مراٹھواڑہ : موت کے دہانے پر کسان

ابھیشیک رنجن سنگھ

مہاراشٹر کا مراٹھ واڑہ علاقہ گزشتہ تین برسوں سے زبردست قحط کی مار جھیل رہا ہے۔ علاقے کے زیادہ تر تالاب اور بند سوکھے پڑے ہیں۔ ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ مراٹھ واڑہ کے 833 سینچائی کے وسائل میں صرف 11 فیصد پانی باقی بچا ہے۔ گرمی نے ابھی ابھی دستک دی ہے، جب کہ مئی اور جون کا مہینہ ابھی باقی ہے۔ قحط سے بچنے کے لیے مراٹھ واڑہ کے کسان بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ادھر سرکاری بینک کسانوں کو قرض دینے سے کترا رہے ہیں، وہیں ان کے اوپر قرض واپسی کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ انہی دونوں چکیوں کے بیچ ’ان داتا‘ کسان پس رہا ہے اور موت کو گلے لگا رہا ہے۔ مراٹھ واڑہ کے ناندیڑ، لاتور، عثمان آباد، اورنگ آباد، بیڈ اور جالنہ ضلعوں سے لوٹ کر وہاں قحط کی صورتِ حال اور کسانوں کی خودکشی کے اسباب کی پڑتال کر رہے ہیں ’چوتھی دنیا‘ کے نامہ نگار ابھشیک رنجن سنگھ ……

mastضلع ہیڈکوارٹر عثمان آباد سے پندر کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے روئی بھر۔ 11 دسمبر، 2014 کو بابا صاحب مانک جگتاپ نے اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ جگتاپ کو کانوں سے کم سنائی دیتا تھا۔ فیملی میں اس کی جسمانی طور پر معذور بیوی انیتا سمیت تین بیٹیاں، کاجل، اسنیہل اور جیوتسنا اور ایک بیٹا پرمود ہے۔ مانک جگتاپ کی بوڑھی ماں کیسر بائی اکثر بیمار رہتی ہے۔ اس فیملی کے پاس صرف سوا بیگھہ زمین ہے۔ بڑی بیٹی جیوتسنا کی شادی ہو چکی ہے، جس کے لیے مانک جگتاپ نے اپنے رشتہ داروں سے 2 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ اس کے علاوہ، مانک جگتاپ پر کوآپریٹو بینک کا 11 ہزار روپے کا قرض اور تھا، جو اس کے والد نے لیا تھا۔ بینک اور رشتہ داروں کا پیسہ لوٹانے کادباؤ اور فصل کی بربادی نے مانک جگتاپ کو تناؤ میں مبتلا کر دیا۔ لہٰذا ان سب سے بچنے کے لیے اس نے خود کشی کر لی۔ اب مانک جگتاپ کے تین بچوں اور اس کی ماں کا ذمہ اس کی بیوہ انیتا کے کندھوں پر آ گیا ہے۔ جسمانی طور پر معذور ہونے کے سبب انیتا نے اپنی سوا بیگھہ زمین بٹائی پر لگا دی ہے۔ باوجود اس کے انیتا کا نام بی پی ایل لسٹ میں درج نہیں ہے اور نہ ہی اس فیملی کو اندرا آواس یوجنا اور انتیودے اَنّ یوجنا کا فائدہ مل رہا ہے۔ انیتا ایک جھونپڑی نما کمرے میں اپنے تین بچوں اور بوڑھی ساس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مانک جگتاپ جیسے مجبور کسان کی کہانی سے ملتی جلتی کئی کہانیاں مراٹھ واڑہ میں بکھری پڑی ہیں، جن پر نہ تو سرکار کا دھیان ہے اور نہ ہی میڈیا کا۔
جس مراٹھ واڑہ کی پہچان سال 1954 کے ’بھومی ہین کسان ستیہ گرہ‘ کے طور پر ہوتی تھی، موجودہ وقت میں وہ کسان خودکشیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ مراٹھ واڑہ میں قحط کا یہ تیسرا سال ہے۔ پانی کی قلت سے نہ صرف کھیتی خسارے کا سودا ثابت ہو رہی ہے، بلکہ انسانوں سے لے کر جانوروں تک کا جینا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ مراٹھ واڑہ علاقے میں کل 8 ضلعے ہیں، جہاں قحط سے متاثر ہونے والے کروڑوں کسانوں کے مسائل میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ قحط سے سب سے زیادہ متاثر جالنہ اور بیڈ ضلعوں میں پانی کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سینکڑوں گاؤوں میں ٹینکروں کے ذریعے لوگوں کو پانی مہیا کرایا جا رہا ہے، لیکن ضرورت کے حساب سے وہ ناکافی ہے۔ مراٹھ واڑہ میں ان گاؤوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے، جہاں پانی کے لیے روزانہ لوگوں کو میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ کھیتوں میں کنویں اور باؤلی تو ضرور ہیں، لیکن ان میں ایک بوند بھی پانی نہیں ہے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کھیتوں میں بورویل لگانا آسان نہیں ہے، کیو ںکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مراٹھ واڑہ کے لاتور، بیڈ، عثمان آباد اور جالنہ ضلعوں میں زیر زمین پانی کی سطح 600 فٹ سے لے کر 900 فٹ تک نیچے چلی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ قحط سے سب سے زیادہ متاثر جالنہ ضلع میں تقریباً دو درجن بوتل بند پانی کے پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔ ان پلانٹوں میں بڑے پیمانے پر زمین کے نیچے سے پانی نکالا جا رہا ہے۔ اگر وقت رہتے ان پلانٹوں کو بند نہیں کیا گیا، تو جالنہ سمیت پورے مراٹھ واڑہ میں پانی کا مسئلہ اور سنگین صورت اختیار کر لے گا۔
اورنگ آباد ڈویژنل کمشنر آفس کے ذریعے جاری رپورٹ کے مطابق، یکم جنوری، 2014 سے 31 دسمبر، 2014 تک مراٹھ واڑہ کے کل آٹھ ضلعوں میں 574 کسانوں نے خودکشی کی۔ وہیں یکم جنوری، 2015 سے 27 اپریل، 2015 تک مراٹھ واڑہ کے الگ الگ ضلعوں میں اب تک 268 کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ مراٹھ واڑہ میں اوسطاً دو سے زیادہ (2.29) کسان ہر دن خود کشی کر رہے ہیں۔ کسان خود کشی کی یہی رفتار رہی، تو صرف مراٹھ واڑہ میں سال کے آخر تک یہ تعداد 836 کے پار جا سکتی ہے۔ ملک میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات کم ہونے کی بجائے ہر سال بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ سال 1995 سے لے کر 2015 کے درمیان ملک بھر میں 2,96,438 کسانوں نے خودکشی کی۔ صرف مہاراشٹر میں اس دوران 60,365 کسانوں نے خودکشی کی۔ پہلے کسانوں کی خودکشی کے زیادہ تر واقعات وِدربھ، مراٹھ واڑہ اور تلنگانہ میں ہوتے تھے، لیکن اب ملک بھر سے اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ملک کی ترقی کے لیے ماڈل کے طور پر پیش کیے جانے والے گجرات میں کسانوں کی خودکشی عام بات ہے۔ ابھی حال ہی میں راج کوٹ ضلع کے بھادر گاؤں کے 34 سالہ کسان ہریش رواڈیا نے فصل ناکام رہنے کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ اس فیملی کی پریشانی یہیں آکر نہیں رکی۔ اس کی موت سے دلبرداشتہ ہو کر اس کی 31 سالہ بیوی بھاویشا نے اپنے شوہر کی لاش کے سامنے آگ لگا کر خود کشی کر لی۔ دراصل، ایسی خودکشیوں کی واحد وجہ کسانوں کے اوپر قرض اور فصل کا ناکام رہنا ہی نہیں ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے اس نامہ نگار نے مراٹھ واڑہ کے ان سبھی علاقوں کا دورہ کیا، جہاں گزشتہ دنوں کسانوں نے خودکشی کی۔ کسانوں کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں سے ہوئی بات چیت سے یہی بات نکل کر سامنے آئی کہ کئی سالوں سے فصل ناکام رہنے اور قرض کی وجہ سے یہاں کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ آسان قرض پانے کے چکر میں کسان ساہوکاروں کے پاس جاتے ہیں اور ان کی گرفت میں پھنس جاتے ہیں۔ دراصل، انہیں بینکوں کے پیچیدہ طریق کار میں الجھنے کی بجائے ساہوکاروں سے قرض لینا زیادہ آسان لگتا ہے اور اسی کا فائدہ ساہوکار اٹھاتے ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کی یہ ایک بڑی وجہ تو ہے ہی، لیکن یہی واحد وجہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے کئی دوسری وجہیں بھی ہیں، جن کا ذکر کرنا بے حد ضروری ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مراٹھ واڑہ میں جوار، باجرا، مکئی، گیہوں، چنا، ارہر، مونگ، ارد جیسی روایتی کھیتی کا رقبہ کافی تیزی سے گھٹا ہے۔ اس کی جگہ نقدی فصل کہے جانے والے گنا، کپاس اور سویا بین نے لے لی ہے۔ کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے واقعات کے بعد ملک میں نقدی فصل کو لے کر ایک بڑی بحث بھی ہو رہی ہے، لیکن عام طور پر روایتی کھیتی کرنے والے کسانوں کو 24 سال پہلے اس جال میں کس نے پھنسایا، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ 90 کی دہائی میں ’ڈنکل‘ تجویز کے خلاف بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں ہزاروں کسانوں نے آندولن کیا تھا۔ یہاں تک کہ احتجاج درج کرانے کے لیے پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر بھینسیں بھی باندھی گئی تھیں۔ کئی ہفتوں تک یہ آندولن چلتا رہا، لیکن اس وقت کی مرکزی سرکار نے تمام مخالفتوں کے باوجود ملک میں بین الاقوامی بیج اور حشرہ کش دوائیں بنانے والی کمپنیوں کے لیے بازار کھول دیا۔ ہائبرڈ بیجوں سے کسانوں کو کتنا فائدہ ہوا، اس کا اندازہ پچھلے 24 سالوں کے تجربے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ مراٹھ واڑہ میں نقدی فصل کے بڑھتے رجحان کا سب سے برا اثر جانوروں پر پڑا ہے۔ اس کی وجہ سے ان علاقوں میں دودھ کی پیداوار میں کافی کمی آئی ہے، کیوں کہ کپاس، گنا اور سویا بین کے پودے سے مویشیوں کو چارہ نہیں ملتا۔ اس کی وجہ سے مویشیوں کی تعداد لگاتار گھٹتی جا رہی ہے۔
پھڑنویس سرکار سے کسانوں کو مایوسی
مراٹھ واڑہ کے کروڑوں کسان وزیر اعلیٰ دیویندر پھڑنویس سرکار کی فصل معاوضہ پالیسی سے خاصے ناراض ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے اس سال کپاس، گنا اور سویا بین کی قیمت کم ہے۔ پچھلے سال سویا بین کی قیمت 4600 روپے فی کوئنٹل تک گئی تھی، وہیں اس سال سویابین کی بازاری قیمت زیادہ سے زیادہ 2900 روپے ہے۔ کسانوں کی شکایت ہے کہ پچھلی سرکار نے ژالہ باری سے تباہ ہوئی فصلوں کے لیے فی ایکڑ 30 ہزار روپے کا معاوضہ دیا تھا، لیکن بی جے پی سرکار نے اسے گھٹا کر 12 ہزار روپے فی ایکڑ کر دیا ہے۔ گئو کشی پر پابندی لگانے کی وجہ سے بھی کسانوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ دودھ نہیں دینے والی گایوں اور کھیتی کا کام نہ کرنے لائق بچے بیلوں کا پالنا مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ گایوں کے تحفظ کو لے کر سرکار نے قانون تو بنا دیا ہے، لیکن اس بابت کسانوں کو کوئی اقتصادی مدد نہیں دی گئی ہے۔ ایسے میں مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کیسے ہوگا، اس کا جواب سرکار کو دینا چاہیے۔
لیڈروں کی بھرمار، لیکن فالوور کوئی نہیں
مہاراشٹر میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی انتخاب ہوتا رہتا ہے۔ لوک سبھا، وِدھان سبھا، گرام پنچایت اور مقامی بلدیہ کے انتخابات کی طرح یہاں کوآپریٹو چینی ملوں، ضلع کوآپریٹو بینکوں اور زرعی پیداوار بازار کمیٹیوں کے انتخابات میں بھی پیسے اور طاقت کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں مراٹھ واڑہ میں کوآپریٹو چینی ملوں کی انتخابی سرگرمیاں زوروں پر تھیں۔ غور طلب ہے کہ یہاں کی زیادہ تر کوآپریٹو چینی ملوں پر ریاستی سیاست میں سرگرم سیاسی گھرانوں کا قبضہ ہے۔ مہاراشٹر میں 70 اور 80 کی دہائی کوآپریٹو موومنٹ کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ تحریکیں مہاراشٹر میں بہت کامیاب رہی ہیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں کوآپریٹو چینی ملوں کی تعمیر ہوئی۔ ریاست کے ہر ضلع اور تعلقہ سطح پر ضلع کوآپریٹو بینک کھولے گئے، لیکن 1990 کے بعد یہ تمام کوآپریٹو ادارے بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ آج حالت یہ ہے کہ مراٹھ واڑہ کی آدھی سے زیادہ چینی ملیں بند پڑی ہوئی ہیں۔ وہیں دوسری طرف، ضلع کوآپریٹو اور انٹرمیڈیٹ کوآپریٹو بینکوں کے پاس کسانوں کو دینے کے لیے ایک ڈھیلا تک نہیں ہے۔ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہو یا نیشنلسٹ کانگریس پارٹی یا پھر شو سینا، کسی کو بھی کسانوں کے مسائل سے کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ دراصل، مہاراشٹر ایک ریاست ہو کر بھی کئی حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ مغربی مہاراشٹر علاقہ سے کوئی وزیر اعلیٰ بنا، تو اس کے اوپر مراٹھ واڑہ اور وِدربھ کے ساتھ بھید بھاؤ کا الزام لگتا ہے۔ اگر کوئی مراٹھ واڑہ کا وزیر اعلیٰ بنا، تو اس کے اوپر بقیہ علاقوں کی اندیکھی کرنے کا الزام لگتا ہے۔ اس بات میں سچائی ہو یا نہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ ریاستی سیاست میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کی ایک روایت سی بن گئی ہے۔

مراٹھ واڑہ کے کسانوں کی معاشیات
سال 1972 میں مہاراشٹر میں زبردست قحط پڑا تھا، لیکن ان دنوں کسانوں کی خودکشی کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا تھا، کیوں کہ اس وقت نقدی فصلوں کا چلن نہیں تھا۔ مراٹھ واڑہ کے کسانوں کی اپنی ایک معیشت بھی ہے۔ یہاں گنا، موسمی اور انار کی کھیتی عموماً وہی کسان کرتے ہیں، جن کے پاس کھیتی کی زیادہ زمین ہے۔ ایسے کسان دوسرے کاروبار بھی کرتے ہیں۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ خوشحال کسان لاکھوں روپے کی لاگت سے ایک سے زیادہ کئی گہرے بورویل لگاتے ہیں۔ ایک اچھا گنا تیار ہونے میں تقریباً 180 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قحط سے متاثر مراٹھ واڑہ میں گنا پیدا کرنے کے لیے زمینی پانی کا کس پیمانے پر بیجا استعمال کیا جاتا ہوگا۔ مراٹھ واڑہ میں خود کشی کرنے والے کسانوں کی بات کریں، تو ان میں گنا، موسمی اور انار کی کھیتی کرنے والے بڑے کسانوں کی تعداد صفر ہے۔ خود کشی کرنے والے بیشتر ایسے کسان ہیں، جو بنیادی طور پر کپاس، سویا بین، جوار اور باجرہ وغیرہ کی کھیتی کرتے ہیں۔ دراصل، ایسے کسان برسات کے بھروسے کھیتی کرتے ہیں۔ بینک اور زمینداروں سے قرض لے کر کھیتی کرنا ان کا مقدر بن چکا ہے۔
معاوضہ پالیسی کے بجائے ٹھوس زرعی پالیسی بنائے سرکار
مہاراشٹر میں خود کشی کرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کو ریاستی حکومت کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا معاوضہ ملتا ہے۔ مذکورہ رقم میں مہلوک کسان کے اہل خانہ کو 30 ہزار روپے نقد ملتے ہیں، بقیہ 70 ہزار روپے کی رقم کو اہل خانہ کے نام پر فکس کر دیا جاتا ہے۔ ویسے ریاست کی نو منتخب بی جے پی حکومت معاوضہ کی رقم کو ایک لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اگر حکومت اس مسودے کو عمل میں لاتی ہے، تو اس کے طویل مدتی نتائج کافی سنگین ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو اس کا سیاسی فائدہ تو ملے گا، لیکن کسانوں کو مستقبل میں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ دراصل، ملک کے کسانوں کو معاوضہ سے زیادہ ٹھوس زرعی پالیسی کی ضرورت ہے۔ مرکز میں حکومت چاہے جس کی ہو، زرعی پالیسی کسانوں سے زیادہ تاجروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ربیع اور خریف کی فصل تیار ہونے کے وقت قیمتیں اچانک کم ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کو ہر حال میں اپنی فصل بیچنی ہوتی ہے۔ ایک تو اسے زمینداروں کا قرض ادا کرنا ہوتا ہے، دوسرا اس کے پاس اناج رکھنے کے لیے معقول جگہ نہیں ہے۔ کسانوں کی اس مجبوری کا سیدھا فائدہ تاجروں کوملتا ہے۔ کسانوں کے گھر سے ایک ایک دانا کم قیمت پر خریدلینے کے بعد بزنس لابی کی چہل قدمی نئی دہلی میں واقع مرکزی وزارتوں میں بڑھ جاتی ہے۔ اس کے بعد شروع ہوتاہے کاروبار کا گندا کھیل۔ کپاس اور چینی ایکسپورٹ کرنا کاروباریوں، مرکزی وزیروں اور وزارتوں کے سکریٹریوں کے لیے کب فائدہ مند ہوگا، یہ منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں جتنی بھی سرکاریں بنی ہیں، ان سب نے معاوضہ کے نام پر کسانوں کو ٹھگا ہے۔ ملک کے کروڑوں کسانوںکو حکومت سے معاوضہ نہیں، بلکہ فصل کی صحیح قیمت چاہیے۔ کسانوں کو مناسب سبسڈی اور تمام فصلوںپر منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) چاہیے۔ گلوبلائزیشن کا سب سے زیادہ فائدہ ملک کے تاجر اٹھا رہے ہیں، جب کہ سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے۔ تھوڑے بہت معاوضے سے کسانوں کی حالت میں سدھار نہیں ہو سکتا۔
کسان کنگال اور آڑھتی مالامال
جالنہ ضلع کی انبڈ تحصیل میں واقع زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی کے احاطہ میں ایک آڑھت پر چنے کی بولی لگائی جا رہی تھی۔ تین ہزار روپے فی کوئنٹل سے شروع ہوئی بولی چار ہزار روپے پر ختم ہوئی۔ چار ہزار روپے میں جس اعلیٰ کوالٹی کا چنا آڑھتی نے کسان سے خریدا، اس کی قیمت جالنہ اور اورنگ آباد کی اناج منڈیوں میں پانچ ہزار روپے سے لے کر ساڑھے پانچ ہزار روپے تک تھی۔ زرعی پیداوار بازار کمیٹیوں میں کسانوں کا کس طرح سے استحصال ہوتاہے، یہ محض اس کا ایک نمونہ تھا۔ بازار کمیٹیوں کے صدر اور نائب صدر کا عہدہ کتنا اہم اور پیسے والا ہوتا ہے، اس کی جھلک یہاں ہونے والے انتخابات میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ ان انتخابات میں پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔ چونکہ مارکیٹ کمیٹیوں کے انتخابات پارٹی پر مبنی نہیں لڑے جاتے، لیکن امیدواروں کو مختلف سیاسی جماعتوں اور آڑھتیوں کی بھرپور حمایت ملتی ہے۔ انتخابات جیتنے کے بعد مارکیٹ کمیٹی کے عہدیداران کسانوں کے بجائے آڑھتیوں کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ مراٹھ واڑہ کے کسان ایک طرف قدرت کا قہر جھیل رہے ہیں، تو دوسری طرف اناج کے تاجر ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ انبڈ بازار کمیٹی سے ایک گائوں کی دوری اوسطاً پانچ سے پندرہ کلو میٹر ہے۔ کوئی کسان جب اپنی بیل گاڑی پر چنا، جوار، باجرہ، اڑد اور ارہر لادتا ہے، اس وقت اسے معلوم نہیں ہوتا ہے کہ بازار میں اس کی فصل کو کیا قیمت ملے گی۔ مہاراشٹر کی منڈیوں میں غلے کی قیمت خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، لیکن بازار کمیٹی میں کسانوں کو وہی قیمت ملتی ہے، جیسا آڑھتی لابی چاہتی ہے۔ اناج کے بچولیوں کا نیٹ ورک گائوں سے شروع ہوتا ہے اور بازار کمیٹی کے راستے ملک کی بڑی اناج منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ حکومت کو معلوم ہے کہ اس میں کون کون شامل ہے، لیکن وہ اس پر لگام نہیں لگاتی، کیوں کہ سیاست اور حکومت تاجروں کو ناراض کر کے نہیں چلائی جا سکتی۔
سستی کار اور مہنگی کھیتی
’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ایک جانچ رپورٹ کی کاپی موجود ہے۔ یہ رپورٹ مختلف بینکوں کے ذریعے کسانوں کو کھیتی کے لیے دیے گئے قرض پر سود وصول کرنے کو لے کر ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ تقریباً تمام بینکوں نے کسانوں سے 13 فیصد تک سالانہ سود وصول کیے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اگر ایک لاکھ روپے فی ماہ کمانے والے کسی شخص کو ایک کار یا بنگلہ لینا ہو، تو اسے زیادہ سے زیادہ 10 سے 11 فیصد سود دینا ہوتا ہے۔ مراٹھ واڑہ کے لاتور ضلع میں کسانوں کو 7 فیصد سے زیادہ شرح سود پر قرض دینے والے 13 سرکاری بینک اور تین پرائیویٹ بینک ہیں۔ ان بینکوں کے نام ہیں یونائٹیڈ کمرشیل بینک، دینا بینک، الہ آباد بینک، آئی ڈی بی آئی بینک، مہاراشٹر گرامین بینک، بینک آف انڈیا، انڈین بینک، آندھرا بینک، یونین بینک آف انڈیا، کینرا بینک، بینک آف بڑودہ، اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، بینک آف مہاراشٹر، ایکسس بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک،جب کہ آئی سی آئی سی آئی بینک نے اس سلسلہ میں کوئی رپورٹ جانچ کمیٹی کے پاس نہیں بھیجی ہے۔
کھیتی سوکھ جائے، تو بارش کا کیا فائدہ
مہاراشٹر کے محکمۂ آبی تحفظ (اورنگ آباد ڈویژن) نے 29 اپریل، 2015 کو ٹائمز آف انڈیا اخبار میں 2014-15 کے لیے ای- ٹینڈر، نمبر بی-1/5 شائع کرایا۔ اس ٹینڈر میں اورنگ آباد، ہنگولی، ناندیڑ، بیڈ اور عثمان آباد ضلعے کی 10 تحصیلوں میں سیمنٹ نالا باندھ (سی این بی) کی تعمیر میں کل 727.39 لاکھ روپے کی تخمینہ رقم طے کی گئی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس ای -ٹینڈر میں کام کے ختم ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس ٹینڈر کی تاریخ اور اس میں حصہ لینے واے کانٹریکٹروں کی درخواست کی اسکروٹنی کے عمل میں ہی مئی کا مہینہ گزر جائے گا۔ اس علاقے میں مانسون عموماً جون میں آتا ہے۔ اس طرح مراٹھ واڑہ علاقے میں سیمنٹ نالا باندھ بنانے کا کام اگر جون میں شروع ہوتا ہے، تو اسے پورا ہونے میںکم از کم 6 مہینے کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں پوچھے جانے پر مختصر آبپاشی کے پروجیکٹ (آبی تحفظ) اورنگ آباد علاقہ کے ایگزیکیوٹو انجینئر ایس ایچ کھرات نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی ایک ٹینڈر محکمہ کی طرف سے شائع کیا گیا تھا، لیکن اسکروٹنی میں کوئی بھی کانٹریکٹر کامیاب نہیں ہوا۔ لہٰذا محکمہ نے دوبارہ ای -ٹینڈر شائع کیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مراٹھ واڑہ علاقہ میں جالنہ سب سے زیادہ قحط متاثرہ ہے، لیکن وہاں کسی تحصیل میں سیمنٹ نالا باندھ بنانے کا پروجیکٹ اس ٹینڈر میں نہیں ہے۔ اس پر محکماتی ایگزیکیوٹو انجینئر نے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو اس طرح کے کاموں کو مانسون شروع ہونے سے قبل پورا کر لینا چاہیے، تاکہ خریف فصل کے وقت کسانوں کو آبپاشی کا فائدہ مل سکے۔
خودکشی کرنے والے بٹائی دار کسان غیر مستحق ہیں
بٹائی پر کھیتی کرنے والا کسان اگر فصل ناکام رہنے اور قرض کی وجہ سے خودکشی کرتا ہے، تو اس کے اہل خانہ سرکاری معاوضے کے حقدار نہیں ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کی اس معاوضہ پالیسی میں غیر انسانی پہلو کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ یکم جنوری، 2015 سے لے کر 27 اپریل، 2015 کے درمیان مراٹھ واڑہ کے 8 اضلاع بالترتیب اورنگ آباد، جالنہ، پربھنی، ہنگولی، ناندیڑ، بیڈ، لاتوراور عثمان آباد میں کل 268 کسانوں نے خودکشی کی۔ انتظامیہ نے ان میں سے 158 مہلوک کسانوں کو معاوضے کا مستحق مانا اور ان کے اہل خانہ کو ایک ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دیا، جب کہ 36 مہلوک کسانوں کو انتظامیہ نے غیر مستحق قرار دیا۔ ایسے کسان پریواروں کو کسی طرح کی سرکاری مدد نہیں دی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ ان غیر مستحقین میں بے زمین کسانوں کی تعداد زیادہ ہے، جو دوسروں کے کھیتوں میں بٹائی کرتے ہیں۔ گزشتہ سال یکم جنوری، 2014 سے لے کر 31 دسمبر، 2014 کے درمیان مراٹھ واڑہ کے مختلف اضلاع میں 574 کسانوں نے خودکشی کی۔ ان میں 429 مہلوک کسانوں کے اہل خانہ کو سرکاری معاوضے کا فائدہ ملا، جب کہ 143 مہلوک کسانوں کو انتظامیہ نے غیر مستحق قرار دیا۔ ملک میں بے زمین بٹائی دار کسانوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، لیکن ایسے کسانوں کو نہ تو بینک زراعتی قرض دیتا ہے اور نہ ہی اسے ایم ایس پی کا فائدہ مل پاتا ہے۔ فصل خراب ہونے پر بھی اسے کوئی سرکاری مدد نہیں ملتی۔ قرض سے دبا ایسا کسان اگر خود کشی کر لیتا ہے، تو اسے کفن بھی ادھار کے پیسے سے ہی نصیب ہوتا ہے۔ بٹائی دار کسانوںکے اس مسئلہ پر حکومت اور پارلیمنٹ دونوں ہی خاموش ہیں۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *