دہلی : طاق و جفت کا فارمولہ کتنا کارگر ہے

چوتھی دنیا بیورو
p-10آلودگی ایک مسئلہ ہے۔ یہ بہت سی بیماریوں کاسبب ہے،اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ملک کی راجدھانی دہلی آج کل آلودگی کی زد میں ہے اور عدالت تک کو اس بارے میںمداخلت کرتے ہوئے کہنا پڑا ہے کہ دہلی گیس چیمبر بن گئی ہے۔ عدالت کو دہلی سرکار سے یہ پوچھنا پڑا کہ آپ اس مسئلے کے حل کے لےے کیا کررہے ہیں؟ اس کے بعد سرکار کی نیند کھلی اور سرکار نے قدم اٹھانے شروع کےے۔پہلے قدم کے طور پر دہلی سرکار نے طاق وجفت فارمولہ نافذ کیا ہے، جس کے تحت طاق نمبر والی گاڑیاں طاق تاریخ کو اور جفت نمبر کی گاڑیاں جفت تاریخ کو چلائی گئیں۔ یہ تجربہ صرف پندرہ دن کے لےے ہوا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس فارمولے کا جو سب سے خاص اثر ہوا، وہ یہ کہ سڑکوں پر ٹریفک کی تعداد کم ہوئی اور جہاں تک آلودگی گھٹنے کی بات ہے، اس میں کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیںدی۔ ظاہر ہے، اس سے ایک بات صاف ہوئی کہ دہلی میںآلودگی بڑھنے کی او ربھی وجوہات ہیں اور اس کے لےے صرف کاریں ہی ذمہ دار نہیںہیں۔ ایسے میں ، دہلی سرکار کو ڈیژل گاڑیوں، ٹرکوں اور تعمیری سرگرمیوں سے ہونے والی آلودگی وغیرہ پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔
بہرحال، دہلی سرکار کے طاق و جفت فارمولے کی حمایت چیف جسٹس نے بھی کی۔ چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے بھی جسٹس اے کے سیکری کے ساتھ کار پول کی اور اپنے دفتر پہنچے۔اس فارمولہ کی اگنی پریکشا 4 جنوری کو ہونا تھی۔ 4 جنوری کو کل 22.8 لاکھ پسنجرز نے میٹرو سے سفر کیا، جو کہ پچھلے ہفتہ کے سوموار کے مقابلے میں تقریباً دو لاکھ زیادہ تعداد تھی۔میٹرو سے سفر کرنے والے مسافروںکاماننا تھا کہ اس فارمولہ کی وجہ سے میٹرو پر اضافی بوجھ بڑھا۔ میٹرو کے پھیرے تو بڑھے، لیکن اس کی رفتار تھوڑی کم ہوئی۔اسی دن یعنی4 جنوری کو ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے پر 1200 سے زیادہ چالان کاٹے گئے۔ دہلی سرکار نے کہا ہے کہ طاق وجفت فارمولہ کو آگے جاری رکھنے کے لےے پندرہ دنوں کے نتیجہ کا مطالعہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی اس پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ سرکار کا کہناہے کہ دہلی آنے والے ٹرکوں سے دہلی میںکافی آلودگی ہوتی ہے،اس لےے ہم پندرہ دن کے بعد این سی آر کے لےے پلان بنانے کے لےے کہیںگے۔ ظاہر ہے کہ اس فارمولہ کو آگے بھی جاری رکھنے کے لےے یہ ضروری ہوگا کہ سرکار پہلے پبلک ٹریفک سسٹم کو مضبوط بنائے۔ اس کے لےے ڈی ٹی سی بسوں کی تعداد ضرورت کے حساب سے بڑھانی ہوگی۔آٹو والوں کی منمانی بھی دہلی ٹرانسپورٹ کے لےے ایک مسئلہ ہے۔ عام طورپر آٹو والے میٹر سے جانے میںآنا کانی کرتے ہیں،اس کے لےے سرکار کو سخت قدم اٹھانے ہوںگے۔
دہلی میں1 جنوری سے 15 جنوری تک کے لےے طاق وجفت فارمولہ اختیار کیاگیا تھا۔سردی کے موسم میںلاگو ہوا یہ فارمولہ پوری طرح سے کارگر تو ثابت نہیں ہوا، لیکن شہر میں ٹریفک کے مسئلے سے پریشان لوگوں کو تھوڑی راحت ضرور ملی۔ ویسے دہلی شہر کی آب وہوا میںزیادہ فرق نہیںمحسوس کیا گیا۔ مثال کے طور پر 4 جنوری کو آلودگی محفوظ حد سے آٹھ سے دس گنا تک زیادہ رہی۔حالانکہ اس کے پیچھے خاص طور پر ماحولیاتی عوامل بتائے گئے۔سسٹم آف ایئر کوالٹی اینڈ ویدر فار کاسٹنگ اینڈ ریسرچ (ایس اے ایف اے آر) کے ہر ایک گھنٹے کی بنیاد پر دےے جانے والے اَپڈیٹ میں 4 جنوری کو پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کی سطح صبح کے بعد بڑھتی دکھائی دی۔ آنند وہار اور آر کے پورم میںواقع دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کے نگرانی اسٹیشنوںمیںاسی دوران 4 جنوری کو پی ایم 2.5 کی مقدار بالترتیب 563 اور 590 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر درج کی گئی۔وہیںپی ایم 10 کی مقدار بالترتیب 901 اور 694 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر درج کی گئی۔ دی انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ٹیری) نے اپنے تجزیہ میں دہلی کے چار الگ الگ مقامات جیسے مندر مارگ، آر کے پورم، پنجابی باغ اور آنند وہار پر 24 گھنٹے کی اوسط مقدار محفوظ معیار سے کئی گنا زیادہ پائی۔
یہ کہا جارہا ہے کہ طاق وجفت اسکیم کے اثر کا فوری طور پر اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ ٹرانسپورٹ منسٹر گوپال رائے نے طاق وجفت اصول کے بعد بھی آلودگی کی سطح نہ گھٹنے کے بارے میں کہا کہ آلودگی کا میٹر غلط جگہوں پر لگایا گیا ہے۔ اب ایسے دعوے تو اپنی جگہ ہےں، لیکن آلودگی جیسے جان لیوا مسئلے سے نمٹنے کی سمت شروع ہوئی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔پلیٹ والی گاڑیوںکو سڑک پر چلانے کی اسکیم جب شروع کی گئی ، تو اس کی مخالفت بھی ہوئی۔ لوگوں نے اسے بغیر سوچی سمجھی حکمت عملی بتایا۔ ویسے دہلی سرکار نے آلودگی سے نمٹنے کے لےے کچھ سنجیدہ قدم اٹھانے کی بھی بات کہی ہے۔ مثلاًبجلی پلانٹ بند کرنا،ویکیوم کلینر سے سڑکوں کی صفائی،ٹرکوں کی آمدورفت پر روک اور کچھ سڑکوں پر پارکنگ کی پابندی۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ آج دہلی اور باقی ہندوستان کو صاف ہوا سے جڑے ایک جامع قانون پر غور کرنا چاہےے۔ دنیا کے 20 سب سے آلودہ شہروں میں13 ہندوستان میں ہیں ۔ دہلی باقی ملک کے لےے انتباہ ہونی چاہےے۔
ان پر بھی غور ہونا چاہےے
دہلی کی آلودہ ہوا کی اہم وجہ ہے ڈیژل کا دھواں،عمارتوںکی تعمیر سے اٹھنے والی دھول مٹی، اینٹ بھٹے اور شہر کے چاروںطرف جلائی جانے والی فصل۔دہلی کی موجودہ 85 لاکھ گاڑیوں میںروزانہ 1400 گاڑیاںجڑ رہی ہیں اور یہی آلودگی کا اہم ذریعہ ہے۔ 2012 کے ایک مطالعہ میں بیمار پھیپھڑوں والے بچوں کی بڑی تعداد ملی تھی۔ سردیوں میںسالانہ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ میں سانس کی تکلیف سے جڑے اوسط سے زیادہ معاملے آتے ہیں۔ شہر کی ہوا کو صاف رکھنے کے لےے پبلک ٹرانسپورٹ میںاصلاح ، میٹرو اسٹیشنوں کے آس پاس ٹریفک کم کرنے اور دور دراز کے علاقوں سے اسٹیشنوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں پر کنزیشن ٹیکس لاگو کرنے اور پارکنگ کو مہنگا کرنے سے شہر کی کار کی لت کم کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ ڈیژل پر سبسڈی کوکم کرنایا ڈیژل گاڑیوںپربھاری ٹیکس لگانا اس میںمدد گار ثابت ہوسکتاہے۔
ڈیژل کار ہے ذمہ دار
نیشنل گرین ٹریبونل نے سرکاری محکموںسے کہا ہے کہ وہ ڈیژل کی گاڑیاں نہ خریدیں۔اس کے علاوہ این جی ٹی کی ہدایت میںکہاہے کہ دہلی میںڈیژل سے چلنے والی کسی نئی گاڑی کارجسٹریشن نہ کیاجائے۔دہلی میںڈیژل گاڑیو ں کے لےے ہندوستان اسٹیج 4 کے جو معیار بنے ہیں ، اس کے مطابق انھیں پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے تین گنا زیادہ نائٹروجن آکسائڈ اور پانچ سے سات گنا زیادہ پارٹیکولیٹ میٹر (پی ایم 2.5) خارج کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ایک ڈیژل گاڑی پانچ سے سات پیٹرول گاڑیوں کے برابر آلودگی پھیلاتی ہے۔ڈیژل سے پیدا ہونے والی گیسیں اور سگریٹ کا دھواں ایک ہی درجہ میں آتے ہیں اور ان سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے۔ آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ گاڑیاں ہیں،ان پر کنٹرول کرنا بے حد ضروری ہے۔
دنیا کے ملکوں میں طاق وجفت فارمولہ
ایسا نہیں ہے کہ یہ فارمولہ ہندوستان میں ہی پہلی بار لگا یا جارہا ہو۔ اس سے پہلے دنیا کے کئی ملکوں میںاس فارمولے کو آزمایا جاچکا ہے۔ کہیںپر یہ کامیاب ہوا، تو کہیںپر ناکام۔ چین میں بھی یہ فارمولہ اپنایا جاچکا ہے۔بیجنگ میںطاق وجفت فارمولہ 2008 میں اس وقت اپنایا گیا تھا، جب وہاںاولمپک کھیل منعقد ہونے تھے۔ اس فارمولے کے ساتھ ہی بیجنگ میں نئی گاڑیوں کی فروخت پر بھی روک لگائی گئی تھی۔ اس سے آلودگی کی سطح میںکمی دیکھنے کو ملی۔ فی الحال بیجنگ میںپبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو او رمضبوط بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فرانس کی راجدھانی میں بھی یہ فارمولہ اپنایا جاچکا ہے۔پیرس میں2014 اور 2015 میں طاق وجفت اسکیم کو لاگو کیا گیا تھا۔ دونوں وقت میںآلودگی کی سطح کم ہوئی تھی۔ اسکیم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 22یورو کا جرمانہ بھی لگایا گیا اور اس کے علاوہ افسروں نے گاڑیوں کی رفتار 20 کلومیٹرفی گھنٹہ مقرر کردی تھی۔طاق وجفت فارمولہ میکسکو کی راجدھانی میںکامیاب نہیں ہوا۔ طاق وجفت فارمولہ میکسکو کی راجدھانی میںسب سے پہلے 1984 میںلاگو کیا گیاتھا، جو 1993 تک چلا۔ اس پر عمل نہ کرنے والوںپر دو ہزار سے لے کر چار ہزار روپے تک کا جرمانہ لگایا گیا۔اسکیم کے نفاذ کے فوراً بعد آلودگی میں11 فیصد کی کمی آئی، لیکن لوگوں نے طاق وجفت دونوں رجسٹریشن نمبرکی کاریں خریدنی شروع کردیں ،جس سے سڑکوں پر کاروں کی تعداد اور بڑھ گئی اور آلودگی کی سطح میں 13فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ حالت اتنی بری ہوگئی کہ اقوا م متحدہ نے میکسکو سٹی کو 1992 میں دنیا کا سب سے آلودہ شہر ڈکلیئر کیا۔ نتیجتاً افسروں کویہ فارمولہ منسوخ کرنا پڑا۔ جنوبی افریقی ملک کولمبیاکی راجدھانی بوگوٹا میں مصروف ترین اوقات میںشہر کے اندر کاروں کے داخلہ پر ہفتہ میں دو دن پوری طرح سے پابندی لگادی۔ میکسکو میںطاق وجفت دونوں کاروں کو خریدنے سے اس اسکیم کی ناکامی کودیکھتے ہوئے بوگوٹا کے افسروں نے طاق وجفت کے مقررہ دنوں کوباری باری سے بدلناشروع کر دیا، لیکن اس کے باوجود یہ اسکیم ناکام ہوگئی۔ ہوا یہ کہ گاڑی کے ڈرائیوروں نے مصروف ترین اوقات میںلگی پابندی کودیکھتے ہوئے پیک وقت سے پہلے اور بعد میںگاڑیوں کو شہر میں لانا شروع کردیا، جس کے سبب شہر کی سڑکوںپر ٹریفک جام لگناشروع ہوگیا۔ 2003 میںپہلی بار سینٹرل لندن میںگاڑیوںکے داخلے پر 5 پاو¿نڈ بھیڑ فیس لاگو کی گئی اور ہ فیس اب تک لگائی جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *