ایک کسان کی خودکشی سبھی پارٹیوں کی چاندی

ڈاکٹر وسیم راشد
سیاست ایک گندا کھیل ہے۔پر کیوں؟ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہی سوال گونجتا رہا جب تک کہ ہم شعور کی اس حد تک نہیں پہنچ گئے جب تک خود تھوڑے بہت سیاسی دائوں پینچ کھیلنے نہیں آگئے۔لیکن ہماری سیاست میں تو معصومانہ سی ایک خواہش اچھی سی نوکری اور چھوٹے موٹے عہدے تک محدود رہی۔سیاست دانوں کی عقل اور ان کے سیاسی شعور کو ہمارا دماغ کہاں پہنچ سکتا تھا بھلا۔ کیونکہ کوئی ایسا موقع ،کوئی ایسا حادثہ ،کوئی ایسا سانحہ ہمیں یاد نہیں آتا کہ ہمارے سیاست دانوں نے جس کو کیش نہیں کیا ہو۔پھر وہ ایک کسان کی موت پر کیوں خاموش بیٹھتے ۔آخر گجیندر کو کس نے مارا یہ سوال پوچھنا ایک حماقت ہی تو ہے۔
گجیندر کی موت پر کس پارٹی کو الزام دیا جائے ۔ کیا کانگریس پارٹی پر، جس نے ہندوستان میں سب سے زیادہ حکومت کی،جس نے سب سے زیادہ ہندوستان میں گھوٹالے کئے ،جس نے سب سے زیادہ بد عنوان لیڈران پیدا کئے ،جس نے سب سے زیادہ سیاست کو موروثی بنا کر ہندوستان کا مستقبل دائوں پر لگادیا یا پھر اس کا الزام بی جے پی پر ڈالا جائے، جس نے ہندوستان کے عوام کو اچھے دنوں کا خواب دکھا کر ساری امیدوں کا ہی خون کردیا۔ کسان خود کشی پہلے بھی کرتے تھے۔لیکن ایک سال بی جے پی کی حکومت میں جس طرح سے کسان مایوسی سے اپنی جان دے رہے ہیں ،ایسا کبھی نہیں ہوا یا پھر اس حادثے کا الزام تازہ تازہ سیاست کی پِیچ پر چوکے و چھکے لگانے والی عام آدمی پارٹی کو دیا جائے جس نے کسانوں کے حق کے لئے ریلی بلائی اور اسی ریلی میں ایک کسان پھندہ لگا کر جھول گیا یا پھر ان ہزاروں کی تعداد میں تماشائیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جائے جو اسے پیڑ پر چڑھتے، پھندہ بناتے، للکارتے، موبائل پر فون کرتے اور لٹکتے دیکھتے رہے یا پھر پولیس کو جو مزے سے یہ نظارہ دیکھتی رہی جیسے کہ کوئی تماشائی کرتب دکھانے آیا ہو اور سب کی توجہ اپنی جانب کرکے جان دینے کا ناٹک کررہا ہو یا پھر یہ الزام میڈیا پر ڈالا جائے کہ جس کے رپورٹر اور کیمرہ مین اس کی ہر اینگل سے تصویر لیتے رہے اور کسی کو یہ نصیب نہیں ہوا کہ کیمرہ پھینک کر پیڑ پر چڑھ کر اس کسان کو بچالے۔کیا جان کی قیمت ایک سی ڈی بنانے سے بھی کم ہے ۔آخر سی ڈی نہ بناتے ،ہر اینگل سے تصویریں نہ لیتے تو چینل کی ٹی آر پی کیسے بڑھتی۔
ہمارے اخبار ’’ چوتھی دنیا‘‘ سے 2 معتبر لوگ اس ریلی کو کُوَر کرنے گئے تھے۔ ان کی آنکھوں نے جو دیکھا اسے بیان کرنا بے حد ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباًایک بجے تک اسٹیج پر عام آدمی پارٹی کے تمام اہم ایم ایل اے موجود تھے۔ لیکن چند بڑے لیڈرس جیسے منیش سسودیا، کمار وشواس، سنجے سنگھ، آشو توش، کجریوال نہیں آئے تھے۔ سب سے پہلے آشیش کھیتان آئے۔ اس وقت وہاں جز وقتی اساتذہ جمع ہوگئے تھے جو کجریوال کے خلاف زبردست مظاہرہ کررہے تھے۔ دھیان رہے کہ کجریوال نے دہلی اسمبلی الیکشن سے پہلے جزوقتی اساتذہ سے مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔تقریباً ً17000اساتذہ دہلی میں جز وقتی طور پر پڑھا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان کو ہر سال ٹرمینیٹ کردیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ نیا کنٹریکٹ بنا کر رکھا جاتاہے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو 10 سال سے جز وقتی ٹیچر کے طور پر پڑھا رہے ہیں۔ خیر تو یہ اساتذہ پورے طور پر غصے میں تھے اور نعرے لگارہے تھے۔ یوں تو عام آدمی کے کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے اور پولیس اور میڈیا بھی۔ اسی دوران گجیندر پیڑ پر چڑھ گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے پاس کھڑی پولیس نے اسے کیوں نہیں روکا اور چلو چڑھنے بھی دیا تھا تو جب وہاں چڑھ کر نعرے لگا رہا تھا اور پھانسی لگانے کی دھمکی دے رہا تھا تو پھر پولیس نے اس کو کیوں نہیں روکا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس نے گمچھا نکالا ،پھندہ بنایا اور وہاں موجود سارے پولیس والے تماشائی بنے کھڑے رہے۔ آپ سب نے ہر چینل پر ویڈیو ، فوٹیج دیکھی ہوگی۔ مگر ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ اسٹیج سے پیڑ صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔وہاں پیپل کے بڑے بڑے درخت ہیں جھاڑیوں والے۔ اس کے علاوہ تھوڑی دور سیبھی صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔لیکن پولیس کو وہ پوری طرح چڑھتا ہوا اور للکارتا ہوا اور گمچھے کا پھندہ لگائے ہوئے نظر آرہا تھا پھر پولیس کیوں ایکشن میں نہیں آئی ۔
اب بقول کمار وشواس، سنجے سنگھ اور منیش سسودیا کے کہ ان کو صورت حال کا علم نہیں تھا ۔انہیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کسان ہے ۔وہ تو سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ بھی کوئی ٹیچر ہے۔ یہ تو صحیح ہے کہ اسٹیج سے وہ پوری طرح نہیں دیکھ پارہے تھے۔پر اس کی پگڑی تو ضرور نظر آئی ہوگی ۔چلئے پگڑی بھی نظر نہیں آئی پر ان میں سے کوئی ایک بھی اسٹیج سے اترکر جائے حادثہ تک کو کیوں نہیں گیا۔
لیڈروں کو تقریر کرنے کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے وہ پوری کی۔کارکنان کو بھیڑ جمع کرنے اور پُر امن رہنے کی تلقین کرنے کی ذمہ دا ری تھی ،وہ انہوں نے پوری کی ۔میڈیا کو تصویر لینے کی ذمہ داری تھی اور ویڈیو بنانے کی ،وہ انہوں نے پوری کی پر پولیس کیا کررہی تھی ۔پولیس کو صرف کھڑے رہنے کی ذمہ داری دی گئی تھی کیا؟ہر بار پولیس کا ہی رول مشکوک ہوجاتاہے۔ ہاشم پورہ میں تو پولیس نے گھروں سے نکال کر بے گناہوں کو مار ڈالا ۔یہاں وہ خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔ شاید اس لئے کہ اسے یہی حکم ملا تھا اور ہاشم پورہ میں قتل کرنے کا۔
گجیندر کی موت صرف ایک کسان کی موت تھی۔ مگر تحویل اراضی آرڈیننس کے بعد کسان لگاتار مررہے ہیں۔ آخر یہ بات حکومت کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ جو بل وہ لانے کی بات کررہی ہے،وہ ذرا بھی کسانوں کے حق میں ہوتا تو کیا کسان ناامید ہوکر جینے کی آرزو ختم کردیتا۔
آنکھوں دیکھا حال جو ہمارے نمائندوں نے بتایا ،اس میں عام آدمی پارٹی پر زیادہ الزام نہیں جاتا۔کیونکہ وہ پوری طرح اس سچویشن کی سنگینی سے واقف نہیں تھے ۔پھر بھی کجریوال نے معافی مانگی اور کہا کہ ہماری غلطی ہے ۔ہمیں ریلی روک دینی چاہئے تھی۔ آشوتوش پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ۔ اب یہ سیاست کا کھیل شروع ہوگیا کہ کجریوال تو معافی مانگتے رہتے ہیں ۔کیا آشوتوش مگرمچھ کے آنسو بہا رہے تھے ۔ہم یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ آخر کسان کی موت کا الزام کس پر لگائیں اورکیوں؟ کیا عام کسانوں کی حالت زار بتانے اور ان کی مایوسی اور نامرادی بتانے کے لئے کسی کسان کا ہزاروں کی بھیڑ کے سامنے خود کشی کرنا ضروری ہے۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ فصل خراب ہوگئی ہے۔ کسانوں کے بچے بھوکوں مررہے ہیں پھر حکومت کو کون روک رہا ہے صحیح معاوضہ دینے سے۔
بحث کا مدعا تو یہ ہونا چاہئے کہ کسانوں کی بد حالی کیسے دور کی جائے۔ کسانوں کو سودخور زمینداروں کے چنگل سے کیسے بچایا جائے؟آنکھوں دیکھی سنانے والے ہمارے نمائندوں کا یہ کہنا تھا کہ جب گجیندر پیڑ پر جھول گیا تب بھی اروند کجریوال ، کمار وشواس اور سنجے سنگھ کو صحیح صورت حال کا علم نہیں تھا اور وہ چیخ چیخ کر تمام کارکنا ن سے اس شخص کو ایسا نہ کرنے کے لئے کہہ رہے تھے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس کو پیڑ سے اتارنے والے بھی آپ کے ہی کارکنان تھے۔ دہلی پولیس کے جوان ہاتھ باندھے کھڑے رہے۔ انہوں نے اس کو اتارنے کے لئے سیڑھی تک نہیں لگائی۔ حیرت کی بات ایک اور ہے کہ گجیندر کا سوسائڈ نوٹ پولیس کے ہاتھ نہ لگ کر میڈیا کے ہاتھ لگ گیا۔ پولیس اگر صرف تماشا دیکھنے کی حد تک ہی وہاں موجود تھی تو پھر پولیس کمشنر کو یہ بات بھی واضح کرنی چاہئے کہ پولیس اس کی ذمہ دار کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ جوائنٹ کمشنر سے جب عام آدمی پارٹی کے کارکنان گجیندر کو درخت سے اتارنے کی بات کررہے تھے تو انہوں نے لاپرواہی سے یہ کہہ کر منہ موڑ لیا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ملک کی راجدھانی کے دل میں پارلیمنٹ سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری پر ایک کسان اپنی تکلیف ، بے بسی کا احساس کرانے کے لئے صرف اس لئے آتا ہے کہ شاید اس سے بڑا موقع نہ مل پائے مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی اہمیت اس کے مرنے کے بعد ہی ہوگی ۔وہ تو بے چارہ سوچ رہا ہوگاکہ اسے کوئی نہ کوئی بچا لے گا اور اسی طرح وہ کسانوں کادرد بھی پہنچا دے گا مگر بے حسی کا یہ عالم ہوگا، اس کا شاید اسے بھی علم نہ ہو۔ پر ایک بات تو ہوئی کہ تمام پارٹیوں کو مرتے مرتے اس نے سیاسی شعبدہ بازی کرنے اور گھٹیا الزام تراشی کرکے خود کو ہمدرد ثابت کرنے کا موقع ضرور فراہم کردیا ہے ۔ہمارا یہ ماننا ہے کہ ابھی بھی کسانوں کے لئے متحد آواز نہیں اٹھ رہی ہے ۔کسانوں کے سرکردہ لیڈران کو خود متحد ہوکر آواز اٹھانی چاہئے۔کیونکہ سیاسی پارٹیاں تو ان کے جیتے جی کچھ کرنے والی نہیں ہیں وہ تو ان کے زندہ رہتے ہوئے بھی اور مرنے کے بعد بھی صرف ایک دوسرے پر الزام لگائیں گی اور ہر موت پر خود کشی ان پارٹیوں کے لئے کھیلنے کا بہترین ذریعہ ہوگی اور لاشوں پر سیاست کرنا ہی ان پارٹیوں کا مشغلہ ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *