ہس دیو آرند : کول بلاک الاٹمنٹ کے خلاف کھڑے ہوئے مقامی لوگ

ششی شیکھر
p-3bہس دیو اَرند علاقے میں بیش قیمتی معدنی ذخائر اور گرام سبھاؤں کی تجویز کو نظر انداز کرکے کیے گئے کول بلاک الاٹمنٹ کی مخالفت میں وہاں کے مقامی باشندے پھر سے کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ الاٹمنٹ ردّ کیے جائیں۔ مرکزی وزیر کوئلہ کے ذریعے پانچویں شیڈول ایریا کی گرام سبھاؤں کی تجویزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کول بلاک الاٹمنٹ کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ 24 مارچ، 2015 کو وزیر کوئلہ کے ذریعے ہس دیو اَرَند کول فیلڈ میں پرسا، پتوریا ڈانڈ اور گدھ مڑی کول بلاکوں کا الاٹمنٹ کیا گیا ہے، جب کہ پرسا کوئلہ بلاک سے متاثرہ گاؤں فتح پور، ہریہر پور، سالہی، گھات برہ کی گرام سبھاؤں نے پہلے ہی گرام سبھا کی خصوصی میٹنگ بلاکر کوئلہ بلاکوں کے الاٹمنٹ یا نیلامی کی مخالفت کی تھی۔ اسی طرح پتوریا ڈانڈ اور گدھ مڑی گاؤں کی گرام سبھاؤں نے بھی گرام سبھا کی خصوصی میٹنگ بلا کر بلاکوں کے الاٹمنٹ کو روکنے کی تجویز پاس کرکے اسے وزارتِ کوئلہ کو بھیجا تھا۔
چھتیس گڑھ کے کوربا، سرگوجا اور ائے گڑھ ضلعوں میں واقع ہس دیو اَرند علاقہ گھنے جنگلوں اور آدیواسیوں کی اکثریت والا علاقہ ہے، جو آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت آتا ہے۔ یہاں پر رہنے والے آدیواسیوں کا ذریعہ معاش، کلچر اور طرزِ زندگی پوری طرح سے جنگل اور کاشت کاری پر ہی منحصر ہے، جن کا تحفظ وہ نسلوں سے کرتے آئے ہیں۔ یہ پورا جنگل معدنیاتی اور نباتیاتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہ کئی قسم کے جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ بھی ہے۔ اس لیے یہ علاقہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے، بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی یہ کافی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2009 میں اس پورے کول فیلڈ کو کانکنی کے لیے ’نو گو ایریا‘ قرار دیا گیا تھا۔ موجودہ مرکزی سرکار کے ذریعے ’نو گو ایریا‘ کی شرط کو ختم کرتے ہوئے اب یہاں پر دوبارہ کول بلاکوں کا الاٹمنٹ شروع کر دیا گیا ہے۔
ہس دیو اَرند میں واقع پرسا ایسٹ اور کیتے باسن کول بلاک میں کانکنی کی منظوری کو گرین ٹریبونل نے 24 مارچ، 2014 کو خارج کر دیا تھا۔ حالانکہ، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اور عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے کوئلہ بلاکوں کا الاٹمنٹ مرکزی حکومت کی جلد بازی اور کارپوریٹ حامی منشا کو واضح کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ’چھتیس گڑھ بچاؤ آندولن‘ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہس دیو اَرند علاقہ میں الاٹ کیے گئے کوئلہ بلاکوں کو فوراً ردّ کیا جائے اور پورے ہس دیو اَرند علاقہ کو کانکنی سے پاک رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی وزارتِ ماحولیات و جنگلات کے ذریعے کوئلہ بلاکوں کے اِنوائلیٹ اور ناٹ اِنوائلیٹ کے تعین کے لیے کروائی گئی اسٹڈی رپورٹ کو بھی عام کرکے یہ بتانا چاہیے کہ کن پیمانوں کی بنیاد پر ہس دیو اَرند علاقہ میں کانکنی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ’چھتیس گڑھ بچاؤ آندولن‘ ہس دیو اَرند علاقہ کے لوگوں کے ساتھ مل کر آنے والے دنوں میں کول بلاک الاٹمنٹ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
دراصل، چھتیس گڑھ کے ہس دیو اَرند علاقہ کی تقریباً 20 گرام سبھاؤں نے ایک تجویز پاس کرکے یہ صاف کر دیا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں ہونے والے کول بلاک الاٹمنٹ اور کوئلہ کی کانکنی کی مخالفت کریں گے۔ غور طلب ہے کہ پچھلی بار جب کول بلاک الاٹ کیے گئے تھے، تب 218 کوئلہ بلاکوں میں سے 30 فیصد بلاک صرف چھتیس گڑھ میں الاٹ کیے گئے تھے۔ چھتیس گڑھ کے سرگوجا اور کوربا میں پھیلے ہس دیو اَرند علاقے میں تقریباً 30 کوئلہ بلاک ہیں۔ ان میں سے 16 کول بلاک پہلے جن کمپنیوں کو الاٹ کیے گئے تھے، انہیں آج تک ماحولیاتی منظوری نہیں ملی، جس کی وجہ سے وہاں کانکنی کا کام شروع نہیں ہو سکا تھا۔ البتہ، تین کول بلاک ایسے تھے، جہاں اڈانی کی کمپنی جوائنٹ وینچر کے تحت کانکنی کا کام کر رہی تھی۔ ان تین کول بلاکس کو ماحولیاتی منظوری بھی مل گئی تھی۔ حالانکہ، بعد میں نیشنل گرین ٹریبونل نے اس منظوری کو ردّ کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد یہاں بھی کانکنی کا کام رکا ہوا ہے۔
اس علاقے کی 20 گرام پنچایتوں نے گرام سبھا کی میٹنگ بلا کر ایک تجویز پاس کی تھی، جس میں گاؤں والوں نے واضح طور پر اس علاقہ میں کانکنی کے کام کی مخالفت کی تھی۔ یہاں کے آدیواسیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے علاقے میں پیسا (پنچایت ایکسٹینشن ٹو شیڈول ایریا) ایکٹ (جو آدیواسی علاقوں کو خصوصی اختیار دیتا ہے) نافذ ہے، اس لیے کسی بھی کول بلاک کے لیے تحویل اراضی سے پہلے سرکار کے لیے یہاں کی گرام سبھاؤں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ہس دیو اَرند علاقے میں بھی پیسا قانون نافذ ہے۔ گرام سبھا کی اس تجویز کے مطابق، کول بلاک کے الاٹمنٹ سے ماحولیات پر برا اثر پڑے گا اور آدیواسی بے گھر ہوں گے۔ یہ تجویز کہتی ہے کہ کسی بھی مائننگ پروجیکٹ کے الاٹمنٹ یا نیلامی سے پہلے گرام سبھا سے پیشگی منظوری حاصل کرنی ضروری ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ بایو ڈائیورسٹی سے مالا مال اس جنگلاتی علاقہ میں کسی بھی قسم کی کانکنی نہیں ہونی چاہیے۔ ہس دیو اَرند بچاؤ سنگھرش سمیتی نے اس مدعے پر وزیر اعظم، وزیر ماحولیات و جنگلات، وزیر کوئلہ اور آدیواسی معاملوں کے وزیر کو بھی خطوط لکھے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اب کول بلاک کے الاٹمنٹ اور اس کے لیے ضروری تحویل اراضی کے پورے عمل میں ان کی حصہ داری، نئے آرڈیننس (کول مائننگ؍ تحویل اراضی قانون میں نئے آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ترمیم) کے آنے کے بعد سے صفر ہو گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *