بہار اسمبلی الیکشن پر ’چوتھی دنیا‘ کا پہلا سروے: نتیش کمار سب سے آگے

وتھی دنیا بیورو
mastبہار کا آئندہ اسمبلی الیکشن تاریخی ہونے والا ہے۔ یہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاست کا راستہ متعین کرنے والا ثابت ہوگا۔ فاتح کون ہوگا، یہ نتیجہ آنے کے بعد ہی پتہ چل پاتا ہے، لیکن سب یہی جاننے کے خواہش مند ہیں کہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ بہار میں پچھلے دو تین سالوں میں کافی سیاسی اٹھا پٹک ہوئی ہے۔ بی جے پی – جے ڈی یو کا اتحاد ٹوٹا۔ نتیش اور مودی کی سیاسی دشمنی ہوئی۔ لالو یادو کو جیل کی سزا ہو گئی اور وہ فی الحال انتخابی سیاست سے باہر ہو گئے۔ لوک سبھا الیکشن کے بعد نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد مانجھی کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ پھر، مانجھی بے لگام ہو گئے۔ جب بھی وہ بولتے، پارٹی اور سرکار کی کرکری ہوتی۔ کافی جدوجہد کے بعد مانجھی کو ہٹایا گیا۔ نتیش کمار پھر سے وزیر اعلیٰ بنے۔ اس درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کی چنوتی سے نمٹنے کے لیے نتیش کمار اور لالو یادو نے متحد ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے آپس میں ضم ہونے کا عمل جاری ہے۔ اتنی الٹ پھیر کسی دوسری ریاست کی سیاست میں نہیں ہوئی ہے، اسی لیے بہار کا آئندہ الیکشن سب سے دلچسپ ہونے والا ہے۔ بہار میں عوام کا موڈ کیا ہے؟ وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی دوڑ میں سب سے آگے کون ہے؟ کیا بی جے پی الیکشن جیت پائے گی؟ کیا بہار کا الیکشن بھی دہلی کی طرح ہی ہونے والا ہے؟ مانجھی فیکٹر کا کیا اثر ہوگا؟ لالو اور نتیش کمار ایک ساتھ الیکشن لڑتے ہیں، تو کیا ہوگا؟ دونوں الگ الگ لڑتے ہیں، تو کیا ہوگا؟ بہار میں اس دفعہ الیکشن کا اہم مدعا کیا ہوگا؟ ایسے کئی سوال ہیں، جن پر عوام کی رائے جاننے کے لیے ’چوتھی دنیا‘ نے بہار میں ایک سروے کیا۔
’چوتھی دنیا‘ کا یہ سروے 14 سے 17 مارچ، 2015 کے درمیان کیا گیا۔اس دوران ہماری ٹیم ریاست کے الگ الگ اسمبلی حلقوں کے ووٹروں سے ملی اور ان سے مختلف مدعوں سے جڑے سوال و جواب کیے۔ ووٹروں کے جوابوں کو ہی ہم نے اپنے سروے کے بنیادی اعداد و شمار کی شکل میں استعمال کیا۔ اس کے علاوہ پچھلے انتخابات میں ووٹروں کے ووٹنگ پیٹرن اور الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کی بھی مدد لی گئی۔ سروے میں سیمپل کے لیے ہم نے ’ملٹی اسٹیج اسٹریٹی فائڈ رینڈم سیمپلنگ‘ تکنیک کی مدد لی۔ سروے کے دوران ہم نے اس بات کا خاص دھیان رکھا کہ ریاست کے سبھی حصوں کے ووٹروں کے مزاج کو اہمیت ملے۔ ان میں خواتین، نوجوان، دلت، مہا دلت، اقلیتیں، پچھڑا طبقہ اور اونچی ذات وغیرہ سبھی شامل تھے۔ اس سروے میں ہم نے 122 اسمبلی سیٹوں میں کل 12 ہزار 200 لوگوں سے سوال پوچھے۔ سیمپل کا سائز اور تکنیک کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سروے عام انتخابی سروے سے زیادہ معتبر اور مدلل ہے۔ ہم نے اس سروے میں کافی غور و فکر کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ یہ بتانا مناسب نہیں ہوگا کہ کس پارٹی یا اتحاد کو کتنی سیٹ ملے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن میں ابھی کافی وقت بچا ہے۔ اس سروے کے تحت ہم نے بہار کے عوام کا مزاج، یعنی موڈ جاننے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اہم سیاسی سوالوں پر بہار کے عوام کیا سوچ رہے ہیں۔اس سروے میں یہ بھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ہوئی سیاسی اٹھا پٹک کا عوام پر کیا اثر ہوا ہے۔ یہ سروے بہار کے سیاسی، سماجی ، اقتصادی صورتِ حال اور موجودہ واقعات پر بہار کے عوام کی مجموعی رائے کو ظاہر کرتا ہے۔
’چوتھی دنیا‘ کے سروے کے مطابق، نتیش کمار بہار کے بے تاج لیڈر ہیں اور ان کا کسی بھی دوسرے لیڈر کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں ملی شرمناک شکست کے بعد بھی بہار کے عوام آج بھی نتیش کمار پر پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ اس سروے سے یہ صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ بہار کے ووٹر کافی سمجھداری سے ووٹ کرتے ہیں۔ عوام کے موڈ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بہار کے حالات بھی دہلی کی ہی طرح ہیں۔ جن لوگوں نے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا، وہ بھی بہار سرکار کی قیادت نتیش کمار کو سونپنا چاہتے ہیں۔ بہار کی سیاست کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر غلطی کی تھی؟ کیا بہار کے عوام اس کے لیے نتیش کمار کو سزا دیں گے؟ کیا مانجھی سرکار کی غلطیوں کا خمیازہ نتیش کمار کو بھگتنا پڑے گا؟ ’چوتھی دنیا‘ کے سروے کے مطابق، نتیش کمار کے استعفیٰ کو بہار کے عوام غلط مانتے ہیں۔ اگر نتیش کمار پھر سے وزیر اعلیٰ نہ بنتے تو شاید انہیں الیکشن میں عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس سروے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نتیش کمار کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے فیصلہ کا بہار کے عوام نے خیر مقدم کیا ہے۔ وجہ ،اس سے عوام کو خاصی راحت ملی ہے، کیوں کہ اس سروے کے مطابق، آج بھی بہار میں لاء اینڈ آرڈر سب سے بڑا مدعا ہے۔ لوگوں کو امید بندھی ہے کہ نتیش کمار بہار میں گڈ گورننس قائم کر سکتے ہیں۔ یہی بھروسہ نتیش کمار کو دوسرے کسی بھی لیڈر سے ممتاز کرتا ہے۔
’چوتھی دنیا‘ کے سروے کے مطابق، اگر نتیش کمار اور لالو پرساد یادو ایک ہو جاتے ہیں، یعنی جنتا پریوار کا تجربہ کامیاب ہوجاتا ہے اور دونوں ہی پارٹیاں ایک ساتھ ایک سمبل (نشان) پر الیکشن لڑتی ہیں، تو بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’وجے رتھ‘ کو روکا جا سکتا ہے۔ اس سروے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کو لے کر کنفیوژن ہے۔ پارٹی میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے کئی امیدوار ہیں۔ سشیل کمار مودی، نند کشور یادو، گری راج سنگھ، شتروگھن سنہا، شاہنواز حسین جیسے کئی لیڈر ہیں، جن کے نام پر لوگوں میں چرچا ہوتی ہے۔ اسی طرح کے کنفیوژن کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی کا الیکشن ہار گئی۔ کجریوال جیسے وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے ایک طاقتور امیدوار کے سامنے آخری وقت پر کرن بیدی کو لانا بی جے پی کو مہنگا پڑا۔ اگر ویسی ہی کنفیوژن کی حالت بہار میں بھی رہی، تو وہاں کے انتخابی نتائج دہلی سے الگ نہیں ہونے والے ہیں۔ الیکشن کے وقت جیسی مقبولیت کجریوال کو دہلی میں حاصل تھی، اس سے کہیں زیادہ مقبول نتیش کمار بہار میں دکھائی دے رہے ہیں۔
اس سروے میں ہم نے ووٹروں سے کل 11 سوال پوچھے۔ ایسے سوال، جن کا سیدھا اثر ووٹنگ پر ہوتا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے شروعاتی سروے کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان نتیجوں میں کیا تبدیلی ہوتی ہے، اس کے بارے میں بھی ہم آپ کو اَپڈیٹ کرتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ اگلے سروے میں لوگوں کی رائے کے ساتھ ساتھ، کس پارٹی کو کتنے ووٹ ملیں گے اور کسے کتنی سیٹ ملے گی، یہ بھی بتاتے رہیں گے۔
اس سوال کے جواب میں نتیش کمار پہلے نمبر پر ہیں۔ اس میں بی جے پی کے تین لیڈر شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ ووٹ سشیل کمار مودی کو ملے ہیں۔ اس طرح کے جواب اس لیے بھی سامنے آتے ہیں، کیوں کہ پچھلے کچھ انتخابات سے سیاسی پارٹیاں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے اپنے امیدوار کا اعلان پہلے ہی کر دیتی ہیں۔ دہلی الیکشن اس کی مثال ہے۔ بہار میں بھی نتیش کمار پہلے سے ہی وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے اعلانیہ امیدوار رہے ہیں۔ اس کا فائدہ انہیں اس سروے میں بھی ملتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ چونکہ بی جے پی نے ابھی تک اپنے سی ایم امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے، اس وجہ سے لوگوں کے سامنے کوئی ٹھوس متبادل نہیں ہے۔ ہم نے اس سروے میں بی جے پی کی طرف سے جن تین ناموں کو سامنے رکھا، ان میں سشیل کمار مودی پہلے نمبر پر، نند کشور یادو دوسرے نمبر اور گری راج سنگھ تیسرے نمبر پر رہے۔ اس سروے سے ایک بات تو صاف ہو گئی کہ عوام جیتن رام مانجھی کے نام پر بالکل بھی تیار نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ دیگر کے لیے جن آٹھ فیصد لوگوں نے اپنی رائے دی، ان میں رابڑی دیوی، شاہنواز حسین اور رام ولاس پاسوان کے نام شامل ہیں۔
اس سوال کے بدلے ملے جواب سے ایک بات صاف ہوئی کہ بہار کے لوگوں کے لیے ابھی بھی لاء اینڈ آرڈر سب سے بڑا ایشو ہے۔ لالو یادو کے زمانے میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت سب سے بدتر تھی۔ جنگل راج کی بات ہائی کورٹ تک نے کہی تھی۔ اغوا کاری یہاں کی صنعت بن گئی تھی، جس سے عام لوگ بہت پریشان تھے۔ نتیش کمار کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں سدھار ہونا شروع ہوا۔ لوگوں کی جیب سے پیسے باہر نکلنے لگے تھے۔ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی، لیکن چھوٹی صنعتیں، خاص کر فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز لگنے لگی تھیں۔ لیکن مانجھی کی نو مہینے کی مدتِ کار میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت پھر سے گڑبڑانے لگی۔ لوگوں کو پھر سے پرانے وقت کا خوف ستانے لگا۔ اس سروے میں جن لوگوں نے بھی جواب دیا، ان سب کا یہ واضح طور پر ماننا تھا کہ بہار کی ترقی تبھی ممکن ہے، جب یہاں پر لاء اینڈ آرڈر درست رہے۔ لوگوں نے مانا کہ پچھلے کچھ عرصے سے جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عام لوگوں کے لیے ایک بار پھر سے رات کے اندھیرے میں سڑک پر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ترقی یہاں کے لوگوں کا دوسرا سب سے بڑا ایشو ہے۔ سروے کے دوران لوگوں نے مانا کہ نتیش کمار کے وقت میں ترقی کی رفتار اچھی تھی ، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے یہ رفتار دھیمی ہوئی ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ کم سے کم ووٹ بدعنوانی کو ملے، یعنی صرف 9 فیصد لوگ ہی اسے بڑا ایشو مانتے ہیں۔

 

اس سوال کا جواب دینا لوگوں کے لیے شاید سب سے آسان تھا، تبھی اس کا نتیجہ اس طرح کا رہا۔ 76 فیصد لوگوں، جن میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے، یعنی شہر – گاؤں، تعلیم یافتہ – ناخواندہ، امیر – غریب، کا ماننا تھا کہ قاعدے سے نتیش کمار کو مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ جن 11 فیصد لوگوں نے ’نہیں‘ میں جواب دیا، ان کا ماننا تھا کہ بھلے ہی جیتن رام مانجھی سرکار کی کارکردگی بہتر نہیں تھی، لیکن جس طریقے سے انہیں ہٹایا گیا، اس سے ووٹروں کے ایک خاص طبقہ کے درمیان غلط پیغام گیا اور سیاسی طو رپر یہ شاید نتیش کمار کے لیے نقصاندہ ثابت ہو۔
بہار میں 8 سالوں تک لگاتار حکومت کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پچھلے لوک سبھا الیکشن کے بعد اپنی کرسی جیتن رام مانجھی کو سونپ دی تھی۔گزشتہ فروری میں نتیش کمار ایک بار پھر سے بہار کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ جیتن رام مانجھی نے اپنی اس 8 مہینے کی مدتِ کار کے دوران کیسا کام کیا، یہ سوال ہمارے ذہن میں تھا۔ جب اسے لے کر ہم نے بہار کے عوام سے سوال کیا، تو ان میں سے تقریباً 58 فیصد لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ جیتن رام مانجھی کا دور ریاست کے لیے برا تھا۔ وہیں دوسری طرف، 24 فیصد لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ مانجھی کا دور اوسط تھا، جب کہ 6 فیصد لوگوں نے اسے اچھا دور مانا، 12 فیصد لوگ اس پر کچھ کہہ سکنے کی حالت میں نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ جیتن رام مانجھی حکومت کو اس طریقے سے نہیں چلا سکے جیسے نتیش کمار چلا رہے تھے اور جے ڈی یو کا گڈ گورننس کا نعرہ مانجھی سرکار کے دوران کمزور ہوا۔
پچھلے سوال سے ہمارے دماغ میں ایک اور سوال پیدا ہوا کہ اگر آدھے سے زیادہ عوام کی رائے میں مانجھی سرکار کا دور ریاست کے لیے ٹھیک نہیں تھا، تو کیا اس کا اثر آئندہ اسمبلی الیکشن میں مہا گٹھ بندھن یا نتیش کمار پر پڑ سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں 40 فیصد لوگوں نے نتیش کمار پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مانجھی کے دور کا کوئی بھی اثر آئندہ اسمبلی الیکشن پر نہیں پڑے گا۔
34 فیصد لوگوں نے یہ مانا کہ مانجھی سرکار کے دور کا اثر نتیش کمار پر ضرور پڑے گا، جب کہ 26 فیصد لوگ کوئی بھی جواب دینے سے قاصر رہے۔ دراصل اس سوال کو لے کر عوام میں صاف تصویر نہیں دکھائی دی۔اس کے باوجود زیادہ تر لوگوں کی نظر میں نتیش کمار بھروسہ مند پائے گئے۔

سوال 6۔ کیا بی جے پی نتیش کمار سے بہتر سرکار دے سکتی ہے؟

.1 ہاں 29 فیصد
.2 نہیں 49 فیصد
.3 کہہ نہیں سکتے 22 فیصد
جب ہم نے اس بارے میں ووٹر کی رائے جاننا چاہی تو 29 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ’ہاں‘۔ وہ کہتے ہیں کہ نتیش کمار ریاست میں بی جے پی کے ساتھ چلے آ رہے 17 سال پرانے گٹھ بندھن کو ٹوٹنے اور مودی لہر سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کبھی مانجھی جیسے ناپختہ لیڈر کو بہار کا وزیر اعلیٰ بنا دیتے ہیں، تو کبھی لالو کے ساتھ اتحاد کرکے بہار کو پھر سے جنگل راج کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے لوگوں کا اب نتیش کمار پر بھروسہ نہیں رہا اور نتیش سے اچھا لوگ بی جے پی کو ماننے لگے ہیں۔ 49فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ مرکز میں مودی سرکار تو ٹھیک ہے، لیکن ریاست میں بی جے پی کے اندر زبردست رسہ کشی دیکھنے کو مل رہی ہے، جو کہ بہار کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے نتیش کے دور میں ترقی کا مزہ چکھا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ آر جے ڈی سے اتحاد کے بعد بھی نتیش کمار بہار کے عوام کے مفاد کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جیسا کہ انہوں نے مانجھی کو ہٹا کر ثابت کر دیا۔ 22 فیصد لوگ بھرم کی حالت میں ہیں، یعنی وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔

سوال 7۔ کیا آپ ذات، مذہب، فرقہ، زبان اور علاقہ کے نام پر ووٹ ڈالیں گے؟

.1 ہاں 16 فیصد
.2 نہیں 75 فیصد
.3 کہہ نہیں سکتے 09 فیصد

اس سوال کے جواب میں 16 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں اپنی ذات یا مذہب سے لگاؤ اتنا زیادہ ہے کہ ہم اس سے چاہ کر بھی باہر نہیں نکل پاتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لیڈر بھی اپنی ذات یا سماج کے لوگوں کی زیادہ سنتے ہیں۔ 75 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ وہ اچھے امیدوار کو ووٹ دیں گے، چاہے وہ کسی بھی ذات، مذہب یا فرقے کا کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ جب اچھی شبیہ کا امیدوار منتخب ہو کر آئے، تو وہ ان کی امیدوں پر کھرا اتر ے۔ 9 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بارے میں انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں، اس لیے وہ اس سوال پر خاموش ہی رہنا پسند کریں گے۔

سوال 8۔ کیا لالو اور نتیش ایک ساتھ مل کر بی جے پی کے ’وجے رتھ‘ کو روک پائیں گے؟

.1 ہاں 47 فیصد
.2 نہیں 29 فیصد
.3 کہہ نہیں سکتے 24 فیصد
اس سوال کے جواب میں 47 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ جس طرح اسمبلی کے لیے ہوئے 10 سیٹوں کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی تھی، وہی حالت بی جے پی کی اسمبلی انتخاب میں بھی ہوگی۔ جن 29 فیصد لوگوں نے بی جے پی کا ’وجے رتھ‘ نہیں رکنے کی بات کہی، ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے، شہری، متوسط طبقہ اور اونچی ذات کے لوگ تھے یا پھر ایسے لوگ تھے، جنہوں نے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ 24 فیصد لوگ کچھ بھی کہہ پانے کی حالت میں نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ان کے مطابق، مقابلہ کانٹے کا ہے، کیوں کہ بی جے پی کی حالت اس وقت بہار میں پہلے سے بہتر ہے۔

سوال 9۔ کیا نتیش نے مانجھی کو اقتدار سونپ کر غلطی کی تھی؟

.1 ہاں 71 فیصد
.2 نہیں 11 فیصد
.3 کہہ نہیں سکتے 18 فیصد

جب ہم نے یہ سوال کیا تو 71 فیصد لوگوں نے کہا کہ مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنانا نتیش کمار کی بڑی بھول تھی۔ان کی اس غلطی کی وجہ سے بہار کا لاء اینڈ آرڈر پٹری سے اتر گیا۔انہیں عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے تھا۔نتیش نے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ۔لیکن اب انہوں نے اپنی بھول سدھار لی ہے۔زیادہ تر لوگوں کا ماننا تھا کہ نتیش کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بنتے ہی بدلائو دکھائی دینے لگا ہے۔وہیں 11 فیصد لوگوں نے مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے فیصلہ کو صحیح ٹھہرایا۔ 18 فیصد لوگوں کی اس سوال پر کوئی رائے نہیں تھی۔

سوال 10 ۔ کیا اسمبلی الیکشن میں جیتن رام مانجھی نتیش کمار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

.1 بہت 07 فیصد
.2 تھوڑا بہت 13 فیصد
.3 بالکل نہیں 73 فیصد
.4 کہہ نہیں سکتے 07 فیصد
اس سوال کے جواب میں 73 فیصد لوگوں نے کہا کہ ’بالکل نہیں‘۔ ان کا ماننا تھا کہ نتیش کمار نے لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کی ہار کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اور جیتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ لیکن جیتن رام مانجھی وزیر اعلیٰ کے طور پر ناکام رہے۔ مانجھی سرکار کے دوران بہار میں جرائم سے لے کر بدعنوانی تک کا بول بالا تھا اور مانجھی صرف بے تکے بیان دیتے پھر رہے تھے۔ نتیش کمار کے ذریعے کیے گئے کاموں پر بھی انہوں نے پانی پھیر دیا۔ مانجھی سے لوگ پہلے سے ہی ناراض ہیں۔وہ نتیش کمار کو الیکشن کے دوران کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ 13 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ مانجھی نتیش کو تھوڑا بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کیونکہ دلت سماج کے لوگ نتیش سے ناراض ہیں اور ان کے ووٹوں کا بٹوارہ ہوسکتا ہے۔07فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ مانجھی نتیش کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ماننا تھا کہ نتیش کمار کے ذریعہ وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دینا صرف ایک دکھاوا تھا اور دلت کارڈ کھیلنے کے لیے ہی انہوں نے مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ مانجھی کو بے عزت کرکے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے ہٹانے کی وجہ سے لوگوں میں ناراضگی ہے کہ نتیش نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔ 7 فیصد لوگوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔کل ملا کرنتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہارکے اسمبلی الیکشن میں نتیش کمار کو جیتن رام مانجھی سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سوال 11۔ آپ ووٹ دیتے وقت ان میں سے کسے ترجیح دیں گے؟
.1 وزیر اعلیٰ 43 فیصد
.2 پارٹی 31 فیصد
.3 امیدوار 19 فیصد
.4 دیگر 07 فیصد
اس سوال کے جواب میں 43 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار کو دیکھ کر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ ایسے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تازہ مثال موجود ہے۔ نتیش اور مانجھی دونوں ہی جے ڈی یو کے تھے، لیکن نتیش کا دور ترقی کے لیے جانا جاتا ہے اور مانجھی کا دور صرف غلط بیان بازی کے لیے۔ وزیر اعلیٰ اچھا ہوگا، تو ترقی بھی ہوگی۔ 31 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو ووٹ کریں گے۔ اگر پارٹی بدعنوان ہوگی، تو وزیر اعلیٰ چاہے کوئی بھی ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 19 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ امیدوار کو دیکھ کر ووٹ کریں گے، کیوں کہ وہ کسی کام کے لیے وزیر اعلیٰ کے پاس تو جائیں گے نہیں۔ اگر امیدوار کام کرنے والا ہوگا، تو ان کا کام آسانی سے ہو جائے گا۔ 7 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ دیگر مدعوں پر ووٹ کریں گے۔ اس سوال کے بدلے ملے جواب بتاتے ہیں کہ آج بھی لوگ مدعوں سے کہیں زیادہ سی ایم امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ صحیح ہوگا تو ریاست کی ترقی ضرور ہو گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *