نیپال زلزلے کی کہانی عینی شاہدین کی زبانی ، سامنے سے گزرا موت کا منظر

ارون تیواری
p-3گزشتہ 25اپریل کی دوپہر کو نیپال کے زلزلے سے جو بھی بچ کر نکلا ہے، وہ یہی کہہ رہاہے کہ ہم نے ایک گلزار جگہ کو ویران بنتے دیکھا ہے۔ہر اس آدمی کے سامنے موت کا وہ منظر ہے جو اس نے ان دردناک لمحوں میں دیکھا تھا ۔ جو بھی نیپال کے اس خوفناک حادثے سے گزر کر ہندوستان لوٹ کر آیا ہے، وہ جب بات کرتا ہے تو موت کا منظر سامنے گھومنے لگتا ہے۔1934کے بعد نیپال میں آئے اس تباہ کن زلزلے نے اس غریب ملک کو دسیوں سال پیچھے دھکیل دیاہے۔ کاٹھمنڈو میں شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا ہوگا جہاں سے لاشیں نہ نکل رہی ہو۔مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ آریہ گھاٹ پر آخری رسومات کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔
نیپال میں زلزلے کے حادثے میں بچنے والوں نے قدرتی حادثے کے اس خوفناک منظر کی داستان بیان کی ۔اس حادثے نے گھروں، مندروں اور تاریخی عمارتوں کو پل بھر میں ملبے میں تبدیل کردیا۔ لوگوں کی جان لینے والے زلزلے سے بچے لوگوں کے سامنے اب پناہ گاہ، خوراک اور صاف ستھری ہوا جیسی بنیادی ضرورتیں پوری کئے جانے کا چیلنج ہے۔
ہمالیہ کی گود میں بسے اس ملک کو 7.9 شدت کے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا۔ سڑکوں میں بڑی بڑی دراریں آگئی ہیں اور پرانی عمارتوں کے منہدم ہوجانے کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور اس وجہ سے کھلے آسمان کے نیچے لوگوں کو سرد رات گزارنی پڑی۔ بعد میں بھی ہلکے جھٹکے آتے رہنے کی وجہ سے لوگ سو نہیں پائے۔ وہاں کام کرنے والے بڑی تعداد میں واپس آئے ہندوستانیوں نے کہا کہ انہیں خوراک اور صاف ستھری ہوا جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کولکتا سے یہاں آئے ایک مزدور نے کہاں کہ کم سے کم 5سو سے ایک ہزار مزدور یہاں آئے ہیں اور اب ہم واپس جانا چاہتے ہیں۔ پتہ نہیں ہم کیسے گھر لوٹیں گے۔ بجلی نہ رہنے کی وجہ سے کوئی خبر نہیں مل رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان سے بچائو کے لئے کچھ طیارے آئے ہیں ۔ہم وہاں تک پہنچے کی کوشش کررہے ہیں اور پھر گھر چلے جائیں گے۔
کولکتا کے ہی رہنے والے ا یک اور مزدور نے کہا کہ ہم سب یہاں کام کرتے ہیں اور تقریبا ایک سال میں ہندوستان جاتے ہیں۔ انہوں نے سی این این سے کہا کہ یہ علاقہ زلزلے سے انجان نہیں ہے۔ کئی لوگوں کو لگا کہ معمولی زلزلہ ہے،گزر جائے گا لیکن وہ بات نہیں تھی۔اسی دوران ایک اور خوفناک منظر ہمارے سامنے سے گزرا جب ہم نے دیکھا کہ ملبے میں دبی ایک خاتون کسی طرح نکلنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ آس پاس کے لوگ بد حواسی کی حالت میں سڑک پر بھاگ رہے ہیں۔ اطراف کی عمارتیں بھی گر رہی تھیں ۔جو نکل پانے میں کامیاب ہو ا وہی بچ پایا ۔ ورنہ کئی لوگ سڑکوں سے بھاگنے کے دوران ہی پاس کی عمارت کے گر جانے کی وجہ سے دب گئے۔ پتہ نہیں ان لوگوں کا کیا ہوا؟وہ بچے یا نہیں ۔ ہم لوگ جہاں رہتے تھے وہاں آس پاس کے لوگوں کا بھی کوئی حال معلوم نہیں ہے۔ لوگ بھاگے جارہے تھے، بھاگے جارہے تھے ۔ کچھ بھی بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ صورت حال یہ ہے کہ زخمیوں کو اسپتال میں جگہ نہیں مل پارہی ہے۔ لوگ ابھی بھی اپنے گھروں میں جانے سے ڈر رہے ہیں۔
دیگر لوگوں کی طرح آبھاس کوشی نے بھی اس زلزلے کو محسوس کیا۔ آبھاس نے کہا کہ جب زلزلے کے ہلکے جھٹکے لگنے شروع ہوئے تو میں اپنے کمرے میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ہمارے میٹنگ روم میں زلزلہ کا تیز جھٹکا محسوس ہوا اور وہاں رکھا سامان ادھر ادھر گر پڑا ۔ میرا گھر نیو بنیشور میں ہے۔ گھر کے پاس ایک کھلا میدان ہے۔ ہم سبھی ڈرے سہمے ہوئے سلامتی کی دعا کرتے ہوئے وہا ں اکٹھے ہوئے ۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کی 6فٹ اونچی دیوار زمیں بوس ہو گئی جس سے راستہ بند ہو گیا۔ لوگ جان بچانے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ کنکریٹ کی عمارتیں تک زلزلے جیسی آواز پیدا کرسکتی ہیں۔ اس کے بعد لوگوں میں چیخ پکار مچنی شروع ہوگئی۔خوش قسمتی سے ہماری اور ہمارے درجن بھر پڑوسیوں کی عمارتیں صحیح سلامت کھڑی تھیں، لیکن زمین پر واٹر فلٹرنگ ٹینک پھٹ گیا ۔ ٹینک کا پھٹنا ایک دھماکے جیسا تھا۔
شروعاتی جھٹکا تھمنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہئے، ہم نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ہم میں سے کچھ لوگ فوری طور پر چادریں اور کھانے پینے کی چیزیں لینے کے لئے گھر کے اندر دوڑے،کیونکہ زلزلے کے بعد دوبارہ آئے زوردار جھٹکے سے ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم گھر میں واپس نہیںجاسکیں گے۔ میں نے وہاں سے دو موٹر سائیکل نکالی اور انہیں کھلی جگہ پر رکھ دیا۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر کسی کو اسپتال لے جاسکوں ۔شام میں میں نے اپنے آس پاس کی جگہوں کا سرسری جائزہ لیا۔کنوینشن سینٹر میں کئی ہزار لوگ جٹے ہوئے تھے۔لیکن اس سے آگے ٹونڈی کھیل میدان میں ہزاروں لوگ اکٹھے تھے۔ یہ جگہ کاٹھمنڈو کے ہائیڈ پارک جیسی ہے۔ کارکنوں کے ایک گروپ کو ایک بہت بڑی پلاسٹک شیٹ ملی تھی، جس کی مدد سے انہوں نے خیمہ بنایا ۔اس میں تقریبا 70-60 لوگوں کو ٹھکانا مل گیا۔رات کھلے آسمان کے نیچے گزری۔ آنکھوں سے نیند غائب تھی۔نہ کوئی ٹریفک کا شور اور نہ کوئی چہل پہل۔ وہ منظر ایسا تھا ، گویا وقت ٹھہر گیا ہو۔
چاروں طرف پھیلی تباہی کو دیکھ کر مادھوپورا میں رہنے والا سنتوش واپس لوٹا ہے۔ نیپال میں زلزلے سے سہمے سنتوش کے رشتہ دار اور گائوں والے اس کی اور دیگر لوگوں کی سلامتی کی خبر پاکر خوش ہیں۔ متاثر کاٹھمنڈو میں کاروبار کرتا ہے ۔وہ وہاں کئی رشتہ داروں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس نے گائوں والوں کو آنکھوں دیکھا حال سنایا۔ اس نے بتایا کہ زلزلہ کے دوران وہ اپنے دفتر میں ہی تھا ۔جیسے ہی زلزلہ کے جھٹکے لگنے شروع ہوئے تو ہم جان بچا کر بھاگے۔ اس حادثے میں ہماری آفس کے کئی ملازمین لاپتہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل رہی ہے۔ ایشور ہی جانتا ہے کہ ان کا کیا حال ہے۔
نیپال میں آئے زلزلہ میں زخمی ہوئے مغربی چمپارن کے چھوڑادانو تھانہ کے نارائن پکریا چوک کے رہنے والے راج کیشور پرساد نے بتایا کہ وہ پچھلے 9برس سے کاٹھمنڈو کے کالی ماتا میں رہ کر فرنیچر بنانے کا کام کررہے تھے۔راج کیشور کے ہاتھ کی ہڈی اس حادثے میں ٹوٹ گئی تھی ۔اس نے زلزلے کے بعد وہاں کا منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود کو خوش قسمت مانتا ہے کہ اتنے بھیانک زلزلے میں صرف اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی اور اس کی جان بچ گئی۔
اس نے بتایا کہ وہاں زلزلہ کے بعد منہدم ہوئے مکانوں کے ملبے میں لاشیں دبی ہوئی تھیں اور سینکڑوں زخمی لوگ درد سے کراہ رہے تھے اور مدد کے لئے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ لیکن افرا تفری کے اس ماحول میں ان کی آواز سننے کا ہوش کسے تھا۔سبھی اپنی جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے نظر آرہے تھے۔ اس کے تین دوستوں نے چھت سے کود کر اپنی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ 45ہزار روپے میں ایک مینی بس کرائے پر لے کر وہ کسی طرح سے اپنے وطن واپس لوٹ سکا ہے ۔
95فیصد گھر ملبے کے ڈھیر میں بدل گئے ہیں۔ جو گھر بچے بھی ہیں، اس میں رہنے والے گھر چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔ وہاں کے اچکے لوگ ان کے گھر کے سامانوں کو لوٹ کر لے جارہے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہاں کی سڑکیں پوری طرح برباد ہو گئی ہیں۔ پرائیویٹ گاڑیوں سے 8گھنٹے کا سفر 24گھنٹے میں طے کر کے لوگ بارڈر پہنچ رہے ہیں۔ گاڑی والے مجبوری کا غلط فائدہ اٹھا کر من مانی کرایہ وصول کررہے ہیں۔ اسے بھی وہاں سے آنے میں 48گھنٹے لگے۔اس دوران وہ بھوک سے پریشان تھا۔
نیپال میں آئے خوفناک زلزلے کی وجہ سے وہاں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے کا کام مسلسل جاری ے۔ کاٹھمنڈو سے دہلی لائے گئے متاثرین میں سے 30لوگ بہار کے تھے۔ یہی 30لوگ منگل کو مگدھ ایکسپریس سے پٹنہ پہنچے۔ پٹنہ پہنچے ان خاندانوں کے چہرے پر زلزلہ کا خوف صاف دکھ رہا تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ نیپال میں سوپول ضلع کے کئی خاندان ابھی بھی پھنسے ہیں۔ سوپول کے مہاویر چوک پر رہنے والے ویمل موہنکا کے بھائی بدری پرساد اگروال سمیت خاندان کے 10لوگ کاٹھمنڈو میں تین دنوں سے پھنسے ہیں۔ وہاں پھنسے ہوئے لوگوں میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں کو وہاں سے محفوظ نکالنے کے لئے سوپول کے ضلع انتظامیہ نے ریاستی اور مرکزی سرکار سے مدد مانگی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ کاٹھمنڈو کے لنک روڈ پر ایک پارک میں پورا خاندان پانی کے لئے ترس رہا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ فون پر بات ہوئی تھی۔وہ تین دنوں سے ایک میدان میںرات گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہاں سینکڑوں نیپالی شہری بھوکے پیاسے کسی طرح دن گزار رہے ہیں۔

چین بھی کر رہا ہے زلزلہ متاثرین کی مدد
نیپال میںآئے خوفناک زلزلے کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر وہاں بڑے پیمانے پر ہندوستان کی طرف سے راحت اور بچائو کام شروع کردیا گیا تھا۔ ہندوستان وہاں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں وسیع پیمانے پر بچائو اور راحت کے کام میں جٹا ہوا ہے۔ چین جو نیپال میں سرمایا کاری کے معاملے میں ہندوستان کو 2014 میں ہی پچھاڑ چکا ہے، اب انسانیت پر مبنی اس کام میں ہندوستان سے قدم ملانے کے لئے مقابلہ کررہا ہے۔
ہندوستان اور چین دونوں ہی ایشیا کی ابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں ہیں۔ نیپال کو اس مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے دونوں نے ہی پوری مدد دینا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ مدد کے معاملے میں ہندوستان چین سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ لیکن اگر موازنہ کرکے دیکھا جائے تو دنیا کے دیگر ملکوں سے زیادہ یہ دونوں ملک نیپال کو مدد کررہے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اور ہندوستان نیپال کے پڑوسی ہیں۔ ہم ایک ساتھ وہاں کام کرنا چاہیں گے اور ہندوستان کے ساتھ ہم آہنگی بناتے ہوئے نیپال کو مشکلوں سے نکالنے اور ملک کو از سر نو تعمیر کرنے میں مدد کریں گے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ زلزلے کے بعد ہندوستان کی امدادی ٹیم سب سے پہلے نیپال پہنچ گئی تھی۔ ہندوستان نیپال کے سسٹم اور وہاں کے لوگوں سے بخوبی واقف ہے۔سیاسی وجوہات کی وجہ سے بھی یہ توقع تھی کہ ہندوستان مدد دینے کے لئے وہاں تیزی سے پہنچے گا۔ خاص طور پر جب وہ یہ چاہتاہو کہ چین اور مائو وادیوں کو وہاں جمنے کا موقع نہ دیا جائے۔ دراصل حیرت اس پر نہیں ہے کہ ہندوستان نیپال میں بڑے پیمانے پر امداد کررہا ہے بلکہ وہ نہیں کرتا تو حیرت کی بات ہوتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *