکیش مشرا نے معاملے کی جانچ کی جس میں کمپنی میں کام کر رہے مائننگ چیف اور اُوَر مین کو نہیں پایا گیا جبکہ بلاسٹنگ کے دوران دونوں کو رہنا لازمی ہوتا ہے۔ کمپنی میں کام کررہے ملازموں کو ووکیشنل ٹریننگ بھی نہیں دی گئی تھی۔ کام کی جگہ کے قریب رہ رہے درجنوں لوگوں کے گھروں کو دیکھ کر ڈی جی ایم ایس کے افسروں نے انتظامیہ کی کمی بتاتے ہوئے اگلے حکم تک کام بند کرنے کا حکم دیا۔ 24ستمبر کو تیتل ماری کے او سی پی پروجیکٹ میں ہیوی بلاسٹنگ کی وجہ سے درجنوں گھروں میں دراڑیں آ گئی تھی۔ کئی لوگ زخمی ہوئے۔ مشتعل گاﺅں والوں نے چندور گرامن سنگھرش سمیتی کے بینر تلے پروجیکٹ کو ٹھپ کر کے احتجاج شروع کردیا۔ بعد میں ضلع انتظامیہ اور گاﺅں کے بیچ بات چیت ہوئی جس میں طے کیا گیا کہ گاﺅں والوں کی طرف سے 5 ممبر اور انتظامیہ کی طر سے 3 لوگوں کو رکھ کر کمیٹی بنائی جائے گی۔یہ کمیٹی بلاسٹنگ کی دیکھ ریکھ کرے گی۔ بی سی سی ایل کے مونی ڈیہہ میں چل رہے آﺅٹ سورسنگ کمپنی ایندو پروجیکٹ کے ذریعہ انکلائن میں ہیوی بلاسٹنگ کیا گیا۔ جس کی شکایت لوگوں نے دھنباد بی جے پی ایم ایل اے راج سنہا سے کی۔ اس وقت کے ایم ایل اے نے پروجیکٹ کے اعلیٰ آفیسر جے ایس مہا پاترا اور منیجر روی کرشنن اور مونی ڈیہہ کے گاﺅں والوں کے بیچ بات کرائی۔ بات چیت کے دوران لوگوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ 11.30 بجے سے شام 4بجے تک بلاسٹنگ کا کام کرتا ہے جو قانون کے خلاف ہے۔ یہاں 180کوارٹر ہے جس میں ہزاروں لوگ رہتے ہیں۔ ایم ایل اے نے منیجر کو کہا کہ ان لوگوں کو دوسری جگہ شفٹ کریں لیکن آج تک یہ نہیں ہو سکا۔ ستمبر 2015 میں ہی بی سی سی ایل بستاکولا سیکٹر نمبر 9 کے دھنوڈیہہ پروجیکٹ میں ہیوی بلاسٹنگ ہونے میں رامانند سنگھ کا گھر تو دھرام سے گر گیا ،سنتوش، پنک کے گھر میں بھی کئی شگافیں آئیں۔ اس کی بھی شکایت جھریا ایم ایل اے سمیت جنتا مزدور سنگھ کے مہا منتری سنجیو سنگھ سے کی گئی۔ ایم ایل اے نے منیجر سے بات کی۔ آئی ایس ایم کے پروفیسر اے کے مشرا کے بیان پر کہ ’ بلاسٹنگ سے کیندوا ڈیہہ میں موجود مکان ہلے گا مگر گرے گا نہیں ‘ ، گاﺅں والے مشتعل ہو گئے۔ حالانکہ بی سی سی ایل کے ذریعہ سیکورٹی ایکٹ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دھنباد کے ممبر پارلیمنٹ پی این سنگھ ، ایم ایل اے راج سنہا ، ایم ایل اے سنجیو سنگھ، نیرسا کے ایم ایل اے ارون چٹرجی، بہار کویلری کامگار یونین کے نیشنل مہا منتری ایس کے بکسی ،انٹک کے سینئر لیڈر اے کے جھار، راجو جھا،راکیش پاسوان نے صاف لفظوں میں کہا کہ کوئلہ کی کانکنی میں ہورہی ہیوی بلاسٹنگ میں مائننگ ایکٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی ہے۔قانون کے تحت بلاسٹنگ کی جائے تاکہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ ہو سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *