لو کجریوال کا بھی بھرم ٹوٹ گیا

ڈاکٹر وسیم راشد
تیس دن کی عام آدمی پارٹی کی سرکار خطوط کی سیاست، بلاگ بازی اور اسٹنگ میں الجھتی نظر آرہی ہے۔ لیڈروں کی آپسی رنجش اب سڑک پر آگئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جن مسلمانوں نے اس بار پوری طرح عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور یہ سوچ کر دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی کا ایک اچھا متبادل مل گیا ہے، ان کو یقیناً شدید مایوسی ہوئی ہوگی، کیونکہ عام آدمی پارٹی بھی وہی جوڑ توڑ کی سیاست کر تی نظر آرہی ہے، جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔ مسلمانوں کو کجریوال بھی ایک ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے، یہ بھی واضح ہوگیا ہے۔ مارچ کا مہینہ عام آدمی پارٹی کے لیے مصیبت بھرا پیغام لے کر آیا ہے۔ ہمیں تو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر یہ اسٹنگ صحیح ہے، تو پھر کجریوال کا بھرم ٹوٹنے کے ساتھ ہی سرکار ٹوٹنے میں بھی شاید کم ہی وقت لگے۔
دلّی کے مسلمانوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں ، خاص طور پرفصیل بند شہر کے مسلمان ایک طویل عرصے تک پکّے کانگریسی رہے ہیں۔ بڑی سے بڑی کانگریس مخالف لہر بھی ان کی وفاداری کو ختم نہیں کر پائی، لیکن کانگریس نے دلّی کے عوام اور خاص کر دلّی کے مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کی نا انصافی کی ،اسی سے مسلمانوں کا کانگریس پر سے بھرم ٹوٹ گیا۔ پرانی بات جانے دیجئے، گزشتہ دس سالوں میںنہ تو مسلمانوں کے لیے جاری اسکالر شپ اسکیموں کا مسلمانوں کو فائدہ ہوا، نہ ہی اردو میڈیم اسکول کھولے گئے اور نہ ہی اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی۔ جو اسکول چل رہے تھے، وہاں بھی اردو میڈیمکے اساتذہ کی جگہ ہندی میڈیم کے اساتذہ بھرتی کر لیے گئے۔ اچھے انگلش میڈیم اسکولوں میں نرسری میں مسلمان بچوں کے لیے کوئی جگہ نہیں دی گئی، یہاں تک کہ کچھ علاقوں میں تو مسلم بچوں کو فارم تک نہیں دیے جاتے، بلکہ ان کو نگیٹو ایریا ڈکلیئر کردیا گیا ہے۔ علاقوں میں گندگی کا برا حال ہے۔ مسلم محلوں کو مسلم ایم ایل ایز نے گٹر بنادیاہے۔ 15,15 سالوں سے ہارون یوسف، شعیب اقبال، چودھری متین احمد، آصف محمد خاں، حسن احمد اپنے علاقوں کے بے تاج بادشاہ بنیرہے، لیکن سڑکوں کی حالت خستہرہی اور آج تک ہے، گندگی کا انبار چاروں طرف ہے۔
یہ سب وہ حالات تھے کہجن کے سبب مسلمانوں کو ایک اچھی سیاسی پارٹی کی ضرورت تھی۔ بی جے پی کا ساتھ مسلمان کسی قیمت پر نہیں دیں گے، یہ دنیا جانتی ہے۔ وہ کل بھی گجرات کا قاتل مودی کو مانتے تھے، آج بھی مانتے ہیں اوراس سب کا فائدہ ملا عام آدمی پارٹی کو۔ مسلمانوں نے کھل کر کجریوال کے نام پر ووٹ دیے ،ورنہ کیا مجال تھی کہ شعیب اقبال، ہارون یوسف اور آصف محمدخان کے اثر والے حلقوں میں کوئی دوسرا جیت سکے۔ لیکن مسلمان متحد ہوئے اور انھوں نے ایک جٹ ہو کر عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا۔ آج جب کجریوال کی آواز میں وہ مسلمانوں کو پارٹی توڑنے اور الگ سے پارٹی بنانے کی بات کرتے نظر آرہے ہیں، تو مسلمانوں کو کتنا دکھ ہو رہا ہوگا۔
میرے کانوں میں کجریوال کی آواز گونج رہی ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں گونج دار آواز میں کہا تھا کہ اگر کوئی آپ کو رشوت دینے کی کوشش کرے، تو منع نہ کرو، بلکہ رشوت دیدو، لیکن ساتھ میں اس کو ریکارڈ کرلو اور وہ ویڈیو لاکر مجھے دے دو۔ میں اس پر ایکشن لوں گا۔ کجریوال کا یہ ہتھکنڈہ خود ان پر ہی آزمالیا گیا۔ راجیش گرگ نے جس طرح پورا آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے، اس سے دلّی والوں کا اور مسلمانوں کا دل ہی ٹوٹ گیا ہے۔ ظاہر ہے کجریوال جیسا خود کو صاف شبیہ والا لیڈر اگر 6ایم ایل ایز کو پارٹی توڑ کر الگ سے حمایت لینے کی بات کرتا ہے، تو پھر اس میں اور دوسری پارٹی کے لیڈروں میں کیافرق ہے۔حالانکہ حمایت لینا کوئی بری چیز نہیں، لیکن دوہرا رویہ ہے۔ راجیش گرگ کے اسٹنگ میں کجریوال صاف کہہ رہے ہیں کہ تین مسلم ایم ایل اے بی جے پی کے ساتھ ہرگز نہیں جائیں گے، تو یہ ہمیں حمایت کیوں نہیں دے دیتے؟ سوال یہ نہیں ہے کہ کجریوال نے مسلم ایم ایل اے کو’ آپ‘ کا ساتھ دینے کے لیے بی جے پی کا سہارا لیاہے، کیونکہ مسلم ایم ایل اے بی جے پی کا رخ کر ہی نہیں سکتے۔ سوال یہ ہے کہ امام بخاری نے جب مسلمانوں سے ’آپ‘ پارٹی کا ساتھ دینے کو کہا تھا، تو بڑے ہی تکبر سے ’آپ‘ پارٹی نے یہ کہہ کر امام صاحب کی بے عزتی کی تھی کہ ہمیں مذہبی پیشواؤں کی ضرورت نہیں ہے اورہم اس طرح کی سیاست نہیں کرتے۔ لیکن آڈیو میں وہ جس طرح مسلم ایم ایل ایز کا بی جے پی مخالف رویہ بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں، اس سے ان کی دوہری پالیسی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔
اس آڈیو ٹیپ کے علاوہ اقلیتی سیل کے ممبر شاہد آزاد نے بھی ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے، جس کے تحت 24نومبر 2014کو اقلیتی ونگ کی ملاقات کجریوال سے ہوئی تھی، جس میں مسلمانوں کی دلّی الیکشن میں مناسب نمائندگی کی مانگ کی گئی تھی۔ لیکن اس میں کجریوال نے نہایت تکبر اور گھمنڈ سے یہ بات کہی کہ مسلمان ہم سے ٹکٹ کی مانگ نہیں رکھتے، بلکہ وہ نریندر مودی کے رتھ کو روکنے کے لییہمارا ساتھ دیں گے۔ اس کے علاوہ کجریوال نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ سوچے کہ 11مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا جائے گا، تو وہ یہ بھی بھول جائے ۔ کیونکہ سوال مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا نہیں ہے۔ مسلمان بس یہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح مودی رتھ کو روک لیں اور اس کے لیے وہ یقیناً عام آدمی پارٹی کا ہی ساتھ دیں گے۔ مسلمان جانتے ہیں کہ مودی کو صرف عام آدمی پارٹی ہی روک سکتی ہے۔ کجریوال نے یہ بھی کہا کہ آپ سروے کراکے دیکھ لیجئے، 2000,3000چاہے000 5مسلمانوںکے درمیان جائیے، ان کی Priorityمودی کو ہرانا ہے۔
عام آدمی پارٹی نے صرف 5مسلمانوں کو ٹکٹ دیے تھے، جن میں سے 4کامیاب ہوئے ہیں۔ مٹیا محل او ربلّی ماران حلقے تو ایسے مشکل حلقے تھے کہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ’آپ‘ پارٹی کے نووارد نوجوان ہارون یوسف اور شعیب اقبال کو ہرا پائیں گے۔ لیکن مسلمانوں نے جم کر ’آپ‘ کو ووٹ دیا، صرف مودی کے رتھ کو روکنے کے لیے ہی نہیں ، بلکہ کجریوال پر بھروسہ کر کے، عام آدمی پارٹی پر بھروسہ کرکے۔
آج جتنی بڑی کامیابی ’آپ‘ کے مقدر میں آئی ہے، اس کی وجہ صرف اور صرف دلّی کے مسلمان ہیں، جنھوں نے عام آدمی پارٹی کی جیت کو تاریخی بنادیا۔ یاد کیجئے، 8فروری 2015کی ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ، جس میں عام آدمی پارٹی کی جیت کا سہرا مسلمانوں کو دیا گیا ہے، جنھوں نے 77فیصد عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ صاف لکھتا ہے کہ مسلم نوجوانوں نے ایک طرف جم کر عام آدمی پارٹی کوووٹ ڈالا ہے۔
آج ہر طر ف عام آدمی پارٹی کا بھرم ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔ لگاتار آڈیو ٹیپ اور بلاگ سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ عام آدمی پارٹی بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح گٹھ جوڑ کی سیاست میں ملوث ہے۔ آصف محمد خان نے بھی سنجے سنگھ پر خرید و فروخت کا الزام لگایا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کجریوال کی شکل میں ایک مسیحا عوام کو نظر آیا تھا، وہ مسیحا نہ ہو کر عام لیڈروں جیسا سیاست کے داؤں پیچ کھیلنے والا لیڈر نکلا۔ دوسری افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے عام آدمی پارٹی کو بے غرض، بے لالچ ہو کر اپنا ووٹ دیا تھا۔ آج اروند کجریوال نخوت سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ صرف مودی کو ہرانے کے لیے مسلمانوں نے مجبور ی میں ووٹ دیا، جبکہ مسلمانوں کو عام آدمی پارٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، تو دل پر چوٹ سی لگتی ہے۔ مسلمان اگر کسی سیاسی پارٹی کا ساتھ دیتا ہے، تو ظاہر ہے بہتر تعلیمی سہولیات، نوکریاں، ایڈمیشن، صحت، صفائی ، علاقوں کی ترقی اس کے مد نظر رہتی ہے۔کیا یہ سب سہولیات پانا مسلمانوں کا حق نہیں ہے اور اگر کجریوال کو مسلمانوں نے اپنے مقصد کے لیے بھی ووٹ دیا ہے، تو کیا برا کیا ہے؟
عام آدمی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی جیسے جیسے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے دلّی والوں کا دل دہل رہا ہے کہ کہیں پھر سے کجریوال استعفیٰ جیسا ڈرامہ نہ کریں اور پھر سے الیکشن کا بوجھ ان پر نہ آپڑے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ دلّی کے عوام ان تمام اسٹنگ آپریشن اور اندرونی رنجش سے سخت حیران اور افسوس میں ہیںکہ جس پارٹی پر بھروسہ کیا، وہ اور پارٹیوں سے بھی بد تر نکلی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *