ڈاکٹر سے اپنی د وا کے بارے میں ضرور جاننا چاہئے

آشوتوش کمار سنگھ 

p-10کسی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا انسانی فطرت ہے۔ انسان عموماًاپنے آس پاس ہونے والی ہلچل کے اسباب جاننا چاہتا ہے۔ انسان کی اس جاننے کی فطرت کے سبب ہی عالمی سطح پر انفارمیشن سسٹم کا جال بُنا چکا ہے۔ لیکن وہیں دوسری طرف ہم کیا جانے اور کیا نہ جانے کے بیچ کے فرق کا پتہ بھی اکثر نہیں کرپاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موضوع ہے دوا اور اس کے بارے میں مناسب معلومات کا۔ پوری کی پوری دوا صنعت ہی ایک حیرت انگیز نیٹ ورک کی طرح دکھائی دیتی ہے، جس کی مکمل جانکاری تو چھوڑےے، آدھی ادھوری جانکاری بھی بازار میں فراہم نہیں ہے۔ اگر ہم ہندوستان کی بات کریں، تو یہاں ہر تیسرا شخص کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہے۔ نتیجتاً اسے دوائیوں کے چنگل میں پھنسنا پڑتا ہے۔ ایسے میں سب سے ضروری بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کی سائنس کو سمجھیں، تاکہ بیماری کے آنے سے پہلے ہی اسے روکنے کی کوشش کرسکیں۔ اگر بیماری آبھی جائے، تو اسے ابتدائی سطح پر تشخیص کر پائیں۔ اگر یہاں بھی ہم چوک گئے، تو ہم کم سے کم نظم و ضبط کے ساتھ دوائیوںکا استعمال کریں۔ ان ہی باتوںکو عام لوگوں کے درمیان پھیلانے کا دوسرا نام ہے’نو یور میڈیسن کیمپین‘۔

اس کیمپین کے ذریعہ دوا کے قواعد کو لوگوں کے درمیان لے جانے کی کوشش سوستھ بھارت ابھیان کر رہا ہے۔ جس طرح سے زندگی کے قواعد ہوتے ہیں، اسی طرح دوا کے بھی قواعد ہوتے ہےں۔ اس قاعدہ کو صحیح طریقہ سے یا تو ڈاکٹر سمجھا سکتا ہے یا فارماسسٹ۔

ہندوستان جیسے غریب ملک میں دواو¿ں کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ عام آدمی اپنی دواو¿ں کے بارے میں بنیادی معلومات رکھے، تاکہ وہ ڈاکٹر دوا، دوکاندار، دوا کمپنیوں کی لوٹ سے بچ سکے۔ یہاںغور کرنے والی بات یہ ہے کہ ملک میں آج بھی اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے، لیکن جب کھوٹا سکّہ بازار میں چل جاتا ہے، تو وہ فطری طور پر کھرے سکہ کو چلن سے باہر کردیتا ہے۔ ایسے میں ’سوستھ بھارت ٹرسٹ‘ کے ذریعہ’سوستھ بھارت ابھیان‘ کے تحت شروع کےے گئے اس ’نو یور میڈیسن کیمپین‘ کا مقصد یہ ہے کہ کھرے سکّے کو دوبارہ بازار میں قائم کیا جائے۔ طبی خدمات کو ’شبھ لابھ‘ کی کسوٹی پر کسا جائے اور عام لوگوںکو اپنی صحت کے تئیں غور وفکر کرنے کی طرف راغب کیا جائے۔

جینرک دوا اور برانڈیڈ دواو¿ں کا بھرم

ہندوستانی بازاروںمیںجو کچھ بھی فروخت ہورہا ہے یا بیچا جارہا ہے، اس کی مارکیٹنگ کا ایک بہترین فارمولہ ہے بھرم پھیلاو¿، لوگوںکو ڈراو¿ اور منافع کماو¿۔ جو جتنا گمراہ ہوگا، جتنا ڈرے گا، اس سے پیسہ وصول کرنے میں اُتنی ہی آسانی ہوگی۔

ڈر اور بھرم کو بیچ کر منافع کمانے کی روایت تو پرانی ہے، لیکن موجودہ دور میںاس کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ فائدہ اب اچھا نہیں رہ گیا ہے۔ فائدے کی اس دوڑ میں انسانیت داغدار ہورہی ہے۔ انسانی صحت سے متعلق دواو¿ں کو بھی اس مقابلہ آرائی نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ دواو¿ں کی بھی برانڈنگ کی جارہی ہے۔ دواو¿ں کو لے کر طرح طرح کے بھرم پھیلائے جارہے ہیں۔ دواو¿ںکے نام پر لوگوں کو ڈرایا جارہا ہے۔

برانڈیڈ اور جینرک دواو¿ں کے تعلق سے ہندوستان کے مریضوں کو بھی خوب گمراہ کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر جینرک دوائیں کام نہیں کرتیں یا کم کام کرتی ہیں، جبکہ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان میںلیگلی جو بھی دوا بنتی ہے یا بنائی جاتی ہے، وہ انڈین فارما کاپی یعنی آئی پی کے معیار پر ہی بنتی ہے۔ کوئی دوا پہلے ’دوا‘ ہوتی ہے، بعد میں جینرک یا برانڈیڈ۔ دوا بننے کے بعد ہی اس کی برانڈنگ کی جاتی ہے یعنی اس کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ مارکیٹنگ کے سبب جس دوا کی لاگت دو روپے فی دس ٹیبلٹ ہے، صارفین تک پہنچتے پہنچتے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً دواو¿ں کے دام آسمان کو چھونے لگتے ہیں ۔ یہ تو ہوئی برانڈ کی بات، اب بات کرتے ہیں جینرک کی۔

سب سے پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ جینرک دوا ہے کیا؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ جو دوا پیٹنٹ فری ہے، وہ جینرک ہے۔ اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ موہن کی دوا کمپنی نے سالوں ریسرچ کر نے کے بعد ایک نئی دوا ایجاد کی۔ اب اس دوا پر استحقاق موہن کی کمپنی کا ہوا۔اس دوا کی تلاش سے لے کر بنانے تک پر جتنا خرچ ہوتا ہے، اس کی بجٹنگ کمپنی کی طرف سے کی جاتی ہے۔ اس کا خرچ بازار سے نکل آئے، اس کے لےے سرکار اسے اس پروڈکٹ کا استحقاق کچھ سالوں تک دیتی ہے۔ الگ الگ ملکوں میں یہ مدت میعاد الگ الگ ہے۔ ہندوستان میں بیس سال تک کی مدت میعاد ہوتی ہے۔ بازارمیں آنے پر بیس سال کے بعد اس دوا کے فارمولے کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی دوسری فارما کمپنی سرکار کی اجازت سے اس دوا کو اپنے برانڈ نیم یا اس دوا کے اصل سالٹ نیم کے ساتھ بیچ سکتی ہے۔ جب دوسری کمپنی اس دوا کو بناتی ہے، تو اسی دوا کو سمجھنے سمجھانے کے لےے جینرک دوا کہا جانے لگتا ہے۔ اس طرح سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جینرک دوا کوئی الگ قسم کی نہیں ہے۔ اس میں بھی اصل سالٹ یعنی اصلی دوا وہی ہوتی ہے، جو پہلے والی دوا میں ہوتی ہے۔ صرف دوا بنانے والی کمپنی کا نام بدلتا ہے، دوا نہیں بدلتی ہے۔

ویسے بھی پہلے دوا ہی بنتی ہے، بعد میں اس کی برانڈنگ ہوتی ہے۔ اگر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں پر سرکاری طور پر غریبی کی شرح 29.8 فیصد ہے یا کہیں کہ 2010 کی مردم شماری کے اعدادوشمار کے حساب سے یہاں ساڑھے تین سو ملین لوگ غریب ہیں، جبکہ غریبوںکی اصل تعداد اس سے بھی کافی زیادہ ہے۔جہاں پر دو وقت کی روٹی کے لےے لوگ پریشان ہیں، ایسی اقتصادی حالت والے ملک میں اگر دواو¿ں کی قیمت جان بوجھ کر برانڈ کے نام پر آسمان میں رہے، تو عام لوگ اپنی صحت کی حفاظت کیسے کرپائیں گے۔

جانےے کہ آخر آپ کو کیا کرنا ہے

نئی دوا پالیسی لاگو ہونے اور 400 دواو¿ں کے نام اسینشیل میڈیسن لسٹ میں آنے سے عام صارفین کو فائدہ مل ہی جائے گا، اس کی گارنٹی ابھی کوئی نہیں دے سکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ جاگ گئے، تو آپ کا علاج بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے لےے کچھ اہم نکات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوا دوکاندار سے سرکاری ریٹ لسٹ مانگیں

نیشنل فارماسیوٹیکلس پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) کی گائڈ لائنس کے مطابق ہر دوا دوکاندار کے پاس اسینشیل میڈیسن لسٹ میںشامل دواو¿ں کی سرکاری قیمت کی فہرست ہونی چاہےے۔ صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوا دوکانداروں سے سرکاری ریٹ لسٹ مانگ سکے۔ اگر آپ اتنی سی پہل کیجئے گا، تو سرکار کے ذریعہ مقرر کی گئی قیمت سے زیادہ ایم آر پی کی دوا آپ کو دوکاندار نہیں دے پائے گا۔ ڈاکٹر بھی مہنگی دوا لکھنے سے پہلے کئی بار سوچیںگے۔ تو پھر آ پ اپنے کیمسٹ سے سرکاری لسٹ ضرور مانگیں۔

صاف حروف میںدوائیںلکھنے کے لےے ڈاکٹر سے کہیں

آپ اگر کسی ڈاکٹر کوفیس دے کر اپنا علاج کرارہے ہیں، تو یہ آپ کا حق ہے کہ آپ ڈاکٹر سے کہہ سکیںکہ وہ صاف صاف حروف میںدواو¿ں کے نام لکھیں۔ صاف حروف میںلکھی دواو¿ں کے نام سے آپ کو دوا خریدنے سے لے کر اس کے بارے میں جاننے او ر سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ کیمسٹ بھی غلطی سے دوسری دوا نہیں دے پائے گا۔ جس فارمیولیشن کی دوا ہے، اسے آپ اسینشیل میڈیسن لسٹ سے ملا سکتے ہیں۔ زیادہ ایم آر پی ہونے پر آپ اس کی شکایت ڈرگ انسپکٹر سے لے کر این پی پی اے تک سے کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کہیں کہ سب سے سستی دوا لکھیں

جس فارمیولیشن کی دوا آپ کو ڈاکٹر صاحب لکھ رہے ہیں، اسی فارمیولیشن کا سب سے سستا برانڈ کون سا ہے، یہ آپ ڈاکٹر سے پوچھیں ۔ کیمسٹ سے بھی آپ سیم کمپوزیشن کی سب سے سستی دوا دینے کو کہہ سکتے ہیں۔ دوا لینے کے بعد اپنے ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹروں پر سستی اور جینرک نام کی دوائیں لکھنے کے لےے سرکار قانون لانے کی تیاری کررہی ہے۔

سیکنڈ اوپینین ضرور لیں

اگر کوئی سنگین بیماری کی بات آپ کا ڈاکٹر کہتا ہے، تو علاج شروع کرنے سے پہلے ایک دو او رڈاکٹروں سے صلاح ضرورلیں ۔ اکثر غلط علاج ہو جانے کی وجہ سے مریض کی جان تک چلی جاتی ہے۔

اینٹی بایوٹک دوائیںڈاکٹری صلاح کے بغیر نہ لیں

ڈاکٹر کی صلاح کے بغیر اینٹی بایوٹک دواو¿ں کا ستعمال نہ کریں۔ پہلے آپ کون کون سی اینٹی بایوٹک دواو¿ں کا استعمال کرچکے ہیں، اس کی تفصیل ڈاکٹر کو ضرور دیں اور بغیر جانچ کے کون سی اینٹی بایوٹک آپ کو سوٹ کرے گی۔دراصل اینٹی بایوٹک کا استعمال صحت کے لےے نقصاندہ ہے۔ اگر آپ کا ڈاکٹر کوئی اینٹی بایوٹک لکھ رہا ہے، تو اس سے پوچھئے کہ اس کا کیا فنکشن ہے۔ دھیان رکھےے کہ ڈاکٹر صاحب آپ کے خدمت گار ہیں، جنھیںآپ خدمت کی فیس دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اور مریض کی بات چیت بہت ضروری ہے۔

میڈیکل ہسٹری ضرور مانگیں

آپ جہاں بھی علاج کرائیں، علاج کی پوری فائل سنبھال کر رکھیں۔ اگر اسپتال میںآپ بھرتی ہیں، تو ڈسچارج ہوتے وقت میڈیکل ہسٹری ضرور مانگیں اور اس کو سنبھال کر رکھیں۔ آپ کی میڈیکل ہسٹری مستقبل میںآپ کو علاج میںمددگار ثابت ہوگی۔

اعداد وشمار بتا رہے ہیںملک کی صحت کی تصویر

سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں صحت کو لے کر نہ تو عام لوگ باشعور ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر ایسا کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ گزشتہ 65 سال میںسرکار نے کیا کیا ہے، اس کی پول ریسرچ ایجنسی ارنیسٹ اینڈ ینگ اور ’بھارتی کامرس اینڈ انڈسٹری فیڈریشن‘ ایف سی سی آئی (فکی) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میںکھل کر سامنے آئی ہے۔

اس رپورٹ میں صحت سے متعلق جو اہم باتیں بتائی گئی ہیں، اس کے مطابق تقریباً 80 فیصد شہری خاندان اور 90 فیصد دیہی خاندان مالی پریشانیوں کے سبب اپنے سالانہ گھریلو خرچ کا آدھا حصہ بھی ٹھیک سے صحت سے متعلق سہولتوں پر خرچ نہیں کرپاتے۔ سن 2008 میں کےے گئے مطالعہ کی بنیاد پر جاری اس رپورٹ میںسب سے چونکانے والی حقیقت یہ ہے کہ ہیلتھ سروسز سے متعلق خرچ کے سبب ہندوستان کی آبادی کا تقریباً تین فیصد حصہ ہر سال خط افلاس کے نیچے پھسل جاتا ہے۔ یہاںپر بھی دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ ہیلتھ سروسز پرکل خرچ کا 72 فیصد صرف دواو¿ں پر خرچ ہوتا ہے۔

ریسرچ ایجنسی ارنیسٹ اینڈ ینگ اور فکی سے جاری مشترکہ رپورٹ میں یونیورسل ہیلتھ کیئر کے ہدف کے بہتر عمل کے لےے ایک خاکہ بنانے کی ضرورت پر سرکار کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرائی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگرجی ڈی پی کا چار فیصد صحت کی سہولیات پر خرچ کیا جائے، تو اگلے دس سالوں میں سب کے لےے یونیورسل ہیلتھ کیئر کا ہدف حاصل کیا جاسکے گا۔

یہاں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ چین واحد ایسا ملک ہے، جو اپنی وسیع آبادی کے سبب صحت سے متعلق اسی طرح کے مسائل کا سامنا کررہا ہے، ا س کے باوجود گزشتہ دو تین سال میں وہ 84 فیصد آبادی کو بہتر طبی خدمات مہیا کرانے میں کامیاب رہا ہے اور فی الحال جی ڈی پی کا 5 فیصد حصہ طبی خدمات پر خرچ بھی کررہا ہے۔ ہندوستان میںہیلتھ پر جی ڈی پی کاایک فیصد بھی ٹھیک سے خرچ نہیںہوتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *