راہ سے بھٹک گئی عام آدمی پارٹی

p-2پورے مارچ مہینے کے دوران اور اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے اندر جو کچھ بھی ہوا اور ہو رہا ہے، وہ اس پارٹی کے سوراج، شفافیت اورپاک و صاف سیاست کے دعوے کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔موجودہ واقعات سے یہ پیغام گیا کہ عام آدمی پارٹی ایک شخص پر مرکوز پارٹی ہے۔عام آدمی پارٹی کی دلیل ہے کہ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے خلاف کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ وہ پارٹی کو الیکشن میں ہرانا چاہتے تھے اور انھوں نے شانتی بھوشن کے ساتھ مل کرپارٹی کو ہرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ٹھیک ہے، اگر ان کے خلاف پختہ ثبوت تھے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی ہی چاہیے تھی۔ لیکن اسی دلیل کی بنیاد پر پھر کجریوال کے خلا ف کارروائی کیوں نہیں ہونی چاہیے؟ جبکہ انھوں نے ڈنکے کی چوٹ پر ایک اسٹنگ میں یہ کہا تھا کہ وہ پارٹی توڑ کر اپنے 67ایم ایل ایز کے ساتھ مل کر ایک نئی پارٹی بنا لیں گے۔ واقعات کے دوران کجریوال نے یہ پیغام دیا کہ پارٹی میں کیا ہوتا ہے، اس سے ان کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس لیے قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ (4مارچ) کے دوران وہ علاج کروانے بنگلور چلے گئے۔ دوسری طرف میٹنگ یعنی نیشنل کونسل کے دوران اپنی بات کہہ کر چلے گئے۔
اس کے علاوہ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کو جس طریقے سے نکالاگیا وہ طریقہ بھی ٹھیک نہیں تھا۔ یقینی طور پر اس سے پارٹی کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔ کچھ اور سوال ہیں جن کا جواب پارٹی کو دینا ہوگا۔ گروپ بندی ہر پارٹی میں ہوتی ہے، لیکن تادیبی کارروائی ان کے خلاف ہونی چاہیے، جنھوں نے ضابطہ شکنی کی ہو یا عوام میں پارٹی کے فیصلے کے خلاف کچھ کہا ہو۔پروفیسر آنند کمار کے خلاف کیوں کارروائی کی گئی؟ یہ نہیںبتایا گیا۔ مرلنی کی ترجمان کے عہدے سے کیوں چھٹی ہوئی؟ اس کے لیے بھی ایک عجیب سا بہانہ پیش کیا گیا۔
عام آدمی پارٹی میں چل رہی اندرونی لڑائی کا سب سے خراب چہرہ نیشنل کونسل کی میٹنگ میں دکھائی دیا، جب پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کو پارٹی کی قومی مجلس عاملہ سے باہر کر دیاگیا۔ بھاری ہنگامے اور ڈرامے کے دوران آنند کمار اور اجیت جھا کو بھی قومی مجلس عاملہ سے ہٹانے کے لیے نیشنل کونسل میں تجویز پاس کی گئی، الزام تراشیاں کی گئیں۔ کجریوال کے حامیوںکے مطابق پرشانت اور یوگیندر کو اکثریت کی مرضی سے قومی مجلس عاملہ سے باہر کیا گیا، جبکہ یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ میٹنگ کے دوران ان کے حامیوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ڈسپلن کمیٹی اور قومی مجلس عاملہ سے ہٹانے کے بعد پارٹی نے ناراض نیتاؤں یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو ترجمان کے عہدے سے بھی ہٹادیا ہے۔
کاپس ہیڑا میں کونسل کی میٹنگ شروع سے ہی ہنگامہ خیز رہی۔ میٹنگ شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع ہوگیا، وہاں پر یوگیندر یادو کے پہنچتے ہی کجریوال کے حامیوں نے نعرے بازی شروع کردی۔ ارکان کے اندر داخل ہونے پر بھی سوال اٹھے۔ یوگیندر یادو نے اس کو جمہوریت کا قتل بتایا۔ اس میٹنگ میں’ آپ‘ کے اندرونی لوک پال رام داس کو بھی کونسل کی میٹنگ میں آنے سے منع کیاگیا۔ لوک پال کی مانگ کو لے کر ملک بھر میں بڑا آندولن کرنے والے اور اسی مدعے پر پہلی بار دہلی کے سی ایم کی گدی چھوڑنے والے کجریوال نے اپنی ہی پارٹی کے اندرونی لوک پال کو ہٹادیا، وہ بھی صرف اس لییکہ رام داس نے پارٹی کے پالیسی ساز مدعوں پر سوال اٹھائے تھے۔ اروند کجریوال پر اسٹنگ میں کانگریس کے ایم ایل ایز کو توڑنے اور ساتھی نیتاؤں کو گالی دینے کے الزام بھی سامنے آئے۔ اس کے بعد ’آپ‘ لیڈر میدھا پاٹکر نے ممبئی میں پریس کانفرنس کو خطاب کیا اور پارٹی سے استعفے کا اعلان کیا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوگیندر اور بھوشن کبھی بھی پارٹی کے خلاف کام نہیں کرسکتے۔
ظاہر ہے، اس پورے واقعہ کے بعد عام آدمی پارٹی کی جھاڑو کا ایک جُٹ تنکا بکھرنے لگا ہے۔ ملک میں لوک پال کی مانگ کرنے والی پارٹی نے اپنے لوک پال کو ہی بتائے بغیر نکال دیا۔ اندرونی جمہوریت کا نعرہ محض نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ سوال اٹھانے والے ہر ایک آدمی کو پارٹی سے باہر نکالا جارہا ہے۔ نئے منتخب کیے گئے تین رکنی لوک پال کے ایک اہم رکن راکیش سنہا کو مقرر کرنے کے کچھ ہی دن بعد باہر کا راستہ دکھا دیا گیا، محض اس وجہ سے کہ انھوں نے رام داس کو نکالنے کے مدعوںپر سوال اٹھائے تھے۔ یہ پارٹی لوک پال جن آندولن سے نکلی پارٹی تھی، جس نے اندرونی جمہوریت اور شفافیت پر مبنی متبادل سیاست کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن عام آدمی پارٹی کے اندرونی گھمسان میں اصولوں پر ذاتی اختلاف بھاری پڑ رہا ہے۔ تو پھر کیامتبادل سیاست کے خواب کااختتام ہوگیا؟
عام آدمی پارٹی کے اس گھمسان میں اگر کسی کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے تو وہ عام آدمی ہے جو اس پورے ڈرامہ میں خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ جس طرح عام آدمی پارٹی کی جوتیوں میں دال بٹی ہے اس سے دہلی کے عوام بے حد مایوس ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اب کہاں جائیں؟ g
چوتھی دنیا بیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *