نیپال زلزلے کی کہانی عینی شاہدین کی زبانی ، سامنے سے گزرا موت کا منظر

گزشتہ 25اپریل کی دوپہر کو نیپال کے زلزلے سے جو بھی بچ کر نکلا ہے، وہ یہی کہہ رہاہے کہ ہم نے ایک گلزار جگہ کو ویران بنتے دیکھا ہے۔ہر اس آدمی کے سامنے موت کا وہ منظر ہے جو اس نے ان دردناک لمحوں میں دیکھا تھا ۔ جو بھی نیپال کے اس خوفناک حادثے سے گزر کر ہندوستان لوٹ کر آیا ہے، وہ جب بات کرتا ہے تو موت کا منظر سامنے گھومنے لگتا ہے۔1934کے بعد نیپال میں آئے اس تباہ کن زلزلے نے اس غریب ملک کو دسیوں سال پیچھے دھکیل دیاہے۔ کاٹھمنڈو میں شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا ہوگا جہاں سے لاشیں نہ نکل رہی ہو۔مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ آریہ گھاٹ پر آخری رسومات کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔

Read more

مسلمانوں کے مسائل، نوجوانوں کی گرفتاریاں، بے شمار سوالات مگر جواب کسی کے پاس نہیں

ایک کرم فرما سے مسلمانوںکے مسائل پر لگاتار بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ بڑے جانور کی ذبیحہ پر روک لگانے کے لئے مہاراشٹر کے فیصلے پر وہ محترم میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ میں نے تلخ لہجہ میں ان سے کہا دیکھئے پھر الجھا دیا مسلمانوں کو ایک نئے مسئلہ میں۔ ارے مسلمانوں کو ان مسائل سے اوپر اٹھنے دو ۔ان کو اب بابری مسجد، گجرات فساد، ہاشم پورہ، ملیانہ سے اوپر اٹھ کر سوچنے دو ان کی نئی نسلوں کو اب صرف اور صرف تعلیم چاہئے، مسلم نوجوانوں کوجامعہ ملیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار سے زیادہ ان اداروں میں داخلے لینے اور اپنی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بڑے جانوروں کی ذبیحہ ہو یا چھوٹے

Read more

صاحبو، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی

پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت چلانے کے طریقے کو لے کر، خاص کر حکومت کے اجزاء کے اندر اس کی ساکھ کو لے کر ایسے نشانات نظر آنے لگے ہیں، جو تشویش پیدا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو لیتے ہیں۔ عام طور پر لوک سبھا یا راجیہ سبھا کے ممبران صرف اور صرف ٹیلی ویژن کی خبروں پر ہی

Read more

پاکستان کی مخالفت کے بعد کشمیری پنڈتوں کی واپسی ہوئی مزید مشکل

پاکستان نے حکومت ہند کے مجوزہ منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے لیے علاحدہ بستیاں قائم کرنا مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے۔ 30 اپریل کو پاکستانی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان تسنیم اسلم نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’’متنازع خطے میں اس طرح کا کوئی بھی قدم قابل مذمت ہے۔ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں میں واضح طور پر اس خطے کی ہیئت اور حیثیت کا اعلان کیا ہے۔‘

Read more

مراٹھواڑہ : موت کے دہانے پر کسان

ضلع ہیڈکوارٹر عثمان آباد سے پندر کلومیٹر دور ایک گاؤں ہے روئی بھر۔ 11 دسمبر، 2014 کو بابا صاحب مانک جگتاپ نے اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ جگتاپ کو کانوں سے کم سنائی دیتا تھا۔ فیملی میں اس کی جسمانی طور پر معذور بیوی انیتا سمیت تین بیٹیاں، کاجل، اسنیہل اور جیوتسنا اور ایک بیٹا پرمود ہے۔ مانک جگتاپ کی بوڑھی ماں کیسر بائی اکثر بیمار رہتی ہے۔ اس فیملی کے پاس صرف سوا بیگھہ زمین ہے۔ بڑی بیٹی

Read more

ایک کسان کی خودکشی سبھی پارٹیوں کی چاندی

سیاست ایک گندا کھیل ہے۔پر کیوں؟ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہی سوال گونجتا رہا جب تک کہ ہم شعور کی اس حد تک نہیں پہنچ گئے جب تک خود تھوڑے بہت سیاسی دائوں پینچ کھیلنے نہیں آگئے۔لیکن ہماری سیاست میں تو معصومانہ سی ایک خواہش اچھی سی نوکری اور چھوٹے موٹے عہدے تک محدود رہی۔سیاست دانوں کی عقل اور ان کے سیاسی شعور کو ہمارا دماغ کہاں پہنچ سکتا تھا بھلا۔ کیونکہ کوئی ایسا موقع ،کوئی ایسا حادثہ ،کوئی ایسا سانحہ ہمیں یاد نہیں آتا کہ ہمارے سیاست دانوں نے جس کو کیش نہیں کیا ہو۔پھر وہ ایک کسان کی موت پر کیوں خاموش بیٹھتے ۔آخر گجیندر کو کس نے مارا یہ سوال پوچھنا ایک حماقت ہی تو ہے۔

Read more

سنگھ کی تشویش کے معنی

آر ایس ایس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو لے کر کچھ تشاویش ابھر رہی ہیں اور یہ تشاویش سنگھ کی نظر میں اہم ہیں۔ سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ کے اس بیان پر سب سے زیادہ حیرانی ہوئی، جو انتخاب میں وزیر اعظم نریندر مودی یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کی شکل میں آیا۔امت شاہ نے کہا کہ انتخاب میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں اور ان باتوں کا کوئی مثبت مطلب نہیں ہوتا۔ یہ انتخابی جملے ہیں اور یہ بات انھوں نے کالا دھن واپس لانے کے ضمن میں کہی تھی۔ سنگھ کو لگتا ہے کہ امت شاہ نے یہ بیان جس جذبے کے تحت دیا، اسی جذبے کے تحت اب اروند کجریوال نے کہا ہے کہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں میں صرف 40یا 50فیصد وعدے ہی پورے ہوتے ہیں۔

Read more

بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے

سنتوش بھارتیہ
نام سنجے ونائک جوشی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر ہیں یا نہیں، پتہ نہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے جڑے ہوئے ہیں، یہ یقینی بات ہے۔ الزام ہے کہ ان سے بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے کارکن زیادہ ملنے آتے ہیں۔ ان کے اوپر یہ بھی الزام ہے کہ ان سے مرکزی حکومت کے وزیر، ریاستی حکومتوں کے وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی اکائیوں سے وابستہ بڑے نام اکثر ملنے آتے ہیں۔ آخری الزام یہ ہے کہ سنجے ونائک جوشی بھارتیہ جنتا پارٹی میں بہت چھوٹے، لیکن متوازی اقتدار کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

Read more