صاحبو، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی

سنتوش بھارتیہ
پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت چلانے کے طریقے کو لے کر، خاص کر حکومت کے اجزاء کے اندر اس کی ساکھ کو لے کر ایسے نشانات نظر آنے لگے ہیں، جو تشویش پیدا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو لیتے ہیں۔ عام طور پر لوک سبھا یا راجیہ سبھا کے ممبران صرف اور صرف ٹیلی ویژن کی خبروں پر ہی منحصر رہتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر تقریریں یا زیادہ تر سوالات ٹیلی ویژن کی خبروں یا ٹیلی ویژن پر ہونے والی بحثوں کی دلیلوں سے متاثر ہو کر کیے جاتے ہیں۔ان کا خود کا پڑھنا لکھنا یا ان کا خود کا اخباروں کو بھی پڑھنا کتنا فائدہ مند ہوتا ہے، یہ معلوم نہیں، کیو ںکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اندر ہونے والی بحثوں میں یا سوالوں میں اس کی جھلک نہیں دکھائی دیتی۔
پہلے کے لیڈروں کو یاد کریں، جو انہی دونوں ایوانوں کے ممبران رہے ہیں، تو ان کے مقابلے آج کے دونوں ایوانوں کے ممبران کافی بونے نظر آتے ہیں۔ ایک شک پیدا ہو رہا ہے کہ راجیہ سبھا ایسے لوگوں کا چہرہ زیادہ دیکھ رہی ہے، جن کا کام صرف اور صرف وزیروں اور اقتدار سے مل کر خود سے جڑے ذاتی مفادات کو پورا کرنا ہے۔ دوسری طرف لوک سبھا میں ایسے لوگ ہیں، جن کا ملک کے مسائل سے تو تعلق ہے ہی نہیں، اپنے علاقے کے مسائل سے بھی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں نہیں یاد کہ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں میں کسی ایسی بحث کی شروعات کسی رکن پارلیمنٹ نے کی ہو، جس کا رشتہ ملک کے مسائل سے ہو۔ پتہ نہیں یہ ارکانِ پارلیمنٹ لائبریری میں جا کر مدھو لمیے، ناتھ پائی، اٹل بہاری واجپئی، بھوپیش گپتا، راج نارائن، چندرشیکھر جیسوں کی پارلیمنٹ میں دی گئی تقریروں کو پڑھتے بھی ہیں یا نہیں پڑھتے۔ یہ شک اس لیے پیدا ہوتا ہے، کیو ںکہ ہماری پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ممبران ملک کے مسائل سے ہمیشہ الٹی سمت کی طرف سوچتے ہیں اور بولتے بھی ہیں۔ انہیں نہیں لگتا کہ پارلیمنٹ ملک میں مسائل کی جڑ اور مسائل کی تلاش پر بحث کرنے کی جگہ ہے، نہ کہ سیاسی پینترے بازی کی۔ اپنا چہرہ بھلے سیاہ ہو، لیکن دوسرے کا چہرہ بھی سیاہ کرو، اس کی جگہ تو پارلیمنٹ نہیں ہے، لیکن پارلیمنٹ کا استعمال زیادہ تر اسی کے لیے ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں ملک کے ایڈمنسٹریٹو افسروں کے سیمینار سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب کے بعد دوپہر کے کھانے پر جب مذکورہ افسر ملے، تو جو افسر جیسی زبان جانتا تھا، اس زبان میں اس نے وزیر اعظم کے کام کاج کی تنقید کی۔ میں نے اسے کم از کم چار افسروں سے چیک کیا۔ اور، چاروں نے ایک ہی بات کہی کہ نوکرشاہی میں نریندر مودی کے کام کرنے کے طریقے کو لے کر غصہ بھی ہے، بے چینی بھی ہے۔ دراصل، نریندر مودی نے یہ طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ وہ سیاسی ذمہ داری دینے کی جگہ ایڈمنسٹریٹو افسروں کو ٹارگیٹ دے رہے ہیں او رانہیں وہ چیزیں سمجھاتے ہیں، جنہیں سننا یہ افسر پسند نہیں کرتے۔ ان افسروں کو لگتا ہے کہ اگر انتظامیہ کو ان کے طریقے سے نہیں چلایا جائے گا، تو ایک قیاس، ایک تضاد پیدا ہو جائے گا اور جس کا نتیجہ پالیسی پیرالائز کی شکل میں نکلے گا۔ ایک سینئر افسر نے تو مجھ سے کہا کہ منموہن سنگھ کے وقت جس پالیسی پیرالائز کی بات ہوتی تھی، وہ اس وقت تو نظر نہیں آتا تھا، صرف الزام تھا، لیکن آج پالیسی پیرالائز دکھائی دے رہا ہے۔ میں اس سینئر افسر کی بات سے متفق نہیں ہوں، کیوں کہ مجھے اس کے بارے میں بہت جانکاری نہیں ہے، لیکن اس طبقہ میں، جس پر پالیسیوں کو نافذ کرنے یا ایڈمنسٹریٹو دستے میں، جس کے اوپر پالیسیوں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ہو، جب یہ احساس گھر کرنے لگے، تو وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے سوچنے کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
پارلیمنٹ اپنے آپ میں جمہوریت کا نہ صرف چہرہ ہے، بلکہ جمہوریت کا پیمانہ بھی ہے اور جس طرح سے ہماری پارلیمنٹ ملک کے مفادات کے تئیں غیر سنجیدہ ہو گئی ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک کی فکر سے زیادہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو اپنی فکر ہے۔ ہم مثال کے طور پر تحویل اراضی بل یا کسانوں کے مسائل پر ان دنوں ہونے والی بحثوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں کہیں یہ بحث مضبوطی کے ساتھ نہیں ہو رہی ہے کہ کسان کیوں اقتصادات کا حصہ نہیں ہے؟ کسان کو مرکز میں رکھ کر کیوں پالیسیاں نہیں بنائی جاتی ہیں؟ بلکہ، کسان کو کیسے تھوڑی سی سہولیات دی جائیں، تاکہ وہ اگلے دو سالوں کے لیے خاموش ہو جائے، اپنی تکلیفوں کو بھول جائے، اس پر بات ہوتی ہے۔ اور، اس بات کو لے کر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کے ذہن میں نہ کوئی فکر ہوتی ہے، نہ غصہ آتا ہے۔
دراصل، ہمارے ملک کے مرکز میں کسان ہے ہی نہیں۔ حالانکہ، زیادہ تر ممبرانِ پارلیمنٹ گاؤں سے آتے ہیں، جن کا رشتہ کھیتی سے ہے، لیکن انہیں شاید کسانوں کی بات کرنا اپنی سطح کے مطابق نہیں لگتا۔ انہیں لگتا ہوگا کہ وہ اگر اس بات کو اٹھائیں گے، تو لوگ انہیں ترقی پسند نہیں سمجھیں گے اور آج ترقی پسندی کی نشانی بڑی بڑی صنعتوں، بڑے بڑے سرمایہ داروں، بڑے بڑے ایوارڈ پروگراموں میں جا کر موجودہ اقتصادیات کے حق میں بولنا ہے۔ لیکن یہ اقتصادیات کسانوں کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے، اس کی بحث اس پارلیمنٹ میں نہیں ہوتی اور مجھے لگتا ہے، شاید مستقبل میں ہوگی بھی نہیں۔
آخر میں جو سب سے تکلیف دہ سوال ہے، وہ یہ ہے کہ جب ہم راجیہ سبھا اور لوک سبھا ٹی وی کے اوپر پارلیمنٹ میں موجود حاضری کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں مشکل سے دوپہر کے بعد، یعنی ایک بجے کے بعد، جب سب سے اہم بل پیش ہوتے ہیں یا سب سے اہم بحثیں ہوتی ہیں، تو صرف 20 یا 25 ارکانِ پارلیمنٹ، چاہے اِس ایوان میں ہو یا اُس ایوان میں، بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے افسروں نے ٹیلی ویژن کیمرہ مینوں کو یہ ہدایت دے رکھی ہے کہ وہ کبھی بھی وائڈ اینگل سے پوری لوک سبھا یا پوری راجیہ سبھا کی تصویر نہ دکھائیں، جب تک بہت ضروری نہ ہو۔ ان کے کیمرے کا مرکز صرف وہ شخص ہونا چاہیے، جو کسی بھی ایوان میں تقریر کر رہا ہے، اپنی بات کہہ رہا ہے۔ نتیجتاً آپ جب بھی لوک سبھا یا راجیہ سبھا ٹیلی ویژن دیکھیں گے، کیمرہ آپ کو باقی لوگوں کی طرف نہیں دکھائے گا، کیو ںکہ باقی سیٹیں خالی رہتی ہیں۔ کیمرہ صرف بولنے والے شخص پر مرکوز ہوتا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا صرف وقفہ صفر میں بھری دکھائی دیتی ہیں اور وقفہ صفر کے بعد دوپہر کے کھانے کا بریک ہوتا ہے، لنچ ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگ ایوان میں آنے کی جگہ اپنے گھر جانا پسند کرتے ہیں۔
کیا یہ ہندوستان جیسے مسائل سے گھرے جمہوریت کے سب سے بڑے مندر کی ترجمانی کرنے والی پارلیمنٹ ہے؟ بحث ہو سکتی ہے، لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی دقت نہیں کہ شاید ایسا نہیں ہے۔ یہ احساس صرف میرا نہیں ہے، یہ احساس اس ملک کے زیادہ تر طبقات کا ہے، جن کی تکلیفوں، جن کے درد اور جن کی تکلیف کا کوئی ذکر اس پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ حل تو کبھی نہیں نکلتا۔ کیا ہماری سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ سوچنے کا موضوع نہیں ہے کہ کیوں ان کے تئیں لوگوں میں عدم احترام کا جذبہ بڑھ رہا ہے، کیوں ان کی بے رخی بڑھ رہی ہے اور کیوں وہ ان کی عزت نہیں کرتے، جنہیں ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں؟
مت سوچئے معزز ممبرانِ پارلیمنٹ، قابل احترام لوک سبھا اور قابل احترام راجیہ سبھا، مت سوچئے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن، تاریخ آپ کے اوپر طنزیہ لہجے میں لکھے گی کہ آپ اس جمہوری ملک کے نمائندے ہیں، جس کا جمہوریت میں مکمل اعتماد نہیں ہے، صرف جزوی اعتماد ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *