کوئلہ کانوں کی نیلامی ,سب کالا ہی کالا ہے

کوئلے کی سیاہی ہی ایسی ہے کہ لاکھ ہوشیاری برتیں، ایک دو دھبے لگ ہی جاتے ہیں۔ اس بار بھی کوئلے نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ کوئلے کی سیاہی نے یو پی اے سرکار کا تخت پلٹ دیا تھا۔ سی اے جی نے ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کی بات کہی تھی، لیکن ’چوتھی دنیا‘ شروع سے اس گھوٹالے کو 26 لاکھ کروڑ روپے کا بتاتا رہا ہے۔ بہرحال، سپریم کورٹ نے سارے الاٹمنٹ ردّ کر دیے تھے۔ اب پھر سے ان کوئلہ کانوں کی نیلامی شروع ہو گئی ہے۔ کول بلاک کے الاٹمنٹ سے لاکھوں کروڑ روپے ملنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ صحیح بھی ہے۔ کئی ساری کانوں کی نیلامی کامیابی کے ساتھ ہو چکی ہے، خوب سارا پیسہ بھی مل رہا ہے۔ لیکن کوئلہ تو آخر کوئلہ ہے، لہٰذا تنازع یہاں بھی پیدا ہو گیا ہے۔ معاملہ ’گارے پالما‘ کول بلاک کے الاٹمنٹ اور پھر اسے ردّ کرنے کا ہے۔ یہ الاٹمنٹ جندل پاور کو ہوا تھا۔ وجہ بولی کم لگانا ہے، لیکن یہ سرکاری دلیل ہے۔ اسے دوسرے نظریہ سے دیکھیں، تو کئی حقائق ایسے ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے سوال ہیں، جن کا جواب ابھی تک نہیں ملا ہے۔ اور، اگر جواب مل جائے، تو شاید بدعنوانی کے نئے طریقے اور نئے صفحات ایک بار پھر ملک کے عوام کے سامنے آئیں گے۔

ششی شیکھر

mastچھتیس گڑھ کی ’گارے پالما 4/2-3‘ کول بلاک کی نیلامی ردّ کی جا چکی ہے۔ 19 فروری، 2015 کو اس بلاک کی سب سے بڑی بولی جندل پاور لمیٹڈ نے لگائی تھی۔ باقاعدہ جندل پاور لمیٹڈ کو اس کول بلاک کا الاٹمنٹ بھی ہو گیا، لیکن اس درمیان اس الاٹمنٹ کو لے کر کچھ سوال شروع ہو گئے۔ مثال کے طور پر، جہاں دیگر کمپنیوں نے اس طرح کی کوئلہ کانیں 1,000 روپے فی ٹن کی بولی لگا کر لی تھیں، وہیں جندل کو گارے پالما 4/2-3 کان بنیادی قیمت (بیس پرائس) 100 روپے سے صرف آٹھ روپے زیادہ پر مل گئی۔ اس حقیقت کو تھوڑا اور آسان طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شیڈول – 2 میں شامل کوئلہ کانوں کی بولی لگانے کے لیے سرکار نے فی ٹن 100 روپے کا بیس پرائس رکھا تھا، یعنی کوئی بھی کمپنی اس سے کم کی بولی نہیں لگا سکتی تھی۔ ایک اہم حقیقت یہ بھی ذہن میں رکھنے لائق ہے کہ کوئلے کی یہ کان شیڈول – 2 میں شامل تھی، یعنی اس کا استعمال بجلی پیدا کرنے کے لیے کیا جانا تھا۔ اب اس شیڈول میں شامل کوئلہ کانوں کی نیلامی جیتنے والی کمپنیوں کی قیمت پر غور کریں۔ توکیسڈ شمالی کان ایسار پاور ایم پی لمیٹڈ نے 1,010 (پلس 100 روپے بیس پرائس) روپے کی بولی لگا کر حاصل کی، یعنی کوئلے کی قیمت ہوئی 1,110 روپے فی ٹن۔ ٹرانس دامودر کان دُرگاپور پروجیکٹس لمیٹڈ نے 840 روپے فی ٹن کی بولی لگا کر حاصل کی۔ جے پی وینچرس لمیٹڈ نے امیلیا نارتھ کول بلاک 612، او جی ایم آر چھتیس گڑھ نے تالا بیرا -1 کان 378 روپے اور سی ای ایس سی نے سریسا ٹولی کان 370 روپے فی ٹن کی بولی لگا کر جیتی۔ لیکن، سب سے اہم اور دلچسپ بولی لگی گارے پالما 4/2-3 کان کی۔ اسے صرف 8 روپے فی ٹن (پلس 100 روپے بیس پرائس، یعنی صرف 108 روپے فی ٹن) کی بولی لگا کر جندل پاور لمیٹڈ نے حاصل کر لیا۔
اب سوال ہے کہ گارے پالما معاملے میں ایسا کیا ہوا کہ صرف 8 روپے فی ٹن کی بولی لگا کر جندل پاور نے مذکورہ کان حاصل کر لی؟ ظاہر ہے، یہ ایسا سوال ہے، جس پر تنازع ہونا طے تھا۔ لہٰذا، تنازع ہوا۔ میڈیا میں رپورٹ آئی، تو سرکار نے اس پر قدم اٹھانے کی بات کہی۔ اخیر میں قدم یہ اٹھایا گیا کہ فوری طور پر سرکار نے گارے پالما 4/2-3 کا الاٹمنٹ ردّ کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جندل نے سرکار کے اس قدم کی مخالفت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ عدالت نے ابھی اس معاملے میں اسٹے بھی دے دیا ہے۔ وزارتِ کوئلہ نے الاٹمنٹ ردّ کرنے کے بارے میں یہ کہا کہ اس کوئلہ بلاک کی بولی کم تھی۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بولی کم تھی یا پھر بولی جان بوجھ کر کم لگائی گئی تھی؟ اور اگر جان بوجھ کر، سوچ سمجھ کر بولی کم لگائی گئی تھی، تو اس کے لیے قصوروار کون ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ نیلامی میں شامل دیگر کمپنیوں نے بولی لگائی بھی یا نہیں، یا صرف جندل نے ہی بولی لگائی اور باقی کمپنیاں خاموش بیٹھی رہیں؟ بولی نہ لگانے والی کمپنیاں کون ہیں؟ کیا سرکار ایسی کمپنیوں سے بھی پوچھ گچھ کرے گی؟ ایسے بہت سارے سوال ہیں، جن کا جواب سامنے آنا چاہیے۔ لیکن، ان سارے سوالوں پر سرکار اب تک خاموش ہے۔
ویسے، یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ 108روپے فی ٹن کوئلے کی اصلی کہانی کیا ہے؟ یہ ممکن کیسے ہوا اور کیوں ہوا؟ پوری کہانی کچھ یوں ہے۔ چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ ضلع میں گارے پالما کول بلاک ہے۔ وزارتِ کوئلہ نے پاور یوز کے لیے شیڈول – 2 میں کوئلے کی 6 کانوں کو شامل کیا تھا۔ ان میں گارے پالما 4/2-3 کے علاوہ تالا بیرا – 1، سریسا ٹولی، ٹرانس دامودر، امیلیا نارتھ اور توکیسڈ نارتھ شامل ہیں۔ ان سبھی کوئلہ کانوں کی ای- نیلامی وقت پر ہوگئی۔ تالابیرا کان 478، سریسا ٹولی کان 470، ٹرانس دامودر کان 940، امیلیا نارتھ 712، توکیسڈ نارتھ 1,110 اور گارے پالما 4/2-3 ایک سو آٹھ روپے فی ٹن کی آخری بولی پر نیلام ہو گئی۔ اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ ایک ہی کام، یعنی بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک ہی شیڈول میں شامل کانوں کی قیمت میں کتنے کا فرق ہے۔ 108 روپے بنام 1,110 روپے، یعنی ایک ہی طرح کا کوئلہ کہیں 1,110 روپے فی ٹن کے حساب سے فروخت ہوا، تو کہیں 108 روپے کے حساب سے۔ دھیان دینے کی بات ہے کہ 108 روپے فی ٹن کوئلہ گارے پالما 4/2-3 کا فروخت ہوا، جسے جندل پاور لمیٹڈ نے خریدا۔ 19 فروری، 2015 کو گارے پالمان کان کی نیلامی ہوئی۔ اس کان کی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے 6 کمپنیاں کوالیفائیڈ ہوئی تھیں۔ ان میں بھی اکیلے جندل پاور لمیٹڈ کے 3 بڈ تھے۔ تین دیگر کمپنیاں تھیں اڈانی پاور مہاراشٹر لمیٹڈ، او جی ایم آر چھتیس گڑھ اِنرجی لمیٹڈ اور جندل انڈیا تھرمل پاور لمیٹڈ۔ لیکن، اس کان کے لیے بولی لگائی صرف ایک کمپنی نے۔ وہ کمپنی تھی، جندل پاور لمیٹڈ۔ اڈانی پاور مہاراشٹر لمیٹڈ نے انیشیل پرائس آفر (آئی پی او) میں 501 روپے فی ٹن کا پرائس کوٹ کیا تھا، لیکن اس نے بولی میں حصہ نہیں لیا۔ او جی ایم آر چھتیس گڑھ اِنرجی لمیٹڈ نے آئی پی او میں کوئی پرائس کوٹ نہیں کیا اور نہ نیلامی میں بولی لگائی۔ جندل انڈیا تھرمل پاور لمیٹڈ نے آئی پی او میں 505 روپے کا پرائس کوٹ کیا تھا، لیکن اخیر میں وہ بھی بولی لگانے کے عمل سے الگ رہی۔

اس طرح بولی لگانے کے پورے عمل میں بچے صرف تین بڈ، یعنی جندل پاور لمیٹڈ (64849)، جندل پاور لمیٹڈ (65465) اور جندل پاور لمیٹڈ (65479)۔ ان میں جندل پاور لمیٹڈ (65465) نے آئی پی او میں 452 روپے کا پرائس کوٹ کیا تھا، وہیں جندل پاور لمیٹڈ (65476) نے آئی پی او میں 451 روپے کا پرائس کوٹ کیا تھا، لیکن اخیر میں ان دونوں نے بھی بولی میں حصہ نہیں لیا۔ اب بچی جندل پاور لمیٹڈ (64849)۔ اس نے آئی پی او میں 450 روپے فی ٹن کا پرائس کوٹ کیا تھا۔ 19 فروری کو جب نیلامی شروع ہوئی، تب باقی کمپنیوں نے بولی نہیں لگائی اور اکیلے جندل پاور لمیٹڈ (64849) نے بولی لگاتے ہوئے 108 روپے فی ٹن (اس میں بولی صرف 8 روپے کی ہی لگی، کیوں کہ 100 روپیہ بیس پرائس تھا) کے حساب سے یہ کان حاصل کر لی۔ غور طلب ہے کہ گارے پالما 4/2-3 کان کا ریزرو زیادہ ہے (یعنی کوئلہ اس میں زیادہ ہے)۔ پھر بھی اس کے لیے اتنی کم بولی لگی اور باقی دیگر کمپنیوں نے بولی ہی نہیں لگائی۔ ایک اور اہم حقیقت یہ کہ 19 فروری کو صبح 11 بجے اس کی نیلامی کا عمل شروع ہوا اور 12 بج کر 21 منٹ پر ختم بھی ہو گیا، یعنی یہ نیلامی دو گھنٹے سے بھی کم چلی۔ دوسری جانب، تالا بیرا – 1 جیسی کان کے لیے صبح 11 بجے سے رات کے 8 بجے تک نیلامی کا عمل چلا اور اسے او جی ایم آر چھتیس گڑھ نے 100 روپے بیس پرائس پر 378 روپے کی بولی لگا کر کل 478 روپے فی ٹن کے حساب سے حاصل کیا تھا۔ آخر گارے پالما معاملے میں ایسا کیا ہوا تھا کہ نیلامی کا عمل محض دو گھنٹے میں ختم ہو گیا؟ ظاہر ہے، اس سوال کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی تو ضرور چھپی ہوئی ہے۔ اب اس کا جواب کب سامنے آتا ہے، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ اس بار پاور سیکٹر کی کوئلہ کانوں کی نیلامی کا عمل کافی جارحانہ تھا۔ ایک ایک کان کے لیے کئی کئی کمپنیوں نے گھنٹوں تک بولی لگائی۔ ایسے میں گارے پالما 4/2-3 کے لیے صرف ایک کمپنی کے ذریعے بولی لگانا شک تو پیدا کرتا ہی ہے۔ یہ سمجھ سے پرے ہے کہ آخر باقی کمپنیوں نے بولی کیوں نہیں لگائی؟ چھوٹے ریزرو والی کانوں سے جہاں سرکار کو زیادہ سے زیادہ پیسہ ملا ہے، وہیں گارے پالما 4/2-3 (جس کا ریزرو بہت زیادہ ہے) کے لیے اتنا کم پیسہ کیوں ملا؟ تالا بیرا – 1 کان او جی ایم آر چھتیس گڑھ کو ملی اور یہ کان اس کی کوئلہ ضرورت کو 5.45 فیصد ہی پورا کرتی ہے، لیکن او جی ایم آر نے گارے پالما 4/2-3 کے لیے اِنیشیل پرائس آفر میں زیرو روپیہ پرائس کوٹ کیا تھا اور وہ نیلامی کے عمل میں بھی شامل نہیں ہوئی۔ سوال ہے کہ کیا اسے اور کوئلے کی ضرورت نہیں تھی؟ کیا گارے پالما کان او جی ایم آر چھتیس گڑھ کے لیے اہم نہیں تھی؟ اگر اسے گارے پالما کان مل جاتی، تو اس کی کوئلہ ضرورت آسانی سے پوری ہو سکتی تھی، لیکن پھر بھی اس نے نیلامی کے عمل سے باہر رہنا کیوں ضروری سمجھا؟
اسی طرح گارے پالما 4/2-3 کان کی نیلامی میں اگر اڈانی پاور مہاراشٹر لمیٹڈ نے حصہ لیا ہوتا اور اسے یہ کان مل جاتی، تو اس کی کوئلہ ضرورت کا 93 فیصد حصہ پورا ہو سکتا تھا۔ اور، اگر جندل انڈیا تھرمل پاور لمیٹڈ نے نیلامی میں حصہ لیا ہوتا، تو اس کی کوئلہ ضرورت کا 98 فیصد حصہ پورا ہو سکتا تھا۔ اب سوال ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ ان کمپنیوں نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بجائے جندل پاور لمیٹڈ کے لیے یہ کوئلہ کان چھوڑ دی؟ وہ بھی ایسا تب ہوا، جب ان کمپنیوں کو معلوم تھا کہ نیلامی کے عمل میں حصہ نہ لینے پر ان کی ضمانت کی رقم، جو کروڑوں میں تھی، ضبط ہو جائے گی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کے لیے ان کمپنیوں کے درمیان اندرونِ خانہ کوئی معاہدہ ہوا تھا؟ ویسے، سرکار نے اب تک یہ تو نہیں کہا ہے کہ ان سب کے پیچھے ایسا کچھ ہوا ہے، جو قاعدے سے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن، سرکار نے یہ ضرور مانا کہ اس معاملے میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال تو سرکار نے الاٹمنٹ ردّ کر دیا ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا اس راز سے پردہ اٹھے گا کہ آخر جندل پاور لمیٹڈ کے علاوہ باقی تین کمپنیوں نے اپنی ضرورت کو درکنار کرتے ہوئے نیلامی کے عمل میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ ظاہر ہے، اگر سرکار اس معاملے کی پوری جانچ کرائے، تو ایسے کئی راز کھل سکتے ہیں، جو بدعنوانی کے نئے طریقوں کو سامنے لائیں گے۔ ایسے طریقے، جو ایک ایماندارانہ طریقہ اپنائے جانے کے بعد بھی بدعنوانی کے نئے راستے بنا دیتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *