بنگلہ دیش میں نظامی کو سزائے موت۔انصاف یا انتقام؟

وسیم احمد
p-8بنگلہ دیش کی عدالت عالیہ نے جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ انہیں 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کے وقت مختلف جرائم کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ ڈھاکہ میں جنگی جرائم کی تین ججوں پر مشتمل ایک خصوصی عدالت نے اس مشہور مقدمے کا فیصلہ سنایا ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان کیجماعت اسلامی نے کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے سیاسی انتقام کارفرما ہے ۔ عالمی سطح پر بھی اس فیصلے کو ناپسند کیا جارہا ہے ۔ حقوق انسانی کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر پروفیسر مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بنگلہ دیشی وار کرائم ٹربیونل کی جانب سے پروفیسر نظامی کو سزائے موت کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ جبکہ برطانیہ میں کار گزار ادارے ہیومن رائٹس نے بنگلہ دیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ بنگلہ دیش کی نیشنلسٹ پارٹی کی طرف سے ایک بیان آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر پروفیسر مطیع الرحمن نظامی کی سزائے موت سیاسی انتقام کا حصہ ہے اور سیاسی انتقام میں موت کی سزا دینا عقلمندی نہیں ہے۔
بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کی طرف سے مطیع الرحمان نظامی کی اپیل خارج کیے جانے کے بعد ان کی سزائے موت پر عملدرآمد چند ماہ کے اندر ہو سکتا ہے۔ نظامی کو بنگلہ دیش کے متنازعہ جنگی جرائم کے ٹریبونل کی طرف سے 1971 میں پاکستان سے علیحدگی کے وقت قتل، جنسی زیادتی اور ملک کے دانشوروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔استغاثہ کے وکیل تورین افروز کے مطابق، ”عدالت نے 4 میں سے 3 الزامات کے تحت سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
72 سالہ مطیع الرحمان نظامی بنگلہ دیش میں 2000 سے جماعت اسلامی کے سربراہ ہیں۔ وہ 2001 سے 2006 تک وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اگر ان کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت نہیں ہوتی ہے یا پھر انہیں صدر کی طرف سے معافی نہیں ملتی ہے تو انہیں آئندہ چند ماہ میں پھانسی پر لٹکایا جا سکتا ہے۔البتہ مطیع الرحمان نظامی کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
دسمبر 2013 سے اب تک جنگی جرائم کے متنازعہ ٹریبونل کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے والے جماعت اسلامی کے تین سینئر رہنماو¿ں اور ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے ایک اہم رہنما کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ آخری پھانسی گزشتہ برس نومبر میں دی گئی تھی ۔
جماعت اسلامی کے رہنماو¿ں کو پھانسی دیے جانے کے بعد مختلف ہنگاموں میں قریب 500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اب جبکہ سپریم کورٹ نے مذکورہ فیصلے کو برقرار رکھا ہے تو ملک ایک بار پھر بد امنی کی گود میں جاسکتا ہے۔کیونکہ مطیع الرحمان نظامی کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کیے جانے کے بعد جماعت اسلامی نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ظاہر ہے یہ کال اشارہ ہے کہ آنے والے کچھ روز بنگلہ دیش کے لئے آزمائش کے ہوں گے ۔ لہٰذا کسی ناگفتہ بہ حالات پر قابو رکھنے کے لئے ملک بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمان نظامی کو 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے 71 سالہ سربراہ مطیع الرحمان نظامی کو 16 مقدمات کا سامنا تھا جن میں نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے الزامات شامل تھے۔ایک سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے سربراہ کو جو سزا سنائی گئی ہے ’وہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے جرائم کس قدر سنگین تھے۔‘
خیال رہے کہ 1971 میں مطیع الرحمان نظامی جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ’البدر‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر کی حیثیت میںرہتے ہوئے آزادی پسند بنگالی کارکنوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں ہلاک کرنے میں پاکستانی فوج کی اعانت کی تھی۔استغاثہ کا کہنا تھا کہ البدر نے جنگ کے دوران باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آزادی پسند اساتذہ،انجینئرز اور صحافیوں سمیت کئی کارکنوں پر تشدد کیا اور انھیں موت کے گھاٹ اتارا۔ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ افراد مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے
واضح رہے کہ جنگی جرائم کا خصوصی ٹرائبونل وزیراعظم حسینہ واجد نے 2010 میں قائم کیا تھا جس کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔ مطیع الرحمان نظامی کا شمار ان بڑے بڑے ناموں میں ہوتا ہے جنھیں اس متنازع ٹرائبونل نے جنگی جرائم کا مرتکب پایا ہے۔لیکن
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائیٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقہ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔
دوسری جانب برسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔جبکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ مطیع نظامی سمیت اس کے اہم رہنماو¿ں کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔
2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹرائبونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماو¿ں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی ہے جن میں سے عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقہ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اس ٹرائبونل کی تشکیل پر کئی ملکوں نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ٹرائبونل کا معیار عالمی سطح کا نہیں ہے اس لئے اس کو منظوری نہیں دی جاسکتی ہے۔ عالمی سطح پر اس ٹرائبونل کی مخالفت ہونے کے باوجود بنگلہ دیش حکومت نے اس کو ختم نہیں کیا بلکہ جماعت اسلامی کے کئی اہم کارکنوں پر ملک سے غداری کا مقدمہ دائر کرکے پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا ہے ۔ انہی لیڈروں میں مطیع الرحمن نظامی بھی ہیں۔جن کی پھانسی کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نظامی کے خلاف فیصلے پر عمل ہوتا ہے یا ٹل جاتا ہے۔اگر قومی صدر نے اس فیصلے پر روک نہیں لگایا یا عدالت اس فیصلے کو واپس نہی لیتی ہے تو آنے والے کچھ ماہ میں اس فیصلے پر عمل درآمد تقریباً طے ہے۔لیکن ان کی پھانسی کے بعد بھی یہ سوال باقی رہے گا کہ آخر بنگلہ دیش سرکار کا یہ عمل انصاف پر مبنی ہے یا سیاسی انتقام کے لئے جماعت کے سینئر لیڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *