اردو دشمنی کا نیا طریقۂ کارآپ تو ایسے نہ تھے

ڈاکٹر وسیم راشد
اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے میں مرکزی حکومت مصروف ہے، یہ بیان اقلیتی امور کی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کا ہے۔ہوسکتاہے نجمہ ہپت اللہ صحیح کہہ رہی ہوں لیکن ہم ان کے اس بیان کو کیسے تسلیم کریں جبکہ اقلیتوں کے ساتھ ان کی مادری زبان کو لے کر ہی ناانصافی کی جارہی ہے۔ ایک ہی دن دو متضاد خبروں پر ہماری نظر پڑتی ہے تو نجمہ ہپت اللہ کے اس بیان میں صرف سیاسی شعبدہ بازی اور و عدے وعید کے سوا کچھ نظر نہیں آتاہے کیونکہ اس دن یہ بھی خبر ملتی ہے کہ نئے داخلہ فارم سے تیسری زبان کا آپشن ختم کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس خبر سے اردو والوں کو سخت دھکا لگا ۔مجھے یاد ہے جب میں بحیثیت اردو استاد کے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی تھی اور 10ویں جماعت کے CBSE کے فارم بھرنے کے لئے آتے تھے تو اس میں ایک تیسری زبان کا آپشن ہوتا تھا جس میں یوں تو سنسکرت اور پنجابی زبان بھی شامل تھی لیکن مسلم طالب علم اگر دسویں میں پہلی زبان انگریزی ،دوسری ہندی لے بھی لیتے تھے تو آپشن میں اردو زبان بھر دیا کرتے تھے۔اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ اردو زبان کا بھی ان کا خواب پورا ہوجاتا تھا اور ہندی دسویں تک پڑھنے سے کسی طرح کی سرکاری نوکری میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی تھی۔
اصل میں یہ بھی ایک ستم ظریقی ہے کہ نہ تو کوئی سرکار یا بورڈ کی طرف سے ایسی کوئی ہدایات ملتی ہیں کہ دسویں میں ہندی کا سرٹیفکیٹ سرکاری نوکریوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر خدا جانے اس غلط فہمی یا خوف کی جڑیں کتنی گہری ہیں کہ آج تککسی حکومت کی طرف سے مختلف سرکاری نوکریوں کے لئے یا ایجوکیشن پالیسی میں ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ایسا کوئی بھی حکم نامہ نہ آنے کے بعد بھی یہ بات اتنی مشہور ہوگئی ہے کہ مسلم بچے بھی نویں اور دسویں جماعت میں ہندی ہی لیتے ہیں۔چاہے وہ اردو آٹھویں جماعت تک پڑھتے رہے ہوں اور چاہے ان کی کتنی بھی خواہش کیوں نہ ہو چاہے وہ مستقبل میں اردو کے تعلق سے ہی کوئی کورس کرنے کے بارے میں کیوں نہ سوچتے ہوں ،سرکاری نوکری نہ ملنے کا خوف اتنا بڑھ چکا ہے کہ اردو میڈیم کے طلباء تک اردو نویں دسویں میں نہیں لیتے لیکن جب انہیں اردو کا آپشن ملتا تھا تو وہ خوشی خوشی اس آپشن کا فائدہ اٹھاتے تھے بھلے ہی گھر بیٹھ کر یا ٹیوشن پڑھ کر ہی تیاری کیوں نہ کریں۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ مودی سرکار کے آتے ہی مختلف اداروں میں آر ایس ایس کے لوگ سربراہ بنادیئے گئے ہیں۔ NBT کے چیئر مینم سیتھوما دھون جو کہ ملیالم کے مشہور ادیب بھی ہیں۔ان کو ان کی مدت کار ختم ہونے سے پہلے ہی ہٹا کر بلدیو شرما کو جو کہ آر ایس ایس کے مائوتھ پیس کہے جاتے ہیں ،ان کو نیا چیئر مین بنادیا گیا ۔ظاہر ہے بلد یو شرما کو لانا آر ایس ایس کی بھر پور نمائندگی کو ظاہر کرتاہے ۔ اسی طرح قومی اردو کونسل میں بھی آر ایس ایس کے پرانے حامی مظفر حسین کو وائس چیئر مین بنادیا گیا۔ آہستہ آہستہ مودی سرکا راپنے اصلی روپ میں آتی جارہی ہے ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے مفاد کے لئے کانگریس ، بی جے پی اور سبھی سرکاریں ایک جیسا سلوک کرتی رہی ہیں۔ کانگریس کے وقت میں یو پی ایس سی سے عربی اور فارسی کو ختم کردیا گیا جبکہ پورے ہندوستان سے عربی اور فارسی سے یو پی ایس سی سے کا میاب ہونے والے آفیسرس کی ایک لمبی لسٹ ہے۔کسی بھی بڑی تنظیم یا ادارے نے اس کے خلاف بھی آواز نہیں اٹھائی تب بھی ’چوتھی دنیا‘ نے ہی اس فیصلے کے خلاف اپنے اخبار میں لکھا۔ میں نے بھی اداریہ لکھ کر مختلف تنظیموں اور سربراہان سے اپیل کی کہ خدارا اس فیصلے کے خلاف سڑک پر آجائیے ،پرامن مظاہرے کیجئے ۔کچھ بھی کیجئے مگر حکومت کو باور کرا دیجئے کہ آپ مسلمانوں کے حقوق سلب کرتے جائیں گے،ایسا ہم ہونے نہیں دیں گے۔ لیکن کیا ہوا؟ اگر مظاہرہ کسی نے کیا تو وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء نے کیایا جامعہ ملیہ کے طلباء نے ،مگر نقار خانہ میں طوطی کی کون سنتا ہے یہ صدا بھی بازگشت بن کر رہ گئی۔
ایسا لگ رہا ہے کہ داخلہ فارم میں اردو آپشن ختم کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کو نفسیاتی دبائو میں رکھا جائے ۔جب سے بی جے پی حکومت وجود میں آئی ہے تب سے مسلمانوں کے خلاف نہ صرف زہر اگلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے بلکہ ایسی پالیسیاں بھی اپنائی جارہی ہیں جس سے اقلیتی فرقہ سخت تشویش میں مبتلا ا ہوگیا ہے۔
دہلی میں آپ پارٹی کی حکومت ہے ۔منیش سسودیا وزیر تعلیم ہیں ۔ دہلی میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے مگر بی جے پی کے ساتھ ساتھ آپ پارٹی بھی اقلیتوں سے دشمنی کرنے پر کمربستہ نظر آرہی ہے۔ کانگریس نے دس سالوں میں دہلی میں اردو زبان سے جو دشمنی کی ،اس سے نہ صرف اردو میڈیم اسکولوں کو نقصان ہوا بلکہ اردو زبان کے اساتذہ اورنصاب بھی وقت پر دستیاب نہ ہوسکے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں پورے پورے سال اردو کی کتابیں نہیں مل سکیں۔ اردو اساتذہ کا تقرر نہیں ہوسکا ۔اردونصاب کے لئے این سی ای آر ٹی میں پبلی کیشن ڈپارٹمنٹ سے 8اردو کی پوسٹ ختم کردی گئیں۔
انگریزی میڈیم اسکولوں میں سوائے ڈی پی ایس متھرا روڈیا دو ایک اسکولوں میں تیسری زبان اردو پڑھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔انجمن ترقی اردو ہند اور دوسری اردو کی تنظیموں نے اس طرف کوئی خاطر خواہ توجہ ہی نہیں دی کہ انگریزی میڈیم اسکولوں میں تیسری زبان سنسکرت کے ساتھ اردو کا بھی آپشن دیا جائے ۔ظاہر ہے جب کوئی کہنے سننے والا ہی نہیں رہا اور خود اردو والے بھی بے حسی کا مظاہرہ کرنے سے نہیں چوکے تو سرکار یں بھی لاپرواہ ہوگئیں۔
مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوجاتاکہ کانگریس کے وقت میں اردو دشمنی کا لیول کتنا تھا اور بی جے پی کے وقت میں یہ دشمنی کتنی بڑھی یا گھٹی ، مسئلہ دہلی کی اس وقت کی آپ پارٹی کی اردو دشمنی کا بھی نہیں ہے۔مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک واضح پالیسی اردو زبان کو لے کر ابھی تک وضع نہیں کی گئی ہے۔ابھی تک جبکہ اردو زبان کا داخلہ فارم اور ایگزامنیشن فارم میں آپشن تھا تو اچانک یہ فیصلہ کیوں کیا گیا۔یہ سوال اٹھانے کے بجائے بیان بازی زیادہ کی جارہی ہے۔ایک بار سبھی ادارے اور تنظیمیں اور دہلی اردو اکادمی مل کر یہ سوال کیوں نہیں کرتیں کہ واضح پالیسی کیا ہے؟کیا واقعی اردو زبان پڑھ کر سرکاری نوکریاں نہیں مل پائیں گی؟یا اردو زبان کا وجود ہی اسکولوں کالجوں سے ختم کرنامقصود ہے کیونکہ جب اسکولوں میں ہی اردو زبان پڑھائی، سکھائی نہیں جائے گی تو پھر کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اردو کے طالب علم کہاں سے ملیں گے؟ ریسرچ کے طالب علم کہاں سے آئیں گے؟ پی ایچڈی کرنے والے طلباء کہاں سے ملیں گے؟
مجھے پورے ملک کا تو علم نہیں لیکن دہلی کے بارے میں ،میں اردو دشمنی کی لاتعداد مثالیں پیش کرسکتی ہوں ۔سرکاریں کوئی بھی رہی ہوں لیکن اردو کے ساتھ سب کا سلوک ایک جیسا ہے۔
اسکولوں میں اردو زبان کے لئے مختلف افواہیں جو باربار طلباء کو اس زبان کے لینے سے روکتی ہیں۔ اس کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہ ہونا اردو دشمنی ہے۔
اردو اساتذہ کا تقرر نہ ہونا اور اردو میڈیم اسکولوں میں مختلف مضامین کے لئے ہندی اساتذہ کا تقرر ہونا اردو دشمنی ہے۔
اردو کی نصابی کتابوں کا وقت پر تیار نہ ہونا اردو دشمنی ہے۔انگریزی میڈیم اسکولوں میں اردو زبان کا آپشن نہ دے کر سنسکرت پڑھانے کے لئے مجبور کرنا اردو دشمنی ہے۔
اردو کے اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر اردو زبان و ادب کے ماہرین اور اردو داں حضرات کا تقرر نہ ہوکر حکومت کے پسندیدہ غیر اردو داں حضرات کا تقرر کیاجانا اردو دشمنی ہے۔
ڈی ڈی اردو، اور آل انڈیا ریڈیو وغیرہ پر غیر اردو داں حضرات کو رکھنا کیا اردو دشمنی ہے۔
ابھی تو میں ایسی لاتعداد مثالیں دے سکتی ہوں مگر اس اداریہ میں بس اتناہی ۔باقی اردو کے تعلق سے جو سوتیلا پن برتا جارہاہے اس پر اور بھی تفصیل سے بات چیت ہوتی رہے گی، پر خدارا اردو کے نام پر حلوہ مانڈہ کھانے والو! کچھ تو اکسو کچھ تو بولو۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *