ریلوے بجٹ بے حد مایوس کن

ڈاکٹر وسیم راشد
ریل ہمارے ملک میں بڑا ہی رومانی تصور پیش کرتی ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا اد ب ریل کا ایسا تصور پیش کرسکے جیسا کہ ہندوستانی شعراء نے کیا ہے۔ مجاز نے ریل کے چلنے،بڑھنے اور لہرانے کا غضب نقشہ کھینچا ہے جیسے کہ کوئی خوبصورت عورت ناگن کی طرح جھومتی ہوئی جارہی ہو۔کبھی وہ ریل کو محبوب سے ملنے کا ذریعہ بتاتے ہیں ،کبھی اس کے لہرانے کو محبوب کے شرمانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں ریل کے سفر کے لئے بہت زیادہ بے تاب رہتے تھے اور سوچتے تھے کہ ریل کا سفر کتنا دلکش اور حسین ہوتا ہوگا۔لہلہاتے سرسبز کھیت، دریا، پل، شہر درشہر گزرنا بڑا ہی رومانٹک لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار ریل کا سفر کیا تو ہوش اڑگئے۔ بے حد گندے غلیظ ڈبے، تعفن سے بھرے ٹوائلٹ، پان کی پیکوں سے بھرے ہوئے واش بیسن۔ سارا رومانس ہوا کے دھوئیں کی طرح اڑن چھو ہوگیا۔
آج جب این ڈی اے حکومت کا پہلا ریل بجٹ پیش ہوا، تو ہمیں پھر سے ہندوستانی ریلوں کی حالت زار اور وقت پر نہ پہنچانے کی تکلیف کا شدت سے احساس ہوا۔وزیر ریلوے پربھو جی کے ریلوے بجٹ کو اگر بے سمت اور بے حد مایوس کن کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔نہ تو کوئی کرایہ بڑھا ،نہ نئی ٹرینیں شروع کی گئیں، بلکہ پرانے بجٹ کو یا یوں کہئے کہ یو پی اے کے بجٹ میں تھوڑی بہت ترمیم کرکے اس کو ویسا ہی پیش کردیا گیا ۔ایسا لگتا ہے کہ پر بھو نے بہت ہی عجلت میں بجٹ تیار کیا ہے۔ جو سہولیات فراہم کرانے کی بات کہی گئی ہے اور جو مسافروں کا بنیادی حق ہیں وہ ابھی تک نہیں دی گئیں تھیں ۔مثلاً ٹرینوں کی رفتار بڑھائی جائے گی ۔یہ بھی ایک ضروری عمل ہے ،اس کے بارے میں پہلے ہی فیصلہ ہوجا نا چاہئے تھا ۔
ٹرینوں کو صاف ستھرا رکھنے، موبائل چارجنگ کی سہولیات فراہم کرنے، سیکورٹی کے انتظامات،خواتین کے لئے حفاظتی کیمرے،ہیلپ لائن کی 24گھنٹے خدمات،کھانے پینے کی سہولت فراہم کرانے کے لئے آن لائن آرڈر وغیرہ ۔یہ سب سہولیات پہلے بھی تھیں اور ریلوے ان کے چارچز بھی لیتا ہے، لیکن یہ ہمارے ملک کی بدعنوانی کا حصہ ہے کہ ان بنیادی سہولیات کو بھی خاص سہولیات کی فہرست میں ڈالا جارہا ہے۔اس کے علاوہ 4مہینے پہلے ریلوے بکنگ کرانے سے جو مسائل پیش آئیں گے ،ان کا شاید کسی نے تصور نہیں کیا ہوگا۔ ابھی بھی 2مہینے پہلے بکنگ ہونے سے کسی بھی جگہ کے ٹکٹ آسانی سے نہیں ملتے ۔زیادہ تر لوگ گرمیوں کی چھٹیوں ، ہولی، دیوالی، کرسمس ، عید وغیرہ تہواروں پر اپنے گھر جانے کے لئے بکنگ کرالیتے ہیں ،لیکن چونکہ دو مہینے کا وقت ہی مقرر تھا، اس لئے باقی لوگوں کو ٹکٹ مل جایا کرتے تھے۔چاہے وہ ویٹنگ سے ہی کیوں نہ ملیں، لیکن چار ماہ پہلے بکنگ ہونے سے کالا بازاری کو اور فروغ ملے گا۔
دراصل مسئلہ ٹکٹ ریزرویشن کا نہیں ہے، مسئلہ ٹکٹوں میں بد عنوانی کا ہے۔ آپ کو جہاں کا ٹکٹ ریلوے کائونٹر پر نہیں ملے گا، وہ کسی بھی گلی کوچے کے ایجنٹ کے یہاں مل جائے گا ۔ صرف 50روپے زیادہ ادا کرکے کہیں کا بھی کنفرم ریزرویشن کراسکتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دو مہینے کا وقت ریزرویشن کے لئے کم ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ ٹکٹ کب کہاں چلے جاتے ہیں ،کسی کو پتہ ہی نہیں؟ ہمیشہ جہاں کا بھی ریزرویشن کرائو ،ویٹنگ کا ہی نمبر ملتا ہے۔ شتابدی جیسی ٹرینوں کا بھی برا حال ہے۔زیادہ تر ٹرینوں میں تو بے حد گندگی اور غلاظت ہوتی ہے ،جو اے سی کو چ ہیں 2ٹائریا 3ٹائر کے ،ان میں بھی کوئی خاص صفائی کا انتظام نہیں ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جو بجٹ ان تمام مسائل کو سامنے رکھ کر نہ بنایا گیا ہو اس بجٹ کا عوام کو کتنا فائدہ ملے گا۔
حالانکہ نئے بجٹ میں مسافروں پر کسی طرح کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے، لیکن مال بھاڑے میں 10فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی کو مہنگائی کی مار اور زیادہ جھیلنی پڑے گی۔ اس اضافہ سے سیمنٹ،کوئلہ، اسٹیل اور یوریا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی امید ہے۔ جن چیزوں کی مال برداری شرح میں اضافہ کیا گیا ہے، ان میں اناج،دالیں ،مونگ پھلی کا تیل ، کھانا پکانے کی گیس اور مٹی کا تیل بھی شامل ہے۔
جب ریلوے کرایہ بڑھتا ہے تو اس سے متوسط طبقے اور اعلیٰ طبقے پر اثر زیاد پڑتاہے، کیونکہ غریب تو ویسے بھی جنرل ڈبے میں سفر کرتا ہے۔ لیکن جب ضروری اشیاء کی مال برداری میں اضافہ ہوتاہے، تو عام پبلک پر اس کا اثر پڑتا ہے ۔اس سے سارے ملک کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔مودی سرکار کے ’’اچھے دن‘‘ والا خواب تو پورا نہیں ہوا ،بلکہ غریب آدمی کا جینا اور بھی مشکل نظر آرہاہے۔
ریلوے بجٹ پر ظاہر ہے اپوزیشن تو تنقید کرتی ہی ہے ، لیکن عام انسانوں کوبھی اس بجٹ میں کچھ بھی نیا اور بہتر نظر نہیں آرہا۔بقول نتیش کمار اس بجٹ میں مستقبل کا بھی کوئی واضح پلان نہیں ہے۔ ہندوستان نوجوانوں کا دیش ہے۔ جہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع کے لئے نوجوان رات دن سفر کرتے رہتے ہیں، لیکن نہ تو ٹرینوں کے وقت پر پہنچنے کا اور پہنچانے کا کوئی پلان ہے اور نہ ہی ان کے لئے کوئی دیگر سہولتیں ہیں ۔ اگر ٹرین لیٹ ہوتی ہے تو آپ SMS کے ذریعہ اطلاع دیں گے، لیکن اس سے ٹرین کا وقت پر پہنچنا تو ممکن نہیں ہو پائے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ’ینگ انڈیا‘ کو وقت پر پہنچانے کا انتظام ہو۔ اس وقت ہندوستان کو ایکشن پلان کی ضرورت ہے نہ کہ صرف تقریر کی ۔ریلوے کو ہونے والی آمدنی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ سہولیات مل سکیں۔
اس بجٹ میں ایک بات مجھے جو سب سے اچھی لگی وہ 17000بایو ٹوائیلٹس نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ خدا کرے یہ منصوبہ عملی جامہ پہن سکے ،کیونکہ شتابدی جیسی ٹرینوں میں بھی ٹوائیلٹس کا جو حال ہے ،وہ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ایسے میں اگر بایو ٹوائیلٹس بنائے جائیں گے تو شاید بد بو اور تعفن سے چھٹکارہ مل جائے گا ،لیکن جو ٹرینوں کو کمپنیوں سے منسوب کرنے کا اعلان ہے، تو اس سے تجارتی و صنعتی اداروں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔
کچھ عرصہ قبل ’’چوتھی دنیا‘‘ کے چیف ایڈیٹر محترم سنتوش بھارتیہ نے وزیر خزانہ کو ایک مشورہ دیا تھا کہ اسکریپ ریلوے کے پاس پورے ملک میں پڑا ہو اہے ،جس کو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے ۔جب آپ ریل میں سفر کررہے ہوتے ہیں تو کسی بھی ریلوے ٹریک پر، اسٹیشن کے کنارے ہمیں یہ اسکریپ پڑا ہوا مل جائے گا، جس میں پرانے ٹوٹے پھوٹے ڈبے، پرانی ریلوے لائن، پرانے ہینڈل، پرانی ریل کے دروازے، یہ سب اگر نیلام کردیا جائے ،تو بھی ریلوے کو بہت منافع ہوسکتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق یہ اسکریپ 20ہزار سے 30ہزار کروڑ روپے تک کا ہوسکتا ہے اور اس سے یقینا ریلوے میں بہتری آسکتی ہے۔ اس اسکریپ کا استعمال کرکے نئی ریلوے لائنیں ڈالی جاسکتی ہیں، نئی ٹرینیں ، نئی بوگیاں بنائی جاسکتی ہیں، نیز ریلوے کی دیگر ضرورتیں پوری کی جاسکتی ہیں۔
دراصل ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں پڑے ہوئے وسائل کا استعمال ملک کے ترقیاتی منصوبوں میں نہیں کرتے ہیں اور نئے پروجیکٹس کو شروع کرنے کے لئے عوام پر ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ بین اقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہونے سے یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ شاید اس بار ریل بجٹ میں کرایوں میں کچھ کمی آئے گی، لیکن وہ نہ ہوکر مال برداری پر جو اضافی شرح لگائی گئی ہے، اس سے غریب عوام کو راحت تو دور،مزید مہنگائی کا بوجھ سہنا پڑے گا۔
یو پی کے لئے مزید ٹرینوں کی ضرورت تھی، کیونکہ لکھنؤ، کانپور ،بریلی وغیرہ میں پلیٹ فارموں کی کمی ہے۔ ان اسٹیشنوں پر ٹرینیں آئوٹر سگنل پر کھڑی رہتی ہیں۔ لیکن کوئی نئی ٹرین نہیں،نئے پلیٹ فارم نہیں۔بہر حال موجودہ ریل بجٹ بے حد مایوس کن ہے اور اس سے عوام کا بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *