سنگھ کی تشویش کے معنی

سنتوش بھارتیہ
آر ایس ایس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو لے کر کچھ تشاویش ابھر رہی ہیں اور یہ تشاویش سنگھ کی نظر میں اہم ہیں۔ سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے اس بیان پر سب سے زیادہ حیرانی ہوئی، جو انتخاب میں وزیر اعظم نریندر مودی یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کی شکل میں آیا۔امت شاہ نے کہا کہ انتخاب میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں اور ان باتوں کا کوئی مثبت مطلب نہیں ہوتا۔ یہ انتخابی جملے ہیں اور یہ بات انھوں نے کالا دھن واپس لانے کے ضمن میں کہی تھی۔ سنگھ کو لگتا ہے کہ امت شاہ نے یہ بیان جس جذبے کے تحت دیا، اسی جذبے کے تحت اب اروند کجریوال نے کہا ہے کہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں میں صرف 40یا 50فیصد وعدے ہی پورے ہوتے ہیں۔
سنجے جوشی نے آج تک کبھی نہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بیان دیا اور نہ امت شاہ کے خلاف اور نہ ہی ان کی پالیسیوں اور کارگزاریوں کے خلاف جا کر کچھ کیا بلکہ الٹے سنجے جوشی نے وزیر اعظم نریندرمودی کو کھلے عام اپنا لیڈر مانا ہے۔ اس کے باوجود سنگھ کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ اگر سنجے جوشی کمزور ہیں تو بی جے پی ان سے ڈرتی کیوں ہے اور اگر سنجے جوشی مضبوط ہیں تو بی جے پی انہیں اپنے ساتھ کیوں نہیں جوڑتی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی مسڈ کال کی بنیاد پر اپنی ممبر شپ کی تعداد 10کروڑ بتا رہی ہے، تو وہ سنجے جوشی کو پارٹی کا ممبر کیوں نہیں مانتی۔
سنگھ کے اندر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ممبر شپ مہم کو لے کر بھی تشویش ہے۔ دراصل، حقیقی ممبر شپ وہ ہوتی ہے ، جس میں آپ کسی شخص کے دروازے پر جائیں، اسے پارٹی کی پالیسیاں سمجھائیں، اس سے فارم بھروائیں اور اس سے ممبر شپ کا پیسہ لیں۔ مسڈ کال کے ذریعہ جتنے ممبر بنے ہیں، انھوں نے ممبر شپ کا نہ تو فارم بھرا ہے، نہ دستخط کئے ، نہ ہی ممبر شپ کا چندہ دیا ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی 10کروڑ کی تعداد والی پارٹی کے ممبر بن گئے اور پارٹی نے خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی شکل میں مشہور کرنا شروع کر دیا۔ سنگھ اسے سیاسی ڈھلان کی بڑی پھسلن کی شکل میں دیکھ رہا ہے اور سنگھ کے سینئر ، وفادار پرچارک یا کارکن خود کو بے حد دکھی محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو جتانے کے لئے اپنی پوری طاقت لوک سبھا کے انتخابات میں لگا دی تھی۔
سنگھ کو لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تیزی کے ساتھ ادارے کی قیادت کی جگہ پر ذاتی قیادت کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔کسی ادارے کی قیادت میں سبھی سے صلاح کر کے کوئی فیصلہ لیا جاتا ہے جبکہ ذاتی قیادت میں ایک شخص کو جو صحیح لگتا ہے، وہی فیصلے کی شکل میں نافذ ہوتا ہے۔ اس کی مثال کرن بیدی ہیں۔ کرن بیدی کے بارے میں نہ سنگھ سے بات ہوئی اور نہ پارٹی کے سینئر لوگوں سے ۔ ایک بات دماغ میں آئی اور فیصلہ ہو گیا، جس کا خطرناک نتیجہ دیکھنے کو ملا، لیکن سنگھ اب اس بات کو لے کر تشویش میں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ادارہ جاتی تنظیمی ڈھانچے سے الگ ذاتی تنظیمی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
سنگھ کشمیر کے فیصلے کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا پھسلنے والا فیصلہ مانتا ہے۔ پی ڈی پی سے معاہدہ کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی نے خود کو اپنی اصولوں والی پوزیشن سے ہٹا لیا، جس کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملک بھر میں ان لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی جو کشمیر کو ہندوستان کا حصہ مانتے ہیں اور کشمیر سے دفعہ 370کو ہٹانے کی حمایت کرتے ہیں لیکن بی جے پی اس پوزیشن میں پہنچ گئی ہے کہ وہ حمایت واپس نہیں لے سکتی ، کیونکہ اگر وہ حمایت واپس لیتی ہے تو پی ڈی پی حکومت کو فوری طور پر کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی حمایت مل جائے گی اور مفتی صاحب کی حکومت کشمیر میں چلتی رہے گی۔ آپ اسے برخاست نہیں کر سکتے ۔ دوسری بات، اگر حکومت میں بھارتیہ جنتا پارٹی شامل رہتی ہے تو مفتی صاحب اسی طرح کے فیصلے کرتے رہیں گے، جیسا انھوں نے مسرت کے معاملہمیں کیا اور کشمیر کو ایک نئے طرح کی انارکی کی طرف دھکیل دیا۔ کشمیر میں دوبارہ کھلے عام پاکستان کی حمایت میں نعرے لگنے لگے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے جانے لگے ہیں۔ سنگھ اس صورتحال کو بہت ہی تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ سنگھ کو یہ بھی عجیب لگا کہ جب اس نے رام مادھو کو بی جے پی میں بھیجا تھا تو یہ مان کر بھیجا تھا کہ وہ اس کی پالیسیاں بی جے پی میں پوری طرح سے نافذ کریں گے، لیکن کشمیر کے مسئلہ پر خود رام مادھو نے اس شخص سے رائے نہیں لی جس شخص پر سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کا سب سے زیادہ بھروسہ ہے ، ان کا نام ہے ارون کھنہ، جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں ارون جی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کشمیر معاملہ میں سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کا سب سے زیادہ بھروسہ ارون جی پر ہے۔ رام مادھو نے ارون جی سے بات ہی نہیں کی اور کشمیر کو لے کر بے دریغ فیصلے نریندر مودی اور امت شاہ سے کروا لئے۔ ان لوگوں کو لگا کہ سنگھ کی اس میں رضامندی ہے۔ جب سنگھ کے اندر اندریش جی نے یہ سوال اٹھایا کہ کشمیر میں مفتی کے ساتھ حکومت ہم کیسے بنا سکتے ہیں، جبکہ انھوں نے دفعہ 370ہٹانے سے منع کر دیا ہے اور ہم اس کے تئیں وقف ہیں۔ تو رام مادھو نے کہا کہ میں سب جانتا ہوں اور جنہیں اس بات کی جانکاری ہونی چاہئے انہیں بتا دیا گیا ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شری موہن بھاگوت کو ، شری بھیا جی جوشی اور شری ایم جی ویدھ کو اس ضمن میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ یہ رام مادھو کا فیصلہ تھا، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جموں و کشمیر میں نافذ کیا۔
سنگھ اس بات کو لے کر بہت تشویش میں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں میرا علم تمہارے علم سے بڑا ہے، یہ جذبہ تیزی سے چل رہا ہے۔سنگھ ابھی کسی کو دوش نہیں دے رہاہے، لیکن سنگھ کے سینئر لوگوں کو لگتا ہے کہ جانکاری اور علم کے معاملہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں فیصلہ کرنے والے مکمل طور پر سمجھدار نہیں ہیں، اس لئے وہ اپنے علم کو سب کے علم سے زیادہ مانتے ہیں اور یہ انا بھارتیہ جنتا پارٹی میں مزید تضاد پیدا کرے گی۔ سنگھ کو اس بات سے بھی بہت پریشانی ہو رہی ہے کہ پہلے تو یہ فیصلہ (مسرت عالم والا) مفتی حکومت کا فیصلہ مانا گیا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو صدر راج کے وقت یعنی جب نریندر مودی جی وزیر اعظم بنے اور شری راج ناتھ سنگھ وزیر داخلہ بنے تو وزارت داخلہ نے لیا۔ سنگھ کو یہ لگتا ہے کہ یا تو راج ناتھ سنگھ نے جان بوجھ کر یہ فیصلہ ہونے دیا ، تاکہ مستقبل میں وزیر اعظم کے لئے پریشانی ہو یا پھرراج ناتھ سنگھ دوسرے کاموں میں اتنے مصروف تھے اور ان کے افسران نے انہیں کشمیر پر فیصلہ لینے سے قبل کچھ بتایا نہیں۔
سنگھ کو لگتا ہے کہ راج ناتھ سنگھ کو ان افسران کے اوپر کارروائی کرنی چاہئے جنھوں نے صدرراج کے دوران کشمیر سے متعلق یہ خطرناک فیصلہ مسرت کو لے کر کیا تھا، لیکن ابھی تک سنگھ کی اس خواہش کے اوپر وزیر داخلہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ سنگھ کے سینئر کارکن اس بات سے پریشان نظر آئے اور انھوں نے تبصرہ کیا۔ پہلے تو راج ناتھ سنگھ نے الزام تراشی کی اور بعد میں جب یہ پتہ چلا کہ یہ تو ان کے وزیر داخلہ رہتے ہوئے مرکزی سطح پر فیصلہ ہوا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ سنگھ کے ایک سینئر کارکن کا کہنا ہے کہ اسے کیا مانیں۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ سمجھ یا بے وقوفی تھی یا سچ یا سازش ۔ لیکن کہیں کچھ گڑبڑ ہے۔ جو ٹھیک ہونے کے راستے پر آتا نظر نہیں آتا۔
سنگھ کی اس تشویش میں دم ہے کہ بی جے پی بالکل کانگریس کی طرح ذاتی طرز کے اوپر جا رہی ہے نہ کہ ادارے کی طرزکے اوپر۔ سنگھ کا ماننا ہے کہ جب تک کانگریس ادارے والی تنظیمی طرز پر چلی، اس میں سیاست سمجھنے والے اور عوام کے تئیں وقف لوگوں کا سب سے بڑا ہجوم تھا، لیکن جیسے ہی وہ ذاتی تنظیم کی طرف بڑھی، وہاں سے ان لوگوں کا سیاسی زوال یا سیاسی جلاوطنی شروع ہو گئی، جو نظریاتی طور پر ملک کے لئے پابند عہد تھے۔ اب یہی ڈر بھارتیہ جنتا پارٹی کو لے کر ہے کہ ادارہ پر فیصلے نہ ہونا اور ادارہ پر مبنی تنظیم کا نہ بننا بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستقبل میں بہت سارے اچھے سمجھدار ، لوگوں کے تئیں وقف، سنگھ کی آئیڈیالوجی کے تئیں عہد بستہ لوگوں کو پارٹی کی مین اسٹریم سے باہر دھکیل دے گا۔
یہ تشویش سنگھ اور پارٹی کے اندر کی تشویش ہے جسے ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور ان تشویشوں سے ملک کے ان لوگوں کو بھی فکر مند ہونا لازمی ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ کی آئیڈیالوجی کو ملک کے لئے ٹھیک نہیں مانتے۔ کیونکہ عوام نے آئندہ پانچ سال کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ملک کی کمان سونپی ہے اور اچانک بھارتیہ جنتا پارٹی ایک سال کے اندر ہی اجتماعی فکر اور فیصلہ کے عمل سے الگ ہٹ کر ذاتی تشویش ، ذاتی فیصلے کے عمل کی طرف جا رہی ہے۔ سوال ہیںلیکن سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سوال کھڑے کر رہی ہے اور خاص کر ایسے سوال کھڑے کر رہی ہے جن کا جواب کیا ہے،کم سے کم آج تو اسے نہیں معلوم ہے۔ سنگھ اس صورتحال کو بہت تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *