ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ

پربھات رنجن دین
mastبجلی گھوٹالے میں پولس کی فائنل رپورٹ کا اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا کرنوٹس لینے اور تین سال تک اس رپورٹ کو دباکر رکھنے والے جج کے خلاف آلہ آباد ہائی کورٹ کے وجیلنس بیورو نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ مذکورہ جج کے خلاف شکایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف میں پرنسپل سکریٹری رہتے ہوئے حساس امور کو چھپا کر ایک متنازع سرکاری وکیل کے جج بننے میں مدد کی تھی۔ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی اتر پردیش کے پاور سیکٹر میں ہوئے اربوں کے گھوٹالے کی لیپا پوتی میں لگے ججوں، نوکر شاہوں اور محکمہ جاتی افسروں کے ساتھ ساتھ سی بی آئی کے بھی قانون کے شکنجے میں آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش کا بجلی گھوٹالہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہونے والا ہے، جس میں نہ صرف نیتا اور نوکر شاہ، بلکہ جج اور سی بی آئی کے افسر بھی ملوث ہیں۔ یہ دلچسپ اور مزاحیہ ہی ہے کہ اربوں کے بجلی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کا سرکاری فرمان جاری ہو جانے کے بعد بھی اسے عدالت میں دبائے رکھا گیا اور آخر کار سی بی آئی نے ہی جانچ کرنے سے منع کر دیا۔ بجلی گھوٹالے میں سی بی آئی بھی ملزم ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ انتظامیہ نے لکھنؤ کے اس وقت کے ضلع جج کے کے شرما کے خلاف سنگین شکایتوں کا نوٹس لیتے ہوئے، شکایت کرنے والے نندلال جیسوال کو حلف نامہ داخل کرنے اور متعلقہ دستاویز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ کے کے شرما اِس وقت ایٹہ میں ضلع جج کے عہدہ پر تعینات ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش ہائڈرو پاوَر کارپوریشن لمیٹڈ میں ہوئے سینکڑوں کروڑ کے گھوٹالے میں سی جے ایم عدالت کی ہدایت پر 23 جنوری، 2008 کو ہی حضرت گنج تھانہ میں ریاست کے اُس وقت کے وزیر توانائی رام ویر اپادھیائے، 8 آئی اے ایس افسروں – آر بی بھاسکر، ویریش کمار، اشوک کھورانہ، راج کمل گپتا، جی بی پٹنائک، کنور فتح بہادر سنگھ، مہیش گپتا اور آلوک ٹنڈن اور اتر پردیش ہائڈرو پاوَر کارپوریشن لمیٹڈ کے 19 اہل کاروں کے خلاف ایف آئی آر (نمبر : 72/2008) درج کی گئی تھی۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 193، 409، 420، 465، 471، 471-A، 120-B اور انسداد بدعنوانی ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، لیکن پولس نے اس میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ سیاسی دباؤ اور پولس کی آنا کانی پر 20 جنوری، 2009 کو ہائی کورٹ میں پی آئی ایل داخل کیا گیا۔ اس پر عدالت نے پولس کو حکم دیا کہ وہ فوراً کارروائی کرے، لیکن پولس نے تب بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ المیہ یہ ہے کہ اس درمیان 19 جانچ افسر (آئی او) بدل بھی دیے گئے۔
اس کے پہلے سے ہی پانی سر کے اوپر ہوگیا تھا۔ سرکار نے ریاستی اسمبلی میں یہ مان لیا تھا کہ ہائڈرو پاوَر کارپوریشن میں جنرل منیجر سے لے کر انجینئروں اور اسسٹنٹ انجینئروں تک کی فرضی ترقیاں ہوئیں اور دیگر بے ضابطگیاں کی گئیں۔ اس پر ہوم ڈپارٹمنٹ کے اس وقت کے پرنسپل سکریٹری نے لکھنؤ پولس کو ایف آئی آر بھی درج کرنے کو کہا، لیکن پولس نے یہ کہہ دیا کہ بدعنوانی اور بے ضابطگیاں نہیں پائی گئیں۔ اس پر سرکار نے اُس وقت کے اِنرجی سکریٹری ہری راج کشور کو جانچ کا حکم دیا۔ اِنرجی سکریٹری نے 28 نومبر، 2006 کو پرنسپل سکریٹری کو پیش کی گئی اپنی جانچ رپورٹ میں بدعنوانی کے سبھی معاملے صحیح پائے اور ڈائرکٹر (فائننس) کو ضروری کارروائی کرنے کے لیے لکھا۔ وہ رپورٹ 29 نومبر، 2006 کو ضروری کارروائی کے لیے پلیس مینٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی بھیجی گئی۔ 28 دسمبر، 2006 کو لوک سبھا میں پوچھے گئے سوال پر اتر پردیش سرکار نے جواب بھی دیا کہ جانچ کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔ پھر اقتدار بدلا اور سماجوادی کی جگہ بی ایس پی کی سرکار آ گئی۔ بی ایس پی سرکار کے وزیر توانائی رام ویر اپادھیائے نے ساری فائلیں اپنے پاس منگوا لیں اور انہیں 2012 (بی ایس پی سرکار کی مدتِ کار) تک اپنے پاس دبائے رکھا۔ اس سے ایس پی اور بی ایس پی دونوں کے دورِ حکومت کے گھوٹالے دبے رہ گئے۔ بی ایس پی سرکار کے وقت 30 ہزار کروڑ کا بجلی گھوٹالہ ہوا تھا۔ بی ایس پی سرکار نے اتر پردیش پاور کارپوریشن اور پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ بجلی خرید قرار کرکے اس گھوٹالے کو انجام دیا تھا۔ اس گھوٹالے کے کئی دستاویزی ثبوت بھی لوک آیکت این کے مہروترا کو سونپے گئے تھے۔ لوک آیکت نے شکایت کو نوٹس میں لے لیا تھا، لیکن کارروائی آگے نہیں بڑھ پائی۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن نے پانچ پرائیویٹ پاور ٹریڈنگ کمپنیوں کے ساتھ دو طرفہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدہ میں پاور کارپوریشن نے ان کمپنیوں سے مہنگی قیمت پر 5 ہزار کروڑ یونٹ بجلی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ معاہدہ کی شرط یہ تھی کہ پاور کارپوریشن کو اُس دوران سستی بجلی ملنے پر بھی اسے کہیں اور سے خریدنے کا اختیار نہیں ہوگا، چاہے وہ مرکزی گرڈ کی این ٹی پی سی اور دوسری کمپنیوں سے ملنے والی سستی بجلی ہی کیوں نہ ہو۔ ریاستی حکومت نے جس طرح سے بجلی خریدی، اس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
بی ایس پی سرکار سے پہلے سماجوادی پارٹی کے دورِ حکومت میں راجیو گاندھی گرامین وِدیوتی کرن یوجنا میں 1600 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اُس معاملے میں بھی صرف جانچ ہی چلتی رہی، نتیجہ صفر ہی رہا۔
مایاوتی کے دورِ حکومت کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنے کئی عام بیانوں میں کہا کہ پاور سیکٹر میں مایاوتی سرکار 25 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ چھوڑ کر گئی ہے، لیکن اس خسارے کی وجہ جاننے کی اکھلیش سرکار نے کبھی کوشش نہیں کی۔ اکیلے جے پی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہی ریاستی حکومت کو 30 ہزار کروڑ کا خسارہ پہنچایا جا چکا ہے۔ اس کے لیے اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے سربراہ راجیش اوَستھی کو برخاست بھی ہونا پڑا۔ لیکن گھوٹالے کو لے کر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ اتر پردیش ہائڈرو پاور کارپوریشن میں بھی 750 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا، لیکن اس گھوٹالے میں ملوث اُس وقت کے سی ایم ڈی آئی اے ایس آلوک ٹنڈن سمیت دیگر افسروں و انجینئروں کا کچھ نہیں بگڑا۔ سماجوادی پارٹی کے موجودہ دورِ حکومت میں بجلی بلوں میں فرضی واڑہ کرکے ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ یو پی پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعے با اختیار بلنگ کمپنی کی ساز باز کے ذریعے اس گھوٹالے کو انجام دیا گیا۔
بہرحال، ان گھوٹالوں کی لیپا پوتی میں ابھی تک نیتاؤں – نوکرشاہوں کا کھیل چل رہا تھا، اس کے بعد عدالتوں کا کھیل بھی سامنے آیا۔ 16 اپریل، 2013 کو نند لال جیسوال کی طرف سے داخل پی آئی ایل کی سماعت کے دوران 18 اپریل کو ایڈیشنل سولسٹر جنرل بلبل گودِیال نے پرنسپل سکریٹری (ہوم) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں 4 اکتوبر، 2012 کو ہی فائنل رپورٹ (نمبر : 5/12) سی جے ایم عدالت میں داخل ہو چکی ہے۔ لہٰذا شکایت کرنے والے اپنا اعتراض وہیں داخل کریں۔ حالانکہ عرضی گزار نے عدالت کو بتایا بھی کہ یہ فیکٹ غلط ہے، لیکن ہائی کورٹ نے نہیں مانا اور سی جے ایم کورٹ میں ہی اعتراض داخل کرنے کو کہا۔ 29 اپریل، 2013 کو سی جے ایم کورٹ نے بتایا کہ فائنل رپورٹ اُس عدالت میں ہے ہی نہیں۔ اس پر ہائی کورٹ نے 4 دسمبر، 2013 کو سی جے ایم لکھنؤ کو پولس کی فائنل رپورٹ کے ساتھ عدالت میں حاضر ہونے کو کہا۔ وہ رپورٹ نہ تو سی جے ایم کورٹ میں تھی اور نہ ہی انسداد بدعنوانی قانون کے تحت خصوصی جج کی عدالت میں ہی تھی۔ سی جے ایم لکھنؤ نے بتایا کہ فائنل رپورٹ لکھنؤ کے سیشن جج کی عدالت میں ہے۔ تب 19 دسمبر، 2013 کو ہائی کورٹ نے عرضی گزار کو سیشن جج کی عدالت میں اعتراض داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی کارروائیاں اور پیچیدگیاں چل ہی رہی تھیں کہ 29 جنوری، 2014 کو سرکاری طور پر یہ سامنے آیا کہ فائنل رپورٹ لکھنؤ کے ضلع (سیشن) جج کے کے شرما کی عدالت میں ہی پڑی تھی۔ اس کے بعد بھی ضلع جج نے عرضی گزار کو فائنل رپورٹ کی کاپی نہیں دی اور اسے کورٹ میں ہی پڑھ لینے کی تاکید کی۔ ہزار صفحات کی فائنل رپورٹ کو کورٹ میں کچھ وقت میں پڑھ لینا ناممکن تھا۔ بہرحال، کورٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ فائنل رپورٹ 10 اپریل، 2013 کو عدالت میں آئی ہے، جب کہ سچائی یہ ہے کہ 4 اکتوبر، 2012 کو ہی فائنل رپورٹ ضلع جج کے یہاں آ چکی تھی، لیکن اس بارے میں عرضی گزار کو کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی۔ عدالت کے دائرۂ اختیار کا سوال بھی اٹھا اور عدالت کو بتایا گیا کہ بدعنوانی کا مذکورہ معاملہ انسداد بدعنوانی قانون کے تحت خصوصی جج کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ ضلع جج کے کے شرما اِس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ دائرۂ اختیار سے باہر جا کر انہوں نے پولس کی فائنل رپورٹ کو نوٹس میں کیسے اور کیوں لیا اور لمبے عرصے تک اسے دبائے کیوں رکھا؟
عدالت کا مشکوک رویہ دیکھتے ہوئے لکھنؤ کے اُس وقت کے ضلع جج کے کے شرما کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو جج کے یہاں 19 مارچ، 2014 کو شکایت داخل کی گئی۔ اس کے بعد ہی 6 مئی، 2014 کو کے کے شرما کا ایٹہ تبادلہ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ پر لکھنؤ کے ضلع جج بن کر آئے وی کے شریواستو نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی متعلقہ معاملے کو انسداد بدعنوانی قانون کے تحت کا معاملہ مانا اور اسے فوراً خصوصی جج کے سپرد کر دیا۔ اس طرح یہ صاف ہو گیا کہ اُس وقت کے ضلع جج کے کے شرما نے دائرۂ اختیار سے باہر جا کر فائنل رپورٹ کو اپنی عدالت میں دبائے رکھا تھا۔ جنوبی کوریا کی کمپنی میسرز ہنڈئی انجینئرنگ کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعے 220 کروڑ روپے کی فرضی پیمنٹ لے لیے جانے کے معاملے میں بھی کے کے شرما ہنڈئی کمپنی کے حق میں فیصلہ دے کر تنازعات میں آ چکے ہیں۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے بدعنوان افسروں نے ہنڈئی کے ساتھ ساز باز کرکے اسے فرضی پیمنٹ دے دیا تھا۔
عرضی گزار نند لال جیسوال نے ہائی کورٹ انتظامیہ سے یہ بھی شکایت کی ہے کہ کے کے شرما جب محکمہ انصاف کے پرنسپل سکریٹری تھے، اس وقت انہوں نے سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کاؤنسل دیوندر کمار اپادھیائے پر درج کرمنل مقدمے کی بات چھپا لی تھی۔ اپادھیائے کے جج بنائے جانے کی فائل قانونی صلاح کے لیے پرنسپل سکریٹری رہے کے کے شرما کے پاس بھیجی گئی تھی۔ اپادھیائے نومبر 2011 میں جج بنے، جب کہ کرمنل مقدمہ چلنے کے بارے میں مرکزی وزارتِ قانون نے 29 جون، 2011 کو ہی ریاستی حکومت سے جواب مانگا تھا، لیکن یو پی سرکار نے مرکز کو کوئی جواب نہیں بھیجا۔ کرمنل مقدمہ والے بیک گراؤنڈ کے شخص کو جج بنائے جانے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی شکایت کی گئی تھی، لیکن وہاں سے کہا گیا کہ اس بارے میں بار کونسل سے شکایت کریں۔ بار کونسل نے شکایت کو دبائے رکھا اور 3 اگست، 2012 کو لکھا کہ جج بننے کی وجہ سے بار کونسل دیوندر کمار اپادھیائے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ کے وزیر گنج تھانہ میں دیوندر کمار اپادھیائے سمیت 6 لوگوں پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 147 (ہنگامہ کرنا)، 323 (مارپیٹ کرکے زخمی کرنا)، 504 (امن و امان میں رخنہ ڈالنا) اور 506 (مجرمانہ پہل) کا مقدمہ (نمبر : 186/08) درج ہوا تھا۔ اس معاملے میں پولس نے فائنل رپورٹ لگا دی تھی، جس کے خلاف اے سی جے ایم سی بی آئی (اے پی) کی عدالت میں پروٹیسٹ داخل کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ اپادھیائے کے جج بننے کے سال بھر بعد تک چلتا رہا۔ خوبی یہ ہے کہ عدالت میں باقاعدہ اس کی تاریخیں پڑتی رہیں، کارروائی چلتی رہی، لیکن اسے نوٹس میں ڈِسپلے نہیں کیا جاتا رہا۔ سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کاؤنسل دیوندر کمار اپادھیائے اور ریاست کے اَپر سولسٹر جنرل جے این ماتھر پر محکمہ توانائی سے لاکھوں روپے کا فرضی پیمنٹ حاصل کرنے کے بھی سنگین الزام پہلے سے چل رہے تھے۔

بڑی قیمتیں چکائی ہیں وہیسل بلووَر نے

اتر پردیش کے بجلی گھوٹالوں کو اجاگر کرنے والے نندلال جیسوال نے بدعنوانی کے خلاف بگل پھونکنے کی بڑی قیمتیں چکائی ہیں۔ جیسوال محکمہ بجلی کے ہی ملازم تھے۔ انہوں نے اِنرجی سیکٹر میں پھیلی بدعنوانی کو اپنے اعلیٰ افسروں کے سامنے اجاگر کرنا شروع کیا، لیکن اعلیٰ افسروں نے نندلال جیسوال کا ہی استحصال شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے اعلیٰ افسروں کے بدعنوانی میں ملوث رہنے کی پرتیں کھلتی گئیں اور نندلال جیسوال کے خلاف سازشیں بڑھتی گئیں۔ ان کے خلاف مجرمانہ سازش تک ہوئی، فرضی مقدمے درج کرائے گئے، قاتلانہ حملہ کرایا گیا، فرضی مقدموں میں گرفتار کرکے جیل میں ٹھونسا گیا اور نوکری سے نکال باہر کیا گیا۔ عدالت نے بھی پایا کہ جیسوال پر فرضی مقدمے لادے گئے۔ عدالت کی مداخلت پر سالوں بعد انہیں پنشن ملنی شروع ہوئی۔ اس درمیان ان کے گھر کے سارے زیور بک گئے اور جیسوال کالا کوٹ پہن کر وکیل کے طور پر پاور سیکٹر کے بدعنوان لوگوں کے خلاف قانونی لڑائی میں اتر گئے۔ پاور سیکٹر میں اربوں روپے کے گھوٹالے اجاگر کرنے والے وہیسل بلووَر کو تحفظ اور سیکورٹی دینے کے بجائے لیڈر، نوکر شاہ اور کچھ جج تک ان کا منھ بند کرنے کی سازشوں میں لگے رہے اور ملک کے سب سے بڑے گھوٹالے کو فیصلہ کن موڑ تک نہیں پہنچنے دیا۔ پھر بھی لڑائی جاری ہے …

 

سپریم کورٹ کے جج بھی کم داغدار نہیں

سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی کے ذریعے 30.01.2003 کو معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کا باقاعدہ سرکاری فرمان جاری کیا گیا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ کے جج وائے کے سبروال اور بی این اگروال کی بنچ نے 13.07.2003 کو مرکز، سی بی آئی اور یو پی پاور کارپوریشن کو آخری موقع دیتے ہوئے کاؤنٹر- افیڈیوٹ داخل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن کاؤنٹر- افیڈیوٹ داخل نہیں کیا گیا۔ مرکزی حکومت، سی بی آئی اور یو پی پاور کارپوریشن کی اس کھلی نا فرمانی پر سخت نوٹس لینے کے بجائے سپریم کورٹ کی اسی بنچ نے معاملے کو ہی خارج کر دیا۔ وہی سبروال بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔

لیپا پوتی میں لگے رہے درجن بھر جج

کے کے شرما اکیلے جج نہیں ہیں، جنہوں نے بجلی گھوٹالے کی لیپا پوتی میں مشکوک رول ادا کیا۔ غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ساز باز کرکے اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعے پانچ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیے جانے کے معاملے میں سی بی آئی سے جانچ کرانے کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہو جانے کے بعد بھی سی بی آئی سے جانچ نہیں کرنے دی گئی۔ اس سازش میں سی بی آئی کے افسر بھی شریک رہے۔ حیران کن لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاور کارپوریشن کی وجیلنس برانچ نے گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی اور اسٹیٹ وجیلنس نے بھی کہا کہ پورا معاملہ سنجیدہ جانچ کی مانگ کرتا ہے، لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے اُس وقت کے جج سونام دھنیہ جگدیش بھلا اور کمل کشور نے وجیلنس کی سفارش کو تکنیکی جانچ کے لیے انھیں لوگوں کے سپرد کر دیا، جو اربوں کے گھوٹالے میں ملوث تھے۔ ہائی کورٹ کے اس وقت کے جج ایس ایچ اے رضا اور آر ڈی شکلا کی بنچ نے سی بی آئی جانچ کے اپنے ہی سابقہ فیصلہ کے آپریٹو پورشن کو بدل ڈالا۔ جج ڈی کے ترویدی اور نسیم الدین کی بنچ نے قانونی پیچ و خم میں الجھا کر معاملے کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ جج ویرندر شرن اور آر ڈی شکلا کی بنچ نے ایس ایچ اے رضا والی بنچ کے متضاد فیصلے کو ہی پکڑے رکھا اور جج ریتو راج اوَستھی اور انل کمار شکایت کرنے والے کی بات سنے بغیر تاریخ پر تاریخ دیتے رہے۔ ان سارے ججوں کے مشکوک رول کے بارے میں صدرِ جمہوریہ اور سپریم کورٹ کو جانکاری دی جاتی رہی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے جج رہے امتیاز مرتضیٰ اور ونے کمار ماتھر نے تو حد ہی کر دی۔ انہوں نے عرضی گزار نند لال جیسوال کو اندھیرے میں رکھ کر ان کی مفادِ عامہ کی عرضی کو خارج کر دیا، جب کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس شو کیرتی سنگھ اور جج شری نارائن شکلا کی بنچ نے عرضی گزار کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ حلف نامہ داخل کرنے کے بعد نندلال جیسوال سماعت کی تاریخ کا انتظار ہی کرتے رہ گئے اور اُدھر ان کی عرضی خارج کر دی گئی۔ جج امتیاز مرتضیٰ اور ونے ماتھر کے بیجا فیصلے کی شکایت پر وہ پی آئی ایل پھر سے ری – اسٹور ہوئی۔ ہائی کورٹ انتظامیہ کے ذریعے اس پی آئی ایل کو واپس قانونی پروسیس میں لانے کا فیصلہ ان ججوں اور موجودہ جیوڈیشیل سسٹم پر کرارے طمانچے کی طرح ثابت ہوا۔

نوٹیفکیشن کو سی بی آئی نے ہی دکھا دیا ٹھینگا

پانچ ہزار کروڑ کے بجلی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کرانے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود سی بی آئی نے جانچ کرنے سے منع کر دیا۔ یہ حیرت انگیز حکم عدولی سی بی آئی نے کی اور مرکزی و ریاستی حکومتیں خاموش بیٹھی رہ گئیں۔ گھوٹالے کی رقم اتنی بڑی تھی کہ اس نے ریاستی و مرکزی حکومتوں میں بیٹھے سیاست دانوں، نوکر شاہوں اور سی بی آئی کے افسروں تک کو اپنے دائرۂ اثر میں لے لیا۔ تبھی سی بی آئی نے سرکار کے نوٹیفکیشن تک کو طاق پر رکھ کر یہ کہہ دیا کہ یہ معاملہ جانچ کے لائق نہیں ہے۔ سی بی آئی کے افسروں کی اس تانا شاہی کے خلاف کوئی آواز تک نہیں اٹھی۔ سی بی آئی کے افسروں نے جانچ سے منع کرتے ہوئے اسے پرانا معاملہ بتایا، پھر کہا کہ گھوٹالے سے متعلق جانکاریاں نہیں دی جا رہی ہیں، پھر کہا کہ سی بی آئی کے پاس جانچ کی تکنیکی صلاحیت نہیں ہے، جب کہ سی بی آئی کی ساری دلیلیں بے بنیاد پائی گئیں۔ پانچ ہزار کروڑ کا بجلی گھوٹالہ دراصل غیر ملکی کمپنی کے ساتھ یو پی پاور کارپوریشن کے افسروں کی ساز باز سے ہی انجام دیا گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *