کوئلہ گھوٹالے کا کالا سچ

سنتوش بھارتیہ
ہم نے کوئلہ گھوٹالے پر سب سے زیادہ اس لیے دھیان دیا، کیوں کہ جب یہ گھوٹالہ ہوا تھا، تو اس گھوٹالے کی پہلی جانکاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ایم پی کو ملی تھی۔ اُس ایم پی نے اس گھوٹالے کا ذکر اپنی پارٹی کے صدر اور جنرل سکریٹری سمیت کئی لوگوں سے کیا، لیکن انہوں نے اس گھوٹالے کو نہیں اٹھایا۔ پھر یہ گھوٹالہ ایک صحافی کے پاس پہنچا۔ صحافی کے اخبار نے اس گھوٹالے کو اٹھانے سے منع کر دیا۔ تب ہمیں لگا کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی لمبی اور خطرناک سازش ہے، تب ہم نے اس کی چھان بین کی۔ ہماری چھان بین نے ہمیں بتایا کہ کوئلہ گھوٹالہ آکٹوپس کی طرح اقتدار چلانے والے تمام اجزاء میں پھیلا ہوا ہے، جن میں سیاسی لیڈر، نوکر شاہ، کارپوریٹ، انڈر وَرلڈ اور جرنلسٹ شامل ہیں۔ ان میں کچھ کا سیدھا رشتہ ہے، کچھ کا بالواسطہ رشتہ ہے۔
جب ہم نے جانچ پوری کر لی، تو ہم نے اس کو ہمت کے ساتھ دکھایا۔ ہمارے اوپر دباؤ آئے۔ لالچ دیے گئے۔ ہم یہ کہیں کہ ہم بہت بہادر ہیں، ایسا نہیں ہے۔ لیکن ہم نے ان سارے دباؤ اور لالچ کو ایک کنارے کر دیا اور ہم نے اس گھوٹالے پر لگاتار نظر بھی رکھی اور جانچ بھی جاری رکھی اور کئی شماروں میں فالو اَپ اسٹوری کی۔ ایک اہم یا کور اسٹوری کی ہیڈنگ تھی کہ ’وزیر اعظم منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں‘۔ ہمیں اس کی تصدیق منموہن سنگھ کے قریبی سینئر قانونی صلاح کاروں کے ذریعے ہوئی اور ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جانچ کے اوپر گہری نظر رکھنے والے کچھ سابق ججوں کی بات چیت سے ہمیں لگا کہ منموہن سنگھ اس کوئلہ گھوٹالے میں بالواسطہ طور پر شامل ہیں۔
اور جب سی بی آئی کے جج نے 11 مارچ کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ملزم بنانے کی بات کی، تو ہمیں یقین ہو گیا کہ ہماری رپورٹ صحیح تھی۔ حالانکہ ہماری رپورٹ صحیح ہونے کا ایک اور ثبوت ہمارے پاس تھا۔ ہم نے منموہن سنگھ کو لے کر ایک اور اسٹوری کی تھی، جس میں ان کی بیوی، بہن اور اُس وقت آرمی چیف کے عہدہ پر دعویٰ کرنے والے جنرل وکرم سنگھ کے رشتے کی بات ہم نے کی تھی۔ اسٹوری بازار میں آئی، اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے دفتر نے اس کی مذمت جاری کر دی۔ لیکن مزے کی بات یہ کہ انہوں نے یہ مذمت نامہ ہمیں نہیں بھیجا، باقی سب کو بھیج دیا، یعنی جس نے رپورٹ چھاپی، اس کو مذمت نامہ انہوں نے شاید اس لیے نہیں بھیجا، کیوں کہ ہو سکتا تھا کہ ہمارے پاس اس کی اور جانکاری ہوتی اور ہم اس کی فالو اَپ اسٹوری کریں گے۔ کوئلہ گھوٹالے کے اوپر جب ہم نے لکھا کہ وزیر اعظم جیل جا سکتے ہیں، تو وزیر اعظم کے دفتر نے اس رپورٹ کے اوپر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا کہ شاید اُس وقت کے وزیر اعظم کا دفتر اس موضوع کی سنگینی کو سمجھتا تھا۔ اسی لیے اس نے اس کا کوئی مذمت نامہ جاری نہیں کیا۔
منموہن سنگھ ایسے وزیر اعظم بن گئے ہیں، جن کے کوئلہ گھوٹالے سے متعلق بیان پر سپریم کورٹ نے اعتماد نہیں کیا اور یہ کہا کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو حلف نامہ کے ساتھ اپنا بیان سپریم کورٹ میں داخل کرنا ہوگا۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم منموہن سنگھ تھے، جنہیں اپنا بیان حلف نامہ کے ساتھ سپریم کورٹ میں داخل کرنا پڑا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سرکار کے اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں بار بار جھوٹ بولتے رہے۔ ان کے وزیر قانون بار بار جھوٹ بولتے رہے۔ ان کے سکریٹری برائے انصاف اور سکریٹری برائے قانون سپریم کورٹ میں غلط حلف نامے دیتے رہے اور منموہن سنگھ سرکار کے سی بی آئی کے ڈائرکٹر ایسے ڈائرکٹر بن گئے، جنہوں نے سپریم کورٹ میں لکھ کر یہ کہا کہ رپورٹ میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی اور پھر دوبارہ حلف نامہ دیا کہ رپورٹ میں چھیڑ چھاڑ ہوئی اور پھر کہاں کہاں چھیڑ چھاڑ ہوئی، یہ بھی انہوں نے بتایا۔ منموہن سنگھ کی سرکار کو چھوڑ دیں، منموہن سنگھ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے۔ کیا منموہن سنگھ ایسے وزیر اعظم تھے، جن کی نہ آنکھ تھی اور نہ کان؟ آخر وہ سرکار کیسے چلا رہے تھے؟ جس ایشو پر اس وقت کے کوئلہ سکریٹری انہیں بار بار یہ کہہ رہے ہوں کہ یہ طریقہ غلط ہے اور اسے منموہن سنگھ اندیکھا کر رہے ہوں، تو کیا اس کے لیے منموہن سنگھ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے؟
جب یہ کوئلہ گھوٹالہ سامنے آ گیا، تب منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے ان کے سینئر وزیروں نے، وکیل رہ چکے وزیروں نے یہ کہا کہ یہ ’زیرو لاس‘ ہے اور سی اے جی کی رپورٹ غلط ہے۔ کوئی نقصان ہوا ہی نہیں، کیو ںکہ کوئلہ تو زمین کے اندر ہی دبا ہوا ہے۔ منموہن سنگھ اس بیان کو بھی سنتے رہے اور شاید ان بیانوں کو اپنی ٹیبل سے کلیئر کرتے رہے، کیو ںکہ یہ مسئلہ منموہن سنگھ کے وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر فائز رہتے اور وزیر کوئلہ رہتے ہوئے ہوا تھا۔ اس لیے یہ ماننا چاہیے کہ سپریم کورٹ میں جو بھی دلیلیں دی جاتی رہیں یا سیاسی طور پر ان کے وزیر جو حکمت عملی بناتے رہے، ان میں منموہن سنگھ کی رضامندی ضرور رہی ہوگی۔
اب منموہن سنگھ کو یہ بیان دینا چاہیے کہ جس نقصان کی بات سی اے جی نے کہی تھی، یعنی ملک کو 1.86 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے، وہ رقم تین لاکھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے، کیوں کہ تین لاکھ کروڑ نیلامی سے سرکار کے پاس آ چکا ہے اور یہ صرف 31 کول بلاک کی نیلامی میں ہوا ہے۔ ابھی دو سو کے آس پاس کول بلاکس کی نیلامی ہونی باقی ہے۔ ہم یہاں یاد دلا دیں، ہم نے بار بار کہا کہ یہ کوئلہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ ہے، یہ 1.76 یا 1.86 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ نہیں ہے۔ اس کے اوپر سی اے جی بھی خاموش، پارلیمنٹ بھی خاموش۔ اب ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ کوئلہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ سے زیادہ بڑا ثابت ہو نے جا رہا ہے، کیوں کہ جب 204 بلاکس کی نیلامی ہوگی اور ابھی جس طرح سے نیلامی میں پیسہ آ رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ کوئلہ گھوٹالہ 40 لاکھ کروڑ کے آس پاس پہنچے گا۔
ہمیں تو پچھلی پارلیمنٹ کے اوپر بھی تھوڑی حیرانی ہوتی ہے۔ ہم نے تو سیاسی پارٹیوں کو کوئلہ گھوٹالے کے بارے میں اپنی چھپی ہوئی رپورٹس بھیجیں۔ ہم نے ممبرانِ پارلیمنٹ کو کاپیاں بھیجیں، لیکن کسی نے اس کے اوپر دھیان نہیں دیا۔ اگر سپریم کورٹ بیدار نہیں ہوتا، تو کوئلہ گھوٹالہ کبھی ملک کے سامنے آ ہی نہیں سکتا تھا، کیوں کہ کوئلہ گھوٹالہ اتنی سوچ سمجھ کی حکمت عملی کے ساتھ ہوا ہے کہ اس کے بارے میں انکشاف ہونا ناممکن تھا۔ اس کا صرف اور صرف کریڈٹ سپریم کورٹ کو جاتا ہے۔ پچھلی پارلیمنٹ بھی یہ کریڈٹ لے سکتی تھی، لیکن ہم پچھلی پارلیمنٹ کی بے حرمتی نہیں کر رہے ہیں، صرف یہ بتا رہے ہیں کہ پچھلی پارلیمنٹ بدعنوانی کو لے کر سنجیدہ تھی ہی نہیں۔ اس کے لیے بدعنوانی کوئی ایشو تھا ہی نہیں۔ ملک کے سسٹم کو ٹھیک کرنے میں اس کی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ شاید اسی لیے اس پارلیمنٹ کے زیادہ ارکان ہار گئے اور آج کی پارلیمنٹ نئے ارکان کی پارلیمنٹ ہے۔ لیکن ہمیں لگتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ بھی بدعنوانی کو لے کر شاید اتنی سنجیدہ نہیں ہے۔
کوئلہ گھوٹالہ ایک ایسا گھوٹالہ ہے، جو ملک کے لیے آئینہ کا کام کر سکتا ہے۔ کون سا ایسا بڑا کارپوریٹ ہاؤس ہے، جو کوئلہ گھوٹالے میں شامل نہیں رہا! کچھ بڑے میڈیا گروپ نے بھی کول بلاکس پانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کوئل بلاک ایک ایسا موضوع ہے، جس پر مستقبل میں ریسرچ ہوگی۔ لیکن سب سے افسوس اپنے ساتھیوں پر ہوتا ہے کہ اتنا بڑا ایشو سامنے رہا، لیکن کسی پرنٹ یا ٹیلی ویژن کے صحافی نے اس کی پرتیں کھولنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ اب کئی ٹیلی ویژن چینل اور کئی صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے کوئلہ گھوٹالے کو ملک کے سامنے لانے میں رول پلے کیا۔ ہم سب سے نہایت ادب کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپ دعوے کیجیے، لیکن جھوٹے دعوے مت کیجیے، کیو ںکہ جو چیز 2011 میں ہم نے ’26 لاکھ کروڑ کا مہا گھوٹالہ‘ عنوان سے چھاپ دی تھی، آپ نے 2013 میں جب ساری بات سامنے آنے لگی اور سپریم کورٹ کا ڈنڈا سی بی آئی کے اوپر چلنے لگا، تب آپ کو یاد آیا کہ ملک میں کوئی کوئلہ گھوٹالہ بھی ہوا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ آگے چل کر اس کوئلہ گھوٹالے میں اس وقت کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے کچھ صدور کے بھی نام آ سکتے ہیں اور جن لوگوں کو اس کا فائدہ ہوا ہے، ان لوگوں نے اپنے اس فائدے کا حصہ کچھ سیاسی پارٹیوں کے پاس بھی شاید پہنچایا ہو۔ ہم ’ڈر‘ اس لیے کہہ رہے ہیں، کیوں کہ ہمیں یہ سوچتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ اگر یہ سچائی سامنے آئی، تو ملک کے لوگوں کا اعتماد سیاسی پارٹیوں کی ایمانداری کے اوپر سے اٹھ جائے گا۔ اب تک سیاسی پارٹیاں ذات، مذہب، فرقہ کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بناتی رہیں، لیکن بدعنوانی کی اس ’مہا گنگا‘ میں سیاسی پارٹیاں بھی ’مہا پنیہ‘ (بڑا ثواب) ایک سمجھوتے کے تحت کہیں کما چکی ہوں اور یہ خلاصہ ہو جائے، تو یہ ملک کی جمہوریت کے لیے بہت بڑی لعنت ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *