ہاشم پورہ کا ہمدرد کوئی نہیں

ڈاکٹر قمر تبریز
p-5bہاشم پورہ کے لیے آنسو بہانے والا تو دور، کوئی ہمدرد بھی نہیں مل پا رہا ہے۔ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ 21 مارچ، 2015 کو تیس ہزاری کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا کے لوگ تو میرٹھ شہر کے اُس ہاشم پورہ محلہ کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 28 سال پہلے پی اے سی کے جوانوں نے موت کا کھیل کھیلا تھا، لیکن خود کو عوام کا رہنما کہنے والے سیاست دانوں میں سے کسی ایک کو بھی اب تک وہاں جانے کی توفیق نہیں ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہاشم پورہ کے بے گناہوں کو ملی اس نا انصافی میںسبھی پارٹیاں شامل ہیں، اسی لیے کسی بھی پارٹی کا لیڈر وہاں جانے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے۔ حالانکہ، ایسا نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکن یا عہدیدار اپنے اپنے قائدین کی توجہ اس جانب مبذول نہیں کرا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی میرٹھ کے نائب صدر، محمد عمران نے کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے سونیا گاندھی سے جلد از جلد ہاشم پورہ کا دورہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عمران چاہتے ہیں کہ سونیا گاندھی ہاشم پورہ کے متاثرین کا درد خود ان کے گھر جا کر سنیں اور پھر پارلیمنٹ میں انہیں انصاف دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے سونیا گاندھی سے اس خط کے ذریعے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سپریم کورٹ کے وکیل کپل سبل اور منیش تیواری کی امداد حاصل کرتے ہوئے ہاشم پورہ کے متاثرین کو مفت قانونی مدد فراہم کریں، تاکہ ان لوگوں کو انصاف مل سکے۔ سونیا گاندھی کو یہ خط محمد عمران نے 24 مارچ، 2015 کو لکھا تھا، لیکن سونیا گاندھی کی طرف سے انہیں اب تک اس خط کا کوئی جواب نہیں ملا ہے اور نہ ہی سونیا گاندھی نے اب تک ہاشم پورہ کا دورہ کیا ہے۔
دوسری طرف ایک انگریزی اخبار کے ذریعے یہ خبر بھی آئی کہ انڈین آرمی کے ایک ریٹائرڈ افسر، لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے کہا ہے کہ وہ 22 مئی، 1987 کو میرٹھ کے ہاشم پورہ میں ہونے والے واقعہ میں آرمی کے رول کی جانچ کرانے کے لیے موجودہ آرمی چیف، جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کو ایک خط لکھیں گے۔ اسی انگریزی اخبار کے ذریعے یہ خبر بھی ملی کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ 4 اپریل کو میرٹھ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ دراصل، اپنے والد اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے نام پر میرٹھ میں بننے والے ایک میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد ڈالنے کے مقصد سے وہاں جانے والے تھے۔ ہاشم پورہ کے متاثرین کو جب یہ خبر ملی، تو انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے، اکھلیش یادو کو ایک میمورنڈم پیش کرنے کا من بنایا۔ اس میمورنڈم کے ذریعے ہاشم پورہ کے متاثرین چاہتے تھے کہ یو پی سرکار الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کرے، تاکہ انہیں انصاف مل سکے۔ حالانکہ یو پی کی موجودہ سماجوادی سرکار کی طرف سے ہاشم پورہ قتل عام کے تیس ہزاری کورٹ کے فیصلہ پر اب تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے اس بات کی بھی امید کم ہی تھی کہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو متاثرین کی اس اپیل پر کوئی دھیان دیں گے یا اس پر کوئی قدم اٹھائیں گے۔
بہرحال، ’چوتھی دنیا‘ کے اس نامہ نگار نے جب ہاشم پورہ قتل عام کیس کے عینی شاہد ذوالفقار ناصر سے فون پر بات کی، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہاشم پورہ کے دیگر متاثرین کے ساتھ مل کر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ملاقات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ (جس وقت یہ مضمون لکھا جا رہا تھا، اس وقت تک اکھلیش یادو نے میرٹھ کا دورہ نہیں کیا تھا۔) ذوالفقار ناصر نے ’چوتھی دنیا‘ کو یہ بھی بتایا کہ اسی سلسلے میں انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں ریاض الدین، محمد شکیل، عارف اور نعیم کے ساتھ یکم اپریل، 2015 کو میرٹھ کے ڈی ایم (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) پنکج یادو سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کی کہ وہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے 4 اپریل کے ان کے مجوزہ میرٹھ دورے کے دوران اُن کی ملاقات کرانے میں مدد کریں۔ بقول ذوالفقار ناصر، ڈی ایم پنکج یادو نے انہیں اور ان کے سبھی ساتھیوں کو وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرانے کا بھروسہ دلایا ہے۔ اگر ہاشم پورہ کے ان متاثرین کی ملاقات وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ہو جاتی ہے، تو ہو سکتا ہے کہ یو پی سرکار آنے والے دنوں میں ان کے حق میں کوئی بڑا فیصلہ لینے کا اعلان کرے، ایسی امید ذوالفقار ناصر اور ان کے دیگر ساتھیوں کو ہے۔ مگر ہمیں نہیں لگتا ہے کہ یو پی سرکار ہاشم پورہ کے گنہگاروں کو سزا دلانے میں کوئی سنجیدگی دکھائے گی۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتی، تو دہلی کی تیس ہزاری کورٹ سے انہیں بری نہیں کر دیا گیا ہوتا۔
مسلم لیڈروں اور تنظیموں کا حال تو اور بھی برا ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اب تک ہاشم پورہ کا دورہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی تیس ہزاری کورٹ کے فیصلہ کے بعد ان کی ماتم پرسی کی ہے، ان کے حق میں کینڈل مارچ نکالنے اور ملک بھر میں کالی پٹیاں لگا کر پرامن احتجاج کرنے کی بات تو بہت دور رہی۔ البتہ، جمعیت علماء کے صدر مولانا ارشد مدنی اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی طرف سے رسمی بیان ضرور سننے کو ملے ہیں، جن سے ان متاثرین کو انصاف دلانے میں بہت زیادہ مدد نہیں ملنے والی ہے۔
اس طرح دیکھا جائے، تو ہاشم پورہ کے متاثرین کو کوئی ہمدرد ملتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ البتہ، فوٹو جرنلسٹ پروین جین کے ذریعے 22 مئی، 1987 کو موقع واردات پر لی گئی تصویروں پر خوب بحث ہو رہی ہے۔ یہ تصویریں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ قصوروار کون لوگ ہیں اور انہوں نے کس طرح اس پورے واقعہ کو انجام دیا۔ پروین جین ان تمام تصویروں کی نگیٹو کورٹ میں جمع بھی کرا چکے ہیں۔ اگر ان تصویروں کو ہی ثبوت مان لیا جائے، تو قصورواروں کی پہچان آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ ان تصویروں میں نظر آ رہے سیکورٹی اہل کاروں کے توسط سے عدالت اس بات کا بھی آسانی سے پتہ لگا سکتی ہے کہ اُس دن 42 لوگوں کا قتل پی اے سی کے کن اہل کاروں نے کیا تھا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *