دو ہزار سولہ وزیر اعظم کے لئے چیلنج بھرا ہے

2016 کئی معنی میں اہم ہے۔سیاسی، سماجی اور ثقافتی طور پر بھی ۔نئی سرکار آنے کے بعد سے کئی نئے تنازع بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔آج کل ایک عجیب طرح کا سیاسی ماحول بنتا جارہا ہے۔ کئی طرح کے تنازع سیاسی پارٹیوں میں دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بے وجہ ہیں۔ان تنازعات سے نہ تو ملک کا بھلا ہونے والا ہے اور نہ ملک کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی سماج کا۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے نیا سال ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہیں آگے آکر مداخلت کرنی ہوگی، ایک حتمی گائڈ لائن دینی ہوگی، جس سے ایک تخلیقی سماج اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر ہوسکے۔

کمل مرارکا
p-1سب سے پہلے بات کرتے ہیں دلی کی۔ دلی اسمبلی انتخاب نے چونکانے والے نتیجے دےے۔عام آدمی پارٹی کو بڑی اکثریت ملی اور اس نے 70میں سے 67 سیٹیں حاصل کیں۔ وہ بھی تب، جب کچھ ہی ماہ پہلے بی جے پی کو عام انتخابات میں بھاری جیت حاصل ہوئی تھی اور اس نے اکثریت کے ساتھ مرکز میں اپنی سرکار بنائی تھی۔ عام آدمی پارٹی نے اس انتخاب میں ایک کامیاب تجربہ کیا۔ ا س نے دلی اسمبلی انتخاب بالکل نئے طریقے سے لڑا۔ آن لائن راستے سے پیسہ اکٹھا کیا، چندے کو شفاف بنایا اور ان مسائل کو اٹھایا ،جن کا سامنا عوام کو روز کرنا پڑتا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے عوامی مسائل کو انتخابی ایشو بنایا، جس کے تحت بجلی ،پانی کا بل گھٹانے، روزگار دینے اور کاروباری طبقے کی مشکلیں دور کرنے کے وعدے کئے گئے۔انتخاب جیتنے کے بعد عام آدمی پارٹی کی سرکار نے ان ایشوز کو لے کر پالیسیاں بنائیں اور فیصلے بھی لئے۔ عام آدمی پارٹی سرکار کے فیصلوں کا اثر کیا ہوا، اس کے بارے میں تو وہی لوگ بہتر بتا سکتے ہیں، جو دلی میں رہتے ہیں ،لیکن اب کجریوال سرکار جس طرح سے کام کررہی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلسل مرکز ی سرکار سے الجھ رہی ہے، مضحکہ خیز بیان بازی کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ عام آدمی پارٹی کو ملی زبردست کامیابی بی جے پی برداشت نہیں کر سکی۔ مطلب یہ ہے کہ کجریوال کی جیت بی جے پی اب تک ہضم نہیں کرپائی ہے۔ یہ بھی وجہ ہے کہ مرکزی سرکار نے دلی سرکار کے ساتھ ایل جی ( لیفٹیننٹ گورنر) کے ذریعہ سے ایک عجیب و غریب کھیل شروع کردیا ۔ مرکزی سرکار نے ہر بات پر ،ہر معاملے میں اڑنگا لگانا شروع کردیا۔ جبکہ دلی ایک صوبہ بھی نہیںہے،یہ مرکز کے زیر انتظام ایک ریاست ہے،جہاں کے وزیر اعلیٰ کو دیگر صوبوں کے وزراءاعلیٰ جیسے اختیارات بھی نہیں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں سرکاریں ایک ساتھ مل کر کام کرتیں،کیونکہ دونوں کو پورے پانچ سال تک حکومت کرنے کے لئے عوامی حمایت ملی ہے۔انہیں یہ پتہ بھی ہے کہ دونوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا، ورنہ دلی میں کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ہے۔
ان سب کے درمیان ایک افسوسناک واقعہ یہ ہوا کہ دلی کے پولیس کمشنر کھلے عام، پروٹوکول کو درکنار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے بحث کرنے لگے، میڈیا میں وزیر اعلیٰ کو بحث کا چیلنج دینے لگے۔ ایسی مثال قائم کرنا جمہوریت کے لئے صحیح نہیں ہے۔ پولیس کمشنر کے اس غیر روایتی سلوک سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ اگر آپ ایسی مثال پیش کریں گے، تو کل آپ کو بھی اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا آج دلی سرکار سامنا کررہی ہے۔ اس لئے جمہوریت میں ہمیشہ ایسی مثال پیش کرنی چاہئے، جسے ہر صورت میں نافذ کیا جا سکے۔ اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ غلط روایت کی شروعات کرنا نہ جمہوریت کے لئے صحیح ہے اور نہ کسی دیگر کے لئے۔ ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی سرکار کا بھی دھیان بھٹک گیا ہے۔ ارون جیٹلی کے خلاف اپنی ناراضگی کی وجہ سے کجریوال ایسا ایشو اٹھا رہے ہیں،جس کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے۔ دلی کرکٹ ایسو سی ایشن میں ہوئی چھوٹی چھوٹی بے ضابطگیاں اٹھاکر کجریوال غیر اہم ایشوز پر سیاست کررہے ہیں۔ ایک ایسی کرکٹ ایسو سی ایشن، جس کے صدر جیٹلی رہے ہیں، میں کچھ کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا ایشو اٹھا کر کجریوال اپنا ہی وقت اور توانائی برباد کررہے ہیں۔ ویسے بھی دلی کرکٹ ایسو سی ایشن کا پیسہ سرکاری پیسہ نہیں ہے۔ ان سب ایشوز کو اٹھانے سے کجریوال کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
بدقسمتی سے، بی جے پی دلی انتخاب سے نکلے ہوئے پیغام کو نہیں سمجھ سکی۔ اس نے بہار انتخاب اسی اَنا اور زعم میں ڈوبتے ہوئے اور اسی اعتماد کے ساتھ لڑا ، جیسے دلی انتخاب لڑا تھا۔ بہار انتخاب کا نتیجہ بی جے پی کے لئے کسی برے خواب جیسا رہا۔ 243سیٹوں والی بہار اسمبلی میں بی جے پی کئی پارٹیوں کے اتحاد کے بعد بھی 100 کا عدد نہیں چھو سکی۔یہ انتخابی نتیجے اس کے لئے ایک سبق کی طرح رہے۔بہار انتخاب سے پہلے جو کچھ ملک میں ہو رہا تھا، اسے سب نے دیکھا۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے زعم کی وجہ سے ملک کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچا۔ میڈیا اس بات کو سمجھ چکا تھا کہ بہار انتخاب میں بی جے پی کا تسلط ختم ہورہا ہے ، لیکن بی جے پی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ عوامی حمایت اس بات کے لئے نہیں ہے کہ آپ ملک کے تانے بانے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں۔ ایک طرف سماجی ساخت پر حملہ ہو رہاتھا ،وہیں دوسری طرف بی جے پی لیڈروں اور حامیوں کے عجیب و غریب بیان آ رہے تھے۔ گﺅ مانس، گوشت خوری کرنے یا نہ کرنے اور تہواروں پر سرکاری چھٹی کو لے کر بے تکے بیان۔ ادبی و معروف ہستیوں کے قتل پر کوئی کارروائی نہ کرناوغیرہ، نے مل کر ملک کے اندر ایک الگ طرح کا ماحول بنا دیا، جس نے لوگوں کے درمیان شک و شبہات کی صورت حال پیدا کردی ۔ اس سے ہندو بھی متاثر ہوئے۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے کے سارے ہندو ان کی باتوں سے متفق ہیں اور سُر میں سُر ملا رہے ہیں۔ ہندوﺅں میں بھی ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے،جو ایسی باتوں کی حمایت میں آگے ہے۔ آر ایس ایس کی حمایت کرنے والے ہندو ہی اس سے خوش اور متاثر ہوئے۔ یہ حصہ ایسا طریقہ عمل اختیار کر رہا ہے ،گویا کہ ہندوستان صرف ان ہی کا ہے اور اکیلے وہی جسے چاہیں، انتخاب جتا سکتے ہیں، جو چاہیں کرسکتے ہیں۔
یہ صحیح بات ہے کہ وزیر اعظم کہتے رہے کہ ہندوستان کے لئے اگر کوئی ایک کتاب ریلیونٹ ہے تو وہ صرف اور صرف اس ملک کا آئین ہے۔ ایسی باتوں پر کوئی سوال کھڑا نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔لیکن اگربرسراقتدار پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ غلط بیان دیں، آر ایس ایس کے فرنٹ آرگنائزیشن متنازع بیان دیں اور ایسے بیان ،جو کہ عام آدمی کو پریشان کرنے والے ہیں ،تو یہ صحیح نہیں ہے۔یہ بی جے پی کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہے، جسے سرکار میں رہتے ہوئے ڈیڑھ سال سے زیادہ وقت ہو گیا ہے اور ابھی ساڑھے تین برسوں تک اقتدار میں رہنا ہے۔ اگر سرکار کامیابی کے ساتھ چلتی ہے،اچھے کام کرتی ہے،تو وہ سب کے فائدے میں ہوگا۔ اگلے انتخاب میں کیا ہوتا ہے، کون جیت حاصل کرتا ہے، کون ہارتا ہے،یہ ایشو نہیں ہے،ایشو یہ ہے کہ 2014 میں آپ کچھ ایشوز کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے اور اب آپ کو وہ وعدے پورے کرنے ہیں۔ کام ہو ، سرکار ٹھیک سے چلے، بی جے پی اپنے وعدے پورے کرے، یہ اہم ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر بہت مایوس ہے۔ حالانکہ کارپوریٹ سیکٹر اپنی حالت کے لئے خود ذمہ دار ہے۔ اس نے بہت زیادہ قرض لے لیا تھا اور سود نہیں چکا سکا۔ اب ان مسائل کو کیسے سلجھایا جاسکتا ہے؟مسائل کا حل نکالنے کے لئے ہر کسی کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ 2014اور 2015 کے دو بجٹ پاس ہو چکے ہیں۔ دونوں بجٹ ٹھیک ٹھاک رہے۔ وہ نہ تو بہت بڑے بدلاﺅ والے رہے اور نہ ان میں کچھ منفی رہا۔اب جس طریقے سے وزیر خزانہ بات کررہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ سرکار اگلا بجٹ کچھ زیادہ موثر بنائے گی۔ اگلا بجٹ ترقی کی کوششوں کی سمت میں ہو سکتا ہے۔ کارو بار کے لئے ریگولیشن کو آسان بنانے اور عام آدمی کو راحت پہنچانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے دماغ میں کیا چل رہاہے،لیکن یہ پتہ ہے کہ عام آدمی پروسیس کے جال میں الجھا ہوا ہے اور نوکر شاہی کے ذریعہ پریشان ہے ۔ان سب کے بارے میں اگر کچھ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔
بہار انتخاب کے نتائج نے حیرت انگیز طور پر مہنتوں اور سادھویوں کو مضحکہ خیز بیان دینے سے روک دیا۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے۔لیکن دوسری طرف ایودھیا میں رام مندر بنانے کی بات شروع ہو گئی ہے۔ دسمبر 1992 میں ان ہی لوگوں نے مبینہ بابری مسجد منہدم کرکے ہندوستان کی پوری مسلم آبادی کو الگ تھلگ کر دیا۔اس سے ٹھیک پہلے چندر شیکھر سرکار اس ایشو کا قریب قریب حل ڈھونڈ چکی تھی، لیکن کانگریس نے حمایت واپس لے لی اور سرکار گر گئی۔ نرسمہا راﺅ سرکار نے اس حل کونافذ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی،یہ ابھی تک ایک راز ہے۔ ابھی یہ سمجھنا چاہئے کہ مندر -مسجد معاملے کے حل کی شروعات ہندوﺅں-مسلمانوں کے درمیان سمجھوتے سے ہوگی۔ سرکار ان دونوں طبقوں کو ایک ساتھ، ایک جگہ لانے میں موثر کردار نبھا سکتی ہے۔ جب تک یہ دونوں طبقے خود اس کا حل نہیں نکالیں گے، تب تک تنازع بنا رہے گا اور یہ سب ہندوستانی سماج کے لئے صحیح نہیں ہوگا۔ اسی طرح سکھ مخالف فساد ہیں،جن میں مبینہ طور پر پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔لیکن پانچ لوگوں کو بھی سزا نہیں ملی، جو ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لئے ایک کلنک ہے۔
جہاں تک بات اقتصادی صوت حال کی ہے تو سرکار کا پورا دھیان جی ڈی پی، بی او پی، فسکل ڈیفزٹ،امپورٹ و ایکسپورٹ اور ایف ڈی آئی وغیرہ پر ہے۔یہ سب ملک کے کارپوریٹ سیکٹر کے لئے ہے،یہ باتیں امیروں اور اعلیٰ طبقے کے لئے اہم ہیں،ملک کے عام آدمی کے لئے نہیں۔ ہندوستان کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے،لیکن زراعت اور گاﺅں کی ترقی پر بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ سرکار کئی منصوبوں، پالیسیوں اور پیسہ بھیجنے کے اعلانات تو کررہی ہے،لیکن ان کا کوئی فائدہ زمینی سطح پر نظر نہیں آرہا ہے۔ویسے بھی ترقی سے کیا فائدہ ہوگا،جب دشمنی اور نفرت کو پھیلا کر سماج کو توڑنے کا کام ہورہاہو۔ آج پورے ملک میں دقیانوسی و قدامت پسند نظریات کا بول بالا ہے۔ سرکار کے نمائندے دقیانوسی بیان بازی کرکے سماج میں زہر گھول رہے ہیں۔ اس کا اثر اب ہر جگہ دکھائی دینے لگا ہے۔ شہری علاقوں میں ہوئی عصمت دری کے واقعات کو میڈیا دکھاتا ہے،لیکن دیہی علاقوں میں غریبوں کو ہر دن ستایا ،دبایا جاتا ہے،اسے کوئی نہیں دیکھتا ۔ایسا اس لئے ہوتاہے،کیونکہ اس کے لئے اس طرح کا ماحول بنایا جاتا ہے۔ مثبت ماحول بنائے بغیر اسے نہیں روکا جا سکتا۔
قانون یا پولیس عصمت دری کے واقعات نہیں روک سکتے۔ اس کے لئے ہم آہنگی پر مبنی سماج بنانا ضروری ہے۔لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ جب سے یہ سرکار آئی ہے، تب سے سماج میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی جگہ سماج کو تقسیم کرنے کا کام ہو رہاہے۔ سرکاری فریق کی طرف سے کٹر راشٹر واد کو ہوا دی جاتی ہے، سماج کو توڑنے والے بیان دےے جاتے ہیں۔جیسے کہ ہندوستان پر صرف ان ہی کا حق ہے۔ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے اور آج بھی دنیا کے پُر امن ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہاں، کشمیر کو لے کر تنازع ضرور ہے، کیونکہ تقسیم کے بعد سے پاکستان اس سچائی کو قبول نہیں کر سکا کہ کشمیر ہندو ستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پھر بھی کشمیر سے کنیا کماری اور گجرات سے گوہاٹی تک امن ہے۔لیکن سرکار کے حامی اور سرکار میں شامل کچھ لوگ یہ امن ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں ہے یہ کیا کررہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر وہ ایسی حرکتوں سے باز نہیں آئے ،تو اگلے عام انتخاب میں عوام انہیں پھر سے خارج کردےں گے،جیسا کہ بہار میں ہوا۔ اس لئے سرکار کی جوابدہی ہے کہ یہ امن ختم نہ ہونے پائے۔غیر سماجی عناصر کو اسے مٹانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ایسے لوگ ملک کی شبیہ خراب کرنے پر آمادہ ہیں۔
ملک کے عوام نے نریندر مودی کو بھاری حمایت دے کر انتخاب جتایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کی مقبولیت آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ 2016 میں ان کا سب سے بڑا کردار یہی ہوگا کہ وہ آر ایس ایس اور اس کی معاون تنظیموں سے بات چیت کرکے انہیں یہ سمجھائیں کہ ملک کو تقسیم کرنے والی بیان بازی ٹھیک نہیں ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے سبھی مذاہب، ذات اور طبقوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہی ایک راستہ ہے۔ مذہبی جنون اور کٹر راشٹرواد سے ملک کا ماحول خراب ہورہا ہے۔اسے روکنے کے لئے سب کو کوشش کرنی چاہئے۔ ملک میں امن اور بھائی چارگی کا ماحول بنانا ضروری ہے۔ اس کام میں نوکر شاہی اور سول سوسائٹی کو بھی ساتھ لینا ہوگا۔ اس کے علاوہ میڈیا، عدالتی نظام اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنا ہوگی۔ آر ایس ایس اگر اپنے حساب سے سماج میں کام کرنا چاہتاہے تو کرے۔آخر کار وہ 90سال پرانی تنظیم ہے،جو کرنا چاہے،کرے،لیکن اس کے لئے وہ سرکار کا استعمال نہیں کرسکتا ۔ویسے بھی، اگر وہ سرکاری مدد سے اپنے کام کرے گا تو کامیاب نہیں ہو پائے گا،فلاپ ہو جائے گا۔ صرف اس لئے کہ انہیں اکثریت حاصل ہے، وہ سرکاری مشینری کا استعمال کر سکتے ہیں،یہ ممکن نہیں ہے۔ جو کام وہ کرنا چاہتے ہیں، اسے پورا کرنے میں 100-200 سال لگیں گے۔ انہیں اس کے لئے انتظار کرنا ہوگا۔
راجیو گاندھی کے بعد آپ کو حتمی اکثریت ملی، لیکن اس سے کیا بدلا گیا؟اکثریت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ جو چاہیں، کرسکتے ہیں۔ اکثریت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ راتوں رات سب کا دماغ بدل دیں گے یا آپ کو لوگوں کی سوچ بدلنے کا حق مل گیا ہے۔ اکثریت ملنے کامطلب یہ نہیںہوتا کہ جو آپ سے متفق نہ ہو،اس پر ڈنڈا چلانے کا اختیار مل گیا ہے۔ اس سے حکومت میں اور مزید مسائل پیدا ہوں گے۔،ملک میں تناﺅ بڑھے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پولیس فورس میں زیادہ تناﺅ، زیادہ دباﺅ پیداہوگا۔ سرکار کے سامنے کئی مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ 2017 میں کئی صوبوں میں انتخاب ہونے ہیں۔ حالانکہ انتخاب آتے جاتے رہتے ہیں اور میں ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتا رہا ہوں کہ انتخاب ایک مسلسل چلنے والا عمل ہے اور ایک انتخاب میں جیتنے یا ہارنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
ہریانہ سرکار نے پنچایت اور نگر پالیکا انتخابات کے لئے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت طے کر دی ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے پراپنی مہر لگا دی ہے۔ میرے خیال میں یہ فیصلہ غیر آئینی ہے۔ سپریم کورٹ کو اس کی گہری چھان بین کرنی چاہئے۔مجھے تو لگتا ہے کہ ججوں کی تقرری سے پہلے ان کے سماجی پس منظر کی جانچ ہونی چاہئے۔ ججوں کی تقرری کے لئے کالجیئم سسٹم پر تو بحث ہورہی ہے، لیکن اگر سارے جج اعلیٰ ذات،ایلیٹ بیک گراﺅنڈ اور اعلیٰ طبقے کی ذہنیت کے ہوں گے،تو فیصلہ بھی اسی طرح کا ہوگا۔ یہ فیصلہ غیر آئینی ہے،کیونکہ ملک میں بڑی تعداد میں لوگ غریب اور ناخواندہ ہیں۔اس فیصلے کے بعد غریب اور ناخواندہ لوگ تو انتخاب نہیں لڑ پائیں گے اور یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی،اسے روکا جانا چاہئے، ورنہ آنے والے دنوں میں دیگر صوبے بھی اس کی نقل کریں گے ،جو صحیح نہیں ہوگا۔میں راجستھان سے ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ناخواندہ لوگوں نے بھی کتنا بڑاکارنامہ انجام دیا ہے۔ غریبوں کے مسائل بھی سمجھنے ہوں گے،ان کے حساب سے بھی چلنے کی ضرورت ہے۔ 30-40برسوں کے بعد تو سارے لوگ پڑھے لکھے ہو جائیںگے۔ 1960-70 کے بعد پیداہوئے لوگ تو تھوڑا بہت پڑھے ہی ہیں۔ ہمیں اس کے لئے تھوڑا انتظار کرناہوگا۔ ان سے انتخاب لڑنے کا حق چھیننے کا مطلب اسکولی ڈگریوں پر زیادہ بھروسہ کرنا ہے۔ جبکہ ہمیں پتہ ہے کہ ملک میں کس طرح سے ڈگریاں لی جاتی ہیں۔ ویسے بھی یہ کیسے طے ہوگا کہ جن کے پاس ڈگری ہے، وہ بغیر ڈگری والوں سے بہتر ہیں؟یہ ایک ایسا ایشو ہے، جس پر از سر نو غور ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو ان تمام معاملوں میں مداخلت کرنی چاہئے اور ہندوستان کو ترقی یافتہ ،تخلیقی اور آگے بڑھنے والا ملک بنانے کے لئے ایک گائڈ لائن دینی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *