گھوٹالوں کا کارپوریشن این ٹی پی سی

پربھات رنجن دین
mastنیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ (این ٹی پی سی) نے سرکاری پروجیکٹ کے لیے قبضے میں لی گئی زمین خفیہ طریقے سے بوفورس – فیم ہندوجا گروپ کو دے دی۔ سرکار کے سیمادری پروجیکٹ کی سینکڑوں ایکڑ زمین ہندوجا گروپ کو دیے جانے کے معاملے میں وزارتِ توانائی مشتبہ طریقے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، جب کہ سنٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی) نے ضروری کارروائی کے لیے اسے وزارتِ توانائی کو پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) تک کو اس کا علم ہے۔ این ٹی پی سی کے چیئر مین و منیجنگ ڈائرکٹر (سی ایم ڈی) اروپ رائے چودھری نے آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع سیمادری پروجیکٹ کی تحویل میں لی گئی زمین ہندوجا گروپ کو دے کر قانون کی تو دھجیاں اڑائیں ہی، این ٹی پی سی اور ملک کو زبردست اقتصادی اور تجارتی نقصان بھی پہنچایا۔ 19 جون، 2014 کو این ٹی پی سی بورڈ کی میٹنگ میں تجویز پاس کرکے ہندوجا گروپ کو زمین دے دی گئی تھی۔
این ٹی پی سی کے سیمادری پروجیکٹ کے لیے تقریباً 3400 ایکڑ زمین کو قبضے میں لیا گیا تھا۔ اسی زمین کا بڑا حصہ پہلے سے منظوری لیے بغیر ہندوجا گروپ کو دے دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ کام منافع حاصل کرنے کے مقصد سے ہی کیا گیا ہوگا۔ این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری جب نیشنل بلڈنگ کنسٹرکشن کارپوریشن (این بی سی سی) کے سی ایم ڈی تھے، تب انہوں نے میسرز ایئرکان انجینئرنگ سروسز سمیت کئی دیگر ٹھیکہ داروں سے ساز باز کرکے ہند- پاک سرحد پر تاربندی (فینسنگ) جیسے حساس کام میں بھی گھوٹالہ کیا تھا۔ اس الزام کی بھی شکایت سی وی سی اور پی ایم او کو ہے۔ ملک کی توانائی سے متعلق ضرورتوں کے لیے ہندوستانی سرکار امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کر رہی ہے، لیکن بجلی پیدا کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ (این ٹی پی سی) بکھرنے کی حالت میں ہے۔ اس کی طرف مرکزی سرکار کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ بدعنوانی اور انتشار میں مبتلا این ٹی پی سی بند نہ ہو جائے، اس کے لیے این ٹی پی سی کے افسروں نے ہی بدعنوان انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری کی بد انتظامی کے سبب ادارہ کو ہو رہے نقصان کے خلاف این ٹی پی سی ایگزیکٹوز فیڈریشن آف انڈیا (نے فی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے براہِ راست مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ نے فی کا کہنا ہے کہ این ٹی پی سی کو بچانے کے لیے کمپنی کی سرکردہ قیادت میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نے فی، این ٹی پی سی کے ایگزیکٹو افسروں کی واحد اعلیٰ قیادت والی تنظیم ہے۔ نے فی نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری نے ادارہ کے بہترین ورکنگ کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ادارہ کے وفادار افسروں کی کوششوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور گزشتہ 39 برسوں سے بجلی کی پیداوار میں بڑے بڑے ریکارڈ قائم کرنے والے ان افسروں کو کمپنی پر ایک بوجھ کی طرح دکھایا جا رہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں این ٹی پی سی کی اعلیٰ قیادت نے نے فی کو برباد کرنے کی ساری کوششیں کی ہیں اور 24 اکتوبر، 2013 کے بعد سے تو کوئی میٹنگ بھی نہیں بلائی گئی۔ وہ میٹنگ بھی کافی جدوجہد کے نتیجہ میں 33 مہینے کے بعد ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے سرکردہ قیادت کا ارادہ بدعنوانی، اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ اس وجہ سے این ٹی پی سی کے سارے ایگزیکٹو افسر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور فیصلے لینے سے متعلق کارروائیوں میں انہیں شریک نہیں کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ چار سالوں میں این ٹی پی سی کا جو منافع عدد میں دکھایا جاتا ہے، وہ فرضی ہے۔ پیداوار میں کمپنی فائدے میں نہیں رہی، تو اضافی صلاحیت بڑھا کر اسے منافع کی عدد میں جوڑ دیا گیا ہے، جب کہ صلاحیت کے مطابق بجلی کی پیداوار میں این ٹی پی سی ناکام ہو رہا ہے۔ اب ملک کے پہلے دس پروجیکٹوں میں این ٹی پی سی کا نام کہیں بھی شامل نہیں ہے۔ کوئلہ گھوٹالے کے سنگین الزامات سے گھرے این ٹی پی سی کے پاس اب صرف ایک ہی کول بلاک پکری – برواڈیہہ ہے، لیکن سرکاری منظوریوں کے باوجود انتظامی نا اہلی کی وجہ سے وہاں کانکنی (مائننگ) کا کام نہیں ہو رہا ہے۔ ملک میں مائننگ کے شعبے میں بہترین تکنیکی ترقی کے لیے آسٹریلیا کی کمپنی تھیس پرائیویٹ لمیٹڈ سے وابستہ ادارہ تھیس انڈیا سے 30 نومبر، 2010 کو ایک معاہدہ ہوا تھا، لیکن المیہ یہ ہے کہ این ٹی پی سی کی اعلیٰ قیادت نے معاہدہ کو یک طرفہ ختم کر دیا۔ اس پر مرکزی حکومت نے کوئی کارروائی بھی نہیں کی۔ این ٹی پی سی منظور شدہ کول بلاک سے کوئلے کی کانکنی نہیں کر رہا ہے، جب کہ کوئلے کی کمی کی وجہ سے این ٹی پی سی کی کئی اہم اکائیاں خستہ حالت میں پہنچ گئی ہیں اور پیداوار لگاتار گر رہی ہے۔
این ٹی پی سی کا بہار کا کہل گاؤں بجلی گھر ہو یا مغربی بنگال کا فرکّا بجلی گھر یا پھر چھتیس گڑھ کی کوربا، سیپت یا بلاس پور جیسی کئی دیگر اکائیاں اپنی پیداواری صلاحیت میں لگاتار آ رہی کمی کے سبب چرچا میں ہیں۔
سنٹرل انرجی اتھارٹی (سی ای اے) کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ این ٹی پی سی کے 20 ہزار میگا واٹ صلاحیت کے بجلی گھروں سمیت کئی دیگر بجلی گھروں کے سامنے پیداوار میں کمی کا زبردست بحران ہے۔ پچھلے مالی سال میں این ٹی پی سی نے 2675 میگاواٹ بجلی (کمرشیل) پیدا کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن صرف 2003 میگاواٹ بجلی ہی پیدا ہو سکی۔ کمرشیل بجلی کی پیداوار میں لگی اکائیاں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہی ہیں، لیکن سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری ملک بھر میں گھوم گھوم کر میڈل اور اعزاز بٹورنے میں مست ہیں۔ اس کا خمیازہ آخر کار ملک کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سال 2011-12 کے اخیر تک بجلی پیداوار کے شعبہ میں پرائیویٹ کمپنیو ںکی حصہ داری جہاں 16 فیصد سے بڑھ کر 23.4 فیصد ہوئی تھی، وہیں این ٹی پی سی کی حصہ داری 25.32 فیصد سے بڑھ کر صرف 26 فیصد تک ہی پہنچی۔ اس سے مقابلہ آرائی کے شعبہ میں این ٹی پی سی کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ غیر پیشہ ور رویے کے سبب یکم نومبر، 2014 کو جب سینسیکس 20,450 پر تھا، تب این ٹی پی سی کے شیئر کی قیمت 219 روپے تھی۔ دسمبر 2014 میں سینسیکس 38 فیصد بڑھ کر 27,371 تک پہنچ گیا، لیکن این ٹی پی سی کا شیئر 38 فیصد کم ہو کر 135 روپے پر گر گیا۔ اس سے نہ صرف کمپنی اور سرمایہ کاروں کو اقتصادی نقصان پہنچا، بلکہ شیئر مارکیٹ میں این ٹی پی سی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں شروع کیے گئے کسی بھی پروجیکٹ کی توسیع کا کام وقت پر نہیں ہوا، یہاں تک کہ کئی جوائنٹ وینچر بھی التوا میں پڑے ہوئے ہیں۔
نے فی نے وزیر اعظم کو آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سال 2017 تک 43,128 میگاواٹ سے 75,000 میگاواٹ کا پیداواری ہدف پانے کے لیے این ٹی پی سی کو خاص دھیان دینا ہوگا، کیوں کہ زمینی حالت یہ ہے کہ این ٹی پی سی کے 30,351 پروجیکٹ 25 سال یا اس سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔ این ٹی پی سی میں نئے پروجیکٹوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اعلیٰ انتظامیہ کا اس پر دھیان ہی نہیں ہے۔ لہٰذا، اس معاملے میں وزیر اعظم کی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔ انتظامی امور میں لاپروائی کا یہ عالم ہے کہ اعلیٰ انتظامیہ کی سطح پر لیے گئے فیصلوں میں کوئی استحکام نہیں رہتا اور من مانے ڈھنگ سے فیصلے لیے اور خارج کیے جاتے ہیں۔ پہلی بار ایڈیشنل جنرل منیجر (انسٹالیشن) کا عہدہ قائم کیا گیا، پھر چھ ماہ بعد ہی اسے ختم کر دیا گیا۔ مینجمنٹ نے اپنے افسروں اور ملازمین کو سستے مکان دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے لیے کئی تقرریاں کر لی گئیں، لیکن مینجمنٹ کی طرف سے پرائیویٹ بلڈروں کے بنے فلیٹ بازار کی قیمت پر مہیا کرائے جانے لگے۔ حالت اتنی بدتر ہو گئی کہ بلڈروں کے ساتھ معاہدہ پر این ٹی پی سی نے ہی ہوم لون دینے سے انکار کر دیا۔
نے فی نے کافی مخالفت کرکے اس اسکیم پر روک لگوائی اور ممبران کو اپنی رکنیت واپس لینے کا متبادل فراہم کیا۔ اس کے علاوہ انرجی سیکورٹی (کوئلہ اور گیس) کے حساس معاملے کے نمٹارے میں بھی مینجمنٹ کو بھاری ناکامی حاصل ہو رہی ہے۔ سنٹرل الیکٹریسٹی ریگولیشن کمیٹی (سی ای آر سی) کے 2014-19 کے سخت ٹیرف پیمانوں کی پالیسی پر مبنی وکالت میں سرکردہ انتظامیہ کی طرف سے کمزوری برتی گئی۔ اس کی وجہ سے این ٹی پی سی کو بھاری اقتصادی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انتظامیہ من مانے طریقے سے افسروں اور ملازمین کے تبادلے کر رہی ہے، اس سے زبردست مایوسی کا ماحول بن گیا ہے۔ نے فی کے قومی صدر راکیش پانڈے نے کہا کہ انصاف کے سارے راستے بند ہونے کے سبب ہی انہیں وزیر اعظم کو سیدھے خط لکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔ این ٹی پی سی جیسے اہم اور مشہور ادارہ اور اس کے ایگزیکٹو افسروں کی حالت نہایت ہی خستہ ہو چکی ہے۔ پانڈے نے کہا کہ اس اعلیٰ پیشہ ور ادارہ میں سطحی سیاست کرنے کی کوشش ہو رہی ہیں، جس کے تار سیدھے سی ایم ڈی دفتر سے جڑے پائے گئے ہیں، جسے کمپنی کے مفاد میں فوراً روکا جانا چاہیے۔

جانچ جاری تھی، پھر کیسے ہوا سلیکشن!

mastاین ٹی پی سی کے سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری کے خلاف بدعنوانی کی لمبی فہرست تھی، تو سی ایم ڈی کے عہدہ پر ان کا سلیکشن کیسے ہو گیا؟ مشہور سماجی اور آر ٹی آئی کارکن مہند اگروال کے اس سوال کا اب تک جواب نہیں ملا ہے۔ این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی عہدہ کے لیے 17 ستمبر، 2009 کو جاری اشتہار کے ذریعے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اس عہدہ کے لیے کل 25 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جن میں این ٹی پی سی میں برسر کار ڈائرکٹر (کمرشیل) آئی جے کپور، ایگزیکٹو ڈائرکٹر وشو روپ اور ڈائرکٹر (فائننس) اے کے سنگھل کے ساتھ ساتھ این بی سی سی کے سی ایم ڈی اروپ رائے چودھری بھی شامل تھے۔ پوری مشینری اروپ رائے چودھری کو این ٹی پی سی کا سی ایم ڈی بنانے پر آمادہ تھی۔ اس لیے اہلیت کا پیمانہ طاق پر رکھ دیا گیا اور 25 درخواست گزاروں میں سے اے کے سنگھل اور اروپ رائے چودھری کا نام ہی اس وقت کے وزیر توانائی کی منظوری کے لیے بھیجا گیا۔ رائے چودھری کی تقرری ویسے ہی ہوئی، جیسے پی جے تھامس کی تقرری سنٹرل وجیلینس کمشنر (سی وی سی) کے عہدہ پر ہوئی تھی۔ رائے چودھری جب این بی سی سی کے چیئر مین تھے، تو اس کا ٹرن اووَر تقریباً 3,000 کروڑ روپے تھے، جب کہ این ٹی پی سی کا ٹرن اووَر 50 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ تھا۔
اروپ رائے چودھری کے نام پر منظوری کی مہر لگانے والے اس وقت کے وزیر توانائی سشیل کمار شندے کے ساتھ ساتھ وزارتِ شہری ترقی اور این بی سی سی کے سی وی او شک کے گھیرے میں ہیں۔ بدعنوانی کے سنگین معاملوں میں وجیلینس کلیئرنس دیا جانا پوری طرح مشکوک ہے۔ این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی عہدہ کے لیے سلیکشن کے وقت رائے چودھری پر بدعنوانی کے دو سنگین معاملوں کی جانچ زیر التوا تھی۔ ایک جانچ این بی سی سی کے وجیلینس ڈپارٹمنٹ کے اے کے کپور کر رہے تھے، جو رائے چودھری کی آمدنی سے زیادہ ملکیت کے معاملے کی تھی۔ دوسری جانچ وزارتِ شہری ترقی کے سی وی او کے ذریعے کی جا رہی تھی۔ ان محکموں سے منظوری ملنا ساز باز کی سند ہے۔ این بی سی سی کے سی وی او رَونیش کمار اور وزارتِ شہری ترقی کے سی وی او آر سی مشرا نے کیسے اور کس طرح وجیلنس کلیئرنس دے دی، یہ گہرائی سے جانچ کا موضوع ہے۔ سنٹرل وجیلینس کمیشن بھی کہتا ہے کہ رائے چودھری کے خلاف بدعنوانی کے دو معاملے زیر التوا ہیں۔ رائے چودھری پر پشپ وہار پلازہ بھون اور این بی سی سی کے گیسٹ ہاؤس کو ناجائز طریقے سے رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام ہے۔ سی وی سی نے این بی سی سی کے سی وی او سے رپورٹ بھی مانگی تھی، لیکن سی وی او رَونیش کمار نے بہانہ بنا کر ٹال دیا۔

باکس
بدعنوانی کے الزامات کی لمبی فہرست
سماجی کارکن مہندر اگروال کہتے ہیں کہ اروپ رائے چودھری پر بدعنوانی کے الزامات کی لمبی فہرست ہے …
.1 اروپ رائے چودھری نے ہوڑہ کے میسرز آر کے ملن کے ساتھ مل کر زمین خرید میں این بی سی سی کو 12.12 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔
.2 ہریانہ کے گڑگاؤں اور کھیکھڑا، لونی بارڈر پر دو دو اراضی پرائیویٹ پارٹیوں سے بازاری قیمت سے بہت مہنگے میں خرید کر این بی سی سی کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
.3 میسرز ایئرکان انجینئرنگ سروسز اور دیگر ٹھیکہ داروں سے ملی بھگت کرکے ہند- پاک سرحد پر ہوئے بارڈر فینسنگ کے کام میں گھوٹالہ کیا۔
.4 وِبگیور ٹاور پروجیکٹ، کولکاتا اور نیتا جی نگر پروجیکٹ میں ٹھیکہ داروں کو غلط طریقے سے ادائیگی کرکے کمپنی کو بھاری نقصان پہنچایا۔
.5 نارتھ ایسٹ میں میسرز ایس کے بلڈرس (میزورم)، میسرز جادومنی سنگھ (میزورم)، میسرز وی ایم جی (میزورم)، میسرز جی ایس اگروال (میزورم)، میسرز جے سی کارپوریشن (میگھالیہ اور میزورم) کے ساتھ ملی بھگت کرکے کروڑوں روپے کی غلط ادائیگی کرکے ان کمپنیوں کو رائے چودھری نے بیجا فائدہ پہنچایا۔
.6 این بی سی سی گیسٹ ہاؤس 15- اے، سیکٹر 30، نوئیڈا کو غلط طریقے سے رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا، جس پر 2,11,902 روپے کی ریکوری بنی تھی، لیکن دباؤ ڈال کر اسے ویو – آف (معاف) کرا لیا گیا۔ سی وی سی کی جانچ چل رہی تھی۔
.7 بہار میں پٹنہ کے کنکڑ باغ پروجیکٹ میں بھی کافی گھوٹالہ کیا گیا۔ اس وجہ سے بہار سرکار نے پانچ سو کروڑ روپے کا پروجیکٹ این بی سی سی سے واپس لے لیا تھا۔ پروجیکٹ میں ڈرینیج وغیرہ کی تعمیر کا کام تھا۔ گھٹیا تعمیر اور گھٹیا سامان کے استعمال کے خلاف اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جگہ کا معائنہ کرکے رپورٹ درج کرانے کا حکم دیا تھا۔ انیس آباد – پھلواری شریف شاہراہ، پترکار نگر تھانہ حلقہ کے ملاحی پکڑی میں ڈرینیج کی تعمیر، سڑک، سیوریج، پانی کی سپلائی، کچرے کے انتظام و انصرام کے نہرو مشن پروجیکٹ کے 500 کروڑ روپے کا کام این بی سی سی سے واپس لے لیا گیا تھا۔
.8 دہلی کے ساکیت (پشپ وہار) میں سماجی کاموں مثلاً پوسٹ آفس، سماج سدن وغیرہ کی تعمیر کے لیے وزارتِ شہری ترقی نے این بی سی سی کو زمین دی تھی۔ رائے چودھری نے اس زمین پر دفتر اور کاروباری مرکز کی تعمیر کراکر محکمہ انکم ٹیکس اور کسٹم ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو فروخت کر دیا۔
.9 نیتا جی نگر، چانکیہ پوری، دہلی میں وزارتِ شہری ترقی کی زمین لیلا ہوٹلس کو غلط ڈھنگ سے بیچنے اور موٹی رقم بطور کمیشن کھانے کا الزام۔
.10 رانچی، کولکاتا، فرید آباد، وسنت کنج، وسنت وہار، ڈیفنس کالونی اور چترنجن پارک سمیت دیگر جگہوں پر بے نامی پراپرٹیز۔ بیرونی ممالک میں بھی کئی بے نامی پراپرٹیز کے علاوہ اربوں کی سرمایہ کاری۔
.11 اترپردیش کے امیٹھی پارلیمانی حلقہ میں جگدیش پور واقع اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا کی مالویکا اسٹیل فیکٹری بند کراکر بغیر کسی تجویز کے پاور پروجیکٹ کا راہل گاندھی سے افتتاح کرانے کے لیے کروڑوں روپے برباد کرنے کا الزام۔
.12 سنگرولی بجلی گھر کی ایش پانڈ میں جمع راکھ کو این سی ایل کی خالی پڑی کوئلہ کانوں میں بھرنے کے لیے ڈُھلائی کے ٹنڈر کے نام پر سینکڑوں روپے کھانے کا الزام۔
.13 کمپنی کے شمالی حلقہ ہیڈ کوارٹر میں جنرل منیجر اجول بنرجی، سنگرولی پروجیکٹ کے ایس کے رائے اور دنیش رائے جیسے دیگر بدعنوان افسروں کو کھلا تحفظ دینے کا الزام۔
مہندر اگروال کہتے ہیں کہ رائے چودھری پر تقرریوں میں بھی گھوٹالہ کرنے کے کئی الزام ہیں اور ٹھیکے دینے میں بھی بھاری گڑبڑی کرنے کی شکایتیں ہیں۔ لہٰذا رائے چودھری اور ان کی داداگیری میں شامل افسروں کے کارناموں کی جلد از جلد جانچ کراکر ملک کے سب سے بڑے ادارہ کو بدعنوانی کے دلدل سے باہر نکالنا وزیر اعظم نریندر مودی کی ترجیحی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

صرف کوئلہ نہیں، کئی گھوٹالوں میں بھی ملوث ہے این ٹی پی سی

کوئلہ گھوٹالے میں این ٹی پی سی اور اس کے معاون ادارہ این ایس پی سی ایل کے خلاف سی بی آئی نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ کول بلاک کے الاٹمنٹ کے باوجود این ٹی پی سی بیرونی ممالک سے گھٹیا کوئلہ مہنگی قیمتوں پر خرید رہا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں این ٹی پی سی کے سی ایم ڈی کو ملزم نہیں بنایا۔ جن دو افسروں کو بنیادی ملزم بنایا گیا، وہ دونوں سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی کے اونچا ہار واقع این ٹی پی سی ادارہ کے اعلیٰ افسر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک، اے کے شریواستو اونچا ہار واقع اکائی کے سربراہ رہے ہیں، تو دوسرے اوما شنکر ورما اسی دفتر میں ڈپٹی منیجر۔ یہ دونوں افسر اندور، کولکاتا اور انڈونیشیا کی کمپنیوں کے ساتھ مجرمانہ ساز باز کرکے گھٹیا کوئلہ درآمد (اِمپورٹ) کر رہے تھے۔ سی بی آئی نے دوسرا مقدمہ بھی این ٹی پی سی کے معاون ادارہ این ٹی پی سی سیل پاور کارپوریشن لمیٹڈ (این ایس پی سی ایل) کے سرکردہ افسروں اور کچھ کمپنیوں پر کیا ہے۔ جنوب مشرقی ایشائی ممالک سے گھٹیا کوئلہ بھی سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ واقع اونچا ہار این ٹی پی سی میں ہی گر رہا تھا۔ صرف دو سال کی مدت میں 116 کروڑ سات لاکھ 94 ہزار 162 روپے کا گھوٹالہ ہوا۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ سرکردہ افسروں کی ملی بھگت کے بغیر اتنا بڑا گھوٹالہ نہیں ہو سکتا۔
گھوٹالوں اور بدعنوانی کے دیگر معاملوں میں بھی این ٹی پی سی بری طرح گھرا ہوا ہے۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے چھتیس گڑھ میں این ٹی پی سی کے بجلی گھر کے لیے زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کا معاملہ اجاگر ہوا تھا۔ چھتیس گڑھ کے پسور بلاک میں لگنے والے این ٹی پی سی کے چار ہزار میگا واٹ پلانٹ کے نام پر زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کا کام ہوا۔ لارا سمیت آدھا درجن سے زیادہ گاؤوں میں ہوئی رجسٹریوں کی جانچ سے سات ہزار سے بھی زیادہ ایسے کھاتے سامنے آئے ہیں، جن میں پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم فرضی معاوضے کی شکل میں بانٹ دی گئی۔ اس گھوٹالے میں این ٹی پی سی کے افسر سے لے کر دلال تک شامل تھے۔ زمین کی خریدو فروخت میں دہلی، اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش تک کے لوگ شامل ہیں۔ جانچ میں قریب 1500 فرضی رجسٹریاں پکڑی گئیں۔ جانچ میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ زمین گھوٹالے میں این ٹی پی سی کے افسر بھی شامل ہیں۔ این ٹی پی سی زمین گھوٹالے کی سی بی آئی بھی جانچ کر رہی ہے۔ این ٹی پی سی میں سینکڑوں کروڑ روپے کا پی ایف گھوٹالہ بھی سرخیوں میں آ چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *