بہار: راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کی ریلی میں نہیں جما رنگ

سروج سنگھ
پٹنہ کا تاریخی گاندھی میدان 5 اپریل کو ایک بڑی سیاسی کہانی کا گواہ بننے کو بیتاب تھا، لیکن رالوسپا کی پھیکی ریلی نے گاندھی میدان کی اس حسرت کو پورا نہیں ہونے دیا۔ گاندھی میدان کے لیے خیر یہ کوئی پہلا اور نادر واقعہ نہیں تھا، اس لیے ریاست کے سیاسی گلیاروں میں اسے لے کر چرچا کا بازار نہیں سجا اور گاندھی میدان نے ریلی کے لیڈروں کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا کہ اگر میرے آنگن میں بڑی لائن کھینچنی ہو، تو کوشش بھی بڑی کرو، کیو ںکہ صرف ہوا میں تیر چلا کر اور پرانی حصولیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے سے اب کام چلنے والا نہیں ہے۔ نریندر مودی کے نام سے رالوسپا کی گاڑی چلا تو دی، لیکن اگر اسے منزل تک پہنچنا ہے، تو ہوا ہوائی دعوے کو چھوڑ کر زمین پر محنت ہر حال میں کرنی ہی ہوگی۔
p-3رالوسپا کی گاندھی میدان کی ریلی پر بات کریں، اس سے پہلے اس پارٹی کی تشکیل، اس کی تنظیم اور اس کے کام کرنے کے طریقے پر بات کرنا ضروری ہے۔ اوپیندر کشواہا نے نتیش کمار کے کام کرنے کے طریقے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے ان سے الگ ہونے اور ایک جمہوری پارٹی کھڑی کرنے کا خواب دیکھا۔ راج گیر کے جے ڈی یو اجلاس میں ہر کسی کو اوپیندر کشواہا کی وہ تقریر یاد ہوگی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ باہر کے لوگ آکر ملائی کھائیں اور پارٹی کو کھڑا کرنے والے کارکن ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہ جائیں، یہ نہیں چلے گا۔ کارکنوں کی عزتِ نفس سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور انہیں ان کا واجب حق دینا ہی ہوگا۔ اوپیندر کشواہا کی یہی بات نتیش کمار کو اتنی کھٹکی کہ اوپیندر کشواہا کو جے ڈی یو سے باہر آنا پڑا۔ لمبے عرصے سے سیاسی بیابان میں بھٹک رہے ارون کمار کو بھی اس وقت ایک مضبوط ساتھی کی ضرورت تھی اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دونوں نے ایک ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ لوک سبھا الیکشن میں پچاس ہزار سے بھی کم ووٹ ملنے کا ملال ارون کمار کو اتنا ستا رہا تھا کہ انہوں نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اوپیندر کشواہا کو رالوسپا کا قومی صدر تسلیم کیا اور خود ریاست کے سربراہ ہو گئے۔ غور طلب ہے کہ کسان مہا پنچایت کے دنوں میں اوپیندر کشواہا کے سیاسی قد کو لے کر ارون کمار کی کیا رائے تھی، یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ خیر، پارٹی بنی اور اوپیندر کشواہا نے اپنی ٹیم کے ساتھ رات دن محنت کرکے رالوسپا کو اس لائق بنایا کہ دوسری پارٹیاں ان کا نوٹس لینے لگیں۔ لوک سبھا الیکشن آتے آتے بی جے پی جیسی پارٹی کو بھی لگا کہ اوپیندر کشواہا سے سیٹوں کا تال میل کیا جائے۔ تال میل ہوا اور رالوسپا نے ملی تینوں سیٹیں پر اپنی جیت درج کی۔ پارٹی کی اصلی دقت اس کے بعد سے شروع ہوئی۔ اوپیندر کشواہا مرکز میں وزیر بن گئے اور سرکاری کام کاج اور پہلا تجربہ ہونے کے سبب زیادہ وقت دہلی میں گزارنا ان کے لیے ضروری ہو گیا۔ اوپیندر کشواہا حالانکہ بیچ بیچ میں بہار آتے رہے، مگر پہلے کی طرح پارٹی کے کاموں پر دھیان دینے میں ناکام ہو گئے۔ ریاست میں رالوسپا کو اسمبلی انتخابات کے لیے کھڑا کرنے کی ذمہ داری ارون کمار پر تھی، لیکن ان کا سارا دھیان دہلی کی سیاست میں لگا رہا۔ رالوسپا بہار میں صرف اخباری بیانوں تک محدود ہوکر رہ گئی۔ اوپیندر کشواہا نے حالات کو سمجھا، تو پھر ضلعی سطح کے اجلاس کا آغاز کیا گیا، لیکن گاڑی کا ایک پہیہ چل رہا تھا، دوسرا پہیہ یا تو چلنا نہیں چاہ رہا تھا یا پھر پنکچرڈ تھا۔ جیسے تیسے ضلعی سطح کے پروگراموں کو نمٹایا گیا اور بغیر کسی ٹھوس حکمت عملی کے گاندھی میدان کی ریلی کا اعلان کر دیا گیا۔ سبھی جانتے ہیں کہ گاندھی میدان کی ریلی کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی طاقت کا پیمانہ مانا جاتا ہے۔ اس لیے انتخابی سال میں یہ ضروری تھا کہ پوری پارٹی کو اعتماد میں لے کر ریلی کی تیاریوں میں جٹا جاتا اور ایک بڑی لائن گاندھی میدان میں کھینچنے کی کوشش کی جاتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا اور اوپیندر کشواہا اکیلے اپنی پوری طاقت جھونکتے ہوئے جو کچھ کر سکتے تھے کرنے لگے۔
اس درمیان سیما سکسینہ کی قومی سکریٹری کے طور پر دھماکہ دار انٹری نے رالوسپا کی لڑائی کو پردے کے باہر لا دیا۔ بیس سالوں سے اوپیندر کشواہا کے ساتھ رہے ناگیشور سوراج نے اس پر اپنا سخت اعتراض جتایا اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ غور طلب ہے کہ سیما سکسینہ نتیش کمار کے سب سے قریبی وزیر شیام رجک کی سالی ہیں۔ ناگیشور سوراج کا احتجاج اس بات کو لے کر تھا کہ جس پیرا شوٹ کلچر کی ہم لوگ مخالفت کرتے رہے ہیں، اب پارٹی دھیرے دھیرے اسی کو اپنانے لگی ہے۔ شری سوراج کو تو ریلی کے ٹھیک پہلے کچھ یقین دہانیوں کے ساتھ منا لیا گیا، لیکن دل میں کڑواہٹ لے کر لوٹا کارکن کیا کرے گا، یہ سب کو معلوم ہے۔ رالوسپا کے ریاستی صدر ارون کمار کو بھی سیما سکسینہ کی انٹری راس نہیں آئی اور انہوں نے اپنا سارا غصہ پارٹی کے ترجمان ابھیانند سمن پر نکال دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ارون کمار اُس ہورڈنگ سے ناراض تھے، جس میں سیما سکسینہ اور اوپیندر کشواہا کی تصویر بڑی تھی اور نیچے میں ابھیانند سمن اور للن پاسوان کے ساتھ ارون کمار کی تصویر لگا دی گئی تھی۔ ارون کمار اس واقعہ سے اتنا ناراض ہوئے کہ ریلی کے اگلے ہی دن انہوں نے ابھیانند سمن کو پارٹی سے باہر کر دیا۔ شری سمن کا معاملہ اب اوپیندر کشواہا کی عدالت میں ہے۔ پارٹی کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یہ کہہ کر نتیش کمار سے الگ ہوئے تھے کہ جے ڈی یو میں داخلی جمہوریت نہیں ہے۔ لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ بغیر کسی نوٹس کے ابھیانند سمن کو باہر نکال دینا کون سی داخلی جمہوریت کی مثال ہے۔ پارٹی میں کئی ایسے بڑے لیڈر ہیں، جنہیں اب تک کوئی عہدہ نہیں ملا اور سیما سکسینہ اچانک آتی ہیں اور قومی سکریٹری بن جاتی ہیں۔ باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ رالوسپا کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ اوپیندر کشواہا اور ارون کمار میں بہتر تال میل نہ ہونے کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جہاں تک ریلی کا سوال ہے، تو سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ، دو لاکھ اور پانچ لاکھ کی ہوا ہوائی بات کرنا بے معنی ہے۔ رالوسپا جتنی بڑی پارٹی ہے، اس حساب سے گاندھی میدان میں جتنے لوگ آئے، وہ ٹھیک ٹھاک ہی تھے، اسے کچھ اور بہتر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رالوسپا ابھی تک لوک سبھا الیکشن کے ہینگ اووَر سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔ گاندھی میدان میں لاکھ اور دو لاکھ لوگ جمع کرنے والے ہوائی دعوے کرنے سے بہتر ہوتا پارٹی اسمبلی الیکشن کے مد نظر چنندہ سیٹوں پر اپنی تنظیم کو مضبوط کرتی۔ رالوسپا کے لیڈر یہ سچ قبول کرنے کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہیں کہ لوک سبھا الیکشن کی جیت نریندر مودی کی جیت تھی، جیت کے جو باقی اسباب تھے، وہ بس بہانہ بھر تھے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جہان آباد میں راجپوتوں اور بھومیہاروں نے ایک ساتھ مل کر ووٹ نہیں کیا ہوتا۔ رام کمار شرما جیسا ایک عام کارکن بھی سیتا مڑھی جیسی یادو اکثریتی سیٹ سے ووٹوں کے بڑے فرق سے نہیں جیتتا۔ اسی طرح بی جے پی اور لوک جن شکتی پارٹی کے بھی کئی لیڈر مودی لہر میں گنگا نہا گئے۔ اس لیے ان سیاسی حالات کو آج کے اسمبلی الیکشن کے حالات سے ملانا سیاسی بے ایمانی ہوگی۔ جنتا پریوار کے مجوزہ انضمام کے بعد لالو اور نتیش ایک نئی طاقت کے ساتھ این ڈی اے کے سامنے ہوں گے۔ اس لیے رالوسپا کے لیے یہ وقت سنبھلنے کا ہے۔ گاندھی میدان کی ریلی میں جٹی بھیڑ نے رالوسپا لیڈروں کو آگاہ کر دیا ہے کہ زمینی سچائی کو سمجھنے کا وقت آ گیا ہے۔ پیر اتنا ہی پھیلایا جائے جتنی بڑی چادر ہو، نہیں تو برا ہوگا۔ اوپیندر کشواہا تنظیم کے ماہر کھلاڑی ہیں، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ وقت رہتے پارٹی کو پھر پٹری پر لے آئیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہو پایا، تو پھر رالوسپا میں ہنگامہ برپا ہونا طے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *