مسلمانوں کے مسائل، نوجوانوں کی گرفتاریاں، بے شمار سوالات مگر جواب کسی کے پاس نہیں

ڈاکٹر وسیم راشد
ایک کرم فرما سے مسلمانوںکے مسائل پر لگاتار بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ بڑے جانور کی ذبیحہ پر روک لگانے کے لئے مہاراشٹر کے فیصلے پر وہ محترم میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ میں نے تلخ لہجہ میں ان سے کہا دیکھئے پھر الجھا دیا مسلمانوں کو ایک نئے مسئلہ میں۔ ارے مسلمانوں کو ان مسائل سے اوپر اٹھنے دو ۔ان کو اب بابری مسجد، گجرات فساد، ہاشم پورہ، ملیانہ سے اوپر اٹھ کر سوچنے دو ان کی نئی نسلوں کو اب صرف اور صرف تعلیم چاہئے، مسلم نوجوانوں کوجامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار سے زیادہ ان اداروں میں داخلے لینے اور اپنی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بڑے جانوروں کی ذبیحہ ہو یا چھوٹے جانوروں کی ۔ مسلمانوں کو اس سے کیا لینا دینا۔ ان کو اس سے باہر نکلنے دو۔ میری اس تلخ مگر حقیقت سے بھرپور بات شاید ان کے دل کو لگ گئی اور انہوں نے ٹیلی فون پر اچانک میری بات جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری محمود مدنی صاحب سے کرادی اور کہا کہ محترمہ آپ ان کو بتائیے کہ کیا کیا مسائل ہیں۔
میں نے بڑے ادب سے مدنی صاحب سے سوال کیا کہ جناب ان تمام مسائل سے زیادہ ہمیں فکر اس بات کی ہے کہ آخر ہمارے مسلم نوجوان محفوظ کیوں نہیں ہیں؟ہمارے نوجوانوں کو تعلیمی مواقع میسر ہیں یا نہیں؟ ہمارے بچوں کو اچھے اسکولوں میں داخلے مل رہے ہیں یا نہیں؟ محمود مدنی نے ان سب کا جواب تو دیا مگر میری تسلی نہیں ہوئی۔
آج بھی وہ تمام مسائل اسی طرح سر اٹھائے کھڑے ہیں ۔دوسرے شہروں کی تو جانے دیجئے ،دہلی جیسے شہر میں مسلم بچوں کو ایڈمیشن نہیں دیا جاتا ہے۔ سیلم پور، جعفرآباد، جامع مسجد، اوکھلا علاقے کو جو مسلم اکثریتی علاقے ہیں، انہیں نیگیٹیو ایریا بتا کر نہ تو وہاں ایڈمیشن فارم ملتا ہے اور نہ ہی کسی بینک کا قرضہ اور نہ ہی کار، ٹی وی، فریج، ایئر کنڈیشنز قسطوں پر کوئی چیز نہیں ملتی ہے۔ ایسے میں مسلمان کیا کریں ،کہاں جائیں؟
مدنی صاحب کہتے ہیں کہ ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ آدھی روٹی کھائیں گے،بچوں کو پڑھائیں گے۔ مگر پھر میرا ذہن اس نعرے کی سچائی تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے کہ ہماری مسلم تنظیمیں ڈی پی ایس یا ڈی اے وی معیار کا کوئی ایک بھی اسکول نہیں کھول پائی ہیں۔ پھر ہم اپنے بچوں کو کیسے پڑھائیں گے؟سرکاری اسکولوں کا معیار تو سب جانتے ہیں کہ کیا ہے۔ مدرسوں کو دہشت گردی کا اڈہ ڈکلیئر کردیا گیا ہے۔ انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخلہ نہیں ملتا ،پھر کہاں ،کیسے اور کس طرح ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ظاہر ہے ان سب باتوں کاجواب مدنی صاحب کہاں سے اور کیسے دیں گے۔اکیلے ساری ذمہ داری جمعیت کی نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ داری سبھی تنظیموں پر عائد ہوتی ہے۔
دوسرا سوال میرا مدنی صاحب سے یہ تھا کہ جب ہاشم پورہ کا فیصلہ آیا اور سبھی مجرمین کو شک کی بنیاد پر رہا کردیا گیا تو سبھی مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی ؟سب نے مل کر حکومت سے یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ آخر پھر 42 لوگوں کا قاتل کون ہے؟یا تو عدالت یہ ثابت کردے کہ وہ 42لوگ مارے ہی نہیں گئے۔ لیکن جب ان ہی میں سے زندہ نکل کر بچ جانے والے بھی موجود ہیں،ان 42 کے خاندانوں کے لوگ بھی گواہ ہیں اور چند رپورٹرس اور کچھ با اثر ایماندار اشخاص بھی تو پھر کیسے مجرمین کو رہا کیا گیا۔کیوں ایک بھی شمع نہیں جلائی گئی۔
مدنی صاحب نے جواب تو کئی دیئے لیکن ایسا کوئی جواب نہیں ملا جس سے میری روح کو تسکین ملتی۔ظاہر ہے وہ بھی اپنی مقدوربھر کوشش تو کر ہی رہے ہیں لیکن دل کی بے قراری کو سکون دینے کے لئے کچھ ایسا نہیں ملتا کہ تسلی ہو یا صبر آجائے۔
خالد مجاہد اور طارق قاسمی کیس نے بھی میری بے قراری کو اور بڑھا دیا ہے۔خالد مجاہد اور طارق قاسمی پر ہم بار بار ’’چوتھی دنیا‘‘ میں سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ تمام حقائق کو سامنے لاتے رہے ہیں۔ ہم نے نمیش کمیشن کی رپورٹ کے اقتباسات بھی شائع کئے اور خالد مجاہد کی بے وقت موت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن ان تمام باتوں کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔کیسے ایک تندرست و توانا مضبوط شخص عدالت لاتے لاتے مرجاتا ہے ،کیسے اس کے جسم پر چوٹوں کے نشان ،سوکھا ہوا خون اور زخم ہوتے ہیں۔اس کا لباس ،پولیس کسٹڈی میں کچھ ہوتا ہے اور جب وہ لاش میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کے جسم پر دوسرا لباس ہوتا ہے؟جب اس کو عدالت میں لایا جاتاہے تو اس کے وکیل ، اس کے رشتہ دار سب اس کو قریب سے دیکھتے ہیں اور جب وہ مرجاتا ہے تو وہی رشتہ دار حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ ایک تندرست ،صحت مند ،بولتا ہوا شخص کیسے اچانک مرگیا۔
نمیش کمیشن ان کو بے گناہ ثابت کرتی ہے۔ لیکن حکومت بدل چکی ہے اور مسلمانوں کے تمام وعدے پورے کرنے کے دعوے کرنے والی حکومت چُپی سادھ لیتی ہے۔نہ تو ہاشم پورہ کے فیصلے پر اس کی یہ خاموشی ٹوٹتی ہے اور نہ ہی خالد مجاہد کی حراست میں موت ہوجانے پر اور نہ ہی طارق قاسمی کو عمر قید کی سزا ہوجانے پر ۔جانے ایسے کتنے ہی سوالات ہیں جو رات دن ہمارے دماغ کو گھیرے رہتے ہیں ۔ہم اپنے اخبار کے ذریعہ اپنی تحریروں کے ذریعہ سب کچھ لکھتے ہیں لیکن سینے میں جو آگ لگی ہے اس کو سکون نہیں ملتا ۔جوسوالات ہیں ان کے جواب نہیں ملتے۔
پارلیمنٹ میں ہاشم پورہ کی گونج سنائی دیتی ہے۔ فرضی مڈبھیڑ پر جس کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے،آواز اٹھائی جاتی ہے مگر یو پی سرکار یا مرکزی سرکار کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ۔جنتا دل یونائٹیڈ کے ممبر پارلیمنٹ کے سی تیاگی بار بار ایوان بالا میں اندھا دھند ہوئے انکائونٹر اور ہاشم پورہ کے قتل عام پر جواب مانگتے ہیں ۔لیکن ان کو جواب دینے والا کوئی نہیں ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایشوز غور و خوض کے ہیں، لیکن تفتیش کا حکم نہیں دیتے۔
تلنگانہ میں بیڑیاں پہنے ہوئے پولیس حراست میں پانچ مسلم نوجوانوں کا انکائونٹر ہوجاتاہے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے۔ کوئی تفتیش نہیں، کوئی کمیشن نہیں، کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی سوال اٹھاتا ہے کہ ہتھکڑیاں لگا ہوا شخص کیسے بھاگ سکتا ہے۔
جمعیت علما ہند کے ارشد مدنی یقینا اس ضمن میں قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے فساد متاثرین کی باز آبادکاری کا بھی کام کیا ہے ،ان کو معاوضہ دلانے کا بھی اور اسی طرح دہشت گردی کے الزام میں پھنسے ہوئے مسلم نوجوانوں کے لئے بھی وکیل مہیا کرائے ہیں، تبھی جاکر یہ ممکن ہوپایا ہے کہ مسلم نوجوان با عزت بری کئے جارہے ہیں۔ طارق قاسمی کے کیس کو بھی جمعیت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ لے جانے کو کہا ہے۔
وہ اس کیس کو لڑنے کے لئے پُر عزم ہیں۔ لیکن سوال پھر یہی ہے کہ کیا صرف اکیلے جمعیت کی یہ ذمہ داری ہے ؟جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل نصرت علی صاحب کا میں نے ایک بیان پڑھا جو طارق قاسمی کی عمر قید کی مذمت میں تھا اور یہ امید کی تھی کہ عدالت عالیہ میں انصاف ملے گا ۔کیا صرف لکھنے اور مذمت کرنے سے جماعت اسلامی کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ ہم بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ سبھی تنظیموں کو مل کر اپنے حق کی لڑائی لڑ نا چاہئے ۔کیونکہ عدلیہ پر ہمارا بھروسہ اور امید آج بھی قائم ہے۔ جس طرح لگاتار ہمارے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے ،اسی طرح ہمارے نوجوان باعزت بری بھی ہورہے ہیں۔ ابھی کرناٹک کے شہر ہبلی میں 2008 میں ہوئے بم دھماکے میں 17مسلم نوجوانوں کو سیشن کورٹ نے ناکافی ثبوت کی بنیاد پر باعزت بری کردیا ہے۔اس میں بھی جمعیت علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی سے ایڈوکیٹ شیر علی اور ایڈوکیٹ اسماعیل نے پیروی کی۔ لیکن ابھی بھی 5مسلم نوجوان ہبلی جیل میں قید ہیں۔ ان کی بھی جلد ہی رہائی متوقع ہے۔یہ ایک خوش آئند خبر ہے۔
نہ جانے کیوں ایک بات اور میرے دل میں آرہی ہے کہ ہم مودی حکومت کی تنقید تو کررہے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ بے لگام ہوئی ہندو تنظیموں کی اشتعال انگیزی بھی اسی دور میں بڑھی ہے۔ لیکن ایک سال سے مودی حکومت میں کوئی بم بلاسٹ نہیں ہوا ،کسی بے گناہ کو پکڑا نہیں گیا اور ساتھ ساتھ بے گناہی کے ثبوت بھی مل رہے ہیں اور ہمارے نوجوان بری بھی ہورہے ہیں۔ اب خدا جانے یہ ہماری خوش فہمی ہے یا سچ۔ ایک اور بات جو مجھے کہنی ہے کہ ہماری لڑائی ہماری مسلم تنظیمیں اس طرح نہیں لڑ رہی ہیں جیسی کہ دیگر قومیں منظم طریقے پر لڑ رہی ہیں۔
ابھی مشترکہ پلیٹ فارم پر ایک ساتھ آنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ہفتے 2مسلم تنظیموں کی پریس کانفرنس منعقدہوئی۔ ایک جماعت اسلامی ہند کی اور دوسری ویلفیئر پارٹی کی۔دونوں کے ہی موضوع بالکل الگ تھے ۔دونوں کے ہی ایجنڈے میں مسلم نوجوانوں کے بے گناہ پکڑے جانے اور انکائونٹر پر احتجاج شامل نہیں تھا۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اکیلے جمعیت علماء ہند پر سارا دارو مدار رکھ دینے کے بجائے سبھی کو مل کر یہ لڑائی لڑنی چاہئے تھی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *