جشن ریختہ: اردو کا ایسا جشن نہ دیکھا نہ سنا

ڈاکٹر وسیم راشد
انڈیا انٹر نیشنل سینٹر کا وسیع و عریض سبزہ زار، ہلکی ہلکی سی پھوار پڑتی ہوئی، ٹھنڈی ٹھنڈی بھیگی ہوا سے درخت و پتے جھومتے ہوئے، روشنیاں، میوزک، خوبصورت ساز و آواز کا سنگم اور پورا فائونٹین لان اردو کے متوالوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا۔یہ منظر جشن ریختہ کا ہے ۔ریختہ ایک ایسے اردو کے متوالے، اردو زبان کے دیوانے کی کاوش ہے جس نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور اردو کو غیر اردو داںحضرات تک پہنچانے کے لئے جنون کی تمام حدوں کو چھولیا ہے۔ سنجیو صراف ایک ایسے ہی اردو کے عاشق کا نام ہے جس نے اپنی ریختہ فائونڈیشن کے ذریعہ اردو کی بقاء اور اردو کو عروج دینے میں منفرد کام کیا ہے۔
مجھے یاد ہے کوئی 2سال پہلے سے ریختہ فائونڈیشن کا نام دہلی والوں کی سماعت سے ٹکرا رہا ہے۔ پہلا پروگرام تو مجھے معلوم نہیں لیکن گزشتہ سال بھی سنجیو صراف نے ایک بہت بڑا پروگرام منعقد کیا تھا جس میں انہوں نے مختلف فکر و ادب کے لوگوں کو ایک چھت کے نیچے جمع کردیا تھا۔
اس سال موسم بہار یقینا دہلی والوں کے لئے ایک ایسا جشن لے کر آیا جس میں اردو زبان و ادب کے لوگ ہی نہیں بلکہ غیر اردو داں حلقہ بھی ہزاروں کی تعداد میں شریک ہو کر اردو زبان کی چاشنی سے لطف اندوز ہوئے۔ میری آنکھوں نے اس جشن میں وہ دیکھا جسے لکھتے ہوئے بھی میں پوری طرح سرشار ہوں۔
افتتاحی پروگرام میں دہلی اور اردو داں طبقے کے علاوہ بلا مبالغہ ہزاروں افراد شریک تھے۔ سنجیو صراف ایک بے لوث ، سادہ سی مسکراہٹ کے ساتھ مہمانوں کا خیرمقدم کررہے تھے جیسے وہ بس اردو کے خادم ہوں، اردو کے سپاہی ہوں ،اردو جیسے ان کی نس نس میں بسی ہو۔
شاندار افتتاحی پروگرام کے بعد جو سیشن ایک ساتھ کئی جگہ ہورہے تھے ،وہ منفرد نوعیت کے سیشن تھے جن کے نام اور ان کے بارے میں کوئی اردو والا بھی نہیں سوچ سکتا تھا ۔اب تک ہوتا یہ رہا ہے کہ کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی تنظیم ،کوئی بھی اکادمی جب اردو کے پروگرام منعقد کرتی ہے تو وہی پرانی فرسودہ نشستیں ،وہی افتتاحی رسمی تقریب جس میں وہی لوگ نظر آتے ہیں جو خود کو اردو کا بابا آدم سمجھتے ہیں جن کے چہرے اس زعم سے سوجے رہتے ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو اردو کا پروگرام ہی نہ ہو بلکہ اردو اگر زندہ ہے تو ان ہی نام نہاد اردو والوں کے دم سے۔ ہر پروگرام میں وہی عام سی نشستیں ،عام سے سیشن، وہی بار بار کے چہرے جن کو دیکھ کر اب طبیعت اوب چکی ہے۔ اردو والے نہ تو کسی کو آگے آنے دیتے ہیں ،نہ ہی نئی نسل کو بڑھاوا دیتے ہیں۔بڑے بڑے اردو داں حضرات ہر طرف سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھے ہیں۔ مقالے پڑھوالیتے ہیں۔ مشاعرہ کرلیتے ہیں ۔ مذاکرے منعقد کرلیتے ہیں لیکن سچ جانئے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اردو کو اس شکل میں اور اس جدید انداز میں بھی دیکھا ،سنا جاسکتا ہے اور ایسے بھی اس زبان کو فروغ ہوسکتا ہے۔
آڈیٹوریم میں ایک پروگرام چل رہا ہے جس میں جاوید اختر،سکریتا پال سے محو گفتگو ہیں۔ گوپی چند نارنگ بھی ہیں اور شمس الرحمن فاروقی بھی اور برطانیہ سے ستیہ پال آنند بھی۔ اس وقت کانفرس روم میں انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کے عنوان سے بات چیت کی جارہی ہے۔ ’اردو ہندی قربتیں اور فاصلے ‘’اردو ا نسانی وحدت کی زبان اردو میں جاسوسی ادب‘ ’اردو ادب کی تانیثی آواز‘ ’مشاعرہ کے بدلتے رنگ و روپ’‘فلموں کی زبان اردو‘’اردو شاعری اور تہذیب‘ وغیر جیسے پروگرام ، ان پر بات چیت بحثیں‘ خیالات کا اظہار۔
مختلف فکر و فن کے لوگ سب ایک چھت کے نیچے جمع ہیں۔ایسے ایسے عنوان کہ عقل دنگ رہ گئی کہ اس طرح سے بھی اردو زبان کے پروگرام منعقد ہوسکتے ہیں۔ میری آنکھوں نے تو وہ بھی منظر دیکھا جب فائونڈیشن لان میں ’اختری‘ نام سے بیگم اختر کو خراج عقیدت پیش کی جارہی تھی اور اردو والے کم اور غیر اردو داں افراد سے لان بھرا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پورے لان کے چاروں طرف کم سے کم 500 سے 700 لوگ کھڑے ہوکر سن رہے تھے۔ کوئی وی آئی پی نہیں تھا۔ آگے کی سیٹوں پر عام لوگ بیٹھے تھے اور بڑے بڑے عہدے والے لوگ کھڑے تھے۔ خود مجھے بھی سیٹ نہیں ملی، لیکن ایک دست نے جگہ بناکر بیٹھا ہی لیا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ پاکستانی سیریل کی بے حد مشہور و معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ، ان کے شوہر اور پاکستانی سیریل کے باقی مشہور و معروف لوگ کھڑے تھے ۔حالانکہ سب انہیں جانتے تھے ۔آج کل ویسے بھی گھر گھر میں ’زندگی‘ چینل دیکھا جاتا ہے لیکن کہیں ایک سیٹ بھی خالی نہیں تھی کہ وہ بیٹھ سکتے، لیکن ان کے ماتھے پرکوئی شکن نہیں تھی۔ پاکستانی سفیر عبد الباسط اور ان کی بیگم بھی پیچھے کی نشستوں پر بیٹھے تھے۔ پاکستانی مشہور اداکارہ عذرا بھی موجود تھیں۔ نہ کوئی وی آئی پی تھا نہ کوئی صدر ،نہ مہمان خصوصی ۔مشاعرہ کا کیا معیار تھا کہ پہلا شاعر 65سال کا تھا جس نے مشاعرہ پڑھا اور آخری شاعر 85سال کا، پاکستان کے مشہور و معروف شعرائ، احمد شعور، احمد علوی، امجد اسلام امجد، کینڈا سے اشفاق حسن، ہندوستان سے وسیم بریلوی، فرحت احساس اور نظامت معین شاداب کررہے تھے۔
آج کل جہاں بھی مشاعرے ہوتے ہیں کم و بیش 20سے 25 شاعر ہوتے ہیں ۔ ان میں بھی وہ حضرات جو نہ تو مشاعروں کی روایت سے واقف ہیں نہ مشاعرے کی تہذیب سے۔ 8سے 10گھنٹے مشاعرے چلتے ہیںکہ سننے والا بھی پاگل ہوجائے۔نہ زبان کی سمجھ ، نہ ادب سے کوئی واسطہ، نہ قافیے نہ ردیف ،نہ زبان کے رسم الخط سے واقفیت، بس ہر ہما شما شاعر بن گیا ہے ۔کیونکہ اس صنعت میں پیسہ بہت ہے ۔لیکن جو معیار ریختہ نے سامعین کو دیا ،وہ معیار اردو والوں کو شاید زمانے کے بعد میسر آیا ہو۔ ایک وقت تھا جب فیض احمد فیض ، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، احمد فراز ، مجروح سلطانپوری، قتیل شفائی ایک ہی محفل میں مشاعرہ پڑھا کرتے تھے ۔کیا معیار تھا اس وقت ۔
جشن ریختہ کے تحت قوالی، غزل سرائی کی محفل بھی سجائی گئی۔تینوں دن لوگوں کا ایسا ہجوم تھا کہ کچھ نہ پوچھئے اور جس شخص نے یہ محفل سجائی تھی اس کی سادگی اور بے غرضی کا یہ عالم تھا کہ خود زمین پر بیٹھا ہوا شاعری پر ،غزلوں پر ،قوالی پر سر دھن رہا تھا۔ میری آنکھوں نے تو یہ منظر بھی دیکھا کہ جس کو جہاں جگہ ملی وہ گھنٹوں وہاں سے نہیں اٹھا ۔آدھا گھنٹہ کا وقفہ بھی ہوا لیکن جگہ جانے کے ڈر سے ہر کوئی اپنی جگہ پر ہی جما رہا۔
میں چونکہ دہلی کی ادبی، تہذیبی اور ثقافتی سرگرمویں کی چشم دید گواہ ہوں اور سالوں سے پروگرام دیکھتی ، سنتی اور شرکت کرتی آرہی ہوں ۔اس لئے پوری ذمہ داری سے کہہ سکتی ہوں کہ دہلی نے ایک ساتھ اتنے دانشور، شاعر، ادیب، اسکالر، موسیقار اور بڑی بڑی اہم شخصیات کو ایک ساتھ نہیں دیکھا۔ بس یہ عالم تھا کہ بقول شاعر
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
ہند و پاک کے اردو کے مشہور افسانہ نگار انتظار حسن، گوپی چند نارنگ، مشہور ناقد شمس الرحمن فاروقی ، مشہور شاعر جاوید اختر، منور رانا، مشہور صحافیکلدیپ نیر، ہندی کے مشہور ادیب اشوک واجپئی، کامنا پرساد،یہ سب اس جشن کا حصہ تھے۔ کوئی کسی کے ادبی قد کو نہیں ناپ رہا تھا۔سب اردو کے سچے سپاہی اور خادم کی طرح موجود تھے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ نئے لکھنے والوں کو کوئی پلیٹ فارم نہیں ملتا ہے۔اردو زبان پر مسلمانوں نے اپنی اجارہ داری سمجھ لی ہے ۔ اس لئے زبان کو بس اپنی جاگیر سمجھتے ہیں ۔ نئے شعراء کو اگر پڑھنے کا موقع مل بھی جاتاہے تو کہنہ مشق شعراء ان کی اصلاح کرنے کے بجائے تنقید کرکے حوصلہ پست کردیتے ہیں۔جشن ریختہ میں نئے تخلیق کاروں کو بھی نہ صرف موقع ملا بلکہ ان کو تحفہ بھی دیا گیا۔ خوبصورت سے ہرے بھرے لان مین ایک اسٹیج بنایا گیا اور وہاں پورا سائونڈ سسٹم لگا کر باقاعدہ نوجوانوں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کی دعوت دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے نوجوان شعراء نے اپنے کلام سے نوازا اور نئی طرح کے موضوعات شاعری میں نظم ہوتے دکھائی دیئے۔
شاید اردو کا یہ پہلا پروگرام تھا جس کی دعوت ایف ایم پر دی گئی۔اسی لئے تینوں دن اردو کے ساتھ ساتھ غیر اردو داں حضرات نے بھی شرکت کی ۔تقریبا ً اس جشن میں 25ہزار لوگوں نے رجسٹریشن کرایا جس مین یقینا 18 ہزار سے زیادہ شرکا ء غیر مسلم تھے۔
اس پورے کارواں کے سپہ سالا سنجیو صراف اپنی بھرپور مسکراہٹ اور سادہ اندز میں مہمانوں کے بیچ بہ نفس نفیس موجود رہے ۔ ان کی پوری ٹیم جس میں فرحت احساس صاحب اور دیگر لوگ بھی بے حد مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے بنا ماتھے پر شکن لائے اردو کا یہ جشن منعقد کیا اور ہر شخص کو یہ باور کرایا کہ وہ اس جشن کا خود بھی حصہ ہے۔
بے شک یہ ریختہ کا کما ل ہے کہ تین دنوں میں اردو کے ایسے ایسے گوشے اجاگر ہوئے جس سے فکر و فن کے نئے دریچے بھی کھلے۔ریختہ نے اس جشن کے ذریعہ اردو زبان کی تکنیک کی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
پوری دنیا میں اس وقت اردو داں طبقہ ریختہ ڈاٹ کام کو سراہ رہا ہے جس نے دو برسوں میں ہی انٹر نیٹ کے ذریعے اردو کو غیر ارو داں طبقے میں مقبول کردیا ہے۔ نامور ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کو انٹرنیٹ پر منتقل کرکے وہ کام انجام دیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔بلا شبہ جشن ریختہ کے اس سہہ روزہ پروگرام نے ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ 1200سے زیادہ اردو شعرائے کرام کی 13ہزار غزلیں سائٹ پر دستیاب ہونا ،10ہزار کتابوں اور رسائل کا سائٹ پر موجود ہونا،یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ کام دیوانگی کا ہے اور اردو کو ایسا ہی ایک دیوانہ سنجیو صراف کی صورت میں مل گیا ہے ۔اللہ اسے اردو کے بڑے بڑے نامور خود ساختہ اردو کے ٹھیکہ داروں کی بری نظر سے بچائے۔(آمین)

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *