!ہاشم پورہ فیصلہ : یہ کیسا انصاف ہے

سنتوش بھارتیہ
mastبائس مئی، 1987 کی رات ہندوستان کی انسانی تاریخ کی سب سے سیاہ راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ رات سسٹم کے بد نما چہرے کو بھی دکھاتی ہے، لیکن سسٹم میں شامل کچھ لوگوں کے تئیں امید بھی پیدا کرتی ہے۔ انڈین سسٹم سے جڑے لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے والے ایک جز، پی اے سی نے جس سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہاشم پورہ اور ملیانہ سے لوگوں کو اٹھایا۔ انہیں لے کر غازی آباد کے پاس گنگ نہر کے کنارے لے کر آئے۔ انہیں لائن میں کھڑا کیا، گولی ماری اور لاشیں بہا دیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہی ہیڈنگ ’چوتھی دنیا‘ کے اُس شمارہ کی تھی، جس میں ہم نے سب سے پہلے دنیا کے سامنے یہ کہانی رکھی تھی۔ اُس وقت اِس کہانی کو کوئی بھی چھاپنے کو تیار نہیں تھا۔ اور، چھاپتا بھی کیسے؟ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ، عالی جاہ ویر بہادر سنگھ تھے اور ہندوستان کے وزیر اعظم، عالی جاہ راجیو گاندھی تھے۔ ہم نے جب اس رپورٹ کا انکشاف کرنے کا فیصلہ کیا، تب ہمیں معلوم تھا کہ ہم ہندوستانی نظام کے اُس حصے سے ٹکرا رہے ہیں، جس کے من میں جمہوریت کے تئیں کوئی احترام نہیں ہے۔ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ نے دو بار بازار سے ’چوتھی دنیا‘ کی ساری کاپیاں اٹھوا لیں۔ ہمیں پیغام بھجوایا۔ لیکن، میں اتنا ضرور کہوں گا کہ آج کی طرح کے بے رحم سیاسی لیڈر اُس وقت نہیں تھے۔ جب میں نے ویر بہادر سنگھ جی سے کہا، ’’آپ کاپیاں اٹھواتے رہیے، ہم کاپیاں چھاپتے رہیں گے‘‘، تو ویر بہادر سنگھ ہلکے سے ہنسے اور انہوں نے فون کاٹ دیا۔
21 مارچ، 2015 کو اِس کیس کا فیصلہ آیا اور اِس فیصلہ نے ہمیں بتایا کہ ہمارا عدالتی نظام بھی غیر حساس ہے۔ عدالتی نظام نے اُن سارے لوگوں کو چھوڑ دیا، جن پر اس قتل عام کو انجام دینے کا الزام تھا۔ شک کا فائدہ دیا، لیکن یہ تبصرہ نہیں کیا کہ آخر اس قتل عام کا کوئی ذمہ دار ہے یا پی اے سی کی بندوقیں اپنے آپ گرجیں، اپنے آپ لوگ مر گئے، اپنے آپ ان کی لاشیں بہہ گئیں اور جو زندہ بچ گئے، وہ جو کہہ رہے ہیں، بکواس ہے، جھوٹ ہے۔ اس پورے واقعہ کا سب سے بدنما چہرہ ہمارا میڈیا ہے۔ جیسکا لال کے قتل کو لے کر عدالت کے ذریعے اس کے اوپر کوئی دھیان نہ دینے کے خلاف ہزاروں ہزار لوگ موم بتیوں کا جلوس لے کر نکلتے رہے۔ اخباروں میں مضامین شائع ہوتے رہے اور ٹیلی ویژن کے اوپر بحثیں بھی ہوتی رہیں۔ لیکن ، غریب مسلمانوں کے اس قتل عام کو لے کر نہ تو ٹیلی ویژن پر بحثیں ہوئیں، نہ ہی اخباروں میں مضامین لکھے گئے۔ اب، جب کہ تیس ہزاری کی عدالت نے اِن لوگوں کے قتل کے ملزمین کو چھوڑ دیا ہے، تب بھی نہ تو کسی ٹیلی ویژن چینل پر بحث ہوئی اور نہ ہی موم بتی کا ایک جلوس ہی نکلا۔ شاید ہماری ہمدردیاں تقسیم ہو گئی ہیں۔ غریب مرتا ہے، تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن اعلیٰ طبقہ کی تفریح کے کام میں لگے ہوئے لوگوں میں سے اگر کسی کو باؤنسر دھکہ دے دیتے ہیں، تو وہ ٹیلی ویژن چینل اور اخباروں کی فکرمندی کا موضوع بن جاتا ہے اور پورا سماج، نام نہاد سماج مشتعل ہو جاتا ہے۔
اگر یہ انصاف ہے، تو نا انصافی کیا ہے؟ اس کا جواب نہ سپریم کورٹ دے گا، نہ محترم وزیر اعظم دیں گے۔ اس کا جواب میڈیا بھی نہیں دے گا۔ لیکن ایسے واقعات ایک بڑے طبقہ میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس ملک میں نہ تو سماج، نہ سرکار اور نہ ہی عدالتی نظام اُن لوگوں کے حق میں ہے، جو محروم ہیں اور جو اِس ملک کے 85 فیصد کا ایک بڑا حصہ ہے۔ جب میں 85 فیصد کہتا ہوں، تو میں ان لوگوں کی بات کرتا ہوں، جو ووٹ ڈالتے ہیں اور جو سرکار بناتے ہیں۔ سرکار بن جانے کے بعد اِن 85 فیصد کا رول ختم ہو جاتا ہے۔ جو اِن کا ووٹ لیتے ہیں، چاہے وہ سیاسی پارٹیوں کے لوگ ہوں یا سیاسی پارٹیوں کے حق میں لے جانے والے اِن طبقوں کے لیڈر ہوں، وہ پھر انہیں دھوکہ ہی دیتے ہیں۔
سوال مسلم تنظیموں کا بھی ہے۔ مسلمانوں کے لیڈر، مسلمانوں کی تنظیمیں، سماجی ہوں یا سیاسی، ان میں سے کسی کو اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ ہاشم پورہ کا قتل عام مسلم سماج کی فکر مندی کا مرکزی نقطہ بنے۔ ان کے لیے غریب مسلمانوں کی زندگی بیرونی ممالک میں تقریر کرنے کا موضوع تو بن جاتی ہے، لیکن ملک میں پریشانی کی وجہ نہیں بنتی۔ نہ جانے کتنے لوگوں نے ہاشم پورہ اور ملیانہ کے لوگوں کے قتل کے بعد بیرونی ممالک سے مالی امداد حاصل کی ہوں گی، لیکن وہ امدادی رقم ہاشم پورہ اور ملیانہ کے لوگوں تک نہیں پہنچی۔ وہ دہلی تیس ہزاری کورٹ تک آتے تھے، دن بھر بیٹھتے تھے اور لوٹ جاتے تھے۔ جج صاحب کہتے تھے، ایف آئی آر کی کاپی لاؤ۔ غریب مسلمان، جو تھانے سے ڈرتا ہے، وہ ایف آئی آر کی کاپی کہاں سے لے کر آئے، جب کہ اس کے مقابلے اِس نظام کا سب سے طاقتور اور ظالم جزو، پی اے سی غصے سے آنکھیں تریرتے ہوئے ہر جگہ کھڑی دکھائی دیتی تھی۔
ہاشم پورہ کے لوگوں کا درد ملک کے 16، 18 یا 20 فیصد لوگوں کا درد ہے، لیکن اُس درد کو پورا ہندوستان، ہندوستان کی سرکار اور ہندوستان کی عدلیہ اگر نہیں سمجھے گی، تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ کل غریبوں اور محروموں کے دوسرے طبقے، جن میں دلت ہیں، پچھڑے ہیں، مالی اعتبار سے غریب ہیں، ان کے ساتھ بھی نا انصافی ہوگی، تو ان کی طرف دیکھنے والا کوئی نہیں ہوگا، کیو ںکہ ہندوستانی نظام کے سارے اجزاء ان لوگوں کے حق میں کھڑے ہیں، جن کے پاس دولت بھی ہے اور سیاسی طاقت بھی۔
یہ کیس افسوسناک ہے اور عدالتی نظام کے چہرے کے اوپر ایک طمانچہ بھی۔ ایک چھوٹی سی امید ہندوستان کی عدالت عظمیٰ سے ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی نیند سے جاگتی ہے یا نہیں۔ اور، ایک سوال مسلم سماج کے رہنما بننے والے لوگوں پر بھی ہے کہ وہ اپنے اِس درد کا اظہار شدت کے ساتھ کر سکتے ہیں یا نہیں کرسکتے۔
غازی آباد کے اُس وقت کے سینئر پولس آفیسر وی این رائے مجھے یاد آتے ہیں، جو اِس واقعہ کو لے کر ’چوتھی دنیا‘ کے دفتر میں آئے تھے اور ہمارے ایک ساتھی چنچل نے اس پورے واقعہ کو وی این رائے کے ساتھ بیٹھ کر ہمیں سنایا تھا۔ ہمیں ذرا بھی دیر نہیں لگی یہ فیصلہ لینے میں کہ اس کہانی کو ہم چھاپیں گے۔ وی این رائے جیسے لوگ سسٹم میں امید کی کرن ہیں اور میرا ماننا ہے کہ اسی لاء انفورسمنٹ کے ایک افسر وی این رائے نے اپنی ہی لاء انفورسمنٹ ایجنسی، پی اے سی کے ذریعے کی ہوئی اس بے رحمانہ قتل کی سازش کو یا اِس سازش کو انجام دینے والے واقعہ کو ہمیں بتایا اور اسے دنیا کے سامنے لانے میں سب سے اہم رول ادا کیا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *