ایودھیامدعا بحران نہیں، ایک موقع ہے

آن مائی ٹرمس،ایک خود نوشت ہے،جسے شرد پوار نے حال میں جاری کیا ہے۔یہ خود نوشت ہندوستان کی سیاست، ثقافت اور ملک میںکام کرنے کے طریقے کے بارے میں زیادہ جانکاری دیتی ہے۔پوار کانگریس کے اندر رہے ہوں یا باہر، وہ ہمیشہ ٹاپ پر رہنے میںکامیاب رہے۔ اس کے لےے انھیں اپنے علاقے بارہ متی میںٹھوس بنیاد کا شکریہ ادا کرناچاہےے او راس کے ساتھ ہی ڈلیور کرنے کی ان کی اہلیت کا بھی اس میںبہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔اس کتاب میںسب سے بہتر جانکاری بابری مسجد مدعے کے بارے میںدی گئی ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخاب میںاب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ایودھیامیںشیلانیاس کے لےے پتھر آنے شروع ہوگئے ہیں، اس لےے اس وقت شرد پوارکو پڑھنا کافی مفید ہوگا۔
ظاہر ہے ، یہ معاملہ سپریم کورٹ میںزیر سماعت ہے۔ پوار نے اپنی اس کتاب میں بتایا ہے کہ جب چندر شیکھر وزیر اعظم تھے،اس وقت وہ اس مدعے پر صلح کے لےے ایک اصل کام سے کس طرح جڑے ہوئے تھے۔ شرد پوار اس بارے میںمفصل کہانی بتاتے ہیں۔ متنازع مقام پرسب سے پہلے متنازع کام تو 1940 میں ہوگیا تھا۔ تب اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ گووند بلبھ پنت کی خاموش حمایت سے اس مقام کو اور زیادہ متنازع بنانے کا کام کیا گیا۔ اسی دور میںمتنازع ڈھانچے کے اندر مبینہ طور پر رام للا کی مورتی ظاہر ہوئی تھی۔ جواہر لعل نہرو یقینی طور پر ان سارے کاموں سے مایوس تھے۔ لیکن جو ہوگیا تھا، اسے پلٹنے سے قاصر تھے۔پھر شاہ بانو معاملہ کے فیصلے کے بعد راجیو گاندھی سرکار نے رام للا کے قیام اور پوجا کی اجازت دی۔ اس سے ماحول کشیدہ ہوگیا۔
چندر شیکھر نے پوار اور بھیرو سنگھ شیخاوت سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کے لےے کہا، تاکہجھگڑے سے بچا جاسکے۔اترپردیش میںشیخاوت کے اچھے روابط تھے ، وہیں پوار آر ایس ایس سے بات کرسکتے تھے۔انھوں نے پایا کہ دونوں فرقے اس متنازع مقام کا استعمال کررہے تھے۔ایک حصہ میںموتی پوجا ہوتی تھی او ردوسرے حصہ میں مسلمان نماز پڑھتے تھے۔ ایک طرح کے باہمی تعاون کی منصوبہ بندی سے کا م کیا جاسکتا تھا۔لیکن کانگریس نے حمایت واپس لے لی او رچند رشیکھر سرکار گر گئی۔باقی تاریخ ہے۔اب ہم ایک بار پھراس مدعے کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ جلدی یا دیر سے، سپریم کورٹ اس مسئلے پر فیصلہ دے گا ہی۔ اس بارے میںتھوڑا سا آگے کاسوچ لینے سے کوئی نقصان نہیںہونے والا۔وشو ہندو پریشد یا آر ایس ایس کے خواب سے زیادہ اہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے۔ حل تو پوار، شیخاوت کے تجربہ میں پوشیدہ ہے۔ اس مدعے کا ایک ایسا حل ممکن ہے، جو سب کے لےے بہتر ہوسکتا ہے اور ہندوستان کے لےے بھی بہتر ہوگا۔آئےے،جانتے ہیں کہ یہ حل کیا ہوسکتا ہے؟
جب یہ مدعا عدالت کے سامنے زیر سماعت نہ رہے، تب ایودھیاکو عالمی سطح کے ایک ملٹی فیتھ سینٹر کے روپ میںتیار کرنے کا موقع ہمارے سامنے ہوگا۔ یروشلم میں ایک ایسا مقام ہے، جسے سبھی تین ابراہیمی مذہبوں کو ماننے والے لوگ آپس میں شیئر کرتے ہیں۔ وہاںمسلم ، عیسائی اور یہودی یعنی تینوں مذاہب کے لوگ عبادت کرنے کے لےے آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے بیچ صدیوں سے جان لیوا جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔ یہ مقام پلورلزم کی ایک عالمی علامت ہے۔ اگر ہندوستان چاہے، تو ایودھیا سناتن دھرم اور اسلام کے لےے ایک چمکتا ہوا اسمارک کیوںنہیں بن سکتی؟ ایسا نہ ہو سکنے کے پیچھے کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ یہاں بودھوں کے لےے بھی ایک پوجا کا مقام ہوسکتا ہے، کیونکہ بدھ نے اس علاقے کے کچھ حصوں میں اپنی تعلیمات کا پرچار کیاہے۔یہ کام سب سے اچھے آرکیٹکٹس کو مدعو کرکے ایک ماسٹر پلان بنانے کے لےے ایک عالمی مقابلہ کی شروعات کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ رام مندرکے ساتھ ساتھ ایک مسجد، ایک بودھ مندر اور مختلف مذاہب میں عقیدہ رکھنے والے لوگوں کے بیچ آپسی بات چیت کے لےے ایک کانفرنس سینٹر بناکر دنیا کو پیغام دیا جاسکتا ہے۔ پیغام اس بات کا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب پیدا ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ پھولتے ہیں۔ دنیا بھرسے ہزاروں لوگ وہاں آئیں گے۔ وہ وہاں صرف ایک مقدس مقام کی زیارت کے لےے آسکتے ہیں،، لیکن انھیں تین مقدس مقام دیکھنے کا موقع ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *